Skip to content

بالِ جبریل 124: مسجدِ قرطبہ

فہرست

تعارف

نظم ”مسجدِ قرطبہ“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا نقطۂ عروج اور اردو شاعری کے عظیم ترین شاہکاروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ نظم اقبالؔ نے 1933ء میں ہسپانیہ (اسپین) کے تاریخی شہر قرطبہ کی جامع مسجد کے دورے کے بعد تحریر فرمائی۔

اقبالؔ اس نظم کا آغاز وقت اور کائنات کے تغیر اور فنا پذیری (سلسلۂ روز و شب) سے کرتے ہیں، اور پھر یہ لازوال نظریہ پیش کرتے ہیں کہ اِس فانی کائنات میں صرف وہی تخلیق بقا پا سکتی ہے جو ’عشقِ حقیقی‘ کے جذبے سے وجود میں آئی ہو۔ مسجدِ قرطبہ کے پُرشِکوہ ستون اور محرابیں مسلمانوں کے ایمان، سوزِ دروں اور لازوال فن کی زندہ علامت بن کر سامنے آتی ہیں۔

مسجدِ قرطبہ کے پرشکوہ تاریخی پس منظر اور علامہ کے دورۂ ہسپانیہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں:-

نظم مسجدِ قرطبہ، جیسا کہ خود حضرتِ علامہ نے واضح کردیا ہے، علامہ کے ہسپانیہ کے دورانِ قیام میں اس اُجڑے ہوئے دیار کی جامع مسجد کی زیارت کے بعد لِکھی گئی۔ یہ مسجد صدیوں سے محرومِ اذاں ہونے کے باوجود آج بھی تمام دنیا کی مساجد کا سرتاج ہے۔

بلاشبہ یہ مسجد عجائباتِ عالم میں سے ہے۔ اِس کو سلطان عبدالرحمٰن الداخل نے جامع دمشق کے نمونہ پر تعمیر کرایا تھا؛ اور اِس کے بعد اُس کے جانشینوں نے اسے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ 1236ء میں زوالِ قرطبہ کے بعد یہ عدیم المثال مسجد گِرجا (چرچ) بن گئی یعنی فاتحین نے اِس کی محراب کے سایہ میں ایک چھوٹا سا گِرجا تعمیر کر لیا۔ اسی انقلاب کو دیکھ کر اقبالؔ نے یہ مصرعِ موزوں کہا:۔

؏ عالمِ نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں

جس طرح یہ مسجد عربوں کے فنِ تعمیر کا شاہکار ہے، اُسی طرح اقبالؔ کی یہ نظم جدید اردو ادب کا شاہکار ہے۔ اِس میں رمزئیت اور ایمائیت، رومانیت اور جذبات نگاری، حقیقت پسندی اور شعریت یعنی فنِ شاعری کی تمام خوبیاں بیَک وقت جمع ہوگئی ہیں اور اقبالؔ نے اپنی خداداد شاعرانہ قوت سے کام لے کر ان تمام صوری اور معنوی خوبیوں کو اس طرح باہم دِگر مربوط کردیا ہے کہ ایک طرف اِس نظم میں غیر معمولی دِلکشی پیدا ہوگئی ہے تو دوسری طرف خود ان (یعنی اقبالؔ) کا شمار دُنیا کے صفِ اوّل کے شعراء میں ہوگیا ہے۔ گوئٹےؔ کی طرح اقبالؔ محض ایک مفکّر یا مصلح قوم ہی نہیں بلکہ وہ اپنی شاعری کی بدولت انسانوں کے دِلوں پر بھی حکومت کرتے ہیں۔ محاسنِ مذکورہ بالا کے نہایت حسین امتزاج ہی کا نتیجہ ہے کہ اُن کے کلام کی اپیل (appeal) عالمگیر ہوگئی ہے یعنی موافق اور مخالف دونوں اُن کے کلام سے یکساں طور پر متاثر ہوتے ہیں۔

اِس نظم میں محاسنِ شعری کے علاوہ تاریخِ فلسفہ اور رجائیت (پُر اُمیدی) کے عناصر بھی موجود ہیں۔ اقبالؔ نے اِختصار کے ساتھ مسلمانانِ اندلس کی تاریخ بھی بیان کردی ہے، دنیا کی بے ثباتی کا نقشہ بھی کھینچ دیا ہے اور مسلمانوں کو اُن کے شاندار مستقبل کی ایک جھلک بھی دکھائی ہے۔ اِن تمام ظاہری اور باطنی خوبیوں کی بِناء پر اس نظم میں بے اندازہ جاذبیت اور دِلکشی پیدا ہوگئی ہے۔

اِس نظم میں آٹھ بند ہیں اور ہر بند میں ایک مرکزی خیال پایا جاتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

مسجدِ قرطبہ کی تاریخ اور علامہ اقبال کے مشاہدات پر مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں:-

اس کی بنیاد پر عبد الرحمن اوّل نے رکھی تھی، جو ہسپانیہ میں اموی سلطنت کا بانی تھا۔ پھر اس میں مختلف بادشاہ اضافے کرتے رہے۔ آخری اضافہ ابی عامر المنصور نے کیا تھا، جو اگرچہ وزیر اعظم تھا، لیکن اُس نے مختارِ کل کی حیثیت حاصل کرلی تھی۔

اُندلس کے بڑے بڑے علماء نے اسی میں تعلیم پائی تھی اور اسی میں وہ درس دیتے تھے۔ اقبالؔ نے اس کی عظمت زائل ہوجانے سے کم و بیش سات سو سال بعد اسے دیکھا اور جو اثرات قبول کیے، ان کا نقشہ نظم میں ملاحظہ کِیا جاسکتا ہے۔

مولانا غلام رسول مہر، شرح بالِ جبریل

مسلم اسپین کی تہذیبی عظمت، اقبالؔ کے اس سے دلی لگاؤ اور مسجدِ قرطبہ کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرار زیدی رقم طراز ہیں:-

علامہ اقبال کی شاعری کے بیشتر حصے میں مسلم عہد کے اسپین (ہسپانیہ) کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ وہ اس عہد کے مسلمانوں کے عروج و زوال سے بُری طرح متاثر نظر آتے ہیں۔

انسائیکلوپیڈیا برِٹینیکا کے مطابق مسجدِ قرطبہ دنیا کی عظیم الشان اور نادر روزگار عبادت گاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس مسجد کی بنیاد ہسپانیہ میں اموی سلطنت کے بانی عبدالرحمٰن اوّل نے رکھی تھی۔ بعد میں متعدد حکمرانوں نے اس میں قابلِ قدر اضافے کیے۔ کہا جاتا ہے کہ مسجدِ قرطبہ کا طول چھ سو بیس (620) فٹ اور عرض چار سو چالیس (440) فٹ تھا۔ اس میں ایک ہزار چار سو سترہ (1,417) ستون تھے جو اس قدر مجلّا اور تابدار تھے کہ ان میں انسانی عکس نظر آتا تھا۔ دیواروں میں اکیس (21) دروازے تھے، جن پر پیتل منڈھا ہوا تھا۔ ان پر بے حد خوبصورت طمع کاری کی گئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر میں کسی مسجد کا حصہ اتنا بڑا اور وسیع نہیں ہے۔

مسجد میں روشنی کے لیے دو سو اسّی (280) بلوریں جھاڑ آویزاں تھے۔ سب سے بڑی اور مرکزی جھاڑ میں ہر وقت چودہ سو موم بتّیاں جلتی رہتی تھیں۔ دیواروں میں کم و بیش سات ہزار چار سو پچیس (7,425) پیالے آویزاں تھے جو تیل بتّی سے روشن رہتے تھے۔ اذان کے لیے جو مینار تعمیر کیا گیا تھا، ایک سو ساٹھ فٹ بلند تھا۔ اس کی چوٹی پر سونے اور چاندی کے سیب نما گولے نصب تھے جو سورج کی شعاعوں کی بدولت مِیلوں دور سے چکمتے دکھائی دیتے تھے۔ شاہی خانوادے کے لیے جو حصہ مسجد میں مخصوص تھا اُس کے دروازوں پر سونے چاندی کا منقش کام تھا اور تمام ستون لاجوَرد کے تھے۔ مسجد کا نادر روزگار منبر ہاتھی داںت، آبنوس اور صندل کے کم و بیش چھتیس ہزار (36,000) ٹکڑوں سے تیار کیا گیا تھا اور سنہری کیلوں سے جوڑا گیا تھا۔ اس عجوبہ روزگار مسجد کی تکمیل میں کم و بیش سات سال لگے۔ بہت سے جیّد علماء نے یہیں تعلیم حاصل کی۔ اقبالؔ نے اگرچہ صدیوں کے بعد اسف مسجد کو دیکھا لیکن ان کے ذہن پر جو نقوش مرتسم ہوئے اس کا اندازہ اس نظم سے کیا جاسکتا ہے۔

مسجدِ قرطبہ علامہ اقبال کی نسبتاً طویل نظموں میں سے ایک ہے، جو آٹھ بندوں پر مشتمل ہے۔ اس نظم میں انہوں نے ہسپانیہ میں مسلمانوں کے عروج و زوال کا اشارتاً ذکر کرتے ہوئے مسجدِ قرطبہ سمیت ان عظیم الشان تعمیرات کے شکستہ آثار کے بارے میں انتہائی کرب کا اظہار کِیا ہے۔ متذکرہ عمارات مسلمان سلاطین کے عہد میں تعمیر کی گئیں تھیں۔ بعد میں ان کے زوال کے بعد جو نامساعد حالات پیش آئے، یہ آثارِ قدیم ان کی منہ بولتی تصویر ہیں۔

اسرار زیدی، شرح بالِ جبریل
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

پہلے بند میں زمانہ کی حقیقت اور کارِ جہاں کی بے ثباتی بیان کی گئی ہے۔ اِس بند میں آٹھ شعر ہیں، جن میں پہلے چھ شعروں میں اقبالؔ نے سلسلۂ روز و شب (جسے عام طور پر لوگ زمانہ کہتے ہیں) کی حقیقت بیان کی ہے۔


شعر 1

سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
سِلسلۂ روز و شب، اصلِ حیات و ممات

معانیالفاظ
دِن اور رات کا سِلسِلہ، زمانہسلسلۂ روز و شب
تصویر بنانے والانقش گر
حادثہ کی جمع۔ نئے نئے واقعاتحادثات
زندگی اور موت کی بنیاد / اصلاصلِ حیات و ممات

تشریح:

روز و شب کی داستان عہد کے حوالے سے یوں بیان کی جاسکتی ہے کہ:-

سلسلۂ روز و شب یعنی رات اور دِن کا سلسلہ، مراد ہے زمانہ، یہ پیدا ہونے اور مرنے والی چیزوں کے نقش تیّار کرتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دِن اور رات کے سلسلہ میں کتنے ہی انسان جنم لیتے ہیں اور کتنے ہی انسان وفات پاجاتے ہیں۔ یہی عمل قدرت کے نظام کا حقیقی روپ ہے۔ چنانچہ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو رات اور دِن کا سلسلہ یعنی زمانہ ہی زندگی اور موت کی اصل ہے۔

زمان و مکان کے بغیر تغیّرات (تبدیلیوں) کا تصوّر نہیں ہوسکتا اور تغیّر کا مطلب ہے چیزوں کا پیدا ہونا اور ختم ہونا؛ بلکہ فلسفیوں کے نزدیک اِس دنیا کے خاتمے کی دلیل یہ ہے کہ اس میں ہر چیز بدلتی رہتی ہے، کوئی پیدا ہوتی ہے تو کوئی مرتی ہے، جو آج پیدا ہوتی ہے تو کل مر جاتی ہے۔

لہذا زمانہ (سلسلۂ روز و شب) چیزوں کا پیدا کرنے والا اور مارنے والا (نقشِ گرِ حادثات) ہے اور ہمارے تصوّرات کے مطابق یہی زندگی اور موت کا سرچشمہ ہے۔ اگر ہم زمانہ کی حد سے نکل جائیں تو موت و حیات کا یہ تصوّر بھی ختم ہوجائے۔

شعر 2

سِلسلۂ روز و شب، تارِ حریرِ دو رنگ
جس سے بناتی ہے ذات اپنی قبائے صفات

معانیالفاظ
ریشمحریر
دو رنگا ریشمحریرِ دو رنگ
صفات کا لباسقبائے صفات

تشریح:

رات اور دِن کا سلسلہ دو رنگے ریشم کا تار ہے (یعنی تارِ حریرِ دو رنگ)، جس سے ذاتِ باری تعالیٰ اپنے لیے صفات کا لباس تیّار کرتی ہے۔

اِس شعر میں اقبالؔ نے رات اور دِن کو ریشم کے دو تار بیان کیا ہے۔ ایک سیاہ، دوسرا سفید یعنی رات اور دِن۔ وہ کہتے ہیں کہ ذات کو اُس کی اصل صورت میں تو دیکھا نہیں جاسکتا لیکن جب وہ صفّات کا لباس پہن لیتی ہے تو اُس کا نظّارہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ خالق ہے، قادر ہے، پروردگار ہے، مالک ہے، حافظ ہے، ہادی ہے وغیرہ۔ یہ تصوّرات زمانے ہی کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔

شعر 3

سِلسلۂ روز و شب، سازِ ازل کی فغاں
جس سے دِکھاتی ہے ذات زِیروبمِ ممکنات

معانیالفاظ
روزِ پیدائش کا سازسازِ ازل
فریاد۔ مراد لَےفغاں
اُتار چڑھاؤ۔ مراد نت نئی تبدیلیاںزیر و بم

تشریح:

زمانہ کیا ہے؟ ازل کے ساز سے ایک نغمہ نکل رہا ہے، یعنی زمانہ اللہ تعالی کی تخلیقی فعالیت کا نام ہے اور تمام مخلوقات (یعنی ممکنات) جیسا کہ ہم جانتے ہیں زمان و مکان (کی قید) میں ہی عالمِ وجود میں آتی ہیں۔

کائنات کے آغاز کے ساتھ ہی زمانے کی تخلیق ممکن ہوئی ہے جس سے باری تعالیٰ کا مقصد انسان کو اُس اُتار چڑھاؤ سے آگاہ کرنا تھا جو اس راہ میں موجود ہوتے ہیں۔ اس شعر میں بھی اقبالؔ نے زمانے کو ”سازِ ازل کی فغاں“ سے تعبیر کیا ہے کہ ساز کی طرح زمانے میں بھی اُتار چڑھاؤ کا عمل جاری رہتا ہے جس کے ذریعے سے قدرت متوقع امکانات کی نشاندہی کرتی ہے، اس کا مقصد یہی ہے کہ انسان حوالوں کی روشنی میں حقیقت کو پاسکے۔

رات اور دِن کا سلسلہ وہ فریاد (فُغاں) ہے جو ازل کے ساز سے پیدا ہوئی۔ اس سے ذاتِ باری تعالیٰ کا مدعا یہ تھا کہ کائنات میں جو صلاحیتیں رکھی گئی ہیں، وہ زیر و بم (یعنی اتار چڑھاؤ، یا تبدیلی) کی شکل میں ظاہر ہوجائیں، یعنی روز و شب کا سلسلہ تخلیق کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا اور اسی میں انسان نے ممکناتِ کائنات کو روشنی میں لانا شروع کیا۔ مراد یہ ہے کہ کائنات کی صلاحیتیں زمانے ہی کے سلسلے میں ظاہر ہوسکتی تھیں۔ چونکہ اس شعر کے پہلے مصرع میں زمانے کو ”سازِ ازل کی فغاں“ کہا گیا تھا اور ساز میں زیر و بم (یعنی اونچے نیچے) سُر ہوتے ہیں۔ اس لیے ممکنات کے ساتھ ”زیر و بم“ استعمال کیا اور کائنات کی صلاحیتوں میں بعض چیزیں بہت نمایاں ہوتی ہیں، بعض غیر نمایاں، لہذا زیر و بم کا استعمال بہت موزوں معلوم ہوتا ہے۔ باقی رہا یہ امر کہ ”سازِ ازل کی نوا“ کی بجائے ”فغاں“کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ اس کی وجہ یہ ہے غالباً یہ ہے کہ شاعر کے نزدیک سازِ ازل کی جو آواز تخلیق کا باعث ہوئی، وہ روحوں کے لیے اصل سے مفارقت (جُدائی) کا پیغام تھی۔

شعر 4

تجھ کو پرکھتا ہے یہ، مجھ کو پرکھتا ہے یہ
سِلسلۂ روز و شب، صَیرفیِ کائنات

معانیالفاظ
امتحان لیناپرکھنا
صراف۔ مراد پرکھنے والاصیر فی

تشریح:

رات اور دِن کا سلسلہ کائنات کا صرّاف ہے یعنی وہ ہر چیز کو پرکھتا ہے۔ کھوٹا کھرا الگ کردیتا ہے، نہ میں اس امتحان سے آزاد ہوں، نہ تُو اس امتحان سے آزاد ہے۔ زمانے کی کسوٹی (یعنی آزمائش) سب کے لیے یکساں ہے۔

شعر 5

تُو ہو اگر کم عیار، مَیں ہُوں اگر کم عیار
موت ہے تیری برات، موت ہے میری برات

معانیالفاظ
جس میں کھوٹ ملا ہو، جو خالص نہ ہو، ناقص اور کھوٹا۔ مجازاً وہ شخص جس کا کردار، ایمان یا صلاحیت کمزور اور ناقص ہو۔کم عیار
مراد مقدربرات

تشریح:

چاہے تُو ہو یا چاہے میں؛ کمزور اور بے حقیقت انسان کو (خواہ وہ کوئی بھی ہو) زمانہ مِٹا کر رکھ دیتا ہے۔ اس کا مقدّر موت کے سِوا کچھ اور نہیں۔

عیار: اصل میں عیار اُس پیمانے یا معیار کو کہتے ہیں جس سے سونے چاندی کا کھرا پن جانچا جاتا ہے، یعنی دھات میں خالص پن کتنا ہے۔ اسی سے ”عیار“ کا مطلب بنا: کھرا، خالص، اعلیٰ درجے کا (اردو میں عیار کا ایک دوسرا مفہوم چالاک و مکار بھی ہے، مگر اس شعر میں یہ مفہوم مراد نہیں)۔

شعر 6

تیرے شب و روز کی اور حقیقت ہے کیا
ایک زمانے کی رَو جس میں نہ دن ہے نہ رات

معانیالفاظ
رات اور دِنشب و روز
وقت کی لہر / موجزمانے کی رَو

تشریح:

اے مخاطب! سلسلۂ روز و شب کی حقیقت یا اصل زمانِ خالص ہے جس میں نہ دِن ہے، نہ رات ہے، نہ حال ہے، نہ استقبال۔ بس یہ زمانِ خالص ایک رو ہے جس میں کہیں سکون نہیں ہے۔ زمانہ کبھی نہیں بدلتا اور نہ ہی کبھی اس کا تسلسل ٹوٹتا ہے، لہذا اس کے باب میں دِن اور رات کی تمیز در اصل کوئی حقیقت نہیں رکھتی:۔

؎ زمانہ کہ زنجیرِ ایّام ہے
دموں کے اُلَٹ پھیر کا نام ہے

(بالِ جبریل: ساقی نامہ)

بالفاظِ دیگر زمانہ زندگی ہے اور زندگی ہی زمانہ ہے لیکن اس رازکو سمجھنے کے لیے خودی کی معرفت لازمی ہے۔ جب تک عارفانہ نظر پیدا نہ ہو، زمانہ کی حقیقت سمجھ میں نہیں آسکتی۔

؏ ہدف سے بیگانہ تیر اس کا، نظر نہیں جس کی عارفانہ
(بالِ جبریل: زمانہ)

اقبالؔ یہاں حقیقت کو واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زمانہ دن اور رات کی تمیز سے بے نیاز ہے۔ زمانہ یا بہ الفاظ دیگر زندگی ایک مسلسل رو کا نام ہے جو کبھی نہیں بدلتی اور جس کا تسلسل کبھی نہیں ٹوٹتا۔ لہذا اس کے باب میں دن اور رات کی تمیز دراصل کوئی حقیقت نہیں رکھتی، جیسا کہ ایک جگہ فرمایا ہے:۔

؎ تُو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں سے زندگی

(بانگِ درا: خضرِ راہ)

شعر 7

آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہُنر
کارِ جہاں بے ثبات، کارِ جہاں بے ثبات!

معانیالفاظ
فنا ہو جانے والافانی
فن کے غیر معمولی کارنامےمعجزہ ہائے ہنر
دنیا کا کاروبارکارِ جہاں
فانی، مِٹ جانے والا، قائم نہ رہنے والابے ثبات

تشریح:

انسانی ہنر مندی نے جتنی حیرت انگیز چیزیں اب تک بنائیں، وہ سب تھوڑی دیر کے لیے ہیں اور جلد فنا ہوجانے والی ہیں۔ حق یہ ہے کہ سارا سلسلہ ناپائدار ہے اور اس کائنات کی کسی شے میں قیام برقرار نہیں ہے، یعنی:-

؏ کارِ جہاں بے ثبات، کارِ جہاں بے ثبات

شعر 8

اوّل و آخر فنا، باطن و ظاہر فنا
نقشِ کُہن ہو کہ نَو، منزِل آخر فنا

معانیالفاظ
چھُپی ہوئی شے، اندرونباطن
نظر آنے والی شےظاہر
پرانا نقشنقشِ کُہن
نیانَو

تشریح:

اوّل و آخر بھی فنا ہے، ظاہر و باطن بھی فنا ہے۔ کوئی نقش نیا ہو یا پرانا، اُس کی منزل فنا کے سوا کوئی نہیں۔

کائنات میں انسان کی بنائی ہوئی ہر شے کی ابتدا نیستی سے ہوتی ہے اور انتہا بھی نیستی سے ہوتی ہے یعنی کسی نہ کسی دن وہ شے ضرور مِٹ جائے گی، پس اول اور آخر فنا ہے۔ اسی طرح ہر مادی شے کا ظاہری پہلو بھی فانی ہے اور باطنی پہلو بھی فانی ہے۔

خلاصۂ کلام یہ کہ کائنات میں انسان کی بنائی ہوئی پر شے کی (خواہ وہ پرانی ہو یا نئی) آخری منزل فنا ہوجانا ہے۔

سلسلۂ روز و شب اور وقت کی فلسفیانہ حقیقت واضح کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اقبالؔ نے یہاں سلسلۂ روز و شب کی حقیقت تو واضح کردی ہے کہ وہ زمانہ کا نام ہے لیکن اس روؔ یا حقیقی زماں کی ماہیت واضح نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ:-

اوّلاً: علامہ نے ایک مرتبہ دورانِ گفتگو مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ ”زمانہ کی حقیقت کو سمجھنا یا سمجھانا بڑا مشکل کام ہے؛ کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی خودی سے واقف نہ ہو، زمانہ کی حقیقت سے واقف نہیں ہوسکتا۔“

ثانیاً: زمانہ کی حقیقت بیان کرنے کا یہ کوئی موقع نہیں تھا۔ اِس مسئلہ پر انہوں نے اجمالاً دوسری نظموں میں اور تفصیلاً اپنے خطباتِ موسومہ ”تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ“ میں (تفصیلاً) اظہار خیال کِیا ہے۔ اس لیے میں بھی اس جگہ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کرنے کی بجائے صرف چند اشارات پر اکتفا کروں گا۔

واضح ہو کہ اقبالؔ متکلمین (وہ اسلامی علما اور محققین ہیں جو علمِ کلام کے ماہر ہوتے ہیں) اور بعض حکمائے مغرب (مثلاً ڈاکٹر میک ٹیگرٹ) کے مقابلہ میں زمانہ کو حقیقی مانتے ہیں۔ مطلب یہ کہ وہ خارج میں موجود ہے اور ”الحقیقہ“ کا ایک لازمی عنصر ہے لیکن اُس کی منطقی (Logical) تعریف نہیں ہوسکتی، ہاں یہ ضرور ہے کہ ہم اُس کی حقیقیت کو اپنے باطن میں محسوس کرسکتے ہیں۔ گویا حقیقی زمانہ ہمارے ایک باطنی احساس کا نام ہے۔ یہ حقیقی زماں ایک نوع کی تخلیقی فعلیت (Creative Activity) ہے جس میں نہ ماضی ہے نہ حال ہے نہ مستقبل ہے؛ بلکہ اس کو مرور یا دورانِ خالص (Divine Time یا Pure Time) سے تعبیر کرسکتے ہیں۔

اِس حقیقی زمانہ یعنی مرورِ خالص سے زمانِ مسلسل (Serial Time) پیدا ہوتا ہے جسے ہم سلسلۂ روز و شب کہتے ہیں۔ حقیقی زمانہ ایک رو کا نام ہے جس میں نہ دِن ہے، نہ رات اور نہ اوقات ہیں نہ لمحات بلکہ وہ ایک وحدت (Super-Eternal Now) ہے۔

اِس حقیقی زمانہ کا ادرا ک حواسِ خمسہ سے نہیں ہوسکتا لیکن ہمارا شعور اس کا ادراک کرسکتا ہے اور اس کا طریقہ اقبالؔ نے اسرارِ خودی میں بتایا ہے:-

نکتۂ غیب و حضور اندر دِل است
رمزِ ایام و مرور اندر دِل است
نغمۂ خاموش دارد سازِ وقت
غوطہ در دِل زن کہ بینی رازِ وقت

ترجمہ: زمانہ کی حقیقت خود تمہارے دِل میں پوشیدہ ہے۔ اِس لیے اگر تم اس سے آگاہ ہونا چاہتے ہو تو اپنے دِل میں غوطہ لگاؤ۔
(اسرارِ خودی: الوقت سیف)

اس تصریح سے اِتنا تو معلوم ہوگیا کہ زمانہ کی حقیقیت دِل میں پوشیدہ ہے، اب رہی یہ بات کہ ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب اُنہوں نے یہ دیا ہے:۔

؎ ایں و آن پیداست از رفتارِ وقت
زندگی سرّیست از اسرارِ وقت

ترجمہ: واقعات وقت کی رفتار سے پیدا ہوتے ہیں، زندگی وقت کے رازوں میں سے ایک راز ہے۔

؎ زندگی از دہر و دہر زندگی است
لا تسبو الدھر فرمانِ نبی ﷺ است

ترجمہ: زندگی زماں سے ہے اور زماں زندگی سے ہے، حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ زمانے کو بُرا نہ کہو۔
(اسرارِ خودی: الوقت سیف)

یعنی زمانہ کی اصل زندگی ہے اور زندگی کی اصل زمانہ ہے۔ زندگی سے یہاں مراد ”الحقیقۃ“ یعنی ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے: ”لاتسبو الدھر فا انی الدھر“ یعنی زمانہ کو برا مت کہو کیونکہ میں خود زمانہ ہوں۔ اسی لیے محققین صوفیہ کا یہ مسلک ہے کہ ”زمانہ دراصل استمرارِ وجودِ باری (The Continuity of Divine Existence) ہی کا دوسرا نام ہے“۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حقیقی زمانہ روحِ انسانی کی طرح ایک راز ہے جس سے وہی شخص آگاہ ہو سکتا ہے جو اپنی خودی سے واقف ہو اور میں پہلے واضح کرچکا ہوں کہ خودی سے آگاہ ہونے کا طریقہ دنیا میں ایک ہی ہے اور وہ ہے عشقِ الٰہی۔ یعنی صرف عاشق زمانہ کی حقیقیت سے واقف ہوسکتا ہے اور اربابِ نظر سے یہ نکتہ مخفی نہیں ہے کہ جب تک آپ کسی شے کی حقیقیت سے آگاہ نہ ہوں، اس وقت تک اس کو مسخّر نہیں کرسکتے۔ اسی لیے مرشدِ رومی فرماتے ہیں کہ:۔

؎ ہر کہ عاشق شُد جمالِ ذات را
اوست سیّد جُملہ موجودات را

ترجمہ: جو عشقِ الہی اختیار کرتا ہے وہ ساری کائنات پر حکمراں ہوجاتا ہے اور انسان کائنات پر حکمران ہو نہیں سکتا جب تک وہ زمان و مکان پر حکمران نہ ہو۔

پس اقبالؔ اور رومیؔ؛ دونوں کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر زمانہ کی حقیقیت سے آگاہ ہونا چاہتے ہو تو دِل میں غوطہ لگاؤ یعنی عشقِ الہی اختیار کرو کیونکہ عشق خود اصلِ حیات ہے اور زمانہ کی دست برد سے بالاتر ہے، چنانچہ اقبالؔ خود کہتے ہیں:۔

؏ عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اُس پر حرام

اِن تصریحات سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ خدا، خودی (روح)، عشق اور زمانہ میں ایک ایسا مخفی ربط رکھا ہے جو عقل کی گرِفت سے بالاتر ہے۔ اس کی حقیقت صرف عاشق کو معلوم ہوسکتی ہے۔ اب رہے ہم لوگ تو ہمارا یہ حال ہے کہ:۔

؏ چوں ندیدند حققیت رۂ افسانہ زوند
ترجمہ: جب اُنہوں نے حقیقت کو نہ دیکھا (یا نہ پا سکے)، تو افسانے (من گھڑت کہانیوں) کی راہ چل پڑے۔

بات بھی یہی ہے کہ زمان و مکان کی بحثوں میں ساری عمریں صَرف ہوجاتی ہیں لیکن حقیقت کا سُراغ نہیں ملتا اور نہ کوئی فلسفی زمانہ کے چہرے سے نقاب اُٹھا سکتا ہے بلکہ ابھی تک اِس مقام پر اپنے قلم کو روکتا ہوں۔

پہلے بند کو سمجھنے کے لیے صرف اس قدر ذہن نشین کرلینا کافی ہے کہ:۔

1۔ زمانہ کی دو قسمیں ہیں۔ حقیقی زماں (Divine Time یا Pure Time) اور تسلسل زماں (Serial Time)۔ جو اوّل الذکر (یعنی حقیقی زماں) کی بدولت عالمِ وجود میں آتا ہے۔
2۔ حقییقی زماں کی ماہیّت روح کی طرح عقل کی گرفت سے بالاتر ہے، وہ زندگی کی ایک شان ہے اور زندگی خود اُس کی ایک شان ہے۔ وہ زندگی میں پوشیدہ ہے اور زندگی اس میں پوشیدہ ہے۔ وہ زندگی سے ہے اور زندگی اُس سے ہے۔
3۔ جب تک خودی کی معرفت حاصل نہ ہو، زمانِ حقیقی کی معرفت بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔
4۔ زندگی؛ زماں میں ایک مسلسل حرکت کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں زمانہ کی مسلسل حرکات کو زندگی کہتے ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

بند نمبر 2

دوسرے بند میں عشق کی صفات واضح کی گئی ہیں، یہ دو بند (پہلا اور دوسرا) بطور تمہید لکھے گئے ہیں۔


شعر 9

ہے مگر اس نقش میں رنگِ ثباتِ دوام
جس کو کِیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام

معانیالفاظ
تصویر، فننقش
ہمیشہ کی پائیداری کا رنگ، ہمیشہ قائم رہنے کی صفترنگِ ثباتِ دوام
مکملتمام

تشریح:

بے شک دُنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے لیکن اُس نقش (آرٹ کا معجزہ) میں ہمیشہ کی پائیداری کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے جو کسی مردِ حق کے ہاتھ سے مکمل ہوا ہو۔ مردِ حق یا مردِ خدا سے وہ انسان مراد ہے، جس کے تمام کام خدا کی رضا کے تابع ہوتے ہیں۔ وہ ہر کام کو عشق کی وساطت سے انجام دیتا ہے اور عشق چونکہ زمانِ مسلسل سے آزاد ہوتا ہے۔

چونکہ عشق کا تعلق زمانِ خالص (Divine Time) سے ہوتا ہے، اس لیے زمانِ مسلسل (Serial Time) مردِ مومن کے کارناموں کو فنا نہیں کرسکتا۔

شعر 10

مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام

معانیالفاظ
روشنی والا، ترقی والاصاحب فروغ
زندگی کی بنیاداصلِ حیات

تشریح:

سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایسے نقش کو کیوں دائمی (یعنی ہمیشہ کی) پائیداری حاصل ہوتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ مردِ حق کا ہر کام عشقِ حق کی بدولت فروغ پاتا ہے۔ عشقِ حق زندگی کا جوہر اور روح ہے۔ اس پر موت وارد نہیں ہوسکتی۔ اِسے مٹادینا موت کی دسترس سے باہر ہے۔

؎ بقا کو جو دیکھا فنا ہوگئی وہ
قضا تھی، شکارِ قضا ہوگئی ہو

(بانگِ درا: عشق اور موت)

شعر 11

تُند و سبک سَیر ہے گرچہ زمانے کی رَو
عشق خود اک سَیل ہے، سَیل کو لیتاہے تھام

معانیالفاظ
تند اور تیز چلنے والیتُند و سُبُک سیر
طوفان، سیلابسیل
روکناتھامنا

تشریح:

بلاشبہ زمانے کی رو (یعنی لہر) بڑی ہی تیز و تند ہے اور اُس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ وہ (یعنی زمانہ) نئی نئی صورتیں پیدا کرتا اور مِٹاتا رہتا ہے۔ زمانہ اگرچہ ایک تیز لہر ہے جس کو روکنا عام حالات میں ممکن نہیں، لیکن عشق بذاتِ خود ایک تند و تیز سیلاب کی مانند ہوتا ہے، اس لیے وہ زمانہ پر غالب آجاتا ہے اور اُس کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

شعر 12

عشق کی تقویم میں عصرِرواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام

معانیالفاظ
جنتریتقویم
زمانۂ حالعصرِ رواں

تشریح:

جس طرح ہمارے ہاں جنتریاں اور کیلنڈر ہوتے ہیں اور اُن میں دِنوں اور مہینوں کے حساب درج کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح عشقِ حق کی بھی ایک جنتری (یعنی تقویم) ہے، جس میں زمانوں کے حساب لکھے جاتے ہیں، اس جنتری پر نظر رکھیں تو صاف معلوم ہوجائے گا کہ اُس میں صرف اِسی زمانے کا حساب درج نہیں جو جاری ہے (یعنی عصرِ رواں؛ بلکہ اس میں اور زمانے بھی ہیں جن کا کوئی نام نہیں بتاسکتا۔

مراد یہ ہے کہ جو زمانہ رات اور دِن کے سلسلے سے بنتا ہے، اس کی خاصیت تو بے شک یہی ہے کہ وہ چیزوں کو بناتا اور مِٹاتا رہتا ہے۔ اگر عشقِ حق کا معاملہ اسی زمانے تک محدود ہوتا تو وہ فنا کی دسترس سے باہر نہ رہ سکتا۔ چونکہ اُس کے ہاں اور زمانے بھی ہیں، لہذا وہ رات اور دِن والے زمانے کے اثرات سے بالکل محفوظ ہے۔

شعر 13

عشق دمِ جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰؐ
عشق خدا کا رُسول، عشق خدا کا کلام

معانیالفاظ
سانسدم
پیغام بر، پیغام لانے والارسول

تشریح:

عشق کوئی مادی یا دنیاوی شے نہیں بلکہ نہایت پاکیزہ اور روحانی بلکہ آسمانی جوہر ہے۔ اس حقیقت کو اقبالؔ نے دمِ جبرئیلؑ اور دلِ مصطفٰے ﷺ سے واضح کیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عشق کی عظمت، رفعت، پاکیزگی، طہارت اور روحانیت کو بیان کرنے کے لیے ان دو ناموں سو بڑھ کر کوئی نام ذہن میں نہیں آسکتا۔

دنیا میں پاکیزگی، طہارت، روحانیّت اور برتری کے جتنے پاکیزہ اور نورانی نمونے نظر آتے ہیں، وہ سب عشقِ حق ہی کے مختلف جلوے ہیں۔ گویا عشقِ حق مختلف لباسوں، مختلف شکلوں اور مختلف پیکروں میں تجلّی ریز ہوتا ہے۔ مثلاً:-

  • حضرت جبرئیلؑ کا سانس اور اُن کی آواز بھی عشق ہی کا جلوہ تھا۔
  • حضرت سرورِ کائنات ﷺ کے قلبِ طاہر و اطہر کا نور بھی عشقِ حق ہی کا ایک کرشمہ تھا۔
  • عشق ہی خدائے پاک کا ایلچی (قاسصد، پیغامبر، سفیر) بن کر اِس دنیا میں آیا اور انسانوں کو راہِ حق پر لگایا۔
  • عشق ہی خدا کا کلام ہے، جس کی بدولت دِلوں اور روحوں کے اندھیروں میں اجالا ہوجاتا ہے اور اخلاق کا بِگڑا ہوا نقشہ اصلاح پاتا ہے۔
شعر 14

عشق کی مستی سے ہے پیکرِ گِل تابناک
عشق ہے صہبائے خام، عشق ہے کاسُ الکِرام

معانیالفاظ
مٹی کا جسم، یعنی انسانپیکرِ گِل
چمکدارتابناک
کچی شراب جو تیز ہوتی ہےصہبائے خام
سخی لوگوں کا پیالہ جن کے فیض سے ہر شخص بہرہ یاب ہوتا ہے۔کاسُ الکِرام

تشریح:

کہتے ہیں کہ مٹی کے پُتلے یعنی انسان میں جو یہ تابناکی، یہ چمک دمک، یہ روشنی اور یہ روحانیت نظر آتی ہے، یہ سب عشق ہی کا کرشمہ ہے۔ یہ عشق ہی کی بدولت ہے کہ انسان نے علم و عرفان اور ہدایت و سعادت کے وہ نمونے پیش کیے، جن کی روشنی کبھی ماند نہ پڑے گی۔

عشق وہ شراب (صہبائے خام) ہے جس کا نشہ بہت تیز ہوتا ہے اور عشق وہ پیالہ (کاس الکرام) ہے جس سے ہر شخص کو فیض پہنچتا ہے یعنی عاشق کا وجود دنیا والوں کے حق میں باعثِ رحمت ہوتا ہے۔

صہبائے خام: وہ شراب جس میں کوئی چیز نہ ملائی گئی ہو۔ بادہ نوشوں کا عام قاعدہ ہے کہ وہ شراب پیتے ہیں تو اس میں کوئی چیز ملا لیتے ہیں، مثلاً گلاب کا عرق، سوڈا وغیرہ۔ جس سے شراب کی تلخی اور تیزی کم ہوجاتی ہے۔ اگر اس میں کوئی چیز نہ ملائی جائے تو تلخی اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے اور نشہ بھی زیادہ لاتی ہے۔ اِسی کو صہبائے خام کہتے ہیں۔

کاسُ الکرام: کاس کا مطلب ہے پیالہ، کرام بمعنی فراخ دِل اور سخی۔ کاس الکرام سے وہ پیالہ مراد ہے جس سے دوسروں کو بھی حصہ ملے۔ یہ مشہور ترکیب عربی کے اس شعر سے مقتبس ہے:-

؎ شربنا وصبنا علی الارض جرعۃ
فللارض من کاس الکرام نصیب

ترجمہ: جب ہم نے شراب پی تو اُس کا ایک گھونٹ زمین پر بھی بہا دیا، پس ثابت ہوا کہ سخی کے پیالہ میں زمین (یعنی دوسروں) کا بھی حصہ ہوتا ہے۔

اقبالؔ کہتے ہیں کہ عشق وہ شراب ہے جس کا نشہ بہت تیز ہوتا ہے اور عشق وہ پیالہ ہے جس کا فیض سب کو پہنچتا ہے یعنی عاشق کا وجود دُنیا والوں کے لیے باعثِ رحمت ہوتا ہے۔

شعر 15

عشق فقیہِ حرم، عشق امیرِ جُنود
عشق ہے ابن السّبیل، اس کے ہزاروں مقام

معانیالفاظ
حرمِ مکہ کا عالمِ دین، شریعت کا ماہرفقیہِ حرم
جند کی جمع۔ لشکر، فوجیںجُنُود
فوج کا سردار، سالارامیرِ جُنُود
راستے کا بیٹا، مسافرابن السبیل

تشریح:

عشقِ حق کبھی کعبہ کے اُس پاک باطن عالم (فقیہِ حرم) کی شکل اختیار کرتا ہے، جو شریعتِ اسلامیہ کا سب سے بڑا محافظ اور شارح ہے۔

کبھی اُن لشکروں کی سالاری (امیرِ جنود) کا فرض انجام دیتا ہے جو خدا کی راہ میں جہاد کے لیے تیّار ہوئے ہوں۔ مومنوں کے دِلوں میں جذبۂ جہاد عشق ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔

عشق چونکہ ”ابن السبیل“، یعنی مسافر ہے۔ اس لیے اس کے ہزاروں مقامات ہیں۔ اقبالؔ نے عشق کو مسافر سے تعبیر کیا ہے کیونکہ عشق ہی کی بدولت سالِک روحانی منازل طے کرتا ہے۔

ابن السبیل: عربی محاورے میں کسی چیز سے گہرا تعلق رکھنے والے کو اُس کا ”ابن“ کہہ دیتے ہیں، یعنی جو ہر وقت راستے (سُلُوک) ہی میں رہتا ہو، وہ راستے کا بیٹا ہوا۔

شعر 16

عشق کے مِضراب سے نغمۂ تارِ حیات
عشق سے نُورِ حیات، عشق سے نارِ حیات

معانیالفاظ
ستار بجانے کے لیے تار کا چھلّامِضراب
ترانہنغمہ
زندگی کا ساز / تارتارِ حیات
زندگی کی روشنینُورِ حیات
زندگی کی آگنارِ حیات

تشریح:

محض عشقِ حق ہی وہ مضراب ہے جو سازِ زندگی کے تاروں سے نغمے پیدا کرتی ہے۔ اسی کی بدولت زندگی نورانی بنتی ہے اور اسی کی بدولت زندگی میں حرارت پیدا ہوتی ہے۔

مراد یہ ہے کہ عشق نہ ہوتا تو زندگی کے ساز سے کوئی نغمہ نہ نکل سکتا یعنی زندگی ہی موجود نہ ہوتی۔ نیز عشق ہی کی بدولت زندگی میں شانِ جلال اور شانِ جمال پائی جاتی ہے۔

اِس بند کے مطالعہ سے ناظرین پر یہ حقیقت منکشف ہوسکتی ہے کہ اقبالؔ عشق کو باعثِ ایجادِ عالم یقین کرتے ہیں یعنی اس باب میں مرشدِ رومیؒ کے سچے مقلّد ہیں۔

؎ در دو عالم ہر کُجا آثارِ عشق
ابنِ آدم سِرِّ اسرارِ عشق

ترجمہ: دونوں جہانوں میں جہاں کہیں بھی عشق کے آثار (نشانات) پائے جاتے ہیں، (وہاں یہ بات واضح ہے کہ) ابنِ آدم (انسان) عشق کے چھُپے ہوئے بھیدوں کا اصل راز ہے۔
(مولانا جلال الدین رومیؒ)

بند نمبر 3

تیسرے بند میں مسجدِ قرطبہ سے خطاب کِیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اِس مسجد کی بنیاد عشق پر رکھی گئی۔


شعر 17

اے حَرمِ قُرطُبہ! عشق سے تیرا وجود
عشق سراپا دوام، جس میں نہیں رفت و بود

معانیالفاظ
قرطبہ کی مسجدحرمِ قرطبہ
سراسر ہمیشگیسراپا دوام
جانا اور ہونا، فنا اور بقا، آنا جانارفت و بُود

تشریح:

اے قرطبہ کی مسجد! تُو بھی عشقِ حق کی بدولت وجود میں آئی، عشق سر سے پاؤں تک ہمیشگی ہے اور اس کے لیے فنا نہیں۔

شعر 18

رنگ ہو یا خِشت و سنگ، چِنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خُونِ جگر سے نمود

معانیالفاظ
مصوریرنگ
اینٹ اور پتھر۔ مراد فنِ تعمیراتخِشت و سنگ
باجا، سازوں کی موسیقیچنگ
الفاظ اور آوازِ موسیقی، شاعریحرف و صوت
فن کا عظیم کارنامہمعجزۂ فن
سخت محنت، جگر کا خونخونِ جگر
وجود میں آنا، ظاہر ہونا، ظہورنُمُود

تشریح:

رنگ ہو یا اینٹ، ساز ہو یا لفظ و آواز، غرض کوئی فن ہو، اُس کا کمال جگر کےخوں سے نمایاں ہوتا ہے۔

پہلے مصرع میں ”رنگ“ سے بظاہر مراد مصوّری ہے، ”خِشت و سنگ“ سے مراد فنِ تعمیر، ”چنگ“ سے موسیقی، ”حرف و صوت“ سے شاعری، اِنشا اور خطابت۔

فرماتے ہیں کہ اِن فنون میں اگر اخلاص و عشقِ حق کی نمائش ہو تو یقیناً یہ بڑے بلند پایہ فنون بن جاتے ہیں اور قوموں کی تربیت میں بہت موثّر ثابت ہوتے ہیں، لیکن اگر اخلاص و عشقِ حق موجود نہ ہوں تو یہ بے روح جسم ہوں گے اور چشم و گوش کی عارضی تواضع کے سوا کوئی وظیفہ انجام نہ دے سکیں گے۔ چنانچہ مسجدِ قرطبہ کو وہ ”خونِ جگر“ ہی کی بدولت معجزۂ فن قرار دیتے ہیں۔

شعر 19

قطرۂ خُونِ جگر، سِل کو بناتا ہے دل
خُونِ جگر سے صدا سوز و سُرور و سرود

معانیالفاظ
پتھرسِل
آوازصدا
گداز، مستی اور نغمہ (موسیقی)سوز و سُرُور و سُرود

تشریح:

خونِ جگر کا قطرہ پتھّر کی سِل کو دِل کی طرح احساس اور تڑپ کا پیکر بنادیتا ہے۔ مراد ہے کہ صاحبِ فن کا جذبۂ عشق ہی بے جان اشیاء میں زندگی کی شان پپدا کردیتا ہے۔

جگر کے خون ہی سے آواز میں سوز، کیف اور نغمہ پیدا ہوتا ہے۔ آواز خواہ وہ شاعر کی ہو، خواہ داعی کی ہو، خواہ کسی اور کی، وہ اُسی وقت دِلوں میں حرارت پیدا کرتی ہے اور روحوں کو عمل کے لیے بے خود بنادیتی ہے، جب اُس میں عشق کا جذبہ موجود ہو۔ جس طرح اقبالؔ ذوق و شوق میں فرماتے ہیں:-

؎ خونِ دِل و جگر سے ہے میری نوا کی پرورش
ہے رگِ ساز میں رواں صاحبِ ساز کا لہو

(بالِ جبریل: ذوق و شوق)

شعر 20

تیری فضا دل فروز، میری نوا سینہ سوز
تجھ سے دِلوں کا حضور، مجھ سے دِلوں کی کشود

معانیالفاظ
ماحولفضا
دِلوں میں ایمان کی دولتدِل فروز
سینے میں جذبوں کی گرمی پیدا کرنے والی، دِلوں کو روشنی کرنے والیسینہ سوز
موجود ہونا، سامنے ہوناحضور
کھُلنا، وا ہونا، گِرہ کھولناکُشُود

تشریح:

اقبالؔ مسجد سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ تیری فضا دِلوں کے لیے روشنی کا سامان ہے، میری نوا سے سینوں میں حرارت اور تڑپ پیدا ہوتی ہے۔

تُو دِلوں کو حضورِ حق میں پہنچاتی ہے، میں دِلوں کی پیچیدہ گُتھیاں سلجھاتا ہوں اور اُن میں انشراح (وُسعت) پیدا کرتا ہوں یعنی اگر تیرا نظارہ دیکھنے والے کے دِل میں اللہ تعالی کی ہستی کا یقین پیدا کرتا ہے اور ان میں عبادت کا صحیح ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے تو میرے کلام کے مطالعہ سے قلب میں محبتِ الہی کا رنگ پیدا ہوجاتا ہے اور عشقِ الہی کی آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔

شعر 21

عرشِ معلّیٰ سے کم سینۂ آدم نہیں
گرچہ کفِ خاک کی حد ہے سِپہرِ کبُود

معانیالفاظ
سب سے بلند عرشعرشِ معلٰی
انسان کا دلسینۂ آدم
مٹی کی مُٹھیکفِ خاک
نیلا آسمانسپہرِ کبُود

تشریح:

انسان اگرچہ بظاہر بہت بے حقیقت معلوم ہوتا ہے، لیکن اُس کا سینہ ایمان کے نور سے منوّر ہوجائے تو وہ عرشِ معلّی سے کم نہیں رہتا۔ عرشِ معلّی کی خصوصیت اِس کے سوا کیا ہے کہ وہ ذاتِ حق کی تجلّیات کا مرکز ہے۔ اگر اِنہیں تجلّیات کا نزول نورِ ایمان کی وجہ سے انسان کے سینہ پر ہو تو اسے کیوں عرشِ معلی سے کم سمجھا جائے! مانا کہ انسان اپنے جسمِ خاکی کے باعث نیلے آسمان سے آگے نہیں جاسکتا، لیکن اِس سے اُس کی معنوی برتری میں کوئی فرق نہیں آتا۔

شعر 22

پیکرِ نُوری کو ہے سجدہ میّسر تو کیا
اس کو میّسر نہیں سوز و گدازِ سجود

معانیالفاظ
نورانی وجود، فرشتےپیکرِ نُوری
سجدے کی لگن اور تڑپسوز و گُدازِ سجود

تشریح:

عشقِ حق اور نوررِ ایمان ہی کی بدولت انسان کا درجہ فرشتوں اور قدوسیوں سے بھی بلند ہوگی۔ وہ اگرچہ ذاتِ حق کو سجدہ کرتے ہیں، اُس کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں، جیسا کہ خود قرآن مجید سے ظاہر ہے۔

وَنَحْنُ نُسَبِّـحُ بِحَـمْدِكَ وَنُـقَدِّسُ لَكَ

اور ہم (یعنی فرشتے) تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں۔
(القرآن: سورۃ البقرہ: آیت 30)

لیکن اُنہیں سوز و گداز کا وہ مقام کہاں حاصل ہے؟ عشق میں تکلیفیں اُٹھانے، مصیبتیں برداشت کرنے اور جلتے رہنے کی وہ سعادت کب نصیب ہوئی جو انسان کو حاصل ہے۔

شعر 23

کافرِ ہندی ہُوں مَیں، دیکھ مرا ذوق و شوق
دل میں صلٰوۃ و دُرود، لب پہ صلوٰۃ و دُرود

معانیالفاظ
بے حد دِلچسپی اور جذبۂ عشقذوق و شوق
ہونٹلب

تشریح:

میں ہندی کافر ہوں یعنی مجھے ایمان کا وہ مقام حاصل نہیں جو اہلِ حق کو حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اے مسجدِ قرطبہ! میرے ذوق و شوق کی کیفیت دیکھ، کہ تجھے دیکھتے ہی میرے دِل مں عشقِ الہی کی آگ اور بھی تیز ہوگئی اور میری زبان پر بے ساختہ درود و سلام جاری ہوگیا (چنانچہ یہ نظم اِسی والہانہ کیفیت کی آئینہ دار ہے)۔

شعر 24

شوق مری لَے میں ہے، شوق مری نَے میں ہے
نغمۂ ’اللہ‌ھوٗ‘ میرے رَگ و پَے میں ہے

معانیالفاظ
مراد جذبۂ عشقشوق
سُر، نغمہ۔ مراد دِللَے
بانسُری۔ مراد روحنے
رگ رنگ / نس نس میں ہونارگ و پَے میں ہونا

تشریح:

میرا لب و لہجہ بھی شوق سے لبریز ہے، میری بانسری بھی شوق کے سِوا کچھ نہیں اور میرے جسم کا ریشہ ریشہ اللہ ہُو کا نغمہ گارہا ہے۔

بند نمبر 4

چوتھے بند میں مسجد کی شان و شوکت کا تذکرہ ہے اور ضمناً ملّتِ اسلامیہ کی بقا کا مژدہ بھی سُنایا گیا ہے۔


شعر 25

تیرا جلال و جمال، مردِ خدا کی دلیل
وہ بھی جلیل و جمیل، تُو بھی جلیل و جمیل

معانیالفاظ
حُسن و جمال، شان و شوکتجلال و جمال
نشانی، علامت، ثبوتدلیل
باعظمت، صاحبِ شان و شوکتجلیل
خوبصورتجمیل

تشریح:

اے مسجدِ قرطبہ! تیری شان و شوکت اور حسن و جمال کو دیکھ کر مردِ خدا کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ وہ بھی اپنے اوصاف میں صاحبِ شان و شوکت اور صاحبِ حُسن و جمال ہوتا ہے، جس طرح تُو ہے۔

شعر 26

تیری بِنا پائدار، تیرے سُتوں بے شمار
شام کے صحرا میں ہو جیسے ہُجومِ نخیل

معانیالفاظ
بنیاد، عمارتبِنا
بے حد مخبوط اور پُختہپائیدار
کھجور کے درختنخیل

تشریح:

تیری عمارت نہایت پختہ اور مضبوط ہے۔ جس پر کم و بیش بارہ سو سال گزر چکے ہیں اور ابھی تک اپنی اصل حالت پر قائم ہے۔ تیرے سُتُون گِنے نہیں جاسکتے۔ اِنہیں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ملکِ شام کے صحرا میں کھجوروں کا ایک جھُنڈ (ہجومِ نخیل) ہو۔

مسجدِ قرطبہ کے ستون تعداد میں ایک ہزار چار سو سترہ (1,417) تھے۔ انسان اتنے ستونوں کے درمیان کھڑا ہوجائے تو حیران رہ جاتا ہے اور ان کی گنتی نہیں کرسکتا۔ پھر ان ستونوں کے لیے تشبیہ نہایت پاکیزہ پیدا کی۔ اقبالؔ نے شام کا ذکر اس لیے بھی کِیا کیونکہ وہاں کھجوروں کے درخت بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اُن کی وضع (بناوٹ) اور ہئیت (خد و خال) راستی (سیدھے پن) میں ستونوں سے مشابہ ہوتی ہے۔ اس لیے بھی کِیا کہ مسجد کا بانی اور اُس کے اخلاف (یعنی بال بچے، آل اولاد) شام سے نکل کر اُندلس پہنچے تھے اور وہاں اُنہوں نے عالیشان سلطنت قائم کی تھی۔

گویا اقبالؔ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسجد کی تعمیر کے دوران میں اپنے وطن کا سب سے دِلکش نظارہ (یعنی کھجوروں کے درختوں کا ہجوم) اُن لوگوں کے سامنے رہا اور وہی نظارہ انہوں نے مسجد کی تعمیر میں پیدا کر دِیا۔

شعر 27

تیرے در و بام پر وادیِ اَیمن کا نور
تیرا منارِ بلند جلوہ گہِ جبرئیل

معانیالفاظ
دروازے اور چھتیںدر و بام
وادیِ سینا، جہاں موسیؑ اللہ سے ہمکلام ہوئےوادیِ ایمن

تشریح:

تیرے دروازوں اور چھت پر وادیٔ سینا کا نور جگمگا رہا ہے۔ تیرا وہ مینار جس پر اذان کہی جاتی تھی، ایک سو دس (110) فُٹ بلند ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پر حضرت جبریلِ امینؑ اپنا جلوہ دِکھا رہے ہیں۔

شعر 28

مِٹ نہیں سکتا کبھی مردِ مسلماں کہ ہے
اس کی اذانوں سے فاش سرِّ کلیمؑ و خلیلؑ

معانیالفاظ
ظاہرفاش
رازسِر

تشریح:

مسجد کی پائداری کا ذکر کرتے ہوئے اقبالؔ کے دِل میں ملتِ اسلامیہ کی پائداری تازہ ہوگئی۔ فرماتے ہیں کہ مسلمان اگرچہ ہسپانیہ سے مِٹ گئے لیکن دنیا سے ہرگز نہیں مِٹ سکتے، کیونکہ اُن کی اذانیں تو حضرت موسٰیؑ اور حضرت ابراہیمؑ جیسے جلیل القدر پیغمبروں کے راز بے نقاب کر رہی ہیں یعنی اُسی دینِ حق کو دنیا میں پھیلانا مسلمانوں کا وظیفہ ہے جو حضرت موسٰیؑ اور حضرت ابراہیمؑ یا دوسرے پیغبر اِس دُنیا میں لائے اور حضرت ابراہیمؑ سے دینِ اسلام کو جو نسبت ہے، وہ کسی طرح کی محتاج نہیں۔

شعر 29

اس کی زمیں بے حدود، اس کا اُفُق بے ثُغور
اس کے سمندر کی موج، دجلہ و دنیوب و نیل

معانیالفاظ
حد بندی سے بے نیازبے حدود
مراد فضاافق
سرحدوں کے بغیربے ثُغور
ملک عراق کا بڑا پہاڑدجلہ
یورپ کا دریادنیوب
مصر کا دریانیل

تشریح:

اسلامی وطن کی کوئی حد نہیں۔ روئے زمین کا ہر ٹکڑا اور ہر گوشہ مسلمان کا وطن ہے۔ اس کا اُفق حد بندی سے بے نیاز ہے۔ دریائے دجلہ، دریائے دنیوب اور دریائے نیل؛ یہ سب اس کے سمندر کی لہریں ہیں۔ اس مصرع میں سلطنتِ عثمانیہ کی وسعت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ سلطان سلیمان اعظم کے زمانہ میں یہ تینوں دریا سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھے)

  • دجلہ: عراق کا مشہور دریا، جس کے کنارے بغداد واقع ہے۔
  • دنیوب: وسطی یورپ کا مشہور دریا ”Danube“ جو جرمنی سے نکلتا ہے اور آسٹریا، ہنگری اور رومانیہ میں سے ہوتا ہوا بحیرۂ اسود میں گِرتا ہے۔ یورپ کے بعض مشہور شہر مثلاً ویانا، بوڈاپسٹ (Budapest) اِسی کے کنارے واقع ہیں۔
  • نیل: دریائے نیل دُنیا کا سب سے طویل دریا ہے جو برِاعظم افریقا میں واقع ہے۔

مراد یہ ہے کہ مسلمان عرب سے نکلے تو ساری دنیا پر چھا گئے۔ کوئی گوشہ ایسا نہ رہا جہاں ان کی تعلیماتِ حَقّہ کے اثرات کسی نہ کسی شکل میں نہ پہنچے ہوں۔ دجلہ، دنیوب اور نیل کا ذکر تو سرسری طور پر کردیا۔ ایشیا، یورپ اور افریقہ کا کون سا قابلِ ذکر دریا ہے جس نے اسلامی سمندر میں لہر کی حیثیت حاصل نہ کی ہو، بے شک آج مسلمانوں کی وہ شانِ جلال باقی نہیں لیکن کیوں سمجھ لیا جائے کہ وہ اپنے دینِ حِقّہ کی تعلیمات کا سہارا لے کر پھر اپنے پہلے درجہ پر نہیں پہنچ سکتے؟

شعر 30

اس کے زمانے عجیب، اس کے فسانے غریب
عہدِ کُہن کو دیا اس نے پیامِ رحیل

معانیالفاظ
حیرت انگیز داستانیں / واقعاتفسانے غریب
پُرانا دورعہدِ کُہن
چلنے کا پیغامپیامِ رحیل

تشریح:

مسلمان قوم اس دنیا میں نہایت حیرت انگیز کارنامے انجام دے چُکی ہے اور اُن کی سرگزشت کے دور سب کے لیے تعجب خیز ہیں۔ اُن کے جوشِ ہمت اور عزم و جواں مردی کی داستانیں اپنی مثال آپ ہیں۔ کوئی دوسری قوم اُن داستانوں کی نظیر پیش نہیں کرسکتی۔ مسلمان ہی ہیں جنہوں نے پرانے زمانے کو کُوچ کا پیغام دیا اور اُس عہد کی بنیاد رکھی جسے تہذیب، شائستگی، علم، تحقیق اور کمال فنون کا خاص عہد کہا جاتا ہے۔

نوٹ: مسلمانوں کے کارناموں کی تفصیل اِس مقام پر درج نہیں کی جاسکتی۔ اس کے لیے ڈاکٹر ڈریپر (Charles Stark Draper) کی بلند پایہ تصنیف ”History of the Intellectual Development of Europe“ کا مطالعہ کریں۔

شعر 31

ساقیِ اربابِ ذوق، فارسِ میدانِ شوق
بادہ ہے اس کا رحیق، تیغ ہے اس کی اصیل

معانیالفاظ
روحانی ذوق کے اصحاباربابِ ذوق
شہسوار، گھُڑ سوارفارس
شراببادہ
تلوارتیغ
نہایت تیزاصیل

تشریح:

جن اصحاب میں روحانی ذوق تھا، اُن کے لیے دِل پسند شراب مسلمان ہی نے مہیّا کی اور یوں اُن کا ساقی کہلایا۔

وہی تھا جس نے عشقِ حق کے میدان میں شہسواری کے جوہر دکھائے۔

اُس کی شراب خالص اور مصفا (مِلاوٹاور گندگی سے پاک) ہے۔ اُس کی تیغ اصیل ہے، جس کی کاٹ کا مقابلہ نہیں ہوسکتا۔

اِنسان فطرت و طبیعت کے اعتبار سے مختلف قوم کے ہوتے ہیں، بعض میں روحانی ذوق بڑھا ہوا ہوتا ہے، بعض جہاد بالسیف کے شیدائی ہوتے ہیں، بعض اپنی زندگیاں علم و فن کی خدمت میں گزار دیتے ہیں۔ اُن سب کے لیے بہترین سامان اسلامی تعلیامت نے مہیّا کیے ہیں۔

اگرچہ مسلمان اپنے عہدِ عروج میں ساری دنیا پر اپنی سطوَت کا سِکّہ جما چُکے لیکن وہ اس گئی گُزری حالت میں بھی محبت اور شجاعت میں کسی قوم سے کم نہیں ہیں۔ وہ آج بھی دنیا کو درسِ وفا سے سکتے ہیں۔ آج بھی اللہ تعالی کے نام پر سر کٹانے کا جذبہ اُن میں موجود ہے۔ آج بھی وہ عشقِ رسول ﷺ کی دولت کے مالک ہیں۔ اُن کی شرابِ محبت میں آج بھی وہی تیزی ہے اور ان کی تلوار آج بھی جوہردار ہے اور اعدائے دین کی سرکوبی کرسکتی ہے۔

شعر 32

مردِ سپاہی ہے وہ اس کی زِرہ ’لَا اِلہ‘
سایۂ شمشیر میں اس کہ پنہ ’لَا اِلہ‘

معانیالفاظ
دشمن کے وار سے بچنے کے لیے لوہے کا لباس، ڈھالزِرہ
تلوار کا سایہ۔ مراد میدانِ جنگسایۂ شمشیر

تشریح:

مسلم قوم سپاہی ہے۔ اُس کی زرہ کلمۂ توحید کے سوا کچھ نہیں، یعنی وہ اس کلمہ کو لے کر اُٹھتا ہے اور یہی اس کے جہاد کا پورا سروسامان ہے۔ تلوار کے سایہ میں بھی اس کی پناہ لا الہ الا للہ کے سوا کوئی نہیں، یعنی وہ توحید ہی کی دعوت دیتا ہے اور توحید ہی کو اپنی زندگی کا مقصد و نصب العین سمجھتا ہے۔ اسی کے لیے جیتا اور اسی کی خاطر جان دیتا ہے۔ ایسی قوم کیوں کر مِٹ سکتی ہے۔

اقبالؔ نے جو کچھ کہا ہے اُسے شاعرانہ خیال نہ سمجھنا چاہیے۔ ایک حدیثِ قدسی میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ اس کا مفاد یہ ہے کہ مسلمانوں پر ایسا دور بھی آسکتا ہے، جب دشمنوں کا غلبہ بہت بڑھ جائے، لیکن یہ صورت کبھی پیدا نہ ہوگی کہ اُن کی ہستی ہی باقی نہ رہے یا نشو و نما کا وہ جوہر ختم ہوجائے جو قوموں کی زندگی کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ مسلمانوں پر مصیبتیں اُس وقت آتی ہیں، جب وہ خدا کے احکام کی پیروی چھوڑ دیتے ہیں۔ پیروی کے ساتھ ہی ان میں عزّت و سربلندی کی نئی روح پیدا ہوجاتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ تھوڑی دیر کے لیے مغلوب ہوئے، پھر جوشِ عمل اور ہمت و عزیمت کی بدولت زندگی کے نئے سر و سامان سے آراستہ ہوگئے۔

بند نمبر 5

پانچویں بند میں مردِ مومن کا تصور پیش کِیا گیا ہے۔


شعر 33

تجھ سے ہُوا آشکار بندۂ مومن کا راز
اس کے دنوں کی تپِش، اس کی شبوں کا گداز

معانیالفاظ
ظاہر ہوناآشکار
راتشب

تشریح:

اے مسجدِ قرطبہ! تجھے دیکھ کر بندۂ مومن کی حقیقی شان آشکارا ہوتی ہے۔ اُس شان کی خصوصیتیں کیا ہیں؟ یہ کہ مومن دن کے اوقات میں عشقِ حق کے جذبے سے سرشار ہو کر انتہائی سرگرمی اور جاں فشانی سے مصروفِ کار رہتا ہے۔ خدا کے حکموں کی تعمیل کرتا اور کراتا ہے۔ اُس کے بندوں کے لیے راحت و آسائش کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔ اُنہیں باطل قوّتوں کی ضرر رسانی سے محفوظ رکھتا ہے۔ غرض اُس کا سارا وقت ایسے ہی کاموں میں گزر جاتا ہے۔ رات آتی ہے تو وہ خدا سے لو لگاتا ہے۔ اُس کے سامنے روتا ہے۔ دُعائیں کرتا ہے۔ اُسی سے مدد اور نصرت کے لیے التجا کرتا ہے۔ یوں اُس کے رات اور دِن گزرتے ہیں۔

شعر 34

اس کا مقامِ بلند، اس کا خیالِ عظیم
اس کا سُرور اس کا شوق، اس کا نیاز اس کا ناز

معانیالفاظ
مستی، نشہ، روحانی کیفیتسُرُور
فخرناز

تشریح:

اے مسجدِ قرطبہ! تُو اس کی محنت، مشقّتِ سرگرمی اور جاں فشانی کا ایک زندہ کارنامہ ہے۔ تُو اِس لیے تعمیر ہوئی کہ مومن رات کے اوقات میں تیرے اندر بیٹھ کر خدا کی بارگاہ میں دعائیں کرے۔ تیری عمارت کی رِفعت اِس کے مقامِ بلند ہونے کا کھُلا ثبوت ہے۔ تیری وسعت سے اس کے بڑے بڑے ارادوں کا پتا چلتا ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے خیالات کتنے وسیع ہیں۔ پھر اس نے تجھے انتہائی ذوق و شوق سے بنایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس کا ذوق و شوق کتنا پاکیزہ تھا۔ تُو اس غرض سے بنی کہ مومن تجھ میں خدا کے سامنے سجدۂ نیاز کرتا رہے۔ اس نیاز مندی میں بھی ناز کی ایک عجب شان آشکارا ہے۔ یہ تیرے چپّے چپّے کے حُسن سے ٹپک رہی ہے۔

شعر 35

ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکُشا، کارساز

معانیالفاظ
غلبہ پانے والاغالب
مفید کام کرنے والاکار آفریں
مشکل کام یا گُتھیاں سُلجھانے والاکار کُشا
بِگڑے کام سنوارنے والاکار ساز

تشریح:

بندۂ مومن کا ہاتھ اللہ تعالی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا ہے، خدا کے لیے کرتا ہے۔ اس کا کوئی عمل ذاتی غرض سے آلودہ نہیں ہوتا۔ لہذا اللہ اپنی رحمت سے اس کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کی شان پیدا کردیتا ہے۔ مثلاً مومن کا ہاتھ خدا کے ہاتھ کی طرح سب پر غالب رہتا ہے۔ وہ سب کو صحیح کاموں کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ کسی کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوجائے تو اسے دُور کردیتا ہے اور کسی کا سلسلۂ کار بِگڑ جائے تو اسےسنوار دیتا ہے یعنی مومن کی برکت سے لوگوں کی سرگرمیاں صحیح مسلک پر بگڑی بنتی ہے۔ باطل قوّتوں کے لیےاُبھرنے کا کوئی موقع نہیں رہتا۔

یہ شعر اس حدیثِ قدسی مفہوم پیش کرتا ہے جو صحیح بخاری کی کتاب الرقاق میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے۔ اس کا متعلّقہ ٹکڑا یہ ہے:۔

ترجمہ: باری تعالی کا ارشاد ہے کہ میرا بندہ نفلوں کے ذریعہ سے میرے قریب ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبّت کرنے لگتا ہوں۔ تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا یے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔
(صحیح البُخاری: کتاب الرقاق: حدیث 91 | حدیث 6502)

جب انسان اپنا وجود رضائے الہی کے لیے وقف کردے اور سچّا مومن بن جائے تو یقیناً اس کا ہر کام خدائی کام بن جاتا ہے؛ اور یوں اُس کا ہاتھ اللہ ہکا ہاتھ بن جاتا ہے۔

شعر 36

خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز

معانیالفاظ
جس کی فطرت نوری ہو۔ مراد نیک کِردارنوری نِہاد
ایسا بندہ جس میں خدائی صفات کی جھلک پائی جاتی ہوبندۂ مولا صِفات

تشریح:

بندۂ مومن اگرچہ جسم کے اعتبار سے خاکی ہوتا ہے، لیکن فطرت و طبیعت کے لحاظ سے اس کے نوری ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہوسکتا۔ اُس کے اندر اپنے آقا و مولا کی صِفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اُس کا بے نیاز دِل دُنیا اور عقبیٰ کی کسی چیز پر نہیں ٹھہرتا۔ اُس کا مقصود ذاتِ باری تعالیٰ کی خوشنودی کے سِوا کچھ نہیں ہوتا۔

شعر 37

اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نِگہ دل نواز

معانیالفاظ
بہت کم، تھوڑیقلیل
بڑا، عظیم، شاندارجلیل
مراد طور طریقےادا
دِل لُبھانے والا، دِلکش، سحر انگیزدِل فریب
دِل کو تسلی دینے والا، دِل جوئی کرنے والادِل نواز

تشریح:

اُس کی امیدیں بہت تھوڑی ہوتی ہیں۔ وہ اپنے کسی کام کے لیے دنیا والوں سے اجر اور معاوضے کا خواہاں نہیں ہوتا۔ اس کی غرض صرف یہ ہوتی ہے کہ اس دنیا میں خدا کی رضا پوری ہوجائے۔

کہنے کو یہ معمولی مقصد ہے لیکن حقیقت پر نظر رکھی جائے تو یہ مقصد نہایت عظیم الشان ہے۔ اس میں وہ تمام مقاصد آجاتے ہیں جنہیں اس دنیا کے بڑے بڑے انسانوں نے اپنا نصب العین بنایا۔ مثلاً خلقِ خدا کی بہتری اور بہبود، اُن کا امن، عالم گیر اخوت و مساوات، تمام انسانوں کو خدا کے سچے بندے بنانا اور سب کو اس کی چوکھٹ پر جھکانا۔ دنیا میں اس سے بڑے مقصد کیا ہوسکتے ہیں جو مومن کا نصب العین بنیں؟ اس کی پوری زندگی دیکھ کر انسانوں کے دِلوں میں محبّت اور احترام کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ کسی پر عتاب کی نگاہ نہیں ڈالتا۔ ہر ایک کی دِل نوازی کرتا ہے۔

شعر 38

نرم دمِ گُفتگو، گرم دمِ جُستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز

معانیالفاظ
بات کرتے وقتدمِ گُفتگو
مراد تیزی، سرگرمیگرم
مراد تلاش / تحقیق یا جہاد کے وقتدمِ جستجو
جنگرزم
محفلبزم
نیک و پرہیزگارپاک باز

تشریح:

وہ بات چیت کرتا ہے تو بہت نرمی سے۔ تلاشِ حق میں بہت سرگرمی دِکھاتا ہے۔ میدانِ جنگ کا معاملہ ہو یا دوستوں کی محفل جم جائے، مومن دونوں جگہ پاک طینتی اور پاک بازی کا پیکر ہوتا ہے۔ یعنی وہ میدانِ جنگ یا مجلسِ شوریٰ میں، کبھی بھی خدا کی مقرّر کی ہوئی حدوں سے تجاوز نہیں کرتا۔ یہی پاک دِلی اور پاک بازی کا پہلا اور آخری معیار ہے کہ انسان زندگی کے ہر شعبے اور ہر حصّے میں خدائی احکام کے مطابق چلے اور اُن سے بال برابر بھی اِدھر اُدھر نہ ہو۔ نیز وہ اپنی ہر حرکت میں صرف خدا کی رضا پیشِ نظر رکھّے۔

شعر 39

نُقطۂ پرکارِ حق، مردِ خدا کا یقیں
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز

معانیالفاظ
حق (سچائی) کے سائرے کا مرکزنُقطۂ پرکارِ حق
وہم و گُمانوہم
فریبطلِسم
بے حقیقت، بے بنیادمجاز

تشریح:

دنیا میں مردِ مومن ہی کا ایمان و یقین ”پرکارِ حق“ کا نقطہ ہے۔ اسی کی وجہ سے اس دنیا میں خدائی احکام جاری ہوتے ہیں۔ اسی کی وجہ سے خدا کی رضا لوگوں کا نصب العین بنتی ہے۔ لہٰذا وہی اس دنیا میں حقیقی چیز (یعنی نقطۂ پرکارِ حق) ہے۔ باقی جو کچھ ہے، وہ سراسر وہم، دھوکا اور مجاز ہے۔ یعنی مردِ مومن کے ایمان و یقین کے سوا اس دنیا میں کسی شے کو پائداری اور استواری نصیب نہیں۔

  • ”وہم سے یہاں وہ شے مراد ہے جس کی کوئی اصلیت (قیمت) نہ ہو۔
  • طلسم سے وہ شے مراد ہے جس کا ظاہر کچھ اور ہو اور باطن کچھ اور۔
  • مجاز سے وہ شے مراد ہے جس کی کوئی حقیقت (بنیاد) نہ ہو۔

وہم یقین کی ضِد ہے، طلسم صداقت کی ضِد ہے اور مجاز حقیقت کی ضِد ہے۔

شعر 40

عقل کی منزل ہے وہ، عشق کا حاصل ہے وہ
حلقۂ آفاق میں گرمیِ محفل ہے وہ

معانیالفاظ
نتیجہ، ثمر، مقصودحاصل
”افق“ کی جمع، یعنی آسمان کے کنارے، دنیا کے اطراف، پوری کائناتآفاق
محفل کی رونق / جان/ چہل پہلگرمیِ محفل

تشریح:

مردِ مومن ہی عقلِ سلیم کا سرچشمہ ہے۔ اُسی کو عشقِ حق کا حاصل کہا جاسکتا ہے۔ کائنات کی محفل میں جو رونق اور چہل پہل نظر آتی ہے، وہ اُسی کے دم سے ہے۔

اِس شعر میں علامہ اقبال مردِ مومن کی عظمت بیان کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ عقل اور عشق، جنہیں عموماً ایک دوسرے کا حریف سمجھا جاتا ہے، اپنی آخری منزل پر مردِ مومن ہی میں آ کر ملتے ہیں۔

عقل کی منزل: اقبالؔ کے ہاں عقل راستہ دکھانے والا چراغ ہے جو مسلسل تجسس، مشاہدے اور اِستدلال کے سفر میں رہتی ہے۔ مردِ مومن اس لیے عقل کی منزل ہے، کیونکہ عقل جب مادیت پرستی، شک اور خام خیالی کی حدود کو پار کر کے اپنی انتہا یعنی حکمت اور بصیرتِ سلیم تک پہنچتی ہے، تو اس کا یہ فکری سفر مردِ مومن کے شعور میں آ کر مکمل ہو جاتا ہے، جہاں عقل اپنی حد پہچان کر معرفتِ حق کی رہنمائی قبول کر لیتی ہے۔

عشق کا حاصل: اقبالؔ کے فلسفے میں عشق محض جذباتیت، نعرہ بازی یا بے عمل وجد کا نام نہیں بلکہ کائنات کی سب سے بڑی تعمیری اور تخلیقی قوت ہے۔ ”عشق کا حاصل“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عشق کی اُس تمام ریاضت، تپش اور جذبۂ دروں کا آخری ثمر وہ پختہ کردار، بلند خودی اور باعمل انسان ہے جو میدانِ عمل میں اتر کر حق و صداقت کی قوت بنتا ہے؛ یعنی عشق کی محنت مردِ مومن کے وجود کی صورت میں بارآور ہوتی ہے۔

گرمیِ محفل: یہ مادی کائنات جو اپنی تمام کہکشاؤں اور عناصر کے باوجود بذاتِ خود خاموش، بے معنی اور بے روح تھی۔ مردِ مومن اپنی بیدار خودی، مقصدیت، سوزِ جگر اور جہدِ مسلسل کے ذریعے اس بزمِ کائنات میں زندگی کی اصل حرارت اور معنویت پیدا کرتا ہے؛ اگر اس جہان سے انسانِ باعمل کا جذبہ اور شعور نکال دیا جائے تو یہ محفل بالکل سرد اور بے رونق ہو کر رہ جائے۔

بند نمبر 6

چھٹے بند میں عربوں کی فتوحات اور عظمتِ رفتہ بیان کی گئی ہے۔


شعر 41

کعبۂ اربابِ فن! سطوَتِ دینِ مبیں
تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں

معانیالفاظ
مراد مرکزکعبہ
فنونِ لطیفہ کے ماہراربابِ فن
شان و شوکت، دبدبہسطوَت
روشن دین۔ مراد اسلامدینِ مُبیں
حرم کا رُتبہ رکھنے والیحرم مرتبت
اسپین کے باشندےاُندلسی

تشریح:

اے مسجدِ قرطبہ! تُو فنونِ لطیفہ کے ماہروں کی نظر میں ایسی ہی لائقِ احترام ہے جیسے کعبہ مسلمانوں کی نظر میں۔ جن لوگوں نے فنِ تعمیر میں درجۂ کمال حاصل کیا، تیری عمارت اُن کے لیے کعبہ کا حکم رکھتی ہے، یعنی انتہائی عزّت کی مستحق ہے اور وہ لوگ اس تعمیر کے نئے نئے نکتے سیکھتے ہیں۔ تیری وجہ سے دینِ اسلام کی شوکت و عظمت نمایاں ہے۔ تجھ کو دیکھ کر اسلام کی عظمت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اور تیری بدولت ہسپانیہ کی سرزمین بھی مکہ مکرمہ کی طرح محترم اور معزز ہوگئی ہے۔

شعر 42

ہے تہِ گردُوں اگر حُسن میں تیری نظیر
قلبِ مسلماں میں ہے، اَور نہیں ہے کہیں

معانیالفاظ
آسمان کے نیچے۔ مراد دُنیاتہِ گردُوں
مثالنظیر

تشریح:

اس آسمان کے نیچے تیرے حُسن و خوبی کی اگر کوئی مثال ہے، تو وہ روئے زمین پر موجود نہیں، البتہ مسلمانوں کے قلب میں مِل سکتی ہے، یعنی مسلمان ہی پھر ایسی خوبصورت اور عالی شان عبادت گاہ بنا سکتے ہیں اور کوئی نہیں بناسکتا۔

واضح ہو کہ اقبالؔ نے مسجد کو قلبِ مومن سے تشبیہ دے کر دو باتیں ثابت کی ہیں:-

  • پہلی بات یہ کہ مومن کا دِل حُسن و جمال کا مرکز اور منبع ہوتا ہے (مومن کے دِل کو منبعِ حسن و جمال قرار دینا اقبالؔ کی نُدرتِ فکر کا کمال ہے)۔
  • دوسری بات یہ کہ دنیا کی کوئی مسجد حُسن و جمال کے اعتبار سے مسجدِ قرطبہ کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
شعر 43

آہ وہ مردانِ حق! وہ عَربی شہسوار
حاملِ ’ خُلقِ عظِیم‘، صاحبِ صدق و یقیں

معانیالفاظ
عرب کے دِلیر سوارعربی شہسوار
عظیم و اعلیٰ اخلاق رکھنے والے۔ قرآن کریم میں نبی اکرم ﷺکو صاحب خلقِ عظیم کہا گیا ہے (انک لعلی خلق عظیم)۔خلقِ عظیم
سچائی اور ایمان رکھنے والےصِدق و یقیں

تشریح:

آہ! خدا کے وہ پاک بندے، وہ عرب کے شہسوار جو حضورِ اکرم ﷺ کے اخلاقِ عالیہ کا نمونہ تھے۔ وہ جنہیں سچائی، ایمان داری، راست بازی اور یقین میں نہایت اونچا مرتبہ حاصل تھا۔

مسجد کا ذکر کرتے کرتے اقبالؔ کا ذہن قدرتی طور پر اُس قوم کے کارناموں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے جس نے یہ عدیم المثام مسجد بنائی تھی، چنانچہ اِس بند کے تیسرے شعر سے آخر تک انہوں نے عربوں کی عظمتِ رفتہ کی داستان بیان کی ہے۔ چونکہ اقبالؔ کو یہ معلوم تھا کہ وہ چار یا چھ شعروں میں ہسپانیہ کی تاریخ نظم نہیں کرسکتے اِس لیے اُنہوں نے رنگِ اختصار کو مدِ نظر رکھ کر اپنے اشعار میں ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جن مسلمانانِ اندلس کی چھ سو سالہ تاریخ مضمر ہے۔ ان چھ اشعار کو پڑھنے سے دِل میں وہ اثر پیدا ہوسکتا ہے جو پوری تاریخ پڑھنے سے بھی شاید نہ ہو۔

مثال کے طور پر پہلے شعر کے الفاظ پر غور کیجیے:-

؏ آہ وہ مردانِ حق

اقبالؔ نے اِس شعر کو لفظ ”آہ“ سے شروع کیا ہے۔ یہ لفظ اِس بات کی دلالت کرتا ہے کہ مسلمانانِ اندلس کی تاریخ ایک درد ناک المیہ (tragedy) ہے یعنی اُن کی پوری تاریخ اس ایک لفظ میں پوشیدہ ہے۔

”مردانِ حق“ کی ترکیب یہ بتائی ہے کہ جن لوگوں نے ہسپانیہ کو فتح کیا تھا یعنی طارق اور اُن کے ہمراہی، وہ سچے مسلمان تھے۔ اُن کی زندگی کا مقصد تھا کہ حق کا بول بالا ہو۔

”عربی شہسوار“ کی ترکیب یہ بتائی ہے کہ وہ عربی النسل تھے اور شہسواری میں ممتاز تھے بلکہ یہ اُن کی قومی خصوصیت تھی۔ علاوہ بریں اس لفظ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہسپانیہ میں تجارت کرنے کے بہانے سے داخل نہیں ہوئے تھے بلکہ اُنہوں نے اس ملک پر فوج کشی کی تھی۔

”خلقِ عظیم“ کی ترکیب اقبالؔ نے قرآن سے مستعار لی ہے۔ اسی لیے اسے واوین (”“) میں لکھا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ نے حضور اکرم ﷺ کی شان میں فرمایا ہے:-

وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِـيْمٍ

ترجمہ: اور بیشک آپ ﷺ اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہیں۔
(القرآن: سورۃ القلم: آیت 4)

اس آیت میں حضور اکرم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ کا ذکر ہے جو اس کائنات میں اخلاق کا بہترین نمونہ تھے۔ اقبالؔ کی مراد یہ ہے کہ اندلس کے مسلمان اُن ہی اخلاقِ حسنہ کے مالک تھے جو رسولِ اکرم ﷺ اس دنیا میں لے کر آئے تھے-

”صاحبِ صدق و یقین“ کی ترکیب بھی عربوں کی سیرت کو واضح کرتی ہے، جنہوں نے طارق کی ہمراہی میں اِس ملک کو فتح کیا تھا۔

شعر 44

جن کی حکومت سے ہے فاش یہ رمزِ غریب
سلطنتِ اہلِ دل فقر ہے، شاہی نہیں

معانیالفاظ
انوکھا / عجیب رازرمزِ غریب
عشقِ حقیقی سے سرشار لوگاہلِ دِل

تشریح:

وہ جن کی حکومت نے یہ عجیب و غریب نکتہ دنیا پر واضح کیا کہ دِل والوں کی سلطنت فقیری ہوتی ہے، بادشاہی نہیں۔ یعنی وہ اس لیے نہیں آتے کہ بڑے بڑے محل بنائیں اور عظمت و برتری کے حیرت انگیز سامان جمع کرلیں، بلکہ وہ فقر و درویشی کا تحفہ لے کر آتے ہیں، جو کم سے کم میں گزارہ کرتے ہیں اور ہر چیز خلقِ خدا کی بہتری، بہبود اور راحت و آسائش کے لیے وقف کردیتے ہیں۔ یہی وہ سلطنت ہے جس کا پیغام اسلام دنیا میں لایا۔ یہی وہ حکمرانی ہے، جس کا بہترین نمونہ خلافتِ راشدہ نے پیش کیا۔ جو عرب اندلس پہنچے تھے، وہ بھی یہی نمونہ لے کر گئے تھے اور اسی کی وجہ سے خود اندلسی مسیحیوں نے اپنے بادشاہوں کو چھوڑ کر مسلمان عربوں کا ساتھ دیا تھا۔

شعر 45

جن کی نگاہوں نے کی تربیَتِ شرق و غرب
ظُلمتِ یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں

معانیالفاظ
مشرق اور مغربشرق و غرب
یورپ کی تاریکیظُلمتِ یورپ
عقلخِرد
صحیح راستہ دیکھنے / دِکھانے والیراہ بیں

تشریح:

اُن لوگوں نے، یعنی عربوں نے، مشرق اور مغرب کو اسلام کے نور سے منوّر کر دیا، اور اُنہی کی بدولت یورپ میں علم و فن کی روشنی پھیلی۔

یورپ کو یونانی فلسفہ، طب، ریاضی اور فلکیات کا جو عظیم ذخیرہ ملا، اس کا بڑا حصہ عربی زبان کے راستے پہنچا، اور یورپ کی تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ اس خطے میں علوم و فنون کی اشاعت میں عربوں کا کردار نہایت اہم اور فیصلہ کن تھا۔

اندلس اور سسلی کے علمی مراکز، بالخصوص قرطبہ اور طلیطلہ، یورپی اہلِ علم کے لیے کشش کا باعث بنے۔ جیربرٹ جیسے طالب علم اندلس گئے، اور بارہویں صدی میں طلیطلہ میں عربی کتب کے لاطینی تراجم کا ایک عظیم سلسلہ شروع ہوا جس سے انگلستان، فرانس، جرمنی اور اطالیہ کے علما نے استفادہ کیا۔

ٹامس ایکوئیناس اور راجر بیکن جیسے مفکرین نے مسلم حکما سے گہرا اثر قبول کیا: ایکوئیناس نے مشہور اندلسی حکیم ابنِ رشد کو ”شارح“ کا لقب دے کر اس سے استفادہ کیا، اگرچہ کئی مسائل پر اس سے اختلاف بھی کیا، جبکہ بیکن نے بصریات میں ابنِ الہیثم سے روشنی پائی۔ بلکہ فرانس اور اطالیہ میں تو فلسفۂ ابنِ رشد کے باقاعدہ مراکز قائم ہوئے، جہاں سے اُس ناموَر حکیم کے افکار کی اشاعت ہوتی رہی۔

شعر 46

جن کے لہُو کی طفیل آج بھی ہیں اندلسی
خوش دل و گرم اختلاط، سادہ و روشن جبیں

معانیالفاظ
مراد پرانی ہسپانوی نسل کے خون کی موجودہ نسل کے خون میں آمیزِش کا اثرلہُو کی طفیل
محبت و خلوص کے ساتھ پیش آنے والےگرم اِختلاط
روشن پیشانیوں والےروشن جبیں

تشریح:

خلقِ عظیم کے پیکر وہی تھے جن کا لہو آج تک اندلسیوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہے اور یورپ کی دوسری قوموں کے مقابلے میں اندلس کے باشندے خوش دِل، مہمان نواز، میل جول میں پُر تپاک (گرم اِختلاط)، سادہ مزاج اور روشن پیشانیوں والے یعنی خوبصورت ہیں۔

شعر 47

آج بھی اس دیس میں عام ہے چشمِ غزال
اور نگاہوں کے تِیر آج بھی ہیں دل نشیں

معانیالفاظ
ہرن جیسی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں والی حسینائیںچشمِ غِزال
دِل میں اُترنے والےدِ نشیں

تشریح:

اندلس میں آج بھی ہرن (غزال) جیسی آنکھیں ہر جگہ دیکھی جاسکتی ہیں اور حسینوں کی نگاہوں کے تیر آج بھی دِل میں ترازو ہوتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ حُسن کی یہ علامتیں عربی خون کی آمیزش کا نتیجہ ہیں۔

شعر 48

بُوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگِ حجاز آج بھی اس کی نواؤں میں ہے

معانیالفاظ
یمن کی خوشبوبُوئے یمن
آواز، صدانواؤں

تشریح:

آج بھی اندلس کی ہوا میں یمن کی خوشبو اور وہاں کے باشندوں کی گفتگو میں حجازی لب و لہجہ کا اثر موجود ہے۔

”بوئے یمن“ سے اشارہ اُس مشہور مگر غیر مستند حدیث کی طرف بھی ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کو یمن کی جانب سے ٹھنڈی ہوا آئی۔ بظاہر اس سے مراد یہ ہے کہ جو عرب اِبتدا میں اندلس جاکر آباد ہوئے، اُن میں بڑا حصہ یمن کے عربوں کا تھا اور اُن کی نسل اب بھی وہاں موجود ہے۔ نیز اندلس کی موسیقی دوسرے یورپی ملکوں کی موسیقی کے مقابلہ میں حجازی موسیقی سے بہت مشابہ ہے۔

بند نمبر 7

ساتویں بند میں یورپ کے بعض اہم انقلابات کی طرف اشارہ کِیا گیا ہے۔


شعر 49

دیدۂ انجم میں ہے تیری زمیں، آسماں
آہ کہ صدیوں سے ہے تیری فضا بے اذاں

معانیالفاظ
ستاروں کی نظر میںدیدۂ انجم
جہاں اذان نہ دی جاتی ہوبے اذاں

تشریح:

اے مسجدِ قرطبہ! ستاروں کی نظر میں تیری زمین کو آسمان کا رتبہ حاصل ہے، یعنی وہ بہت بلند مرتبہ ہے۔آہ! کہ صدیاں گزر گئیں اور تیری فضا میں اذان کی آواز نہیں سنی گئی۔ یعنی کسی نے تیرے صحن یا ماذنے (اذان گاہ) سے اذان نہیں کہی۔

شعر 50

کون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے
عشقِ بلا خیز کا قافلۂ سخت جاں!

معانیالفاظ
آفتوں میں ڈالنے اور مصیبتوں میں پھنسانے والا عشقعشقِ بلاخیز
جان کی پرواہ نہ کرنے والاسخت جاں

تشریح:

دوسرے شعر سے پھر اقبالؔ اپنے جذبات کا اظہار شروع کردیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا معلوم اب تک اندلس میں انقلاب کیوں برپا نہیں ہوا؟ خدا معلوم مسلمانوں کا قافلہ کس منزل میں رکا ہوا ہے جو ابھی تک یہاں نہیں پہنچا؟ جب کہ انقلاب اس جہان کا آئین ہے، تو خدا معلوم ابھی تک یہ سرزمین ہلالی پرچم سے محروم کیوں ہے؟

کچھ معلوم نہیں کہ ہنگامے پیدا کرنے اور ہلچل ڈالنے والے عشقِ حق کا سخت جان قافلہ کون سی وادی اور کون سی منزل میں مقیم ہے؟ وہ کب یہاں پہنچے گا؟ اور کب تیری فضا میں اللہ اکبر کی صدائیں پھر اسی طرح گونجنے لگیں گی، جس طرح اسلامی دور میں ساڑھے سات سو سال تک گونجتی رہیں۔

اِس کے بعد کے چار شعروں میں اقبالؔ نے کمالِ بلاغت کے ساتھ یورپ کے بڑے بڑے انقلابات کا ذکر کیا ہے جو اُن کے قیاس کے موید ہیں یعنی جب جرمنی، فرانس اور اطالیہ میں انقلاب رونما ہوچکا ہے؟ تو اگر ہسپانیہ میں بھی عنقریب کوئی انقلاب رونما ہوجائے تو بعید از قیاس نہیں۔

شعر 51

دیکھ چُکا المنی، شورشِ اصلاحِ دیں
جس نے نہ چھوڑے کہیں نقشِ کُہن کے نشاں

معانیالفاظ
جرمنیالمنی
پروٹسٹنٹ تحریک کی طرف اشارہشورشِ اصلاحِ دِیں
پُرانا نقشنقشِ کُہن

تشریح:

کہتے ہیں کہ زوالِ غرناطہ کے بعد یورپ میں بہت سے انقلابات رونما ہوچکے ہیں مثلاً سولہویں صدی میں جرمنی میں لُوتھرؔ نے اصلاحِ کلیسائے روم کے نام سے ایک تحریک شروع کی جس نے یورپ میں ایک عظیم الشان انقلاب برپا کردیا جس کی بدولت نصف سے زائد مسیحی دُنیا پاپائے روم کے مذہبی اقتدار سے آزاد ہوگئی۔

اصلاحِ دیں: مراد ہے ریفارمیشن سے، یعنی مذہبی اصلاح کی وہ تحریک جو مارٹن لوتھر باشندۂ جرمنی نے پوپ کے خلاف اُٹھائی تھی اور جس کی بنا پر عیسائیت دو بڑے ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ پوپ کو ماننے والے ”کیتھولک“ کہلاتے رہے جبکہ لُوتھر کو ماننے والوں کا نام ”پراٹسٹنٹ“ پڑ گیا۔

صورتِ حال یہ ہوئی کہ رومن کیتھولک کلیسا کی تعلیماتِ عجیبہ میں سے یہ دو باتیں بھی تھیں (اور اب بھی ہیں) کہ:-

  • پوپ (پاپائے روم) عسیائیوں کے گناہ معاف کرسکتا ہے چنانچہ معافی ناموں کی فروخت کا باقاعدہ محکمہ قائم تھا اور پوپوں کو اِس تجارت سے کافی آمدنی ہوتی تھی۔ کلیسائی اصطلاح میں اسے فروختِ تذکرات الغفران کہتے تھے۔
  • حقانیت کا دار و مدار کلیسا پر ہے نہ کہ بائبل پر، یعنی حق وہ ہے جسے کلیسا حق قرار دے۔

1517ء میں مارٹن لوتھرؔ نامی ایک پادری (جو جرمنی کی وٹن برگ یونیورسٹی میں پروفیسر تھا) نے اِن دونوں عقیدوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی تھی اور 31 اکتوبر 1517ء کو کافی غور و فکر کے بعد شہر کے سب سے بڑے گرجے کے دروازے پر پوپ اور کلیسا کے ان دونوں عقائد (تعلیمات) کی تردید جلی قلم سے لکھ کر چسپاں کردی۔ گویا یہ کلیسا کے خلاف اعلانِ جنگ تھا جو ایک نحیف پادری کی طرف سے کیا گیا تھا، چونکہ لوتھرؔ نے کلیسائی طریقِ کار کے خلاف احتجاج (پروٹیسٹ) کیا تھا اس لیے اس کے ہم خیال پروٹسٹنٹ (Protestant) فرقہ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ 1520ء میں پوپ لیو دہم نے لُوتھرؔ کیس کلیسا سے خارج کردیا لیکن لوتھرؔ کی تحریک نے رفتہ رفتہ نصف عیسائی دنیا کو پوپ کی غلامی سے نجات دی۔

واضح ہو کہ رومن کیتھولک دنیا میں کوئی شخص، کوئی مذہبی یا فلسفیانہ یا علمی کتاب شائع نہیں کرسکتا جب تک کلسیا اس کے مضامین کی صحت کی تصدیق نہ کردے۔ اس کام کے لیے پوپ کی طرف سے احتسابِ کتب کا ایک باقاعدہ محکمہ قائم ہے۔

گویا ”شورشِ اصلاحِ دیں“ کی بدولت مُلک مُلک میں انقلاب پیدا ہوئے۔ جرمنی (یعنی المنی) سے اصلاحِ دین کی تحریک اُٹھی، جس نے پرانے زمانے کے تمام نقوش مِٹا کر رکھ دیے۔

شعر 52

حرفِ غَلط بن گئی عِصمتِ پیرِ کُنِشت
اور ہُوئی فکر کی کشتیِ نازک رواں

معانیالفاظ
بیکار، حرفِ غلط کی طرححرفِ غلط
معصومیت، بے گُناہیعصمت
کلیسا کا بوڑھا۔ مراد پاپائے رومپیرِ کُنِشت
سوچ، خیالفکر

تشریح:

نیز اصلاح کا ایک زبردست نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پیرِ کنشت (پوپ) کی عصمت کا عقیدہ باطل ہوگیا یعنی جو ممالک (مثلاً جرمنی، انگلستان) پاپائے روم کے اقتدار سے آزاد ہوگئے ہیں، وہاں کے عیسائی اُس کو معصوم نہیں سمجھتے۔

واضح ہو کہ کلیسائے روم یعنی رومن کیتھولک چرچ کا یہ عقیدہ ہے کہ پوپ معصوم عین الخطا ہے، اُس سے غلطی یا گناہ سرزد نہیں ہوسکتا۔ لُوتھرؔ نے اس عقیدہ کا ابطال کیا جس کی بدولت پروٹسٹنٹ کلیسا کے پادریوں کو بائبل میں غور و فکر کرنے اور اس کی تفسیر کرنے کی آزادی نصیب ہوئی۔

یورپ کی جس معصومی پر عیسائیت نے ایک مذہبی نظام تیّار کیا تھا، وہ معصومی حرفِ غلط کی طرح محو ہو کر رہ گئی۔ اِس عہد میں کسی کو سوچنے کی اجازت نہ تھی۔ کوئی شخص بائبل کا ترجمہ نہ کرسکتا تھا اور مذہب کے متعلق کوئی رائے نہ دے سکتا تھا۔سب کی گردنیں پوپ (یعنی پیرِ کنشت، لفظی معنی: کلیسا کا سب سے بڑا بزرگ یعنی پوپ) اور اس کے مقرر کیے ہوئے کارکنوں کے سامنے جھکی رہتی تھیں۔ وہ جو کچھ کہہ دیتے تھے، اسی کو نجات کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، لیکن جب لُوتھر تحریک نے پوپ کی مصومیت ختم کی تو لوگ دین پر غور و فِکر کرنے لگے۔ حقیقتِ حال اُن پر آشکارا ہوئی۔ اسی وقت سے پرانا مذہبی ڈھانچا برباد ہوگیا۔ اسی وقت سے آزادیِ فکر کا وہ دور شروع ہوا جس نے آگے چل کر یورپ کو لادینی (Secularism) کی راہ پر ڈال دیا۔

اقبالؔ کا کمال یہ ہے کہ فکر کی کشتی کو نازک بتایا۔ یقیناً وہ اتنی نازک ہوتی ہے کہ موج کا ہلکا سے تھپیڑا بھی اُسے تختہ تختہ کر دے سکتا تھا۔

شعر 53

چشمِ فرانسیس بھی دیکھ چُکی انقلاب
جس سے دِگرگُوں ہُوا مغربیوں کا جہاں

معانیالفاظ
فرانس کے لوگوں کی آنکھچشمِ فرانسیس
انقلاب آ گیادِگرگُوں ہوا

تشریح:

فرانسیس کی آنکھ نے بھی انقلاب کا نقشہ دیکھ لیا، جس میں نہ محض فرانس کی پرانی شنشاہی ہی ختم ہوئی، بلکہ یورپ کے پورے پرانے نظامِ سلطنت میں اُلٹ پلٹ شروع ہوگئی، یعنی دوسرے ملکوں میں بھی بادشاہی کو ختم کر کے جمہوریتیں قائم ہونے لگیں اور وہاں نئی تہذیب نے فروغ حاصل کیا۔

اِسی طرح اٹھارہویں صدی عیسوی میں ایک عظیم انقلاب برپا ہوا۔ جس کا نام ہی انقلابِ فرانس ہے۔ یہ انقلاب، فرانس کی شہنشاہی کے خلاف تھا۔ اِس کی مفصّل تاریخ کارلائل (Thomas Carlyle) نے انگریزی کتاب ”The French Revolution: A History“ میں لکھی ہے۔ چنانچہ بادشاہ، ملکہ اور بڑے بڑے امیر قتل کردیے گئے اور جمہوریت قائم ہوگئی۔ پھر نپولین بر سرِکار آگیا اور فرانس میں از سرِ نو شہنشاہی کا تخت بِچھ گیا، لیکن انقلابِ فرانس کی بدولت یورپ میں شہشاہی کی جڑ پر کُلہاڑے چلنے لگے ۔

اِس انقلاب سے اہلِ مغرب کی دنیا ہی بدل گئی کیونکہ اس کی بدولت یورپ کی قومیں حریتؔ، اخوتؔ اور مساواتؔ کے الفاظ سے آشنا ہوئیں، شاید کبھی مفہوم سے بھی آگاہ ہوجائیں۔

نوٹ: میں (پروفیسر یوسف سلیم چشتی) نے جو یہ لکھا ہے کہ اقوامِ مغرب ان لفظوں کے معانی سے ہنوز آشنا نہیں ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اصول سہ گانہ عقیدۂ توحید کا منطقی نتیجہ ہیں۔ اس لیے جب تک کوئی قوم خالص توحید کے عقیدہ پر حامل نہ ہو، وہ ان الفاظ کے مفہوم سے کیسے آگاہ ہوسکتی ہے۔ جب تک کوئی قوم توحید کو ایک عنصرِ فعال کی حیثیت سے اپنی اجتماعی زندگی میں داخل نہ کرے، اس وقت تک یہ پاکیزہ اصول عملی جامہ نہیں پہن سکتے۔

جب مسلمان زندہ تھے تو یہ اصول بھی اُن کی زندگی سے مترشخ ہوتے تھے، چنانچہ اقبالؔ نے رموزِ بیخودی میں ان کے تاریخی شواہد پیش کیے ہیں لیکن اب عرصۂ دراز سے”مسلمان درگور مسلمانی در کتاب“ والا مضمون ہے۔ اس لیے آج 1951ء میں حریتؔ، اخوتؔ اور مساواتؔ؛ یہ تین لفظ ایسے ہیں کہ ان کا مفہوم تو مسلمانوں کے ذہن میں موجود ہے لیکن ان کا مصداق خارج میں کہیں موجود نہیں ہے۔ اقبالؔ نے اسی تلخ حقیقت کو اس طرح بیان کیا ہے:-

؎ نہ مشرق اس سے بری ہے، نہ مغرب اس سے بری ہے
جہاں میں عام ہے قلب و نظر کی رنجوری

(ضربِ کلیم: مشرق و مغرب)

”انقلابِ فرانس“ کی داستان بھی بہت طویل ہے۔ اس جگہ صرف اتنا بتانا کافی ہے کہ فرانس کے باشندے چونکہ شخصی حکومت کے تلخ ثمرات سے تنگ آچکے تھے اس لیے ”تنگ آمد بجنگ آمد“ والا معاملہ ہوگیا کہ 5 مئی 1789ء کو پیرس میں سارے ملک کے نمائندوں کی مجلس منعقد ہوئی اور اس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ملوکیت کو ختم کرکے جمہوریت قائم کرنی چاہیے، چنانچہ تین سال کی جدوجہد کے بعد 1792ء میں فرانس میں ری پبلک (جمہوریت) قائم ہوگئی اور لوئی شانزدہم کو جنوری 1793ء میں اور اور اُس کی ملکہ ماری انٹوینٹ کو اکتوبر 1793ء میں گیلوٹین کے ذریعے سر قلم کر کے سُوئے عدم روانہ کیا گیا اور اِس طرح فرانس ہمیشہ کے لیے ملوکیت کی لعنت سے آزاد ہوگیا۔

شعر 54

ملّتِ رومی نژاد کُہنہ پرستی سے پیر
لذّتِ تجدید سے وہ بھی ہوئی پھر جواں

معانیالفاظ
اطالوی (اٹلی کی) نسل، رومن نسل والی قومرومی نژاد
قدیم رسموں سے چِمٹے رہناکہنہ پرستی
بوڑھاپیر
تازہ کرنے کی لذتلذتِ تجدید

تشریح:

ملتِ رومی نژاد یعنی رومی نسل کی مِلّت، مراد ہے اہلِ اٹلی (Italy) جو پرانی چیزوں کی پرستش کرتے ہوئے بوڑھے ہوگئے تھے، وہ مسولینی (Mussolini) کی رہنمائی میں تجدید کی لذت سے جوان بن گئے، یعنی ان میں بھی زندگی کی نئی روح پیدا ہوگئی اور وہ عظمت و برتری کے دعوے کرنے لگے۔

”لذتِ تجدید“ کے لفظی معنی ہیں تازہ کرنے کی لذت؛ اس مصرع میں اشارہ اٹلی کی اس عظمت و برتری کی طرف ہے، جو اُسے مسولینی کی ماتحتی سے حاصل ہوئی لیکن دوسری جنگِ یورپ میں یہ عظمت بھی یورپ کی بعض دوسری عظمتوں کی طرح ”حرفِ غلط“ کی طرح مِٹ گئی۔

شعر 55

رُوحِ مسلماں میں ہے آج وہی اضطراب
رازِ خدائی ہے یہ، کہہ نہیں سکتی زباں

معنیلفظ
بے چینی، بے قراریاضطراب

تشریح:

مسلمان کی روح میں بھی آج وہی بے قراری، وہی تڑپ لہریں لے رہی ہے، اس کا نتیجہ کیا ہونے والا ہے؟ یہ خدائی راز ہے، زبان میں یہ طاقت نہیں کہ اِسے کھول کر بیان کرسکے۔

یعنی اندریں حالات اگر عربوں یا مسلمانوں میں بھی کوئی ایسا انقلاب رونما ہوجائے جس کی بنا پر ان میں زندگی پیدا ہوجائے تو بعید از قیاس نہیں ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ مسلمانانِ عالم میں جو ایک عام اضطرابی کیفیت پائی جاتی ہے وہ اس بات کی دلیل ہے کہ جلد یا بدیر اِن میں بھی انقلاب برپا ہوگا۔

شعر 56

دیکھیے اس بحر کی تہ سے اُچھلتا ہے کیا
گُنبدِ نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!

معانیالفاظ
سمندربحر
نیلے رنگ کا آسمانگُنبدِ نیلو فری
تبدیلیاں یا انقلاب برپا ہونارنگ بدلنا

تشریح:

سمندر میں طوفان کے آثار نمودار ہیں؛ دیکھیے اِس کی تہہ سے اُچھل کر کیا نکلے گا؟ اور یہ نیلا آسمان جو ہمارے سر پر چھایا ہوا ہے،؛ یہ کیا رنگ بدلے گا اور اِس کے نیچے کیا کیا اِنقلابات رونما ہوں گے۔

بند نمبر 8

آخری بند میں اقبالؔ اُس وقت کا منظر پیش کررہے ہیں جب یہ نظم کہی گئی تھی اور یہ منظر کشی حد درجہ موزوں اور دِل کشا ہے۔ اِس بند میں علامہ نے الہامی رنگ میں مسلمانوں کی نشاۃ الثانیہ کی پیشگوئی کی ہے اور آخری شعر میں اپنا فلسفہ پیغام کی صورت میں پیش کیا ہے تاکہ اِس نظم کا مقصد واضح ہوسکے۔


شعر 57

وادیِ کُہسار میں غرقِ شفَق ہے سحاب
لعلِ بدخشاں کے ڈھیر چھوڑ گیا آفتاب

معانیالفاظ
پہاڑکی وادیوادیِ کُہسار
شام کی سُرخی میں ڈوبا ہواغرقِ شفق
بادلسحاب
بدخشاں (شہر کا نام جہاں کے لعل مشہور ہیرں) کا سُرخ قیمتی پتھرلعلِ بدخشاں

تشریح:

اِس آخری بند کا پہلا شعر فنی اعتبار سے بے نظیر ہے۔ ساری نظم میں اِس کا جواب نہیں ہے۔

دوسرے مصرع میں استعارہ بالکنایہ نے اس شعر کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ شاعر نے پہلےآفتاب کو ایک تاجر قرار دیا ہے، پھر اس کے لیے ”لعلِ بدخشاں کے ڈھیر“ ثابت کیے ہیں۔

فرماتے ہیں کہ پہاڑ کی وادی میں بادل شفق کی سُرخی میں ڈوبا ہوا نظر آتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سورج غروب ہوتے ہوتے بدخشانی لعل کے ڈھیر چھوڑ گیا۔

یہ غروبِ آفتاب کا نظّارہ ہے، غروب کے ساتھ ہی جو شفق نمایاں ہوتی ہے، اُس کی شوخی ہر شے پر تھوڑا بہت رنگ چڑھا دیتی ہے اور بادل کا کائی ٹکڑا افق پر موجود ہو تو وہ سراسر سرخ ہوجاتا ہے۔ اسی کو شاعر نے سرخی کی بنا پر ”لعلِ بدخشاں“ کا ڈھیر سمجھا۔ چونکہ یہ ڈھیر غروبِ آفتاب کے دوران پیدا ہوئے تھے، اس لیے کہا کہ یہ آفتاب چھوڑ گیا۔

شعر 58

سادہ و پُرسوز ہے دُخترِ دہقاں کا گیت
کشتیِ دل کے لیے سَیل ہے عہدِ شباب

معانیالفاظ
سوز و گُداز سےپُر / بھرا ہواپُر سوز
کسان کی بیٹیدُخترِ دہقاں
طوفان، سیلابسَیل
جوانی کا زمانہعہدِ شباب

تشریح:

عین اُسی وقت کسی دیہاتی لڑکی کا نغمہ فضا میں گونجا۔ اس کی لَے بہت سادہ تھی۔ اس لیے کہ دیہاتی لڑکیاں موسیقی کا فن سیکھ کر نہیں گاتیں، محض خوش گلوئی کی بدولت شوق پورا کرلیتی ہیں۔ سادگی کے باوجود اس لَے میں سوز بھرا ہوا تھا۔ سچ ہے، جوانی کا زمانہ دِل کی کشتی کے لیے سیل کا حکم رکھتا ہے، یعنی اُسے جدھر چاہتا ہے، بہا لے جاتا ہے۔

اقبالؔ نے اِس مصرع میں عالمِ انسانیت کی ایک بہت بڑی حقیقت بیان کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جوانی کی حیثیت ایک تیز و تند سیل کی سی ہے۔ اس میں نہ کہیں اٹکاؤ ہے، نہ ٹھہراؤ؛ جِدھر رُخ ہوگیا، نکل گیا۔ اس میں نفع و نقصان کا موازنہ بھی عموماً نہیں ہوتا۔ یہ کیفیت اسی شخص پر واضح ہوسکتی ہے، جس نے تیز و تند سیل میں کشتی کو بہتے ہوئے دیکھا ہو۔ جوانی گزر جائے تو انسان ہر کام سوچ سمجھ کر کرتا ہے، قدم قدم پر رکتا ہے، گرد و پیش کو دیکھتا ہے جب آگے بڑھتا ہے۔ اِس مصرع میں ایک خوبی یہ ہے کہ جوان لڑکی کا گیت سننے والے ہر شخص کے دِل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور جب تک یہ کیفیت رہتی ہے، وقت اس طرح گزر جاتا ہے جیسے زندگی کی کشتی ایک سیل میں بہہ رہی ہو؛ ابھی یہاں تھی، تھوڑی دیر میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔

شعر 59

آبِ روانِ کبیر! تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب

معنیلفظ
قرطبہ کے مشہور دریا کا بہتا ہوا پانیآبِ روانِ کبیر

تشریح:

اقبالؔ اس عالم میں دریا کے مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ:-

اے وادیِ کبیر کے بہتے ہوئے دریا! تیرے کنارے کوئی شخص بیٹھا ہوا کسی اور ہی زمانے کا خواب دیکھ رہا ہے (”کوئی“ سے یہاں مراد خود اقبالؔ ہیں)۔

آبِ روانِ کبیر: وادیٔ الکبیر اندلس کا مشہور دریا، جس کے دونوں کناروں پر قرطبہ آباد ہے۔ مسجدِ قرطبہ بھی اس دریا کے قریب ہی واقع ہے۔

شعر 60

عالمِ نَو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحَر بے حجاب

معانیالفاظ
نئی دُنیا، نیا زمانہعالمِ نَو
صبحسحر
بے پردہ، ظاہربے حجاب

تشریح:

جس آنے والے زمانہ کا میں ذکر کررہا ہوں وہ اگرچہ ابھی دنیا کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے (یعنی ابھی تقدیر کے پردہ میں ہے اور اُس کا ظاہر ہونا باقی ہے) لیکن میں اُس کے آغاز کو دیکھ رہا ہوں۔

شعر 61

پردہ اُٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب

معانیالفاظ
ظاہر کر دوں، عیاں کر دُوںپردہ اُٹھا دُوں
خیالات کا چہرہچہرۂ افکار
صدا، نغمہ، سُرنوا
برداشت کرنے کی قوتتاب

تشریح:

میں اگر اپنے تصوّرات کے چہرے سے پردہ اُٹھا دوں اور بتا دوں کہ کیا کچھ ہونے والا ہے تو یورپ میری ان انقلابی باتوں کی تاب نہ لاسکے گا۔

شعر 62

جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
رُوحِ اُمم کی حیات کشمکشِ انقلاب

معانیالفاظ
کسی نظام، حکومت، معاشرے یا سوچ میں بنیادی اور بڑی تبدیلی، یعنی پرانے نظام کو ختم کر کے نیا نظام لانانقلاب
قوموں کی روحروحِ اُمم

تشریح:

اس کے بعد اقبالؔ مسلمان سے خطاب کرتے ہیں کہ زندگی انقلاب کا دوسرا نام ہے۔ جس قوم میں انقلاب برپا کرنے کی آرزو نہ ہو اس کا شمار زندہ اقوام میں نہیں کیا جاسکتا۔ قوموں کی زندگی صرف انقلاب پیدا کرسکنے پر منحصر ہے۔

شعر 63

صُورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

معانیالفاظ
تلوارشمشیر
قضا و قدر / تقدیر کا ہاتھدستِ قضا
ہر پل، پر لمحہہر زماں
اپنے عمل کی جانچ پڑتال کرناعمل کا حساب

تشریح:

جو قوم ہر وقت اپنے اعمال کی جانچ پڑتال کرتی رہتی ہے، اسے اندازہ رہتا ہے کہ کہاں لغزش ہوئی، کہاں ٹھوکر کھائی۔ وہ اپنی ہر لغزش اور ٹھوکر کی تلافی کرلیتی ہے۔ لہٰذا وہ زندگی کے میدان میں ہمیشہ کامیاب رہتی ہے اور قدرت کے ہاتھ میں تلوار کا کام دیتی ہے، یعنی اُسی سے قدرت اپنے تمام کام لیتی ہے (مراد ہے کہ خدا ایسی قوم کو اقوامِ عالم کی سرداری عطا فرماتا ہے)۔

شعر 64

نقش ہیں سب ناتمام خُونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خُونِ جگر کے بغیر

معانیالفاظ
فن کے نمونے یا تخیلاتنقش
مراد شاعرینغمہ
نیم دیوانگی۔ مراد نامکمل، کچا اور ناقص جنونسودائے خام

تشریح:

نقوش میں اگر جگر کا خون شامل نہ ہو، وہ نامکمل رہتے ہیں۔ خونِ جگر کے بغیر شاعری بھی سودائے خام کے سوا کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔

اس بند کا آخری شعر پوری نظم کی جان ہے کیونکہ اس میں اقبالؔ نے اپنا فلسفہ (جسے ان کے پیغام کی روح سے تعبیر کرسکتے ہیں) بیان کردیا ہے۔ کہتے ہیں کہ قوموں کی ترقی دو باتوں پر موقوف ہے:۔

  • پہلی بات یہ ہے کہ قوم کے سامنے کوئی نہ کوئی نصب العین ضرور ہونا چاہیے۔ جو قوم اپنا مقصدِ حیات متعین نہیں کرتی اُس کی زندگی بالکل بے معنی ہے۔
  • دوسری بات یہ ہے کہ اُس نصب العین کے حصول کا جذبہ عشق کے درجہ پر پہنچ جائے۔ کیونکہ عشق کے بغیر سب ارادے ناتمام رہتے ہیں، عشق کے بغیر کوئی قوم جدوجہد میں کامیاب نہیں رہتی۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے مستقبل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں اس حقیقت کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ انقلاب آئینِ حیات ہے جس کو قرآنِ حکیم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:-

ترجمہ: تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردِش دیتے رہتے ہیں۔
(القرآن: سورۃ آل عمران: آیت 140)

یعنی عروج و زوال کے دِنوں کو ہم یونہی لوگوں میں نوبت بہ نوبت لاتے رہتے ہیں۔ آج ایک قوم بر سرِ عروج ہے کل دوسری قوم۔ پس مسلمانوں کو انقلاب برپا کرنے کی تیاری کرنی چاہیے اور اس کی صورت ایک ہی ہے یعنی وہ اپنے اندر عشق کا جذبہ پیدا کرلیں۔ نصب العین کا حصول اسی جذبۂ عشق پر موقوف ہے۔

تبصرہ

نظم ”مسجدِ قرطبہ“ اردو شاعری کا وہ کوہِ نور ہے جس میں فن اور فِکر یکجان ہو گئے ہیں۔ یہ نظم قاری کو یہ ایقان بخشتی ہے کہ سچا عشق فنا کی حدود کو توڑ کر ابدیت کے ساتھ ہمکنار ہو جاتا ہے، اور اسلامی تہذیب کا احیا اسی عشقِ ایمانی سے ممکن ہے۔

حوالہ جات

4 thoughts on “بالِ جبریل 124: مسجدِ قرطبہ”

  1. اُردو کلام کی جلد از جلد یقینی بنائیں اور آس کی فورآ بعد فارسی کلام کی بھی شرح کے ساتھ پیش کر دیجیے ۔ آپ لوگ بڑا عمدہ کام کر رہے ہیں ، اللہ آپ لوگوں کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین 🤲🤲

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *