Skip to content

بانگِ درا 13: خفتگانِ خاک سے استفسار

فہرست

تعارف

علامہ اقبال کی نظم ”خفتگانِ خاک سے استفسار“ پہلی مرتبہ فروری ۱۹۰۲ء کے ”مخزن“ میں شائع کی گئی۔ مولانا غلام رسول مہر لِکھتے ہیں کہ شروع میں یہ نظم 40 اشعار پر مشتمل تھی، بانگِ درا کی اشاعت کے وقت نظرِ ثانی کی گئی اور صرف 26 اشعار باقی رکھے گئے۔ ڈاکٹر شفیق احمد کے مطابق مخزن میں اشاعت کے وقت بھی اس نظم کے تین ہی بند تھے، البتہ نظرِ ثانی میں جُزوی ترامیم کے علاوہ کُچھ نئے اشعار کا اضافہ بھی کیا گیا۔

اس نظم کا تعلق اقبالؔ کے فکر و فن کے اُس دور سے ہے جہاں وہ تلاش و تشکیک میں مبتلا نظر آتے ہیں۔ اُن کی روح بے چین، فرسودہ اور مضطرب دکھائی دیتی ہے اور وہ مظاہرِ فطرت سے ہم آہنگی کے خواہش مند ہیں۔ اسی سلسے میں نظامِ فطرت کے ساتھ کبھی راز داری بر قرار رکھتے ہیں اور کبھی براہِ راست اس سے ہم کلام نظر آتے ہیں۔

نظم کے فکری و فلسفیانہ موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر رقم طراز ہیں:-

اِس نظم میں اقبالؔ نے اچھُوتے انداز میں حالات بعد الموت کے متعلق کُچھ سوالات اُن لوگوں سے کیے ہیں جو موت کی منزل سے گزر چُکے ہیں۔ درحقیقت یہ نظم اُن افکار و احساسات کا ایک جامع مرقع (منظر کشی) ہے جو زندگی کے مسائل پر غور و فکر کرنے والے بالغ نظر انسان کے قلب و دِماغ میں اوّل اوّل پیدا ہوتے ہیں۔ اِس نظم کی خوبی یہ ہے کہ دُنیا میں جتنے مسائل ایک سلیم الفطرت انسان کے لیے دُکھ اور تکلیف کا باعث ہیں، وہ سب پیش کر کے خاک میں سونے والوں سے پوچھا ہے کہ آیا موت کے بعد کی زندگی میں بھی وہ موجود ہیں یا نہیں؟

مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا

بند نمبر ۱

شعر 1

مہرِ روشن چھُپ گیا، اُٹھّی نقابِ رُوئے شام
شانۂ ہستی پہ ہے بکھرا ہُوا گیسُوئے شام

معانیالفاظ
سورجمہر
کندھاشانہ
دنیاہستی
بالگیسو
مٹی میں سوئے ہوئے لوگ، وہ لوگ جو اِس دُنیا سے رُخصت ہو چُکے ہوںخفتگانِ خاک
پوچھ گچھ، سوالاستفسار

تشریح:

علامہ اقبال رات کی تصویر کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں کہ روشنی پیدا کرنے والا سورج چُھپ گیا اور شام کے چہرے سے نقاب اُٹھ گیا ہے۔ تاریکی کے چھا جانے کے باعث یوں لگتا ہے جیسے شام نے زندگی کے کندھوں پر اپنے بال بِکھیر دیے ہوں (شام کو اُس کی سیاہی کے باعث گیسُو سے تعبیر کیا گیا ہے)۔

شعر 2

یہ سیَہ پوشی کی تیّاری کس کے غم میں ہے
محفلِ قُدرت مگر خورشید کے ماتم میں ہے

معانیالفاظ
کالا لباس پہنناسیہ پوشی
سورجخورشید
رونا پیٹناماتم

تشریح:

رات کے آغاز کی خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔ اقبالؔ نے رات کے سیاہ ہونے کو سیاہ پوشی یعنی کالا لباس پہننے سے تعبیر کیا ہے۔ پوچھتے ہیں کہ یہ سیاہ پوشی کس کے غم میں ہے آخر؟ در اصل اس کی وجہ سورج کے ڈھل جانے، گویا اُس کے مر جانے کے ماتم میں ہے۔ یہاں صنعتِ حُسنِ تعلیل کی بہترین مثال ملتی ہے۔

صنعتِ حُسنِ تعلیل: کسی چیز کی حقیقی وجہ سے ہٹ کر کوئی اور وجہ بیان کی جائے اور اس میں کوئی شاعرانہ خوبصورتی یا نزاکت ہو۔

شعر 3

کر رہا ہے آسماں جادُو لبِ گُفتار پر
ساحرِ شب کی نظر ہے دیدۂ بیدار پر

معانیالفاظ
بولنے والا ہونٹلبِ گفتار
رات کا جادوگرساحرِ شب
جاگتی ہوئی آنکھیںدیدہ بیدار

تشریح:

آسمان بولنے والے ہونٹوں پر جادو کر رہا ہے۔ یعنی وہ نیند کی وجہ سے خاموشی اختیار کر رہے ہیں، کیونکہ رات اور خاموشی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ شب کو جادوگر کہا گیا ہے جو جاگنے والی آنکھ پر جادو کر رہی ہے اور اس وجہ سے لوگ سونے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔

شعر 4

غوطہ زن دریائے خاموشی میں ہے موجِ ہوا
ہاں، مگر اک دُور سے آتی ہے آوازِ درا

معانیالفاظ
ڈبکی لگانے والاغوطہ زن
گھنٹی کی آوازآوازِ درا

تشریح:

ہوا بھی خاموشی کے دریا میں غوطہ لگائے ہوئے ہے، یعنی انسانوں کے ساتھ ساتھ ماحول میں بھی بالکل سکُوت کا عالَم ہے۔ لیکن اس سکُوت کو توڑتی ہوئی ایک گھنٹی کی آواز دُور سے سُنائی دے رہی ہے۔

شعر 5

دل کہ ہے بے تابیِ اُلفت میں دنیا سے نفُور
کھینچ لایا ہے مجھے ہنگامۂ عالم سے دُور

معانیالفاظ
محبت کے باعث ہونے والی بے چینیبے تابیِ الفت
نفرت کرنے والانفور
دنیا کی شورش، غُلہنگامہِ عالَم

تشریح:

اُلفت و محبّت سے بےقرار میرا یہ دِل، مجھے دنیا سے نفر ت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس لیے یہ مجھے دُنیا اور اُس کے شور سے دور لے آیا ہے۔

شعر 6

منظرِ حرماں نصیبی کا تماشائی ہوں میں
ہم نشینِ خُفتگان کُنجِ تنہائی ہوں میں

معانیالفاظ
نامراد اور ناکام قسمتحرماں نصیبی
الگ تھلگ رہنے کے لیے کوناکنج تنہائی
تنہائی کے ایگ گوشے میں سونے والاخفتگانِ کنج تنہائی
ساتھ بیٹھا ہوناہم نشیشن

تشریح:

میں نامرادی اور بُری قسمت کا نظارہ کر رہا ہوں۔ جو اِس تنہا کونے میں سو رہے ہیں، اُن کے ساتھ بیٹھا ہوں (اقبالؔ اب قبرستان میں قبروں کے پاس بیٹھے ہیں)۔

خلاصہ: سورج ڈھل رہا ہے اور رات چھا رہی ہے۔ لوگ سونے کی تیاریاں کر رہے ہیں ایسے میں شاعر کا نفرت اور بے چینی سے بھرا دل اس کو لوگوں سے دور قبرستان میں جا بیٹھنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

بند نمبر ۲

شعر 7

تھم ذرا بے تابیِ دل! بیٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستی پہ چار آنسو گرانے دے مجھے

معانیالفاظ
رُکتھم
دل کی بے چینیبے تابیِ دل

تشریح:

دِل بے تاب ہے کہ خفتگانِ خاک (مٹی میں سوئے ہوئے لوگ) سے وہ تمام سوال کر ڈالے جو اُسے بے چین و بے قرار کیے ہوئے ہیں۔ مگر اقبالؔ اُس کو روک کر کہتے ہیں کہ پہلے ذرا مجھے رو تو لینے دو۔ اس قبرستان کی بستی پر چند آنسوؤں کا نذرانہ تو پیش کرنے دو۔

شعر 8

اے مئے غفلت کے سر مستو! کہاں رہتے ہو تم؟
کُچھ کہو اُس دیس کی آخر، جہاں رہتے ہو تم

معانیالفاظ
بیہوشی کی شراب، مراد موتمے غفلت
شرابیسر مست

تشریح:

مُردوں کو مئے غفلت کا سرمست کہہ کر پُکارتے ہیں، جو دنیا و مافیہا کی فکر چھوڑ کر، اپنے فرائض، ذمہ داریوں اور واجبات سے بیگانے ہو کر یہاں دوسرے جہان میں آ گئے ہیں۔ اقبالؔ سوالات کا سلسلہ شروع فرماتے ہیں اور اُن کی دُنیا کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ مجھے اُس دیس کا حال بھی سُناؤ کہ جہاں تم رہتے ہو۔

شعر 9

وہ بھی حیرت خانۂ امروز و فردا ہے کوئی؟
اور پیکارِ عناصِر کا تماشا ہے کوئی؟

معانیالفاظ
حیرتوں کا گھرحیرت خانہ
آج اور کل، مراد جہاں میں وقت کا بدلنا اور انقلابوں کا آناامروز و فردا
آگ، پانی، ہوا اور مٹی (elements) عناصر
عناصر کی آپس میں لڑائی، تعامل، ری-ایکشن (reaction)پیکارِ عناصر

تشریح:

اس شعر میں اقبالؔ خفتگان سے وہاں کے زمان و مکان کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہاں بھی وقت کا تعین کرنے کے لیے دن اور رات جیسی کوئی چیز ہے (اِمروز و فردا سے وقت یا زمانہ کی طرف اشارہ ہے)۔ کیا وہاں کے اردگرد کا ماحول بھی یہاں کی طرح مادے (Matter) سے ہی مل کر بنا ہے اور عناصر (آگ، پانی، ہوا اور مٹی) میں لڑائی ہوتی رہتی ہے؟

”پیکارِ عناصر“ سے مراد ہے اُن کے درمیان باہمی تعامل (reaction)، جس کے نتیجے میں نظامِ زندگی وجود میں آتا ہے۔ بقول اقبالؔ:-

دما دم رواں ہے یمِ زندگی
ہر اک شے سے پیدا رمِ زندگی
اسی سے ہوئی ہے بدن کی نمود
کہ شُعلے میں پوشیدہ ہے موجِ دُود
گراں گرچہ ہے صُحبتِ آب و گِل
خوش آئی اسے محنتِ آب و گِل

(بالِ جبریل: ساقی نامہ)

شعر 10

آدمی واں بھی حصارِ غم میں ہے محصُور کیا؟
اُس ولایت میں بھی ہے انساں کا دل مجبُور کیا؟

معانیالفاظ
غم کی لپیٹ میںحصارِ غم
گھِرا ہوا، قیدمحصور
بیرونی ملکولایت

تشریح:

کیا انسان وہاں بھی غم کے قلعے میں قید رہتا ہے (کیا وہاں بھی اُسے غم برداشت کرنا پڑتا ہے) اور کیا اُس مُلک میں بھی انسان مجبور ہے؟

واضح ہو کہ ”غم“ ایک ایسی شے ہے جو اس دُنیا کا خاصا ہے۔ کوئی ذی روح اپنے آپ کو غم سے آزاد نہیں پاتا۔ کبھی غمِ عاشقی، کبھی غمِ روزگار اور ہزار طرح کے غموں میں اپنے آپ کو قید پاتا ہے۔ زمان و مکاں کی قید کی طرح یہ قید بھی اتنی ہی اصل اور حقیقی ہے، جس نے انسان کو مجبور کر رکھا ہے۔

شعر 11

واں بھی جل مرتا ہے سوزِ شمع پر پروانہ کیا؟
اُس چمن میں بھی گُل و بُلبل کا ہے افسانہ کیا؟

معانیالفاظ
شمع کا جلناسوزِ شمع
وہ کیڑا جو روشنی پر منڈلاتا ہے اور آخر اس کی حرارت یا آگ سے جل جاتا ہے۔پروانہ

تشریح:

کیا وہاں بھی شمع کی آگ پر پروانہ اپنے آپ کو قربان کر دیتا ہے؟ کیا اُس باغ میں بھی گُل و بُلبُل کی کہانی سُنی جاتی ہے؟

شمع و پروانہ اور گُل و بُلبُل، اردو اور فارسی شاعری میں عشق کے دو استعارے ہیں۔ جیسے پروانہ شمع پر مر مِٹنے کو تیار ہوتا ہے، بلبل بھی پھول کے حُسن پر عاشق ہو کر اُس کے گُن گاتی رہتی ہے اور یہ اُس کا نغمہ ہوتا ہے۔

گویا اقبالؔ دریافت کرتے ہیں کہ کیا اُس جہان میں بھی عشق کا وجود ہے؟

شعر 12

یاں تو اک مصرع میں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
شعر کی گرمی سے کیا واں بھی پگھل جاتا ہے دل؟

معنیلفظ
مراد شعر کا اثرشعر کی گرمی

تشریح:

اب اقبالؔ انسان کی قوّتِ گفتار کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ جس کا اس جہان میں تو یہ حال ہے کہ شعر کے ایک مصرع کا بھی دل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس پر الفاظ کا اس قدر اثر ہے کہ وہ الفاظ پر یقین رکھتا ہے، ان کے بولنے سے ہی سچا اور جھوٹا پہچانا جاتا ہے، ان سے ہی شکر و کفر کا مرتکب ہوتا ہے اور اُنہیں کے باعث اسکی برتری ہے۔

”وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا“

ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سِکھا دیے۔
(القرآن: سورۃ البقرۃ: آیت 31)

شعر بھی الفاظ ہی کے ہیر پھیر سے پیدا کیا ہوا ایک فن ہے۔ اس کی اہمیت کے پیشِ نظر اقبالؔ دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہاں بھی ایسا کُچھ ہے؟

شعر 13

رشتہ و پیوند یاں کے جان کا آزار ہیں
اُس گُلستاں میں بھی کیا ایسے نُکیلے خار ہیں؟

معانیالفاظ
رشتے داریاں اور آپس کے تعلقاترشتہ و پیوندیاں
تکلیفآزار
تیز کانٹےنُکیلے خار

تشریح:

اِس دُنیا میں تو تعلقات (قرابت داری اور تعلقاتِ دوستی وغیرہ) جان کے لیے تکلیف دہ ہیں۔کیا اُس باغ میں بھی اِس طرح کے نوک دار کانٹے ہیں یا وہ عالم ان سب سے پاک ہے؟

سماجی تعلقات اس دنیا کی زندگی کا ایک بہت اہم حصہ ہیں۔ ان کی موجودگی ناگزیر ہے، لیکن ان میں استحصال اور مفاد پرستی بھی پائی جاتی ہے اور بہر حال انسان کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ مگر کیا وہ باغ، جس میں خُفتگان ہیں، اُس میں بھی رشتہ داریوں اور باقی تعلقات جیسے کانٹے موجود ہیں؟

شعر 14

اس جہاں میں اک معیشت اور سَو اُفتاد ہے
رُوح کیا اُس دیس میں اس فکر سے آزاد ہے؟

معانیالفاظ
economy، مراد روزگار کی فکرمعیشت
کئی مصیبتیںسو اُفتاد

تشریح:

اِس جہان میں زندگی گزارنے اور وجہ معاش حاصل کرنے کے لیے سیکڑوں مصیبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، کیا اُس دیس میں روح اِس قسم کی فکر سے آزاد ہے؟

اس دنیا میں معیشت زندگی کا ایک بہت اہم حصہ ہے اور اس سے جُڑے ہوئے سو اور مسائل ہیں (حتیٰ کہ زندگی کا بیشتر حصہ اسی کے حصول میں صَرف ہوجاتا ہے)۔

اقبالؔ دریافت کرتے ہیں کہ کیا اُس جہان میں کم از کم روح اِس فکر سے آزاد ہے؟ حالانکہ روح کا اس فکر سے کوئی واسطہ نہیں، یہ تو محض مادی جسم کی ضروریات کا نتیجہ ہے۔ لیکن پھر بھی روح اس کے بوجھ تلے دو طریقوں سے دب جاتی ہے:-

  • ایک تو اس (فکرِ معاش) کی ہوس میں وہ طاقت ہے کہ انسان کو روح کی غذا کا احتمام بُھلا دے۔
  • دوسرا، اس معیشت کو چلانے کے وسائل اگر حرام ہوں تو روح پر بڑا بوجھ بن جاتے ہیں۔
شعر 15

کیا وہاں بجلی بھی ہے، دہقاں بھی ہے، خرمن بھی ہے؟
قافلے والے بھی ہیں، اندیشۂ رہزن بھی ہے؟

معانیالفاظ
کساندہقاں
کھلیان، غلّے کا ڈھیرخرمن
ڈکیتی، بٹماری، قزّاقیرہزن

تشریح:

کیا وہاں بھی بجلی، کسان اور کھیتوں کھلیانوں کے انبار ہیں؟ کیا وہاں قافلے بھی ہیں اور اُن قافلوں کو لُوٹنے والے ڈاکو بھی؟

اِس دنیا میں لوگ ہمیشہ خوف کی لپیٹ میں رہتے ہیں۔ انسان ہر وقت کسی نہ کسی ڈر سے بچاؤ کی جستجو میں لگا ہوتا ہے۔ خِرمن اور بجلیاں بھی ایک ایسے کھیل کا نام ہے۔ کسان ہر وقت اس خوف میں رہتا ہے کہ کہیں اُس کی فصل کی پیداوار کو بجلیاں جلا کر راکھ نہ کر دیں یا کوئی اور ناگہانی آفت نہ ٹوٹ پڑے۔ اسی طرح مسافر بھی اس ڈر میں رہتے ہوئے ہی سفر کرتا ہے کہ کہیں اُسے لُوٹ نہ لیا جائے۔

شعر 16

تِنکے چُنتے ہیں وہاں بھی آشیاں کے واسطے؟
خِشت و گِل کی فکر ہوتی ہے مکاں کے واسطے؟

معانیالفاظ
گھونسلاآشیاں
اینٹ اور مٹی جس سے عمارت بناتے ہیںخشت و گل

تشریح:

کیا گھر بنانے جیسا کام جو یہاں چرند پرند اور انسان، سبھی کرتے ہیں، وہاں بھی یہ نظام ہے اور اس طرح کی مادی ضروریات ہیں؟ کیا وہاں بھی مکان کے واسطے اینٹ اور مٹی کی فکر ہوتی ہے؟

شعر 17

واں بھی انساں اپنی اصلیّت سے بیگانے ہیں کیا؟
امتیازِ ملّت و آئِیں کے دیوانے ہیں کیا؟

معانیالفاظ
غافل، بھولے ہوئےبیگانے
اپنی قوم کو باقیوں سے بہتر سمجھناامتیازِ ملت

تشریح:

کیا انسان وہاں بھی اپنی اصلیّت سے بے خبر ہیں اور کیا وہاں بھی لوگ امتیازِ ملّت و آئین کے دیوانے ہیں؟

اب اقبالؔ اس دنیا کی مادی ضروریات سے ہٹ کر اِس دنیا میں انسان کے نظریاتی پہلو کے متعلق سوال اُٹھاتے ہیں۔ مادیات کا کھیل اور اس دنیا کا جادو ہی ایسا ہے کہ اس میں تو انسان اپنی اصل سے بے خبر رہنے کا عادی ہے، کیونکہ اپنی اصل کو پہچانتا نہیں اس لیے شناخت کے لیے مزید کئی پیرائے بنا لیتا ہے۔

یہ پیرائے کبھی رنگ و نسل کے ہوتے ہیں، کبھی خاندان یا قبیلے کے، یا ذات پات کے۔ یا انسان کبھی زمین (یعنی مُلک) اور کبھی روزگار (یعنی پیشہ) سے اپنی شناخت بنا لیتا ہے۔ پھر اسی کو اپنی قوم سمجھنے لگتا ہے اور اس کی بنیاد پر دوسروں پر امتیاز اور غلبہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی طرح اپنے نظریے کی بنیاد پر کچھ آئین اور دستور بنا لیتا ہے، پھر اُن کی بالا دستی چاہتا ہے۔

کیا یہ اِسی جہاں کا خاصا ہے؟ کیا وہ جہان اس سے کُچھ مختلف ہے؟

شعر 18

واں بھی کیا فریادِ بُلبل پر چمن روتا نہیں؟
اِس جہاں کی طرح واں بھی دردِ دل ہوتا نہیں؟

معنیلفظ
بُلبُل کی پُکار / آہ و زاریفریادِ بلبل

تشریح:

کیا وہاں بھی باغ بُلبُل کی فریاد پر نہیں روتا؟ کیا وہاں بھی اِس جہاں کی طرح بے درد لوگ بستے ہیں؟ کیا وہاں اس صورتِ حال کے برعکس باہم ہمدردی کا مادہ موجود ہے؟

چمن کا رونا احساسِ ہمدردی ہے۔ دوسرے کے لیے دردِ دل رکھنا اور اُس کی پریشانیوں میں شریک ہونا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ مگر اس دنیا کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ انسان اس کی کم ہی پرواہ کرتا ہے اور زیادہ تر مفاد پرست اور self-centered ہی رہتا ہے۔ کیا وہاں بھی انسانی جذبات کا یہی حال ہے؟

خلاصہ: اقبالؔ کے دل کی بے قراری سے اُن کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ اس بےتابی کی وجہ وہ سوالات ہیں جو وہ اُن لوگوں سے کرنا چاہتے ہیں جو اِس دُنیا سے رُخصت ہو کر اگلے جہان کُوچ کر گئے ہیں۔ اس لیے وہ تمام سوال جو اس دنیا کے بارے میں اقبالؔ کو پریشان کرتے ہیں، وہ ایک ایک کر کے اُن سے پوچھتے ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وہ جہاں، جس میں خفتگان سوئے ہوئے ہیں، وہ بھی ایسا ہی ہے یا اس سے کچھ مختلف ہے۔

بند نمبر ۳

شعر 19

باغ ہے فردوس یا اک منزلِ آرام ہے؟
یا رُخِ بے پردۂ حُسنِ ازل کا نام ہے؟

معانیالفاظ
جنت کا علیٰ ترین مقامفردوس
چہرہرُخ
حُسنِ خداوندی، ذاتِ باری تعالیٰحسنِ ازل

تشریح:

یہ جو حیات بعد از موت میں ”فردوس“ کا تصوّر ہمارے ذہن میں ہے، وہ فردوس کیا ہے؟ کیا وہ ایک خوبصورت جگہ ہے جہاں گھوما پھرا جا سکتا ہے یا وہ محض ایک آرام گاہ ہے جہاں سکون سے، بغیر کسی پریشانی اور مزید جستجو کے آرام کیا جا سکتا ہے؟ یا پھر فردوس اُس مقام کا نام ہے جہاں پر حُسنِ لامحدود و ازل (یعنی خدا) خود کو بے حجاب دکھاتا ہے اور یہی فردوس کے مقام تک پہنچنے کا انعام ہے۔

اقبالؔ خفتگان سے فردوس کے اِس تصور کی تفسیر طلب کرتے ہیں۔

شعر 20

کیا جہنّم معصیت سوزی کی اک ترکیب ہے؟
آگ کے شعلوں میں پنہاں مقصدِ تادیب ہے؟

معانیالفاظ
گناہ جلانے کا عملمعصیت سوزی
چھپا ہوا، پوشیدہپنہاں
ادب سکھانا، تنبیہ کرناتادیب

تشریح:

پھر خفتگانِ خاک سے جنت کی طرح، جہنم کے تصّور کی بھی تفصیل مانگتے ہیں۔ پوچھتے ہیں کہ کیا دوزخ گناہوں کو جلانے کی ایک ترکیب ہے اور آگ کے شعلوں سے ادب سِکھانا مقصود ہے؟ یا دوزخ کی حقیقت بھی کُچھ اور ہے؟

واضح ہو کہ یہاں جہنم کے تصور کے متعلق دو علمی نظریات پیش کیے گئے ہیں۔

  1. پہلے نظریے کے مطابق کیا وہ اس لیے بنائی گئی ہے کہ انسان اُس میں ڈالے جائیں اور اس کی آگ اُن کے گناہوں کو جلائے، جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائیں اور جنت میں جانے کے قابل نہ ہوجائیں۔
  2. دوسرا نظریہ یہ ہے کہ دوزخ محض ایک deterrent ہے اور اس کے شعلوں کو بھڑکانے کے پیچھے خدا کا صرف یہ مقصد ہے کہ انسان کو تنبیہ کی جاسکے، اُسے warn کیا جا سکے اور وہ اس کے ڈر کی وجہ سے صراطِ مستقیم پر رہے۔ یعنی انسان کو اُس میں جلانا مقصود نہیں۔
شعر 21

کیا عوض رفتار کے اُس دیس میں پرواز ہے؟
موت کہتے ہیں جسے اہلِ زمیں، کیا راز ہے؟

معانیالفاظ
زمین پر چلنارفتار
اُڑناپرواز

تشریح:

کیا اُس دنیا کے قدرتی اصول و قوانین یہاں سے مختلف ہیں؟ کیا وہاں ہم فِزِکل اصولوں (Laws of Physics) ، جیسے کہ کششِ ثقل (Gravity) کے پابند نہیں رہیں گے؟ اور زمین پر چلنے کے بجائے ہوا میں اُڑنے لگیں گے۔

یعنی عام طور پر انسان جب اُس کا تصور کرتے ہیں تو خود کو مادی اصولوں سے ماورا پاتے ہیں لیکن موت بہرحال ہمارے لیے ایک مخفی راز ہے جس کے بارے میں ہم قیاس کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اقبالؔ خفتگانِ خاک سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں اس راز سے آشنا کریں۔

شعر 22

اضطرابِ دل کا ساماں یاں کی ہست و بود ہے
علمِ انساں اُس ولایت میں بھی کیا محدود ہے؟

معانیالفاظ
دل کی بے چینیاضطرابِ دل
ہونا، رہنا سہناہست و بود

تشریح:

اس دنیا میں انسان کا وجود بہت محدود ہے اور اُس کی ہستی کے گرد ایک حاشیہ ہے۔ اُس حاشیے سے باہر تک نہ اُس کی نگاہ جاتی ہے نہ اُسکا علم۔ وہ ہر شے کو جان نہیں سکتا اور سمجھ نہیں سکتا۔ یہی شے اُس کے دل میں بے قراری پیدا کر دیتی ہے۔

یہاں حضرت موسیٰؑ اور خضرؑ کا واقع ذہن میں رکھیے۔ خضرؑ کے اُٹھائے گئے ہر اقدام پر، موسیٰؑ مضطرب ہو جاتے اور سوال کر اُٹھتے۔ یہ اضطراب اُن کے علم کی محدودیت کی وجہ سے تھا (سورۃ الکہف: آیت نمبر 61 تا 82)۔

کیا اُس دوسری جہت (dimension) یا دنیا میں بھی علم محدود ہے جو اس اضطراب کو برقرار رکھنے کا سبب بنے گا؟

شعر 23

دید سے تسکین پاتا ہے دلِ مہجُور بھی؟
’لن ترانی‘ کہہ رہے ہیں یا وہاں کے طُور بھی؟

معانیالفاظ
ہجر،فراق کا شکارمہجور
اشارہ ہے اُس قرآنی واقعہ کی طرف جس میں حضرت موسیؑ نے اللہ تعالی سے درخواست کی کہ اپنا جلوہ دکھائیں، جس پر اللہ تعالی نے جواب دیا ”لن ترانی“ یعنی تُو مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتالن ترانی
وادی سینا کا وہ پہاڑ جہاں حضرت موسی اللہ سے ہم کلام ہوئےطور

تشریح:

کیا وہاں جُدائی کے مارے ہوئے دِل کو دیدار میسّر ہوتا ہے یا وہاں کے طُور سے بھی دیدار کی صدا بلند ہوتی ہے اور جواب ”لن ترانی“ میں آتا ہے؟ ’لن ترانی‘ سے اشارہ قرآنِ پاک میں مذکور حضرت موسیؑ کے اس واقعہ کی طرف ہے:-

وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ اَرِنِـىٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ۚ قَالَ لَنْ تَـرَانِىْ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَـرَانِىْ ۚ فَلَمَّا تَجَلّـٰى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَـهُ دَكًّا وَّخَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا ۚ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ

ترجمہ: اور جب موسٰی ہمارے مقرر کردہ وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے رب مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں! فرمایا کہ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتا لیکن تو پہاڑ کی طرف دیکھتا رہ اگر وہ اپنی جگہ پر ٹھہرا رہا تو تو مجھے دیکھ سکے گا، پھر جب اس کے رب نے پہاڑ کی طرف تجلی کی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا اور موسٰی بے ہوش ہو کر گر پڑے، پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کی کہ تیری ذات پاک ہے میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا یقین لانے والا ہوں۔
(القرآن: سورۃ الاعراف: آیت نمبر 143)

جیسے اِس دنیا میں خدا نے اپنی ذات کو مخفی رکھا ہے، کیا وہاں بھی انسان خدا کے ایک جلوے کا منتظر ہے اور ہجر کا مارا ہوا ہے۔ یا وہاں اُسے خدا سے وصل حاصل ہوگیا ہے؟

شعر 24

جستجو میں ہے وہاں بھی رُوح کو آرام کیا؟
واں بھی انساں ہے قتیلِ ذوقِ استفہام کیا؟

معانیالفاظ
مرنے والا، جان چھڑکنے والاقتیل
سوال کرنے یعنی تلاش و جستجو کا شوقذوقِ استفہام

تشریح:

انسان کی خوشی ہمیشہ جستجو اور تلاش میں ہوتی ہے۔ جب تک وہ کسی شے کا پیچھا کرتا ہے وہ خوش رہتا ہے اور جب وہ چیز اُسے حاصل ہو جاتی ہے تو اُس سے بڑھ کر کوئی جستجو ڈھونڈ لیتا ہے۔

؎ ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں

(شاعر: خوابہ الطاف حسین حالیؔ)

اسی جستجو میں اس کی روح کو آرام ہے۔ اس بہتر سے بہتر کی تلاش میں وہ سوال پر سوال کرتا آیا ہے۔ علم و فلسفے کی بنیاد یہی سوال ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی قسم کی ترقی آج انسان نے حاصل کی۔ کیا اُس دنیا میں اِس انسان کے سوال تمھیں گے؟ یعنی اُسے اتنا علم حاصل ہو جائے گا کہ کسی اور سوال کی کوئی گنجائش نہ رہے؟

شعر 25

آہ! وہ کِشور بھی تاریکی سے کیا معمُور ہے؟
یا محبّت کی تجلّی سے سراپا نُور ہے؟

معانیالفاظ
ملککشور
بھری ہوئیمعمور

تشریح:

اِس دُنیا پر تو بُغض و عداوت کی تاریکیاں مسلّط ہیں اور خلوص و محبّت کا کہیں سُراغ نہیں مِلتا۔ کیا وہ سلطنت بھی اندھیرے سے پُر ہے یا محبّت کی چمک سے سر تا پا نُور بنی ہوئی ہے؟

”تاریکی“ سے اشارہ ہر اُس شے کی غیر موجودگی کی طرف ہے جس سے انسان اس دُنیا میں عاری ہے اور جن کا ذکر شاعر نے اب تک کیا ہے۔ ”محبت“ کی تجلّی سے خدا کا نور اور ہر قسم کی امیدیں (یعنی دل کا مضطرب نہ ہونا وغیرہ) مراد ہیں۔ اِس شعر میں اقبالؔ نے مذکورہ خیالات کو اکٹھا کر دیا ہے گویا۔

شعر 26

تم بتا دو راز جو اس گنبدِ گرداں میں ہے
موت اک چُبھتا ہُوا کانٹا دلِ انساں میں ہے

معنیلفظ
مراد آسمانگنبد گرداں

تشریح:

موت، آسمان کا ایک ایسا راز ہے جس کو سمجھنے اور کھولنے کی جستجو میں انسان مسلسل لگا رہتا ہے اور یہ اُس کے دل میں ایک کانٹے کی طرح چبھتا رہتا ہے۔

اے خُفتگانِ خاک! جو اس دُنیا سے باہر ہو، یہ راز مجھ پر آشکار کر دو۔

خلاصہ: اس بند میں سوالات کی نوعیت ذرا تبدیل ہوجاتی ہے۔یہ بند انسان کے حیات بعد از موت، عقل و ذہن اور دِل کے پیدا کردہ سوالات کا احاطہ کرتا ہے۔

تبصرہ

اس نظم میں علامہ اقبال نے انسان کے اس دنیا کے مسائل اور اُس دنیا کے بارے میں سوالات کو بہت خوبصورتی اور فراست کے ساتھ پیش کیا ہے۔

نظم میں پریشانی، اُداسی اور اضطرابی و بیقراری کے جذبات واضح ہیں۔ یہ جذبات ہی ہیں جو شاعر کو استفہامی کیفیت عطا کرتے ہیں۔ پہلے ہی بند سے ”گیسُو“، ”سیہ پوشی“، ”ماتم“، ”دریائے خاموشی“، ”ساحر“ اور ”نفور“ جیسے الفاظ نظم کے مزاج کا تعیّن کر دیتے ہیں اور قاری کے دماغ پر سکوت اور تاریکی سی چھا جاتی ہے جو بقیہ نظم کے موضوع سے مطابقت رکھتی ہے۔

امجد اسلام امجد کی ایسے ہی مزاج کی ایک نظم کی طرف لا محالہ خیال جاتا ہے۔ اس کا کچھ حصہ عرض ہے:-

کبھی کبھی جب مری صدائیں
گھروں سے بچھڑی یہ فاختائیں
جو کہکشاؤں کے رستوں میں رواں ہوئیں تھیں
مرے زمان و مکان سے آگے
مرے تخیّل اور مرے گماں سے آگے
حدودِ حدِ بیاں سے آگے کی وسعتوں سے پلٹ کے آتیں
اور میرے لہو کی وادی میں گونجتی ہیں
میں سوچتا ہوں
میں اپنے ہونے اور نہ ہونے کے مخمسے میں یہ سوچتا ہوں
کہ میرے چاروں طرف جو بکھرا ہوا خلاء ہے
میں اُس کے اندر ہوں، اُس کے باہر ہوں
اُس کا حصہ ہوں یا کہ کیا ہوں

(شاعر: امجد اسلام امجدؔ)

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *