Skip to content

Archives

149 تحاریر درج ہیں

مغربی نقالی میں خودی سے خالی کھوکھلے نوجوان پر طنز

دستِ کرمِ الٰہی، دلِ شکستہ کی قدر اور عاجزی پر ناز

نگاہِ شوق شریکِ بینائی ہو تو کائنات کا راز کھلتا ہے، ورنہ وجود قلب و نظر کی رسوائی

شمع تکتے بچے کی حیرت سے روح کے گم گشتہ نور کی تلاش کا راز

فرنگی ملوکیت کے مقابلے میں بے تیغ فقر کی ہیبت

روحِ تیمور کی پکار کہ خودی کے سوز سے نیا انقلاب لاؤ

طویل تڑپ کے بعد گلِ مراد پانے اور بیداریِ باطن کا وجدانی بیان

کوششِ ناتمام اور مسلسل تڑپ کو رازِ حیات بتانے کا درس

وطن میں نفاق کی آگ اور باہمی انتشار پر دردمندانہ فریاد

مردِ بزرگ کی تخلیقی طبیعت، تابندہ فکر اور منفرد اندازِ نظر

ایک سجدۂ حق سے ہزار غلامانہ سجدوں سے نجات کا پیغام

پنجاب کے مسلمانوں کے فکری تذبذب اور جمود پر طنز

برطانوی شاہی ملوکیت کے مٹی کا بت ہونے کا انکشاف

مشرقی تقلید اور مغربی جمہوریت کے سبب قلب و نظر کی رنجوری

کمالاتِ رومی کے ذکر اور مقالاتِ بوعلی کی فکر کا فلسفہ

لحدِ مجدد سے پیرزادوں کے نشۂ خدمتِ سرکار پر چوٹ

روہیلہ کے ستم سے مغلوں کی حمیت و غیرت کا زوال

دردِ عشق کو ظاہر پرستوں سے چھپا کر باطنی راز بنانے کی تاکید

بے غم پھول کے مقابلے میں دلِ انساں کے اضطراب کا موازنہ

مغربی مادیت پر مشرق کے باطنی سوز اور عشق کی برتری

دماغ کے بت خانے اور نگاہِ غلامانہ میں توحید کی بے اثری

شبلی و حالی کی وفات پر ملت کے درد اور ادبی خراج کا بیان

سپنوزا و افلاطون کے افکار کے تقابل میں خودی کو اصل مقصود جاننا

حضرت نظام الدینؒ کے مزار پر علامہ اقبال کی والہانہ دعا

دامنِ کوہ میں شامِ جدائی کا سکوت اور یادِ محبوب کے نغمے

جغرافیائی حدود سے آزاد آفاقی اسلامی تہذیب کا درس

شمشیرِ محمدؐ اور چوبِ کلیمؑ سے قوم کی تقدیر بدلنے کا درس

ہر ذرے میں پوشیدہ عشق اور حسن کی ہمہ گیری

کوہسار پر بادلوں کی روانی اور فطرت کے حسن کا مرقع

بے مقصد بحثوں سے کردار کے زوال اور جفاکش قوم کی حکمرانی کا بیان

راہب کی سکون پرستی اور مومن کے طوفانی فقر کا واضح فرق

اہلِ قبور سے موت اور حیاتِ اخروی کا استفسار

صبح کے دم توڑتے تارے کی زبانی دنیا کی بے ثباتی کا نوحہ

چاند کے سفر اور انسان کے باطنی اضطراب کا شاعرانہ موازنہ

محکوم قوم کے درباری مفکروں کی غلامانہ ذہنیت پر ضرب

دریا کی موج کی زبانی مسلسل حرکت اور جستجو کا پیغام

پیرِ حرم کو فرسودہ رسوم چھوڑ کر سوز جگانے کی صدا

ابرِ کوہسار کی گل پاشی، دہقاں کی خوشی اور چمن کی سیرابی

تنہائیِ شب میں دلِ حزیں کو فطرت کی ہم نفسی کا دلاسا

خودی کو فلک سے برتر دیکھ کر باطنی حلال و حرام کی پہچان کا راز

شورش سے دور دامنِ کوہ میں سکوت اور غافلوں کو جگانے کی دعا

ربابِ خاموش کے نغمات اور نسیمِ طور سے روح کی باطنی رہائی

مغربی عقلِ عیار کی ہوس اور خون ریزیوں کا پردہ چاک

مغربی تہذیب کے زوال اور مشرق کے احیا کی نوید

شاعرانہ فیضان پر شکر اور غلامی پر راضی قوم پر فریاد

الفاظ کے الجھاؤ کے بجائے خونِ جگر سے زندہ فکر تخلیق کرنے کا درس

شعاعِ آفتاب کی تڑپ اور غافلوں کو بیداری کا پیغام

لندن سے بیٹے کے خط کا جواب اور مشفقانہ وصیت

چشتیؒ و نانک کے دیس اور حبِ وطن کا ترانہ

سکوتِ نیکر، مراقبۂ فطرت اور غم زدہ دل کو تسکین کی تلقین

مذہبی منافرت چھوڑ کر پریم کا نیا شوالہ بسانے کی پکار

توحید کے حامل مسلم کی عظمت اور دوش کے آئینے میں فردا کا مشاہدہ

ملا کی بحث و تکرار اور بد آموزیِ اقوام و ملل پر طنز

وطنی قومیت سے اسلامی آفاقیت کا سفر

شیکسپیئر کے کائناتی تخیل اور انسانی بصیرت کو خراج

صوفی کو معجزات کے بجائے ممکنات کی دنیا بدلنے کی دعوت

مرزا اسد اللہ خاں غالب کے اعجازِ سخن کو والہانہ خراج

جنبش ہی اصل زندگی ہے اور ٹھہرنے والوں کے مٹنے کا سبق

دانے کے جنونِ نشوونما اور تسلیم و رضا کا حقیقی مقصود

بارگاہِ حق میں سرمایہ دارانہ نظام پر استغاثہ

عقلِ خام کی نارسائی اور وحیِ الٰہی کی ابدی رہنمائی

ذکر و علم خودی کے نگہباں اور حرم کا درماں نہ ہوں تو کچھ نہیں

محکوم اقوام کے لیے خودی کی بیداری اور حریت کا درس

مروجہ بے عمل تعلیم کے نقصانات اور دینِ حق کی ضرورت

سفرِ حیات کے راز، بُوعلی و رومی کی فکر اور راہبر کی طلب

میدانِ عمل و جہاد سے فرار کو حقیقی شکست قرار دینا

انسان کی راز جوئی، حیرت سرائے دہر اور ذوقِ آگہی کی تڑپ کا بیان

کامل مومن کے جلال و جمال اور کائناتی کردار کا بیان

مسلمان کا زوال بے زری سے نہیں بلکہ ترکِ قلندری سے ہے

غلامی میں بدلتے ضمیر اور تن بہ تقدیر بن جانے پر طنز

حسن کے فیض سے عشق کی تحریکِ کمال اور آسودگی کا بیان

عالمِ اسلام کے مصائب کے دور میں لکھی گئی والہانہ مناجات

ترک مجاہد کے استفسار پر عمل سے عاری طویل سجدوں پر طنز

عقل کے مصلحت اندیش علم پر بے باک عشق کی برتری

دین و سیاست کی جدائی سے ہوس کی امیری اور دوئی کا فلسفہ

موت کی حقیقت اور بیدار روح کی حیاتِ جاوید کا بیان

قومِ رسولِ ہاشمیؐ کی بقا اور جمعیت کے لیے قوتِ مذہب کی ناگزیریت

محبت کو ایازی کی غلامی سے پاک، آزادی و بے نیازی کا جوہر بتانا

پختہ فکری بنیادوں کے بغیر آزاد فکر کو فریب بتانا

دربار کی طلائی زنجیر توڑ کر دامنِ کوہ میں واپسی

پنجاب کے دہقان کو غفلت چھوڑ کر جاگنے کا تازیانہ

فلک چھوڑ کر رخصت ہوتے مجاہد کی بیوی کا آنسو بننے کی تمنا

تاریخِ امم کا سبق کہ قوموں کی تقدیر ان کے اپنے عمل سے بنتی ہے

غیروں سے خلافت مانگنے کے بجائے بازو کی قوت پر بھروسا

مسجدِ قرطبہ میں والہانہ دعا اور تجدیدِ عشق کی التجا

عورت کی بصیرت کا فیصلہ: آزادیِ نِسواں یا زمرّد کا گلوبند، کون زیادہ قیمتی؟

مردے و قبر کا مکالمہ اور آزاد انسان کی بقا کا فلسفہ

انسانی ہنر کو فطرت کی غلامی سے آزاد کرنے کی پکار

ستاروں اور زمینی شبنم کے مکالمے سے غمِ حیات کا بیان

خوشحال خان خٹک کا اتحادِ ملی اور حریت کا درس

دیدارِ حق کی طلب اور جبینِ نیاز کے تڑپتے سجدے

توحید کو کلامی بحث بنانے پر درد اور عملی قوت کا تقاضا

عشقِ رسولؐ کے طفیل حبش سے حجاز تک حضرت بلالؓ کی سرفرازی کا بیان

شفیق استاد پروفیسر آرنلڈ کی جدائی پر پردرد الوداعی نغمہ

قافلہ لٹنے پر عاشقِ رسول کی مدینے کی تڑپ

نسیمِ سحر کی زبانی غافل انسانوں کو بیداری کا پیغام

وحدتِ افکار کی موت اور بے روح ہندی اسلام پر تازیانہ

فرزند جاوید کو عصرِ حاضر کے فتنوں سے بچنے کی وصیت

خاکِ ہسپانیہ میں دفن مسلم عظمت کا پرشکوہ مرثیہ

قوت و شوکت کے پیام سے خالی نبوت کو برگِ حشیش قرار دینے کا بیان

جبر و قدر کے بہانے پر ابلیس و یزداں کا مکالمہ

ساحل نشین جبریل اور طوفان آشنا ابلیس کا فکری مکالمہ

کلیمِ طور کی زبانی حاضر پرستی چھوڑ کر سطوتِ غائب کا درس

ترکِ دنیا سے بچنے اور فرقہ بندی مٹانے کی وصیت

جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں کی وفات پر پردرد مرثیہ

بزمِ قدرت کی زبانی انسان کی اصل حقیقت کا انکشاف

جنیوا و لندن کے بجائے پرورشِ خودی سے نجات پانے کا راز

ہسپانیہ کی دلیل سے یہودی دعوے اور ملوکیتِ انگلیس پر طنز

زمین پر انسان اور فلک پر چاند کی مشترک بے تابی کا فلسفہ

قرآنی فقر اور خودی کی قاہری سے حاصل ہونے والی حقیقی جہاں بانی

تسخیرِ کائنات کے بعد خانۂ دل میں رازِ ہستی پانے کا سفر

تاروں کے نظام سے جذبِ باہمی اور قوموں کے لیے اتحاد کا درس

میدانِ جنگ میں شہید ہونے والی عرب بچی کو خراج

تن آسانی چھوڑ کر استغنا اور شاہیں کی پرواز کا درس

عشق کے منفرد پیغام اور جذبِ حرم کی تلقین

شمع سے مکالمے میں سوزِ فراق اور مٹی میں مقید روح کے راز کا بیان

قوم کے پیکر میں شاعر کی حیثیت دیدۂ بینا یعنی آنکھ ہونے کا بیان

عشق کی بجلی سے دل کے نخل کی شادابی اور تجلی گاہِ حق کا بیان

کائنات کی تخلیق میں محبت کے کیمیا اثر جلووں کا فلسفہ

ستارے کے خوفِ فنا سے کارخانۂ قدرت میں ثباتِ تغیر کا ابدی فلسفہ

خونِ جگر سے فنِ مومن کی ابدیت کا لافانی بیان

سکندر کی مادی فتوحات پر حضرت بلالؓ کے روحانی غلبے کی برتری

کمزوریوں کے اعتراف اور نانِ شعیر سے قوتِ حیدری کا درس

سعدیؒ و حالیؒ کی زبانی نئی پود کے الحاد کا ذکر

فرنگی فلسفے کے اسیر کو خودی کا درس

ابلیس کو ہر فتنے سے بڑھ کر بیداریِ امت کا خوف

فرزند جاوید کو خودی کے سوز اور بے داغ جوانی کی دعا

مقابرِ شاہی سے درسِ عبرت اور ملت کی شانِ جمالی کی امید

زورِ حیدری، قوت کے سامنے افلاک کا سجدہ اور جلال کا فلسفہ

میدانِ جنگ میں طارق بن زیاد کی پرجوش مناجات

مرشد رومی کے فیض سے خودی کے راز کو پانے کی دعوت

صحرائی حریت اور درویشانہ غیرت کی نصیحت

شیر کی ایک دن کی زندگی اور جہد کا لافانی درس

مسلم نوجوان کو اسلاف کی عظمت یاد دلانے کی پکار

مکتب میں ممولوں سے باز کے احوال چھپانے اور محکومی پر طنز

عہد کے مصلحت پسند اور خود غرض دانشوروں کی منافقت پر طنز

زمینِ حجاز میں شفا کے بجائے موت ڈھونڈنے کا عاشقانہ راز

وطنیت کے بت کو مذہب کا کفن جاننے اور توحید سے توڑنے کا درس

دوزخی کا سوداگرِ یورپ کی غلامی سے آزادی پر شکرانہ

دہلی، بغداد، قرطبہ، قسطنطنیہ اور مدینہ کو خراجِ عقیدت

سکوتِ راوی، خواب گاہِ جہانگیر اور حیاتِ ابدی کا فلسفہ

غریبوں کو جگانے اور کاخِ امرا گرانے کا ربانی حکم

تسلسلِ حیات، فلسفۂ خودی اور بیداریِ ملت کا لافانی ترانہ

زاہد کے سوال پر اپنی اصل حقیقت سے لاعلمی کا شوخ اعتراف

برصغیر کے نفاق کے المیے اور وطن کی بربادی پر دلدوز فریاد

سکندر اور قزاق کے مکالمے سے لوٹ مار پر طنز

مسلمانوں کی نئی صبح اور احیائے مشرق کا انقلابی نغمہ

تصویر اور مصور کا مکالمہ اور خود شناسی کا فلسفہ

بارگاہِ نبوی میں انتشارِ امت پر دلدوز فریاد کا بیان