Skip to content

بانگِ درا 25: انسان اور بزمِ قُدرت

فہرست

تعارف

نظم ”انسان اور بزمِ قُدرت“ میں علامہ اقبال صبح کے سورج، بہتے دریاؤں اور کائنات کے پرشکوہ مناظر کو دیکھ کر انسان کی بے بسی اور زوال کا شکوہ کرتے ہیں۔

کائنات کا ہر ذرہ پرنور اور اپنے کام میں مگن ہے جبکہ اشرف المخلوقات انسان تاریکی اور غم میں مبتلا ہے؛ بزمِ قدرت جواب دیتی ہے کہ اگر انسان اپنی اصل حقیقت اور خدا داد مقام سے واقف ہو جائے تو وہ نہ کبھی ”سیَہ روز“ رہے گا، نہ ”سیَہ کار“۔

فلسفۂ خودی کے ابتدائی نقوش اور انسان کی کائناتی حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ نظم اِس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں اقبالؔ نے فلسفۂ خودی کا ابتدائی خاکہ یا نقشہ بیان کِیا ہے۔ فلسفۂ خودی کی بنیاد یہ ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے، اس کے اندر یعنی اس کی خودی میں روحانی ترقی کی غیر محدود صلاحیت مخفی ہے اور یہی حقائق اقبالؔ نے اِس نظم میں بیان کیے ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

صبح خورشیدِ دُرَخشاں کو جو دیکھا میں نے
بزمِ معمورۂ ہستی سے یہ پُوچھا میں نے

معانیالفاظ
چمکتا ہوا سورجخورشیدِ دُرَخشاں
محفلبزم
دُنیا / زندگی کی بستیمعمورۂ ہستی

تشریح:

صبح کے وقت جب میں نے چمکتے ہوئے سورج پر نظر کی، تو کائنات اور اس کے مظاہر سے یہ سوا ل کیا کہ:- (تفصیل آئندہ اشعار میں)

شعر 2

پرتوِ مہر کے دم سے ہے اُجالا تیرا
سیمِ سیّال ہے پانی ترے دریاؤں کا

معانیالفاظ
سورج کی روشنی یا عکسپر توِ مہر
وجہ، سببدم
بہتی ہوئی چاندیسیمِ سیّال

تشریح:

اے کائنات! تجھ میں جو اُجالا ہے، وہ سورج کی روشنی کے دم سے ہے، اسی روشنی کے باعث تیری دریاؤں کا پانی بہتی ہوئی چاندی معلوم ہوتا ہے۔ سورج کی روشنی دریا کے پانی پر پڑے تو چاندی کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ چونکہ دریا کا پانی بہہ رہا ہوتا ہے، اس لیے اقبالؔ نے اُسے بہتی ہوئی چاندی سے تشبیہ دی ہے۔

شعر 3

مہر نے نور کا زیور تجھے پہنایا ہے
تیری محفل کو اسی شمع نے چمکایا ہے

معانیالفاظ
سورجمہر
محفل کو روسن کرنا، رونق کا سبب بننامحفل کو چمکانا

تشریح:

سورج (مہر) نے تیری ایک ایک چیز کو منوّر کر رکھا ہے۔ تیرے لیے سورج کی وہی حیثیت و اہمیت ہے جو کسی محفل میں شمع کی ہوتی ہے یعنی جس طرح شمع نہ ہو تو محفل تاریک ہو جائے گی اور اس کا لطف جاتا رہے گا، بالکل اُسی طرح اگر سورج نہ ہو تو دنیا بھی اپنی تمام تر دلچسپیوں سے محروم ہو جائے گی۔

شعر 4

گُل و گُلزار ترے خُلد کی تصویریں ہیں
یہ سبھی سُورۂ ’وَ الشمَّس‘ کی تفسیریں ہیں

معانیالفاظ
پھول اور چمنگُل و گُلزار
بہشت، جنّتخُلد
کلامِ اِلہی کی شرح کرنا، تشریح، تفصیلتفسیر

تشریح:

اس کائنات کے باغات اور گلستان در اصل جنت کے باغات کی تصویر پیش کرتے ہیں یعنی اتنے ہی حسین اور دِل آویز ہیں اور یہ سب ہی قرآن شریف کی سورۃ والشمس کی تفسیر و وضاحت پیش کرتے ہیں۔ یعنی یہ سارا حُسن اور خوبصورتی دراصل سورج کی وجہ سے ہے۔

ترجمہ: سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی۔ اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔ اور دن کی جب اُسے چمکا دے۔ اور رات کی جب اُسے چھُپا لے۔ اور آسمان کی اور اُس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا۔
(القرآن: سورۃ الشمس: آیت نمبر 1 تا 7)

شعر 5

سُرخ پوشاک ہے پھُولوں کی، درختوں کی ہری
تیری محفل میں کوئی سبز، کوئی لال پری

معنیلفظ
سُرخ لباسسُرخ پوشاک

تشریح:

یہاں پر پھولوں نے سُرخ جبکہ درختوں نے سبز لباس (پوشاک) پہن رکھا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کائنات کی محفل میں یہ سُرخ اور سبز پریاں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ کائنات میں مظاہرِ فطرت طرح طرح کے رنگوں کا لباس پہنے اپنا اپنا جلوہ دِکھا رہے ہیں۔

شعر 6

ہے ترے خیمۂ گردُوں کی طِلائی جھالر
بدلیاں لال سی آتی ہیں اُفق پر جو نظر

معانیالفاظ
آسمان کا خیمہ، آسمانخیمۂ گردُوں
سونے کی جھالر، مُراد سرخ و زرد بدلیاںطِلائی جھالر
بادلبدلیاں
وہ کنارہ جہاں آسمان اور زمین باہم مِلے ہوئے دِکھائی دیتے ہیںاُفق

تشریح:

شام کے وقت جب تیرے اُفق (آسمان کے دور کے کنارے) پر لال لال سی بدلیاں (بادل کا ٹکڑا) نظر آتی ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے گویا وہ آسمان کے خیمے کی سنہری جھالر ہیں۔

شعر 7

کیا بھلی لگتی ہے آنکھوں کو شفق کی لالی
مئے گُلرنگ خُمِ شام میں تُو نے ڈالی

معانیالفاظ
طلوع اور غروبِ آفتاب کے وقت اُفق پر چھا جانے والی سُرخیشفق
سُرخ رنگ کی شراب، گُلابی شرابمئے گُلرَنگ
شام کا مٹکا۔ مراد شام کی تاریکیخُمِ شام

تشریح:

شام کے وقت آسمان پر پھیلی ہوئی شفق کی سُرخی آنکھوں کو بہت پیاری لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے تُو نے شام کے پیالے میں سُرخ رنگ کی شراب (مئے گُل رنگ) انڈیل رکھی ہے۔

شفق: صبح اور شام کی سُرخی، لیکن اردو میں شام کی سُرخی کے لیے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

شعر 8

رُتبہ تیرا ہے بڑا، شان بڑی ہے تیری
پردۂ نور میں مستور ہے ہر شے تیری

معانیالفاظ
عزت، درجہ، مقام، منزلترُتبہ
چھُپی ہوئی، پوشیدہمستُور

تشریح:

تیرا رُتبہ بھی بڑا ہے اور تیری شان بھی عظمت والی ہے۔ تیری ہر شے نور کے پردے میں چھپپی (مستُور) ہوئی ہے۔

شعر 9

صبح اک گیت سراپا ہے تری سطوت کا
زیرِ خورشید نشاں تک بھی نہیں ظلمت کا

معانیالفاظ
شان و شوکت، دبدبہ، رعبسطوَت
نیچےزیر
سورجخورشید
اندھیرا، تاریکیظُلمَت

تشریح:

صبح (دن کے آغاز) کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ بھی تیری عظمت و برتری اور شان و شوکت کے گیت گا رہی ہے۔ جب دن نکل آتا ہے تو ہر چیز واضح نظر آتی ہے، پہاڑ، ندیاں، ٓچشمے، وادیاں اور ایسے ان گِنت مظاہرِ فطرت دنیا کی عظمت کو ظاہر کرتے ہوئے آنکھوں کے سامنے عیاں ہو جاتے ہیں اور خورشید (سورج) کے منظر نامے میں تاریکی اور اندھیرے کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔

شعر 10

مَیں بھی آباد ہوں اس نور کی بستی میں مگر
جل گیا پھر مری تقدیر کا اختر کیونکر؟

معانیالفاظ
قسمتتقدیر
سِتارہاختر

تشریح:

میں (انسان) بھی نور کی اسی بستی میں آباد ہوں، وہی بستی کہ جس میں ہر چیز پر سورج کا نور لِپٹا ہوا ہے۔ لیکن کائنات کے دیگر مظاہر کے مقابلے میں مجھے بدقسمتی نے گھیر رکھا ہے۔ آخر میرے نصیب کا ستارہ کیوں سیاہ ہو گیا اور کس سبب سے ڈوب گیا؟

شعر 11

نور سے دُور ہوں ظلمت میں گرفتار ہوں میں
کیوں سیَہ روز، سیَہ بخت، سیَہ کار ہوں میں؟

معانیالفاظ
اندھیرا، تاریکیظُلمَت
قابو میں آیا ہوا، پکڑا ہواگرفتار
کالے دِن والا یعنی جس کے دِنوں پر تاریکی چھائی ہوئی ہوسیہ روز
سیاہ قسمت، بد قسمتسیہ بخت
گناہ گار، گناہ کا کام کرنے والاسیاہ کار

تشریح:

تیری (دنیا کی) ساری چیزیں آفتاب کے نور سے فیض یاب ہیں، پھر میں کیوں مصیبت زدہ (سیہ روز) ہوں، کس لیے بدنصیبیوں (سیہ بخت) کا شکار اور کس وجہ سے بد اعمال (سیہ کار) ہوں؟ دُنیا میں انسان پر جو کچھ گزرتی ہے اور جس طرح وہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر بُرے سے بُرا عمل کرنے کو تیار رہتا ہے، اس کی طرف اشارہ ہے۔

بند نمبر 2

شعر 12

مَیں یہ کہتا تھا کہ آواز کہیں سے آئی
بامِ گردُوں سے و یا صحنِ زمیں سے آئی

معنیلفظ
آسمان کی چھت، اسمان کی چوٹیبامِ گردُوں

تشریح:

جب میں نے (کہنے والے نے) اپنا سوال مکمل کر لیا تو جواب کے طور پر ایک آواز سنائی دی، جس کے بارے میں پتہ نہ چل سکا کہ یہ آواز کہاں سے آئی؟ علامہ کے سوال کے جواب میں آسمان کی بلندیوں پر رہنے والی کوئی چیز بولی یا پھر زمین کے رہنے والے۔

شعر 13

ہے ترے نور سے وابستہ مری بود و نبود
باغباں ہے تری ہستی پئے گُلزارِ وجود

معانیالفاظ
بندھی ہوئی، منسلک، متعلقوابستہ
وجود اور عدم، ہونا نہ ہونا، زندگی اور موتبُود و نبُود
باغ کی دیکھ بھال کرنے والا، مالیباغباں
زندگی، وجودہستی
واسطے، لیےپئے
ہستی / زندگی / وجود کا باغگُلزارِ وجود

تشریح:

اے انسان! تُو غلط فہمی میں مبتلا ہے۔ دراصل تیرے (انسان کے) نور سے ہی میری ہستی یا نیستی (ہونا یا نہ ہونا) وابستہ ہے۔ تیری ہستی وجود کے گلزار (باغ) کے لیے باغبان (مالی) کی حیثیت رکھتی ہے۔ یعنی انسان ہی کے وجود سے اس دنیا میں سب کچھ ہے۔ کائنات اسی کی خاطر تخلیق ہوئی۔ وہی اس دنیا کی صحیح معنوں میں دیکھ بھال کر سکتا ہے، جس طرح ایک مالی باغ کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

؎ نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
جہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کے لیے

(بالِ جبریل)

شعر 14

انجمن حُسن کی ہے تُو، تری تصویر ہوں میں
عشق کا تُو ہے صحیفہ، تری تفسیر ہوں میں

معانیالفاظ
بزم، محفلانجمن
آسمانی کتابصحیفہ
تشریح، تفصیلتفسیر

تشریح:

اے انسان! تیرا وجود ہی ہر نوع کی خوبصورتیوں کا مجموعہ ہے، تُو حسن و خوبی کی انجمن (محفل) ہے اور میں (معمورۂ ہستی) تیری تصویر ہوں۔ عشق کی الہامی کتاب (کتاب: صحیفہ) کی حیثیت تو تجھے حاصل ہے، کائنات اور اس کی چیزیں تو تیری تشریح و وضاحت (تفسیر) کے سوا اور کچھ نہیں۔ اقبالؔ نے یہی خیال ایک اور جگہ یوں پیش کیا ہے:-

؎ بزمِ ہستی! اپنی آرائش پہ تُو نازاں نہ ہو
تُو تو اک تصویر ہے محفل کی اور محفل ہوں میں

(بانگِ درا)

شعر 15

میرے بگڑے ہوئے کاموں کو بنایا تُو نے
بار جو مجھ سے نہ اٹھّا وہ اُٹھایا تُو نے

معنیلفظ
بوجھبار

تشریح:

وہ آواز اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہتی ہے کہ میرے بگڑے ہوئے کاموں کو تُو نے بنایا اور سنوارا ہے۔ جو بوجھ میری طاقت و قوت سے باہر تھا، اس کو صرف تُو نے اُٹھایا اور یوں میری مشکل حل کر دی۔ تُو اس کائنات کا سردار اور آقا ہے، تُو اشرف المخلوقات ہے۔ بارِ امانت سے قرآن پاک کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ خدا تعالی کی معرفت کی ذمہ داری، جو روزِ ازل کُل مخلوقات کے سامنے پیش کی گئی اور اس وقت انسان کے سوا کوئی یہ بوجھ اُٹھانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ میر تقی میرؔ نے اسی خیال کو یوں پیش کیا ہے:-

؎ سب پہ جس بار نے گرانی کی
اُس کو یہ ناتواں اُٹھا لایا

(شاعر: میر تقی میر)

قرآن پاک میں ارشاد ہے:-

ہم نے دکھلائی امانت آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو پھر کسی نے قبول نہ کیا کہ اس کو اٹھائیں اور اس سے ڈر گئے اور اٹھا لیا اس کو انسان نے یہ ہے بڑا بے ترس، نادان۔
(القرآن: سورۃ الاحزاب: آیت نمبر 72)

شعر 16

نورِ خورشید کی محتاج ہے ہستی میری
اور بے منّتِ خورشید چمک ہے تری

معانیالفاظ
سورج کی روشنینورِ خورشید
ضرورت مند، حاجت مندمحتاج
سورج کے احسان کے بغیربے مِنّتِ خورشید

تشریح:

میری ہستی نورِ خورشید (سورج کی روشنی) کی محتاج ہے لیکن تُو اس کا محتاج نہیں ہے۔ اس کائنات کی رونق آفتاب کے دم سے ہے، لیکن تیری خودی آفتاب کی دست نِگر نہیں ہے۔

شعر 17

ہو نہ خورشید تو ویراں ہو گُلستاں میرا
منزلِ عیش کی جا نام ہو زنداں میرا

معانیالفاظ
سورجخورشید
اُجڑا ہوا، ایسی جگہ جہاں کوئی آبادی نہ ہوویراں
باغ، مُراد دُنیاگُلستاں
عیش کے ٹھِکانے کی بجائےمنزلِ عیش کی جا
قید خانہزِنداں

تشریح:

اگر خورشید (سورج) نہ ہو تو میرا یہ گلستان (باغ) ویران ہو کر رہ جائے اور اس بنا پر میرا نام منزلِ عیش کی بجائے قید خانہ ہو۔ عیش سے مراد آرام کی زندگی، لطف و راحت کے ساتھ زندگی بسر ہونے کی کیفیت ہے۔ زِنداں (قید خانہ) سے مراد تکلیفوں اور دکھوں کا گھر۔

شعر 18

آہ، اے رازِ عیاں کے نہ سمجھے والے!
حلقۂ دامِ تمنّا میں اُلجھنے والے

معانیالفاظ
کھُلا بھید، ظاہر رازرازِ عیاں
تمنّا کا جال، خواہش کا جالدامِ تمنّا
پھنسنے والااُلجھنے والا

تشریح:

اے بالکل واضح اور نمایاں بھید کو نہ سمجھ سکنے والے!

اے مختلف تمناؤں اور آرزوؤں کے جال میں پھنس جانے والے!

شعر 19

ہائے غفلت کہ تری آنکھ ہے پابندِ مجاز
ناز زیبا تھا تجھے، تُو ہے مگر گرمِ نیاز

معانیالفاظ
بے ہوشی، بے خبری، مدہوشیغفلت
ظاہر بینپابندِ مجاز
فخرناز
عاجزینیاز

تشریح:

کتنے افسوس کا مقام ہے کہ غفلت کے باعث تیری نگاہ چیزوں کے ظاہر میں پھنس کر رہ گئی ہے اور حقیقت تک نہیں پہنچی۔ تجھے تو فخر و ناز بجا تھا(کہ تُو اشرف المخلوقات تھا)، لیکن تُو عاجزی یا ذلت میں الجھا ہوا ہے (انسان کی مادیت پرستی، ماسوی اللہ سے زیادہ لگاؤ اور اس قسم کی دوسری خرابیوں کی طرف اشارہ ہے)۔ تیرا مرتبہ یہ ہے کہ ساری کائنات تیری محتاج ہے، لیکن تُو طلسمِ رنگ و بُو میں گرفتار ہو کر اس کائنات کا محتاج بن گیا۔ یہ کائنات تیری خادم ہے لیکن تُو نے اپنی کوتاہ بینی کی بدولت اس کو اپنا مخدوم بنا لیا۔ در اصل یہ کائنات تیری طالب ہے لیکن تُو نے اپنی غلط بینی سے اس کو اپنا مطلوب قرار دے دیا۔

شعر 20

تُو اگر اپنی حقیقت سے خبردار رہے
نہ سیَہ روز رہے پھر نہ سیَہ کار رہے

معانیالفاظ
اصلیّتحقیقت
آگاہخبردار
کالے دِن والا یعنی جس کے دِنوں پر تاریکی چھائی ہوئی ہوسیہ روز
سیاہ قسمت، بد قسمتسیہ کار

تشریح:

اگر تُو اپنی حقیقت سے آگاہ رہے، تجھے اپنی خودی کی معرفت حاصل ہو جائے اور تُو جہد و عمل میں لگ جائے تو تُو نہ سیاہ روز (بد نصیب) رہے گا اور نہ سیہ کار (بد عمل) رہے گا۔ خودی کی معرفت اور جہد و عمل سے تیری قسمت سنور جائے گی، تُو برے اعمال سے بچے گا اور تیری بقا کا سامان ہو جائے گا۔ اس نظم میں اقبالؔ نے انسان کو اشرف المخلوقات اور بزمِ قدرت کی ہر شے سے افضل ثابت کیا ہے۔ خوبی یہ ہے کہ انسان اپنی نافہمی کے باعث بزمِ قدرت کو اپنے سے بہتر قرار دیتا ہے اور بزمِ قدرت انسان کے اشرف ہونے کا اعلان کرتی ہے۔

تبصرہ

یہ نظم انسان کو کائنات کی ظاہری چمک اور مظاہر سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنی باطنی خودی کو پہچاننے کی دعوت دیتی ہے۔ اقبالؔ بتاتے ہیں کہ اگر انسان اپنی اصل حقیقت اور رب سے اپنے تعلق سے باخبر ہو جائے تو وہ نہ کبھی سیاہ روز رہے اور نہ سیاہ کار۔

قرآن مجید کی رو سے انسان کے منصب کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں:-

یہ تمام مضمون قرآن مجید کی اس آیت کی تفسیر ہے:-

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ

اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے رب نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔
(القرآن: سورۃ البقرۃ: آیت 30)

واضح ہو کہ اِنسان اس دُنیا میں اللہ کا خلیفہ ہے، اس لیے اشرف المخلوقات ہے، یہی اقبالؔ کے فلسفۂ خودی کا سنگِ بنیاد ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *