Skip to content

بالِ جبریل 142: ساقی نامہ

فہرست

تعارف

نظم ”ساقی نامہ“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا فکری و فنی شاہکار ہے۔ بہار کے موسم، پہاڑوں اور جوئے کہستان کے پرجوش بہاؤ کی تمثیل سے شروع ہونے والی یہ نظم رفتہ رفتہ حیات اور کائنات کے گہرے ترین فلسفیانہ اسرار میں داخل ہو جاتی ہے۔

اس طویل بحرِ متقارب میں اقبالؔ نے خودی کی حقیقت، زمان و مکان کی قید سے انسانی روح کی آزادی، حیات کا مسلسل بہاؤ اور جمود کے خلاف ارتقا کا نظریہ اس قدر والہانہ انداز میں پیش کِیا ہے کہ اردو شاعری میں اس کی نظیر ملنا محال ہے۔

ساقی نامہ کے فنی محاسن، بحرِ متقارب کے ترنم اور ادبی شان پر پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

ساقی نامہ ایک دِلکش نظم ہے۔ علامہ اقبال کی اِس نظم میں شعری محاسن کی تو فراوانی ہے ہی، اِس کے علاوہ اِس نظم کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے افکار یہاں بہت دل پذیر اور عام فہم پیرائے میں ادا ہوئے ہیں۔

فارسی شاعری میں ساقی نامہ کی روایت خاصی قدیم ہے۔ یہ صنفِ سُخن رندی و سرمستی اور مے و مے خانہ کے بیان تک محدود تھی۔ البتہ بادہ و ساغر کے پردے میں تصوّف کے معاملات کا بھی کسی ساقی نامے میں ذکر ہو جاتا تھا مگر اِس صنف کو کسی عظیم مقصد کے لیے استعمال کرنے کا سہرا اقبالؔ کے سر ہے ۔ اُنہوں نے بے خودی کے بجائے ہشیاری کو اِس کا موضوع بنایا۔ شراب انسان کی قوّتِ احساس میں شِدّت پیدا کر دیتی ہے۔ اِس نظم میں جن جذبات کا اظہار مقصود تھا وہ شِدّتِ بیان کا تقاضا کرتے تھے اور شراب جذبات کو برانگیختہ (پُر جوش) اور بیان کو پُر زور بنا دیتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اقبالؔ نے اِس صنف کا انتخاب کیا اور ساقیِ ازل سے اُس شراب کے خواستگار ہوئے جو شاعر کو عشقِ حقیقی سے سرشار کر دے۔ اِس نظم میں سات بند ہیں۔

  • پہلے بند کی حیثیت تمہید کی ہے جس میں بہار کے آنے کا مژدہ سنایا گیا ہے اور موسمِ بہار کے دلکش مناظر کی تصویر کھینچی گئی ہے۔
  • دوسرے بند میں اُس دور کے حالات بیان ہوئے ہیں اور مسلمانوں کی خستہ حالی کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • تیسرے بند میں مِلّتِ اسلامیہ کے نوجوانوں کے لیے دُعا کی گئی ہے۔
  • چوتھے اور پانچویں بند میں زندگی کی حقیقت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چھٹے اور ساتویں بند میں خودی کا مفہوم واضح کیا گیا ہے اور اِس کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔
  • ساتویں بند کے آخری حصے میں مِلّت کے نوجوان کو مسافر کہہ کر خطاب کیا گیا ہے کیونکہ وہ عرفانِ ذات کی منازل طے کرتے ہے۔ نیز وہ تدبیریں بتائی گئی ہیں جو اِس راہ میں زادِ سفر (سفر کے راستے کا سامان) کا کام دیتی ہیں اور راہی کو منزلِ مقصود تک پہنچاتی ہیں۔

جہد و عمل کو اقبالؔ کے فلسفے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ چنانچہ پہلے ہی بند میں موسمِ بہار کی منظر کشی کرتے ہوئے شاعر کی توجہ جوئے کہستان پر مرکوز ہوجاتی ہے جو اٹکتی، لچکتی اور بل کھاتی ہوئی کہستان سے گزرتی ہے اور اُنہیں خیال آتا ہے کہ اِس پہاڑی ندی کے بہاؤ کو روکنے کی کوشش کی جائے تو یہ رُکتی نہیں، بلکہ پہاڑ کا سینہ چیر کے اپنا راستہ بنا لیتی ہے اور آگے بڑھ جاتی ہے۔ بس یہی حال زندگی کا ہے۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بالِ جبریل
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

علامہ صاحب نے اِس ابتدائی بند میں موسمِ بہار کی آمد کے حوالے سے جو خوبصورت امیجری پینٹ کی ہے وہ اردو زبان کی پوری نیچرل شاعری میں انتہائی انفرادیت کی حامل نظر آتی ہے۔


شعر 1

ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار
اِرم بن گیا دامنِ کوہسار

معانیالفاظ
خیمہ لگا کر رہنا، ڈیرے ڈالناخیمہ زن ہونا
بہار کا قافلہکاروانِ بہار
اِرم، ملک یمن کے قریب قدیم زمانہ میں ایک شہر تھا جس میں شداد بن عاد نے بہشتِ ارضی بنائی تھی۔ اس پر باغِ اِرم ادبیات میں بہت مشہور ہوگیا۔ کثرتِ استعمال کی وجہ سے صرف اِرم رہ گیا، جس کے معنی خوبصورت باغ کے ہوگئےاِرم
پہاڑ کی وادی، پہاڑ کا دامندامنِ کوہسار

تشریح:

موسمِ بہار کی آمد آمد ہے اور پہاڑ کا ماحول باغِ اِرم کا منظر پیش کرنے لگا ہے۔ جیسا کہ حلِ لغات میں درج کیا گیا ہے کہ اِرم، ملک یمن کے قریب قدیم زمانہ میں ایک شہر کا نام تھا جس میں شداد بن عاد نے بہشتِ ارضی بنائی تھی۔ اس پر باغِ اِرم ادبیات میں بہت مشہور ہوگیا۔ کثرتِ استعمال کی وجہ سے صرف اِرم رہ گیا، جس کے معنی خوبصورت باغ کے ہوگئے۔

شعر 2

گُل و نرگس و سَوسن و نسترن
شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن

معانیالفاظ
گلاب کا پھول، Roseگُل
ایک قسم کے پودے اور اس کے پھول کا نام جس میں صرف چھ پتیاں ہوتی ہیں جو پیالے اور آنکھ سے بہت مشابہہ ہوتا ہے، Narcissusنرگس
ایک قسم کا آسمانی رنگ کا پھول، سوسن کا پھول جس کی پنکھڑی کو شعرا زبان سے تشبیہ دیتے ہیں، Lilyسوسن
ایک قسم کا گلاب جس کے پھول بہت خوشبودار اور سفید ہوتے ہیں، Rosa caninaنسترن
لالہ کے سُرخ رنگ کی بنا پر اسے ازلی شہید کہا گیا ہے، Tulipشہیدِ ازل لالہ
سُرخ کفن والاخونیں کفن

تشریح:

موسمِ بہار کے باعث رنگ رنگ کے پھول، گلاب، نرگس، سوسن اور چنبیلی کھلنے لگے ہیں اور لالہ کا پھول، جو شہیدِ ازل ہے۔ وہ خونیں کفن پہنے ہوئے ہے۔ (لالہ کا رنگ سُرخ ہوتا ہے، اس لیے خونیں کفن کہا جاتا ہے)

شعر 3

جہاں چھُپ گیا پردۂ رنگ میں
لہُو کی ہے گردش رگِ سنگ میں

معانیالفاظ
رنگ کا پردہپردۂ رنگ
لہو دوڑنے لگا، خون دورہ کرنے لگالہُو کی ہے گردِش
پتھر کی نَسرگِ سنگ

تشریح:

موسمِ بہار کی بدولت ایسا لگ رہا ہے جیسے سارے جہان نے رنگوں کا لحاف اوڑھ لیا ہے۔ عمارات اور پہاڑوں کی چٹانوں (سنگ) پر بھی نظر ڈالیے، تو ان پر بھی پھولوں کے رنگ یوں جگمگا رہے ہیں، جیسے ان میں لگے ہوئے پتھروں کی رگ رگ میں لہو گردش کررہا ہو۔ (مراد یہ ہے کہ بہار کے پھولوں نے چار سُو رنگ و نور پھیلا رکھا ہے اور کائنات کی ہر شے میں حُسن و دلکشی کی لہریں اُٹھنے لگی ہیں)

شعر 4

فضا نِیلی نِیلی، ہوا میں سُرور
ٹھہَرتے نہیں آشیاں میں طیُور

معانیالفاظ
مستیسرُور
ٹھکانہ، گھونسلہآشیاں
طائر کی جمع، مراد ہے پرندےطیُور

تشریح:

موسمِ بہار کی بدولت فضا نیلی نیلی ہورہی ہے اور ہوا میں ایک عجیب دلکشی اور سرور کی کیفیت ہے۔ اس دِل کش فضا میں پرندے (طیور) بھی اپنے گھونسلوں (آشیانوں) میں رہنا پسند نہیں کررہے۔ وہ بھی اپنے اپنے گھونسلوں (آشیانوں) سے باہر نکل آئے ہیں اور موسمِ بہار سے لُطف اندوز ہورہے ہیں۔

شعر 5

وہ جُوئے کُہستاں اُچکتی ہوئی
اَٹکتی، لچکتی، سرکتی ہوئی

شعر 6

اُچھلتی، پھِسلتی، سنبھلتی ہوئی
بڑے پیچ کھا کر نِکلتی ہوئی

معانیالفاظ
پہاڑی ندیجُوئے کُہستاں
کُودنااُچکنا
اپنی جگہ سے ہٹناسِرکنا
بل کھاناپیچ کھانا

تشریح:

موسمِ بہار محض عام فضا ہر ہی اثر انداز نہیں ہورہا بلکہ پہاڑ اور دریا بھی اِس سے لُطف اندوز ہورہے ہیں چنانچہ پہاڑ کی ندی (جُوئے کوہِستاں) کا یہ عالم ہے کہ کبھی تو اُچکتی کودتی ہے، کبھی رکتی، بل کھاتی اور سرکتی ہوئی رواں دواں ہے، بہہ رہی ہے اور کبھی یہ اُچھلتی، پھسلتی، سنبھلتی اور تمام پُر پیچ راستوں سے بل کھاتے ہوئے گزرنے لگتی ہے۔

شعر 7

رُکے جب تو سِل چِیر دیتی ہے یہ
پہاڑوں کے دل چِیر دیتی ہے یہ

معنیلفظ
پتھر کو کاٹناسِل چیرنا

تشریح:

دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنی تیز روانی کے سبب جب اس ندی کی راہ میں کوئی پتھر آجائے تو اس کو بھی ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہے اور یوں پہاڑوں تک کو چیر دیتی ہے۔ گذشتہ تینوں شعر پہاڑی ندی کی روانی کی مختلف تصویریں پیش کررہے ہیں۔

شعر 8

ذرا دیکھ اے ساقی لالہ فام!
سُناتی ہے یہ زندگی کا پیام

معانیالفاظ
سُرخ رُخساروں والا / حسین ساقیساقیِ لالہ فام
پیغام، قول یا حکم جو دوسرے کے ذریعے سے پہن٘چایا جائے، زبانی بات جو کسی دوسرے سے کہلائی جائےپیام

تشریح:

اے لالہ کے حُسن والے ساقی! ذرا اس ندی کو دیکھ تو کہ یہ زندگی کا پیغام سنا رہی ہے۔ بیداری کا پیغام دے رہی ہے۔

شعر 9

پِلا دے مجھے وہ میء پردہ سوز
کہ آتی نہیں فصلِ گُل روز روز

معانیالفاظ
رُکاوٹ یا پردہ کو جلا دینے والی شراب، مراد ہے ایسی شراب جو رازوں سے پردہ اُٹھا دےمئے پردہ سوز
موسمِ بہارفصلِ گُل

تشریح:

اے ساقی! بہار کا موسم روز روز نہیں آتا، اس سے صحیح طور پر لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تیرے میرے درمیان جو پردے ہیں، وہ ختم ہوجائیں چنانچہ تُو مجھے وہ پردے جلادینے والی (یعنی تیرے اور میرے درمیان جو پردے حائل ہیں، انہیں ختم کردینے والی) شراب پلادے تاکہ تیرے اور میرے بیچ کوئی پردہ نہ رہے۔ یہاں ساقی سے مراد اللہ تعالی ہیں۔

شعر 10

وہ مے جس سے روشن ضمیرِ حیات
وہ مے جس سے ہے مستیِ کائنات

معانیالفاظ
زندگی کا باطن (دِل)ضمیرِ حیات
کائنات کی رونق، مست و مدہوش دنیامستیِ کائنات

تشریح:

تُو (ساقی) مجھے ایسی شراب عطا فرما جس سے زندگی کا ضمیر (دِل) روشن ہے اور جس کے سرور سے ساری کائنات وجد میں آجاتی ہے۔

شعر 11

وہ مے جس میں ہے سوزوسازِ ازل
وہ مے جس سے کھُلتا ہے رازِ ازل

معانیالفاظ
جوش و جذبۂ عشقسوز و ساز
دُنیا کی پیدائش اور اِبتدا کا بھید، کائنات کے راز و اسراررازِ ازل

تشریح:

وہی شراب جو آغازِ کائنات کے سوز و ساز سے عبارت ہے۔ یہی نہیں بلکہ عشقِ حقیقی کے حوالے سے آغازِ کائنات کے راز کھولنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔

شعر 12

اُٹھا ساقیا پردہ اس راز سے
لڑا دے ممولے کو شہباز سے اے

معانیالفاظ
ایک چھوٹی سے اور کمزور چڑیاممولا
شہباز، باز سے کچھ بڑا شکاری پرندہ، بڑا باز، سفید اور بڑا باز (شکاری پرندہ)، شاہینشہباز

تشریح:

ساقی! مجھے اپنے عشق کی شراب پلا کر اس کائنات کے رازوں سے باخبر فرمادے اور یوں ممولے کو شہباز سے لڑا دے۔ (یعنی جب تُو رازِ عشق سے پردہ اُٹھا دے گا تو مجھ جیسا کمزور و ناتواں شخص بھی اپنے انتہائی طاقتور حریف سے اس طرح نبرد آزما ہوسکے گا جس طرح ایک ننھی چڑیا عقاب کے مقابلے پت سر دھڑ کی بازی لگادیتی ہے)۔ عشقِ الہی سے انسان ضعیف البیان (ممولا) میں یہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ عناصرِ کائنات اور زمان و مکان (شہباز) کو مسخر کرسکتا ہے۔

بند نمبر 2

اِس بند میں حالاتِ حاضرہ اور مسلمانوں کی موجودہ حالت پر تبصرہ کِیا گیا ہے۔


شعر 13

زمانے کے انداز بدلے گئے
نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے

معانیالفاظ
طور، طریقہ، طرز، ڈھنگانداز
گانا، لےراگ
زمانے کے طور طریقے بدل جانازمانے کے ساز بدل جانا

تشریح:

کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ہر جگہ انقلاب کارفرما نظر آتا ہے۔ بنی آدم کی طرزِ حیات میں عظیم الشان تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔ نئی نئی تحریکیں پیدا ہورہی ہیں۔

نئے راگ سے عصرِ حاضر کی جدید سیاسی اور عمرانی تحریکات مراد ہیں۔ مثلاً:-

اشتمالیت (Communism): ایک ایسے معاشرے کا حامی نظریہ جس میں شخصی ملکیت کو ختم کرکے املاک کو قوم کی مشترکہ ملکیت بنایا جائے، قوم کے ہر فرد کو اپنی لیاقت کے مطابق کام کرنے اور ضرورت کے مطابق حصہ پانے کے استحقاق کا مسلک) ،

اشتراکیت (Socialism): اشتراکی نظام یہ ہے کہ کسی بھی سماج کے تمام باسیوں کو ریاست ان کے حقوق دے وہ حقوق یہ ہیں ریاست کے ہر باسی کو خوراک، پوشاک، رہائش، تعلیم، صحت کی سہولیات و انصاف وہ ریاست فراہم کرنے کی ذمے دار ہے اگر کوئی ریاست ایسا نہیں کرتی تو پھر اس ریاست کے حکمرانوں کو حق حکمرانی نہیں دیا جا سکتا۔ یہ فلسفہ یوں تو قدیم زمانے سے فلسفی بیان کر رہے تھے البتہ کارل مارکس 1818-1883ء نے اس فلسفے یعنی انسانی ضرورتوں کو زیادہ واضح و مکمل انداز میں پیش کیا ہے اور اس فلسفے کو مارکسزم کا نام دیا گیا ہے۔ (حوالہ: اِشتراکیت کیا ہے؟ از ایم اسلم، ایکسپریس نیوز)

نازیت (Nazism): ایک نسل پرست قومی تحریک جو جرمنی میں شروع ہوئی۔ اس تحریک کے مطابق ایک جرمن قوم باقی سب پر فضیلیت رکھتی ہے۔ جرمن حکمران ہٹلر کا اس تحریک میں اہم کردار تھا۔ (ویکی پیڈیا)

فسطائیت (Fascism): فسطائیت اطالیہ میں بینیتو مُسولینی (Benito Mussolini) کے ذریعہ منظّم کی گئی تحریک ہے۔ اس کی ابتدا 1919ء میں ہوئی۔ یہ ایک انتہا پسند قوم پرستی کے نظریے پر مبنی ہے۔ (ویکی پیڈیا)

شعر 14

ہُوا اس طرح فاش رازِ فرنگ
کہ حیرت میں ہے شیشہ بازِ فرنگ

معانیالفاظ
ظاہر ہوافاش ہونا
یورپ کا بھیدرازِ فرنگ
فرنگ کا دغا باز، فرنگ کا عیار، فرنگ کا مکّارشیشہ بازِ فرنگ

تشریح:

یورپ والوں کا راز کچھ اس طرح فاش ہوگیا ہے کہ انہیں خود ہی اپنی فریب کاری اور مکاری و یاری کے واضح ہوجانے پر حیرت ہورہی ہے۔ گویا ان کا نظامِ سرمایہ داری اور شہنشاہیت کا جادو بری طرح مِٹ گیا ہے۔

شعر 15

پُرانی سیاست گری خوار ہے
زمیں مِیر و سُلطاں سے بیزار ہے

معانیالفاظ
طرزِ حکومتسیاست گری
ذلیل و رُسوَاخوار
مراد دنیازمین
شاہی حکمران، ملوکیّتمِیر و سُلطاں
خفا، ناخوش، اُکتایا ہوابیزار

تشریح:

پرانے زمانے کے طور طریقے اور چالبازیاں ذلت و خواری سے دوچار ہیں، اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا والے سرداری و سلطانی (ایک شخص یا خاندان کی حکومت) سے سخت بیزار ہیں۔ یعنی اب دنیا کے باشندے ملوکیت (امپیرئیلزم) سے سخت تنگ آچُکے ہیں۔

شعر 16

گیا دَورِ سرمایہ داری گیا
تماشا دِکھا کر مداری گیا

معانیالفاظ
دولت مندوں کا زمانہ / عہددورِ سرمایہ داری
کرتب دکھانے والا، شعبدہ بازی کی چالاکیوں سے طرح طرح کا کھیل کرنے والامداری

تشریح:

آج سرمایہ داری کا دور ختم ہوچکا ہے۔ بس یوں سمجھو کہ یہ (دورِ سرمایہ داری) ایک مداری تھا، جو تماشا دکھا کر آگے نِکل گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایشیائی قومیں اپنی آزادی کے لیے جد و جہد کر رہی ہیں۔

شعر 17

گراں خواب چِینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے اُبلنے لگے

معانیالفاظ
غفلت کا شکار چینیگِراں خواب چینی
ہمالہ کی چوٹی کے اردگرد آباد اقوام کا بیدار ہوناہمالہ کے چشمے اُبلنا

تشریح:

وہ اہلِ چین، جو اپنی غفلت و کاہلی کے باعث غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور صدیوں سے ملوک پرستی کی لعنت میں گرفتار تھے، اپنی آزادی کے لیے میدان میں آچکے ہیں۔ دوسری طرف کوہِ ہمالیہ کے چشمے بھی اُبلنے لگے ہیں (یعنی ہندوستان کے باشندے بھی غلامی کی زنجیریں توڑ رہے ہیں)

شعر 18

دلِ طُورِ سینا و فاراں دو نِیم
تجلّی کا پھر منتظر ہے کلیم

معانیالفاظ
وہ پہاڑ جہاں حضرت موسیؑ نے اللہ تعالی کا جلوہ دیکھاطُورِ سینا
مکہ معظمہ کے نزدیک پہاڑفاراں
دو ٹُکڑےدو نیم
دیدارِ اِلہیتجلّی
انتظار کرنے والامنتظر
حضرت موسیٰؑ کا لقبکلیم

تشریح:

طُورِ سینا (جہاں حضرت موسیؑ اللہ تعالے سے ہم کلام ہوئے تھے) اور کوہِ فاراں (مکہ معظّمہ کی وہ پہاڑی جس سے اسلام کا سورج طلوع ہوا) دونوں کے دِل دو ٹکڑے ہوگئے ہیں، کلیم (حضرت موسیؑ کا لقب) پھر اللہ تعالی کے جلوہ کے انتظار میں ہیں۔ یعنی عرب قومیں بھی دوسروں کے ملکوں (فلسطین اور عراق، شام اور حجاز) پر غاصبانہ قبضے کی خباثت و طمع کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہیں اور مددِ الہی کی منتظر ہیں۔ ظالم انگریزوں نے شاید ہی کوئی ملک چھوڑا ہو، جس پر انہوں نے غاصبانہ قبضہ نہ کیا ہو۔ عرب قومیں اس ظلم کے خلاف لڑنے پر آمادہ ہوگئی ہیں۔

شعر 19

مسلماں ہے توحید میں گرم جوش
مگر دل ابھی تک ہے زُنّار پوش

معانیالفاظ
خدا کی وحدانیت کا یقین، خدا کے ایک ہونے کا عقیدہ، خدا کی یکتائی، اللہ تعالیٰ کا ایک ہونا، ایک ماننا، ایک جاننا، وحدانیت، یکتائی، خدا کے ایک ہونے پر یقین لاناتوحید
پُر جوشگرم جوش
لفظی معنی بُت پرستوں کی سی زنّار باندھنے والا۔ مراد ہے اپنی خواہشات کے بُتوں کی پرستش کرنے والا، غیر اللہ کی پرستش کرنے والا، نفسانی خواہشات کا غلامزنّار پوش

تشریح:

ایشیا کے حالات کا مجمل تذکرہ کرنے کے بعد اقبال مسلمانوں کی حالت بیان کرتے ہیں کہ اگرچہ دیکھنے میں توحید کا زبردست قائل اور اس کا زبانی کلامی اظہار بھی کرتا ہے، لیکن بد قسمتی سے اس کا دِل ابھی تک زنٗار پوش (جنیو ہندوؤں کا مقدّس دھاگا جو وہ گلے میں ڈالے رکھتے ہیں) ہے۔ یعنی آج کے مسلمانوں کے قول و کردار میں بڑ فرق ہے۔ عملًا اسلامی تعلیمات سے بہت دُور ہیں۔

شعر 20

تمدّن، تصوّف، شریعت، کلام
بُتانِ عَجم کے پُجاری تمام!

معانیالفاظ
رہن سہن کا انداز، سوسائٹی کے طور طریقےتمدّن
روحانیّت، باطن کی اصلاح کا عملتصوّف
دین، مذہبی عقائدِ اسلام کا اصولشریعت
علمِ کلام۔ عقائد کو فلسفیانہ اور علمی انداز سے ثابت کرنے کا علمکلام
عجمی بُت۔ مراد ہے غیر اسلامی طور طریقے، غیر اسلامی عقائدبُتانِ عجم

تشریح:

ان کے تمدن، تصوّف، شریعت، کلام غرضکہ ان کی اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں میں عجمی (غیر اسلامی) افکار کی آمیزش ہوگئی ہے۔

تمدّن: تمدّن کے لغوی معنی ہیں شہروں میں اجتماعی زندگی بسر کرنا۔ مراد ہے طرزِ معاشرت۔ اقبال کہتے ہیں کہ اجتماعی زندگی میں بہت سی غیر اسلامی رسوم داخل ہوگئی ہیں۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی شرح بالِ جبریل میں اِس نظم کی تشریح کے دوران فرماتے ہیں کہ چونکہ ہر مسلمان اس سے واقف ہے اس لیے شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری رائے میں تو پوری زندگی غیر اسلامی ہوچُکی ہے۔ 1921ء میں ایک نام نہاد ہندو نے مجھ سے کہا تھا کہ اجمیر کے عرس میں شریک ہونے کے بعد یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہوگئی کہ عقائد اور اعمال کے لحاظ سے ہندو اور مسلمانوں میں بہت زیادہ فرق نہیں۔ ہندو جو کام مندروں میں کرتا ہے، مسلمان وہی کام درگاہوں میں کرتا ہے۔ دونوں مُشرِک ہیں۔

تصوّف: تصوّف بمعنی اصلاحِ باطن یا تزکیۂ نفس۔ یہ اگرچہ بہت ضروری چیز ہے لیکن اس میں بعض ویدانتی (وید، ہندوؤں کی مقدس کتاب) خیالات شامل ہوگئے ہیں او ان کا نتیجہ بے عملی اور ترکِ دنیا کی شکل میں ظاہر ہوا ہے۔ جس نے مسلمانوں کے قوائے عملی کو مفلوج کردیا۔

شریعت: شریعت عقائد، عبادات اور معاملات کے مجموعہ کا نام ہے۔ اس میں بھی علمائے سُوء (علمائے سُوء سے مراد وہ علماء ہیں جو صرف لفظوں کا کھیل جانتے ہیں۔ پس جب ایک عالم گمراہ ہوتا ہے وہ اپنے ساتھ اکثریت کو گمراہ کرتا ہے، حوالہ: علمائے حق اور علمائے سُوء، تحریر: مفتی منیب الرحمن) نے بعض غیر اسلامی باتیں داخل کردیں مثلا اسلام میں ملوکیت (بادشاہت)، رہبانیت (ترکِ دنیا)، احباریت، رضائیت اور سرمایہ داری بلکہ جاگیر داری کا جواز۔

کلام: کلام سے وہ فن مراد ہے جس کی مدد سے سائنس اور فلسفہ کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت ثابت کی جاتی ہے۔ اس فن میں بھی رفتہ رفتہ بعض غیر قرآنی عقائد اور اکثر غیر اسلامی مسائل راہ پائے گئے ہیں اور مسلمانوں نے اپنی دماغی صلاحیتوں کو بلاوجہ اور بے سود ان مسائل پر ضائع کردیا۔ جیسے کہ جبر و قدر کا عقیدہ اور اس کے متعلق مسائل، خلق قرآن کا مسئلہ، ذات و صفات کا مسئلہ اور رویتِ باری تعالی کا مسئلہ وغیرہ وغیرہ۔

مسلمانوں کی زندگی کے یہی چار پہلو نمایاں ہیں اور افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ علمائے سُوء نے ان چاروں سرچشموں کو اپنی غفلت یا کوتاہ بینی کی بدولت کثیف اور مکدّر کردیا۔

شعر 21

حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ اُمّت روایات میں کھو گئی

معانیالفاظ
اصلیّت۔ مراد صحیح تمدّن، صحیح تصوّف اور صحیح شریعت وغیرہ۔حقیقت
فضول، لغویّات، بیہودہ باتیںخرافات
روایت کی جمع۔ سرگزشت، حکایت، قصہ، کہانیروایات

تشریح:

اِن باتوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ اسلام کی حقانیت اور صداقت خرافات کے پردوں میں چھپ گئی اور قوم— جاہل قوم— کشتہ مُلّا و پیر— قرآن و حدیث کے بجائے اسرائیلی اور غیر اسلامی روایات کی پیرو بن گئی۔ روایات سے احادیث مراد نہیں ہیں بلکہ اسرائیلیات یعنی وہ قصے اور کہانیاں مراد ہیں جو علماء کی سہل نگاری یا غفلت شعاری کی بنا پر کتب تفاسیر، سیرت و مغازی و اخلاق میں اور صوفیاء کی کمزوری کی بدولت تصوف کی کتابوں اور حلقہ ذکر میں راہ پاگئیں۔ وہ کہانیاں جن کی کوئی حقیقت یا تاریخی سند نہیں۔ وہ کہانیاں جو سراسر اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف ہیں۔

قرآن مجید صاف لفظوں میں حکم دیتا ہے:-

وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۚ

ترجمہ: اور جس چیز کا تجھے علم نہ ہو اُس کی پیروی مت کر۔
(سورہ بنی اسرائیل: آیت 36)

لیکن مسلمانوں کا طریقِ عمل اس آیت کے بالکل برعکس ہے۔ ان کے عقائد کا دار و مدار زیادہ تر انہی روایات پر ہے، جن کی کوئی سند نہیں ہے یعنی جن کی صحت (کسی روایت کی صحت سے مراد اس کا جھوٹا یا سچا ہونا ہے) کا انہیں علم نہیں ہے۔

شعر 22

لُبھاتا ہے دل کو کلامِ خطیب
مگر لذّتِ شوق سے بے نصیب!

معانیالفاظ
پسند کرنا، پسند آنالُبھانا
واعظ کا وعظکلامِ خطیب
عشق کا حقیقی جذبہلذّتِ شوق
محرومبے نصیب

تشریح:

مسلمانوں کے علماء کا یہ حال ہے کہ ان کی تقریریں تو بہت دِل پذیر ہوتی ہیں لیکن ان کے سینے عشقِ رسول ﷺ سے بالکل خالی ہیں۔

شعر 23

بیاں اس کا منطق سے سُلجھا ہُوا
لُغَت کے بکھیڑوں میں اُلجھا ہُوا

معانیالفاظ
تقریربیاں
فلسفیانہ باتیںمنطق
الفاظ کے اُلجھاؤ میںلُغَت کے بکھیڑے میں

تشریح:

واعظوں اور خطیبوں کی تقریریں، ان کے وعظ کچھ اس ڈھب کے ہوتے ہیں کہ وہ فلسفہ و منطق کے لحاظ سے سلجھے ہوئے ہوتے ہیں اور لغت کے چکر میں الجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ یعنی زور دار الفاظ اور ترکیبوں سے سامعین (سننے والے) کو مرعوب کرتے ہیں۔

شعر 24

وہ صُوفی کہ تھا خدمتِ حق میں مرد
محبّت میں یکتا، حمِیّت میں فرد

معانیالفاظ
مسلکِ تصوّف کا پیروصُوفی
حق و صداقت کی خدمتخدمتِ حق
دلیر، مرد، مردانہ وارمرد
لاجواب، بے نظیریکتا
خود داری، عزتِ نفس، غیرت، شرمحمیّت
بے مثالفرد

تشریح:

صوفیا کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہے۔ وہ صوفیا کہ جو کبھی حق و صداقت کی نشر و اشاعت یعنی اسے دور دور تک پھیلانے میں بڑی جد و جہد کیا کرتے تھے، جو محبت اور انسان دوستی میں بے مثل اور غیرت و حمیت میں یکتا تھے۔

شعر 25

عَجم کے خیالات میں کھو گیا
یہ سالک مقامات میں کھو گیا

معانیالفاظ
غیر عرب / غیر اسلامی خیالاتعجم کے خیالات
مراد صوفیسالک
مقام کی جمع۔ تصوّف کی مختلف منزلیںمقامات

تشریح:

آج وہی صوفیا زیادہ تر عجمی خیالات کی پیروی کرتے ہیں جن کو قرآنِ کریم اور حدیثِ نبوی سے کوئی علاقہ (تعلق، نسبت) نہیں۔

سالک اور مقامات تصوف کی مشہور اصطلاحیں ہیں۔ سالک کہتے ہیں طالب یا مرید یا جویائے حقیقت کو، جو خدا تک پہنچتا ہے۔مقامات وہ روحانی منازل ہیں جو اِس راہ (خدا تک پہنچنے کی راہ) میں پیش آتی ہیں۔ سالک مقامات میں کھو گیا یعنی منزل (اللہ تعالی) کو بھلا کر، راستے میں آنے والے مقامات (روحانی منازل) تک ہی محدود ہوگیا اور اصل مقصد کو بھلا بیٹھا۔

شعر 26

بُجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے
مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے

معنیلفظ
مُردہ روح والا، بے حِسراکھ کا ڈھیر

تشریح:

اِن غیر اسلامی عقائد و افکار کی بنا پر مسلمان قوم اسلام کی روح یعنی عشقِ رسول ﷺ سے بیگانہ ہوگئی اور وہ مسلمان نہیں بلکہ راکھ کا ڈھیر بن کے رہ گئے ہیں۔ اقبال نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو راکھ کے ڈھیر سے تشبیہ دی ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ کیونکہ دنیا میں ترقی اور سربلندی حاصل کرنے کے لیے کسی نہ کسی نصب العین کا ہونا لازمی ہے۔ آج کل مسلمانوں کے علاوہ دنیا میں جتنی قومیں ہیں، سب کی سب عشقِ وطن میں سرشار ہیں، سب کا ایک ہی نعرہ ہے۔

1۔ میرا وطن میری وفاداری کا مرکز ہے۔

2۔ میرا وطن اگر غلطی پر گامزن ہوگا تو بھی میں اس کا ساتھ دوں گا۔

3۔ میں اپنے وطن کے لیے جیوں گا اور اسی کے لیے مروں گا۔

اب صورتِ حال یہ ہے کہ مسلمان وطن پرستی تو نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی بنیادی تعلیم اس کے خلاف ہے۔ قرآن حکیم کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمان اللہ تعالی کے لیے جیتا اور اسی کے لیے مرتا ہے، تو وہ وطن کے لیے کس طرح جی اور مر سکتا ہے۔ اب رہی ترقی کی دوسری اور آخری صورت یعنی خدا پرستی، تو اس کے لیے مسلمان تیار نہیں ہے کیونکہ اس طریقِ حیات میں بلیک مارکیٹ، ذخیرہ اندوزی، اجارہ داری، سرمایہ داری، رشوت خوری اور اقربا نوازی کا کوئی امکان نہیں ہے اور مسلمان ان برکاتِ عالیہ سے دست بردار نہیں ہونا چاہتا تو دنیا میں اس کی سربلندی کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اِس لیے اقبالؔ نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ مسلماں نہیں، راکھ کا ڈھیر ہے۔

بند نمبر 3

اِس بند میں علامہ نے نوجوانانِ مِلت کے حق میں ساقی (اللہ تعالی) سے دعائیں کی ہیں۔


شعر 27

شرابِ کُہن پھر پِلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا!

معانیالفاظ
پرانی شرابشرابِ کُہن
پہلے والے پیالےوہی جام
مراد پیدا کرنا، دور چلاناگردِش میں لانا

تشریح:

اے ساقی (اللہ تعالی)! مجھے پھر وہی پرانی شراب پلا جو تُو نے ہم مسلمانوں کے اسلاف کو پلائی تھی۔ یعنی مجھے عشقِ رسول اکرم ﷺ کی محبت کا جام پلا تاکہ میں مستی میں کھو جاؤں۔

شعر 28

مجھے عشق کے پَر لگا کر اُڑا
مری خاک جُگنو بنا کر اُڑا

معنیلفظ
مٹیخاک

تشریح:

مجھے عشقِ حقیقی کے بال و پر عطا فرما تاکہ میں ان سے اس (عشق) کی بلند فضا میں پرواز کروں اور میری خاک میں ایسی کیفیت پیدا فرمادے کہ وہ جگنو کی طرح اُڑنے لگے۔ یعنی آتشِ عشق سے میری خاک کو جگنو کی سی پرواز عطا فرمادے۔

شعر 29

خِرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پِیروں کا استاد کر

معانیالفاظ
عقل، دانائیخِرد
بوڑھاپیر

تشریح:

عقل (خِرد) کو غلامی سے آزاد فرمادے یعنی آج کے مسلمانوں کی فکر غلامی کے چکر سے نکلے، اور مسلم نوجوانوں کو بوڑھوں (پیروں) کا استاد بنادے۔ آج کے نوجوان جذبہ عشق رسول اکرم ﷺ سے سرشار ہوجائیں اور شریعت کی صحیح طور پر پابندی کرکے بوڑھوں سے آگے نکل جائیں۔

شعر 30

ہری شاخِ مِلّت ترے نم سے ہے
نفَس اس بدن میں ترے دَم سے ہے

معانیالفاظ
سبزہری
مسلمان قوم کے درخت کی شاخشاخِ مِلّت
یعنی یہ نم اللہ کا دیا ہوا ہےترے نم سے ہے
سانسنفَس
جسمبدن
یعنی یہ سانس تُو (اللہ) ہے پھونک سکتا ہےترے دم سے ہے

تشریح:

ملتِ اسلامیہ کی شاخ تیرے ہی نم (نمی) سے تر و تازہ ہے اور اس بدن میں جو سانس ہے، تیرے ہی کرم سے ہے۔ گویا ملتِ اسلامیہ کا باغ تیرے ہی کرم سے سرسبز ہے اور ملت جو زندہ ہے، تو یہ بھی تیرے ہی فضل کے طفیل ہے۔

شعر 31

تڑپنے پھٹرکنے کی توفیق دے
دلِ مرتضیٰؓ، سوزِ صدّیقؓ دے

معانیالفاظ
ہمت، قدرت، استطاعتتوفیق
حضرت علی المرتضیؓ جیسا بے نیاز اور دِلیر دِلدلِ مرتضیٰؓ
حضرت ابوبکر صدیقؓ سا سچہ جذبۂ عشقسوزِ صدیقؓ

تشریح:

اے خدا! مجھے حضور اکرم ﷺ کے عشق کی تڑپ اور بے قراری پیدا فرما دے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ جیسا دِل (جو اس جذبہ سے سرشار تھا) اور حضرت ابو بکر صدیقؓ جیسا سوز و گداز عطا فرما دے تاکہ میرے اندر بھی سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا رنگ پیدا ہوسکے۔

شعر 32

جگر سے وہی تِیر پھر پار کر
تمنّا کو سِینوں میں بیدار کر

معانیالفاظ
آرزو، بلند نصب العین، اعلی و ارفع ارادہتمنّا
جگا دے، پیدا کر دےبیدار کر

تشریح:

(اپنے حق میں دعا کرنے کے بعد اقبال نے ملت کے نوجوانوں کے حق میں دعا کی ہے) اے مولائے کائنات! ، میرے کلام کے ذریعہ سے ان کے اندر بھی عشقِ رسول ﷺ کا جذبہ پیدا فرما دے اور منزل تک رسائی کی تمنا سب مسلمانوں کے دِل میں پیدا فرمادے۔

شعر 33

ترے آسمانوں کے تاروں کی خیر
زمینوں کے شب زندہ داروں کی خیر

معنیلفظ
راتوں کو اللہ تعالی کی عبادت میں جاگنے والاشب زندہ دار

تشریح:

یا الہی! تیرے آسمانوں کے ستارے ہمیشہ اسی طرح چمکتے رہیں اور دنیا میں وہ لوگ جو راتوں کی نیندیں قربان کرکے تیری بارگاہ میں سجدہ نیاز بجا لاتے ہیں، وہ بھی زندہ و سلامت رہیں۔

شعر 34

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے

معنیلفظ
دِل و جگر کا سوز و گداز، مراد عشقِ حقیقیسوزِ جگر

تشریح:

میں بدستِ دعا ہوں کہ مِلت کے نوجوانوں کو دِل و جگر کا سوز عطا فرما دے اور میری ہی طرح اُن میں عشقِ رسول اکرم ﷺ کا جذبہ پیدا فرما دے اور میری جیسی نظریں عطا فرما دے کہ جو حقیقت کے نور سے روشن ہیں۔

شعر 35

مری ناؤ گِرداب سے پار کر
یہ ثابت ہے تُو اس کو سیّار کر

معانیالفاظ
کشتی، بیڑاناؤ
پانی کا چکّر، بھنوَرگِرداب
ایک جگہ کھڑے رہنے والاثابت
چلنے پھرنے والا، گردِش کرنے والاسیّار

تشریح:

اس کے بعد قوم کے لیے دعا کرتے ہیں کہ میری قوم کی کشتی بھنوَر میں پھنس گئی ہے، اس کو صحیح و سلامت ساحلِ مقصود تک پہنچا دے۔ یہ ثابت (جس میں حرکت نہ ہو) ہے، اس میں حرکت پیدا کردے۔ (کشتی اشارہ ہے مِلت کی طرف، جو اپنی غفلت و بے عملی اور جد و جہد سے عاری ہونے کے باعث ذلت و پستی کا شکار ہے۔ اس کے لیے دعا کی ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے کی طرف آئے تاکہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت و بلندی پھر حاصل کر سکے)

شعر 36

بتا مجھ کو اسرارِ مرگ و حیات
کہ تیری نگاہوں میں ہے کائنات

معانیالفاظ
راز، بھیداسرار
موتمرگ
نظرنگاہ

تشریح:

مجھے زندگی اور موت کے بھیدوں سے باخبر فرما دے، اس لیے کہ تیری ذاتِ اقدس ہی ہے کہ جو تمام کائنات کے احوال سے باخبر ہے۔

شعر 37

مرے دیدۂ تَر کی بے خوابیاں
مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں

معانیالفاظ
رونے والی آنکھیں، آنکھوؤں سے تر آنکھیںدیدۂ تر
چھُپا ہواپوشیدہ
بے چینی، بے قراری، مضطرب رہنے کی کیفیتبے تابی

تشریح:

ملتِ مسلمہ جس مصیبت میں گرفتار ہے اور پستی و زوال کا شکار ہے۔ امت کی یہی حالت میرے دِل کو بے چین رکھتی ہے اور میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہی اذیت شب بھر مجھے بیدار رکھتی ہے۔ لیکن افسوس اس امر پر ہے کہ میری حالت سے کوئی بھی واقف نہیں!

شعر 38

مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوَت و انجمن کا گداز

معانیالفاظ
آدھی رات کے وقت نالہ و فغاںنالۂ نیم شب
تنہائی اور محفلخلوَت و انجمن
تپش، نرمی، سوز و گُدازگُداز

تشریح:

اسی کیفیت کے سبب میں تیری بارگاہ میں نصف شب کے وقت نالہ و فغاں میں مصروف رہتا ہوں۔ میں تنہائی میں رہوں یا کسی محفل میں۔۔ ہر لمحے میرا قلب اسی کرب کا شکار رہتا ہے اور ہر لمحے بے قراری مجھ پر مسلط رہتی ہے۔

شعر 39

اُمنگیں مری، آرزوئیں مری
اُمیدیں مری، جُستجوئیں مری

معانیالفاظ
خواہش، تمنا، آرزو، شوقاُمنگ
تمنا، ارمان، اشتیاق، شوق، امنگ، خواہشآرزو
چاہ، آس، آسرا، اِنتِظاراُمّید
تلاش کرنا، ڈھونڈھنے کا عمل، تحقیقات، دریافت، کھوئی ہوئی شے کی تلاش کرنا، کسی چیز کا شکار کرناجستجو

تشریح:

اے مولا! میری امنگیں اور آرزوئیں— یہ سب میری ذات تک ہے محدود نہیں ہیں بلکہ پوری ملت کے لیے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ میں اس کے لیے ہی بہتری کی امید اور جستجو کرتا رہتا ہوں۔

شعر 40

مری فطرت آئینۂ روزگار
غزالانِ افکار کا مرغزار

معانیالفاظ
طبیعت یا اقتضائے طبیعت جو پیدائشی ہو اور خارجی اثر سے پیدا نہ ہوا ہو، خمیر، سرِشتفطرت
زمانے کے حالات کا پتا دینے والیآئینۂ روزگار
غزال کی جمع، لفظی معنی ہرن۔ غزالاں افکار یعنی خیالات کے ہرنغزالانِ افکار
جانوروں کے چرنے کی جگہ، سبزہ زارمرغزار

تشریح:

میری فطرت و سرشت زمانے کا آئینہ ہے۔ میرا ذہن فکر و خیال کا سبزہ زار ہے۔ مطلب یہ کہ دنیا کی حقیقت سے باخبر ہوں اور میرے بلند و پاکیزہ خیالات سے میرا دماغ پُر ہے۔

شعر 41

مرا دل، مری رزم گاہِ حیات
گمانوں کے لشکر، یقیں کا ثبات

معانیالفاظ
زندگی کا میدانِ جنگ، زندگی کا معرکہرزم گاہِ حیات
شکوک و شبہات کی کثرت، خیالات کے لشکرگمانوں کا لشکر
یقین کی ثابت قدمی، پُختہ یقینیقیں کا ثبات

تشریح:

اے ربِ کریم! میرا دل تُو حیاتِ انسانی کے جملہ مسائل کی آماجگاہ ہے، جہاں ہر لمحے نیک و بد میں تصادم رہتا ہے اور ہر نوع کے یقین و گمان کا مرکز ہے۔

شعر 42

یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
اسی سے فقیری میں ہُوں مَیں امیر

معانیالفاظ
درویش کا سرمایہ، مُراد علامہ اقبال کی پُونجیمتاعِ فقیر
فقر کی دولتفقیری

تشریح:

میں تو ایک فقیر و درویش کی مانند ہوں لیکن تُو نے میری ذات میں جو خصوصیات پیدا کی ہیں اور جن کا تذکرہ میں گذشتہ چند اشعار میں کرچکا ہوں، اُنہی خصوصیات کے دم پر میں فقیری میں بھی امیری کا لطف اُٹھا رہا ہوں۔

شعر 43

مرے قافلے میں لُٹا دے اسے
لُٹا دے، ٹھِکانے لگا دے اسے!

معانیالفاظ
مُراد مِلّتِ اسلامیہ، میری قوممیرا قافلہ
تقسیم کر دےلُٹا دے
صحیح جگہ کام لاناٹھکانے لگانا

تشریح:

اِن اشعار میں جو اسرار و رموز بیان کیے گئے ہیں، تُو جانتا ہے کہ ملت کے لیے وہ کس قدر کار آمد ہیں۔ تجھ سے اتنی ہی استدعا ہے کہ یہ جذبے (وہی بے تابیاں، وہی آہ و زاریاں، وہی بے خوابیاں، وہی اختر شماریاں، وہی طرزِ نیاز، وہی کیفیتِ سوز و گداز، وہی آرزوئیں، وہی جستجوئیں) ملتِ مسلمہ کے سینوں میں بھی داخل کردے تاکہ میری قوم کے افراد میں عشق و محبت کا وہی رنگ پیدا ہوسکے جو میرے اندرد موجود ہے

بند نمبر 4

اِس بند میں اور آئندہ بند میں زندگی سے متعلق خیالات ظاہر کیے گئے ہیں۔


شعر 44

دما دم رواں ہے یمِ زندگی
ہر اک شے سے پیدا رمِ زندگی

معانیالفاظ
لگاتار، ہر دم، مسلسلدما دم
جاری، بہا جا رہا ہےرواں
زندگی کا دریا / سمندریمِِ زندگی
زندگی کی روانی / حرکت / باگ ڈوررمِ زندگی

تشریح:

زندگی کا دریا ہت دم لہریں لے رہا ہے، ہر شے سے زندگی کی تگ و دو اور آگے قدم بڑھانے کی جدوجہد ظاہر ہے۔ زندگی ہر وقت متحرک (حرکت میں) کیوں ہے؟ اس لیے کہ ہر شے میں ارتقائی عمل جاری ہے اور ارتقاء حرکت ہی کا دوسرا نام ہے۔ اللہ تعالی نے زندگی اور کائنات، دونوں کو ترقی پذیر بنایا ہے۔

؎ یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کُن فیکون

(بالِ جبریل)

زمانہ کی تعریف یہ ہے کہ وہ مقدارِ حرکت کا نام ہے اور زندگی ہر وقت متحرک ہے یعنی زمانہ اسی زندگی کی مقدارِ حرکت کا نام ہے اور اسی لیے زندگی اور زمانہ میں ایسا رابطہ پایا جاتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا ہوکر سمجھ میں نہیں آسکتے۔ اِسی لیے اقبالؔ نے کہا ہے کہ زندگی زمانہ ہے اور زمانہ زندگی ہے:۔

؏ زندگی از دہر و دہر زندگی است
(اسرارِ خودی: الوقت سیف)

شعر 45

اسی سے ہوئی ہے بدن کی نمود
کہ شُعلے میں پوشیدہ ہے موجِ دُود

معانیالفاظ
جسمبدن
ظاہر ہونا، عیاں ہونا، آشکارا ہونانمُود
دھویں کی لہرموجِ دُود

تشریح:

یہ بدن اس زندگی نے ہی تو پیدا کیا ہے اور یہ خود ہی مختلف اجسام میں اپنے آپ کو ظاہر کرتی ہے۔ لیکن یہ جسم میں موجود ہونے کے باوجود پوشیدہ رہتی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے دھوئیں کی لہر شعلے کے اندر چھپی ہوئی ہوتی ہے۔

شعر 46

گراں گرچہ ہے صُحبتِ آب و گِل
خوش آئی اسے محنت آب و گِل

معانیالفاظ
بہت مشکل، تکلیف دہگراں
دنیا کے عناصر و اجزاء کے ساتھ ہم نشینیصُحبتِ آب و گِل
پسند آناخوش آنا

تشریح:

حیوانی زندگی کا اظہار اس کے پانی اور مٹی (آب و گِل) میں گُندھ جانے سے معرضِ وجود میں آتا ہے۔ شروع میں یہ عمل زندگی کو بہت ناگوار گزرا لیکن بعد میں جب ایک دفعہ وہ (زندگی) پانی اور مٹی (آب و گِل) کے گارے میں گُندھ گئی۔ تو اُس کے بعد جدوجہد اور ارتقاء کا عمل اسے بہت کامیاب اور بامراد لگنے لگا۔ اس کے بعد زندگی کو اپنے پھلنے، پھولنے اور ترقی پانے کے لیے مٹی میں گندھنے کی ناگوار کیفیت بھی اچھی لگنے لگی اور پھر اس نے خود کو بہت ساری حیوانی صورتوں میں ظاہر کیا، جن میں سے ایک صورت انسان بھی ہے۔

شعر 47

یہ ثابت بھی ہے اور سیاّر بھی
عناصر کے پھندوں سے بیزار بھی

معانیالفاظ
اپنی جگہ یا حالت پر برقرار، باقی، قائم؛ مستقل، مستحکمثابت
مسافر، سفر میں رہنے والا، مسلسل حرکت میں رہنے والاسیّار
عناصرِ اربعہ یعنی آگ، پانی، ہوا، مٹی میں سے ہر ایکعناصر
جالپھندہ
اُکتایا ہوا، خفا، ناخوشبیزار

تشریح:

زندگی کی خاصیت یہ ہے کہ وہ عناصر میں گرفتار بھی ہے اور ان سے بیزار بھی ہے۔ یہ زندگی جمادات میں رُکی اور ٹھہری ہوئی نظر آتی ہے اور نباتات و حیوانات میں متحرک ہوتی ہے لیکن یہ عناصر (آگ، پانی، ہوا، مٹی) کے روپ میں حملہ آور ہونے والی بیماریوں، بوسیدگیوں اور موت کے پھندوں سے ناخوش اور خفا بھی نظر آتی ہے

اقبالؔ نے زندگی کو ثابت اور سیّار دونوں قرار دیا ہے۔ چنانچہ زبورِ عجم میں کہتے ہیں:-

؎ من اورا ثابتِ ثیّار دیدم
من اورا نود دیدم نار دیدم

ترجمہ: میں نے اُسے (زندگی کو) جامد (ثابت) بھی دیکھا ہے اور متحرک (سیّار) بھی، مجھے اس (زندگی) میں نور بھی نظر آیا اور نار بھی۔ زندگی متضاد خصوصیات کی حامل ہے۔ وہ ثابت ہے یعنی مشخّص ہے اور سیّار ہے یعنی اس میں ارتقائی حرکت پائی جاتی ہے۔
(زبورِ عجم: گلشن رازِ جدید)

شعر 48

یہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسِیر
مگر ہر کہیں بے چگُوں، بے نظیر

معانیالفاظ
ایک ہونا، یکتائیوحدت
زیادتی، بہتات، ہجومکثرت
قید، گرفتاراسیر
بے مثال، دوسروں سے مختلفبے چگُوں
بے مثال، بے بدل، لاثانی، لا جواببے نظیر

تشریح:

حقیقت کے اعتبار سے زندگی ایک ہی ہے مگر اس نے دنیا کی ہر جگہ میں نمایاں اور ظاہر ہونے کے لیے خود کو کثرت میں تقسیم کرلیا اور پھر یہ زندگی بے مثال حیثیت میں خوب سے خوب تر بنتے بنتے بے شمار جسموں اور شکلوں میں ظہور پذیر ہوگئی ، جس کا نقطہ عروج آدم (انسان) ہے۔ زندگی کا ہر نظّارہ دوسرے سے وضع قطع میں جداگانہ ہوتا ہے اور ایک کی مثال کسی دوسردوسرے میں نظر نہیں آتی۔

شعر 49

یہ عالَم، یہ بُت خانۂ شش جہات
اسی نے تراشا ہے یہ سومنات

معانیالفاظ
دُنیا، جہانعالم
چھ اطراف۔ دائیں بائیں، آگے پیچھے، اوپر نیچےبُت خانۂ شش جہات
کاٹھیاواڑ کا مشہور بُت خانہ، مُراد بُت خانہ، دُنیاسومنات

تشریح:

یہ کائنات جسے بت خانہ شش جہات (چھ سمتوں والا بت خانہ) تعبیر کر سکتے ہیں، حیات کی ہی وجہ سے وجود میں آئی ہے۔ زندگی نے اپنی خود نمائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اس سومناتی کائنات کو ایجاد کیا ہے۔

عالم کو ”سومنات“ اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ انسان کی نگاہ عمومًا مظاہرِ کائنات ہی میں الجھ کر رہ جاتی ہے اور پھر وہ ان مظاہر سے آگے نہیں دیکھ پاتا اور اپنے خالقِ حقیقی تک نہیں پہنچ سکتا۔ مختصر یہ کہ انسان مظاہرِ کائنات ہی میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ جس طرح اقبال فرماتے ہیں:-

؎ نگہ اُلجھ گئی ہے رنگ و بُو میں
خِرد کھو گئی ہے چار سُو میں

(بالِ جبریل)

نوٹ: سومنات دراصل اس بت کا نام تھا جو کاٹھیاوار کے ایک مشہور تیرتھ موسومہ پٹن کے مندر میں نصب تھا، یہ مندر سمندر کے کنارے بنا ہوا تھا۔

شعر 50

پسند اس کو تکرار کی خُو نہیں
کہ تُو مَیں نہیں، اور مَیں تُو نہیں

معانیالفاظ
بار بار دہراناتکرار
عادتخُو

تشریح:

عناصر کی بیماری، بوسیدگی اور موت کے پیشِ نظر زندگی کو ایک ہی جسم میں دوبارہ نمودار ہونا پسند نہیں ہے۔ اسی لیے یہ ہر بار سنورنے کے لیے ایک جسم کو چھوڑ جاتی ہے اور نئے جسم میں ظاہر ہوتی ہے۔

زندگی تکرار کو پسند نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ کوئی فرد دوسرے سے مماثل نہیں، ہر شخص اپنے آپ کو دوسرے سے جدا اور معائر الوجود یقین کرتا ہے۔ یہ بات سائنس سے بھی ثابت ہوچکی ہے کہ ہر انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ ہمارے ہاتھوں کی لکیروں سے لے کر ہمارے ڈی-این-اے تک، ہم سب ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں۔ قصۂ مختصر یہ کہ تُو میں نہیں، اور میں تُو نہیں۔

شعر 51

من و تُو سے ہے انجمن آفریں
مگر عینِ محفل میں خلوَت نشیں

معانیالفاظ
میں اور تُومن و تُو
مختلف آدمیوں کا ایک اجتماع (بزم) بنانے والیانجمن آفریں
بزم کے اندرعینِ محفل میں
تنہائی میں رہنے والیخلوَت نشیں

تشریح:

زندگی مختلف افراد کو اکٹھا کرکے بزم (محفل) سجالیتی ہے، لیکن خود بزم ہی کے اندر تنہائی میں پوشیدہ ہے، یعنی ظاہر کی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔

شعر 52

چمک اس کی بجلی میں، تارے میں ہے
یہ چاندی میں، سونے میں، پارے میں ہے

معانیالفاظ
مراد جوہر، اعلی صلاحیتیںچمک
ایک پرانی دھات کا نام، پارا، سیمابپارہ

تشریح:

اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو زندگی عالمی سطح پر بے شمار اشیاء میں مختلف رنگ ڈھنگ سے نظر آتی ہے۔ کبھی بجلی میں اور کبھی ستاروں کی چمک میں موجود ہوتی ہے اور کبھی چاندی، سونے اور پارے میں اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ غرض یہ کہ اپنے طور پر مختلف اشکال میں موجود ہوتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کو گہری نظر سے دیکھا جائے۔

شعر 53

اسی کے بیاباں، اسی کے بَبُول
اسی کے ہیں کانٹے، اسی کے ہیں پھُول

معانیالفاظ
دشت، جنگل، صحرا، ریگستانبیاباں
کیکر کا درختبَبُول

تشریح:

یہ بیاباں، جنگل و صحرا اور یہ کیکر کے درخت (یعنی ہر طرح کے درخت) اور یہ کانٹے اور پھول۔۔۔ ان سب کا وجود زندگی ہی کی بدولت ہے۔

شعر 54

کہیں اس کی طاقت سے کُہسار چُور
کہیں اس کے پھندے میں جبریل و حور

معانیالفاظ
پہاڑکُہسار
ریزہ ریزہ، ٹُکڑے ٹُکڑےچُور
جال، پھانسا، قیدپھندہ

تشریح:

کہیں زندگی بے پناہ قوّت و استحکام سے پہاڑوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی ہے، کہیں حضرت جبرئیل علیہ السلام اور حوروں کو پھانس لیتی ہے، یعنی انسان کو روحانی قوّت کا جوہر عطا کرکے اسے فرشتوں کے جہان اور جنّت کی سیر کرادیتی ہے۔

شعر 55

کہیں جُرّہ شاہینِ سیماب رنگ
لہُو سے چکوروں کے آلُودہ چنگ

معانیالفاظ
نر شہباز، نز شاہین جس کا رنگ پارے جیسا ہوتا ہےجُرّۂ شاہیں
سفید رنگ کاسیماب رنگ
یونانی الاصل ایک خوشنما پرندہ جس کی چون٘چ اور پنجے سرخ اوپر کا حصہ سیاہ اس پر سفید چتیاں اور گلے میں قدرتی طوق پیٹ کا رن٘گ سفیدی مائل ہوتا ہے (مشہور ہے کہ یہ چان٘د کا عاشق ہے اور آگ کی چن٘گاریاں چان٘د کی کرنیں سمجھ کر کھا جاتا ہے)چکور
لہو سے بھر لیناآلُودہ چنگ

تشریح:

کہیں زندگی اس رنگ میں جلوہ گر ہوتی ہے کہ حیرت انگیز قوّت و طاقت رکھنے والا شہباز چکوروں پر جھپٹ کر اُن کے لہو سے اپنے پنجے بھر لیتا ہے۔ (استعارہ ہے طاقتور کا کمزوروں پر حملہ کرنے کا۔ یہ ایک انسان سے بھی متعلق ہو سکتا ہے جو کمزوروں کو اپنا نشانہ بناتا ہے اور کسی طاقت ور ملک سے بھی، جو قوت کے بل پر کمزور ملک یا ملکوں پر قبضہ کرلیتا ہے)

شعر 56

کبوتر کہیں آشیانے سے دُور
پھَڑکتا ہُوا جال میں ناصبُور

معانیالفاظ
رہنے کی جگہ، گھر، بسیراآشیانہ
آرزو مند ہونا، حرکت کرنا، جُنبش کرنا، تڑپناپھڑکنا
بے قرار، بے صبر، بے چیننا صبُور

تشریح:

کہیں زندگی کی صورت یہ نظر آتی ہے کہ کوئی کبوتر اپنے گھر سے دور شکاری کے جال میں گرفتار ہو کر بڑی بے قراری سے تڑپتا ہے۔ (یعنی زندگی اپنی ذہانت سے حریفوں کو دام میں گرفتار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ غرض زندگی ہی وہ قوت ہے جو ہر شے پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی اہل ہوتی ہے)

بند نمبر 5

شعر 57

فریبِ نظر ہے سکُون و ثبات
تڑپتا ہے ہر ذرّۂ کائنات

معانیالفاظ
نظروں کا دھوکافریبِ نظر
ٹھہراؤ اور قیامسکُونِ و ثبات

تشریح:

ٹھہرنا اور ایک جگہ قائم رکھنا (سکوت و ثبات) نگاہ کا دھوکا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کائنات کا ذرّہ ذرّہ تڑپ رہا ہے۔

مراد یہ ہے کہ کائنات میں کوئی بھی شے ٹھہری ہوئی نہیں، بلکہ ہر شے حرکت کررہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ظاہر کی آنکھ اس حرکت کو نہ دیکھ سکے۔

شعر 58

ٹھہَرتا نہیں کاروانِ وجود
کہ ہر لحظہ ہے تازہ شانِ وجود

معانیالفاظ
وجود کا قافلہکاروانِ وجود
ہر پل، ہر لمحہہر لحظہ
وجود کی شانشانِ وجود

تشریح:

وجود کے قافلے کو کسی ایک جگہ قرار نہیں۔ وجود کی شان ہر دم تازہ رہتی ہے۔مطلب یہ کہ وجود ہر وقت نئے نئے رنگ بدلتا ہے اور گوناگوں جلوے دکھاتا رہتا ہے۔

شعر 59

سمجھتا ہے تُو راز ہے زندگی
فقط ذوقِ پرواز ہے زندگی

معانیالفاظ
صرففقط
اُڑان کی لذّتذوقِ پرواز

تشریح:

جو لوگ حقیقت سے آشنا نہیں ہیں وہ زندگی کو ایک راز سمجھتے ہیں اور یہ درست ہے کہ وہ اپنی اصل کے اعتبار سے راز ہی ہے لیکن اربابِ نظر یہ جانتے ہیں کہ زندگی ذوقِ پرواز (اُڑان کی لذت) کا دوسرا نام ہے یعنی زندگی کی غایت یہ ہے کہ وہ ہر وقت ارتقائی منازل طے کرتی رہتی ہے اور دم بہ دم ترقی کی بلندیوں پر چڑھتی جاتی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں:-

؎ تُو اِسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں، پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی

(بانگِ درا: خضرِ راہ)

؎ زندگی جز لذتِ پرواز نیست
آشیاں با فطرت اوساز نیست

ترجمہ: زندگی لذتِ پرواز کے علاوہ اور کچھ نہیں، آشیانہ اس کی فطرت کو راس نہیں آتا۔
(جاوید نامہ: آن سوی افلاک: خطاب بہ جاوید سخنی بہ نژاد نو)

شعر 60

بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند
سفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند

معنیلفظ
نشیب و فراز، اُونچ نینچپست و بلند

تشریح:

زندگی بہت سی پستیوں اور بلندیوں میں سے ہو کر گزری ہے۔ یہ منزل میں ٹھہر کر آرام کرنے کی نسبت سفر کو زیادہ پسند کرتی ہے یعنی پہلے پہل بہت ادنی مقام پر تھی، لیکن آہستہ آہستہ آگے قدم بڑھا کر موجودہ درجے پر پہنچ گئی۔ سفر اور گردش زندگی کی جان ہے۔ یہ چاہتی ہے کہ کسی پڑاؤ پر رک کر آرام نہ لے، بلکہ لگاتار چلتی جائے۔ اس لگاتار چلتے جانے پر ہی زندگی کا وجود اور بقا موقوف ہے۔

اگر ہم کسی موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ زندگی ساکن یا قائم ہے، تو یہ الفاظ حقیقت کی بجائے مجاز پر دلالت کرتے ہیں۔

جیسے ہم مجازی طور پر کسی بہادر آدمی کو شیر کہہ دیتے ہیں، اسی طرح کبھی کبھی زندگی کو بھی مجازًا ساکن کہہ دیتے ہیں، جو حقیقت کے خلاف ہے۔

شعر 61

سفر زندگی کے لیے برگ و ساز
سفر ہے حقیقت، حضَر ہے مجاز

معانیالفاظ
ساز و سامان، اثاثہبرگ و ساز
ایک جگہ پر مقیم رہنا، قیام، ایک جگہ رُکے رہناحضر
بے حقیقیت، غیر حقیقی، عارضی پڑاؤمجاز

تشریح:

مسافرت، سیاحت اور نصب العین کی طلب کا شوق ہی وہ مضراب ہے کہ جس سے زندگی کے ساز میں خوشی اور امن کے نغمے بکھرتے ہیں، جبکہ پڑاؤ اور ٹھہراؤ ترکِ طلب ہے، جو محض ایک دھوکا ہے اور موت ہے۔ جو فرد یا قوم اپنی اصلاح یا بہتری کا سفر روک دے وہ زندہ لاش ہے، جو دوسروں کے رحم و کرم پر پڑا رہے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔

شعر 62

اُلجھ کر سلجھنے میں لذّت اسے
تڑپنے پھٹرکنے میں راحت اسے

معانیالفاظ
مُراد رکاوٹوں سے ٹکرا کر آگے بڑھنااُلجھ کر سُلجھنا
بے قراری یعنی ہر وقت حرکت میں رہنا، کشمکش، ہنگامہ آرائیتڑپنا پھڑکنا
آرام، قرار، استراحت، آسائش، آسودگی، سُکھراحت

تشریح:

زندگی کو اسی میں لطف آتا ہے کہ چاروں طرف سے آفتوں اور مصیبتوں میں گھِر کر ان پر فتح پائے۔ اسے یہی امر آرام اور سکون بخشتا ہے کہ تڑپے، پھڑکے، لڑے بھڑے، کشمکش، آویزش اور ہنگامہ خیزی میں مصروف رہے۔ زندگی اسی صورت ترقی کرسکتی ہے کہ راستے میں پیش آنے والی تمام رکاوٹوں اور مشکلوں کا بہادرانہ مقابلہ کرکے ان پر غلبہ حاصل کرے۔ اگر وہ اپنے ماحول سے جنگ نہ کرتی، اگر وہ غیر مناسب حالات سے متصادم نہ ہوتی، اگر وہ مشکلات کا مقابلہ نہ کرتی تو ابھی تک حشرات الارض ہی کی شکل میں ہوتی، حضرتِ انساں میں اس کا جلوہ نظر نہ آتا۔

اسی طرح با ہمت افراد اور اقوام کا مشکلات میں آزمائش کا مقابلہ کرکے جیت جانا زندگی کو اچھا لگتا ہے اور یہ ایسے کامیاب لوگوں کو ہی دنیا میں قیادت کی بھاگ دوڑ سونپتی ہے جو بڑی خواہش، اونچی تمنا اور اعلی نصب العین رکھتے ہیں۔

؎ جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

(بالِ جبریل: شاہین)

شعر 63

ہُوا جب اسے سامنا موت کا
کٹھن تھا بڑا تھامنا موت کا

معانیالفاظ
آمنا سامنا، بالمقابل، رُوبرُوسامنا
دُشوار، مشکل، سختکٹھِن

تشریح:

کائنات میں زندگی کی سب سے بڑی دشمن یا مخالف موت یا فنا تھی لیکن وہ (زندگی) اپنی مخفی قوتوں کی بدولت موت پر غالب آگئی۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ جب زندگی پہلی مرتبہ ظاہر ہوئی تو پروٹوپلزم کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ اس ابتدائی یا اولین جوہرِ حیات میں نہ حواسِ خمسہ ہیں، نہ شعور ہے، نہ ادراک ہے، نہ نظامِ عصبی ہیں، نہ استخواں ہیں، نہ دوسرے اعضاء ہیں۔ اگر زندگی کے اندر طاقتِ مخفی (پوشیدہ طاقت) نہ ہوتی تو وہ اپنے مخالفوں (مخالفوں سے ناموافق حالاتِ سردی و گرمی، امراض، سیلاب اور درندے وغیرہ ہیں) پر غالب نہیں آسکتی تھی۔

شعر 64

اُتر کر جہانِ مکافات میں
رہی زندگی موت کی گھات میں

معانیالفاظ
جزا اور سزا کی دُنیا، اچھے یا بُرے اعمال کا بدلہجہانِ مکافات
موت کی تلاشموت کی گھات

تشریح:

موت بظاہر تو جسم کو مار کر چلی جاتی ہے لیکن اجل کے بعد زندگی انتقام لینے کے لیے اس جسم سے نکل کر موت کا پیچھا شروع کردیتی ہے اور بالآخر یہ موت کو شکار کرکے ایک نئی صورت میں کسی نئے جسم میں ظاہر ہوجاتی ہے یعنی موت زندگی کو اتنا شکار نہیں کر پاتی جتنا زندگی موت کو شکار کرتی ہے۔زندگی نے اپنی گوناگوں، حیرت انگیز اور مسخّر کرنے والی قوتوں کے ہتھیاروں سے موت پر فتح پا لی۔

شعر 65

مذاقِ دوئی سے بنی زوج زوج
اُٹھی دشت و کہسار سے فوج فوج

معانیالفاظ
دو ہونے کا ذوقمذاقِ دُوئی
جوڑا جوڑا، مُراد نر اور مادہزوج زوج
جنگل و صحرا اور پہاڑدشت و کہسار

تشریح:

خدا نے پر چیز کا جوڑا پیدا فرمایا تھا، اس لیے زندگی نر اور مادہ کے ملنے سے جوڑا جوڑا بن گئی۔ آخر وہ جنگلوں اور پہاڑوں سے بے شمار فوجوں کی شکل میں ظاہر ہوگئی۔

شعر 66

گُل اس شاخ سے ٹُوٹتے بھی رہے
اسی شاخ سے پھُوٹتے بھی رہے

معانیالفاظ
پھولگُل
ظاہر ہونا، نمایاں ہونا، نمودار ہونا، جھلکنا، پھیلناپھُوٹنا

تشریح:

زندگی کو اگر کسی پودے کی شاخ تصور کر لیا جائے تو ایک جانب تو پھول اسی شاخ سے ٹوٹتے رہے، دوسری طرف اسی شاخ سے پھولوں کی نمود ہوئی۔ مراد یہ ہے کہ زندگی کا دوہرا عمل یہ ہے کہ ایک ہاتھ سے دیتی ہے تو دوسرے ہاتھ سے لیتی ہے۔ (یوں لگتا ہے کہ اس شعر میں اقبال نے مسئلہ آواگون اشارتًا ذکر کیا ہے، اسرار زیدی)

شعر 67

سمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثبات
اُبھرتا ہے مِٹ مِٹ کے نقشِ حیات

معانیالفاظ
کم عقل، نا فہمناداں
فانی، ناپائیداربے ثبات
سطح پر آنا، سر نکالنا، وجود میں آنا، اترانااُبھرنا
زندگی کا نقش / نشاننقشِ حیات

تشریح:

جو لوگ علم الحیات سے ناواقف ہیں، وہ اسے بے ثبات (ناپائیدار اور فانی) تصور کرتے ہیں، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ اگر زندگی کی ادنی صورت مِٹ جاتی ہے تو اس سے اعلی صورت نمودار ہوجاتی ہے۔

شعر 68

بڑی تیز جولاں، بڑی زود رس
اَزل سے اَبد تک رمِ یک نفَس

معانیالفاظ
تیز چلنے والی، تیز رفتارتیز جولاں
جلد پہنچنے والی (منزل تک)زُود رس
ایک سانسیک نفس

تشریح:

جان لے! زندگی اس قدر تیز رفتار ہے کہ آن کی آن میں منزل تک رسائی حاصل کرلیتی ہے۔ یہ تو ایسی حقیقت ہے جو آغاز سے سانس کی آمد و شد کے حوالے سے اپنے وجود کا ثبوت پیش کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی ہمیشہ قائم و دائم رہے گی۔ موقت قطعی طور پر اس کی ہم پلہ نہیں ہوسکتی۔

شعر 69

زمانہ کہ زنجیرِ ایّام ہے
دَموں کے اُلٹ پھیر کا نام ہے

معانیالفاظ
دِنوں کی زنجیرزنجیرِ ایّام
سانسدم

تشریح:

زمانہ ایک طرح سے دنوں کی زنجیر ہے(یعنی یہ دنوں، مہینوں، سالوں کے باہمی تسلسل کا دوسرا نام ہے، اسی تسلسل کی وجہ سے زمانہ کو زنجیر کہا گیا ہے)، یہ زمانہ سانسوں کے آنے جانے اور گردش کا نام ہے۔ گویا زمانہ زندگی کے مسلسل حرکت میں رہنے ہی کی ایک صورت ہے۔

؎ زندگی از دہر و دہر از زندگی است
”لا تسبو الدھر“ فرمانِ نبی است

ترجمہ: زندگی زماں ہے اور زماں زندگی سے ہے، حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ زمانے کو برا نہ کہو۔
(اسرارِ خودی: الوقت سیف)

بند نمبر 6

اِس بند میں اقبالؔ نے خودی کی حقیقت بیان کی ہے، کہتے ہیں کہ انسانی خودی زندگی کی سب سے اعلی صورت ہے، اِس بات کو انہوں نے بڑی عمدہ مثال سے سمجھایا ہے۔


شعر 70

یہ موجِ نفَس کیا ہے تلوار ہے
خودی کیا ہے، تلوار کی دھار ہے

معنیلفظ
سانس کی لہرموجِ نفس

تشریح:

زندگی (موجِ نفس، سانس کی لہر) کو اگر تلوار فرض کیا جائے تو خودی اس تلوار کی دھار ہے اور جس طرح دھار کے بغیر تلوار بیکار ہے، اسی طرح خودی نہ ہو تو زندگی بے معنی ہے۔ غرض خودی زندگی کے قالب میں روح کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو شخص خودی کو درجہ کمال تک پہنچا لے، وہی انسانیت کی معراج حاصل کرسکتا ہے۔

شعر 71

خودی کیا ہے، رازِ درُونِ حیات
خودی کیا ہے، بیداریِ کائنات

معانیالفاظ
زندگی کا چھُپا ہوا بھید (اندر کا بھید)رازِ درُونِ حیات
کائنات کی بیداری اور مستوری، دُنیا کا جاگنا اور ہوشیار رہنابیداریِ کائنات

تشریح:

خودی کیا ہے؟ زندگی کا چھپا ہوا راز!

مطلب یہ کہ زندگی کا راز خودی میں پوشیدہ ہے۔ خودی ترقی کرے تو زندگی بھی ساتھ ہی ترقی کے درجے طے کرتی جاتی ہے۔ اگر کائنات کو انسان فرض کیا جائے تو خودی کو اس کے شعور سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ انسان میں اگر شعور نہ ہو تو اس کا وجود اور عدم دونوں برابر ہیں۔ اسی طرح اگر کائنات میں خودی کا وجود نہ ہو تو ساری کائنات بے مقصد ہو کر رہ جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب خودی کے لیے ہے یعنی خودی اشرف المخلوقات ہے۔

شعر 72

خودی جلوہ بدمست و خلوَت پسند
سمندر ہے اک بُوند پانی میں بند

معانیالفاظ
تجلّیِ خداوندی میں محو، جلوَت پسند، جلوَہ دیکھ کر فریفتہ ہو جانے والیجلوَہ بدمست
تنہائی کو پسند کرنے والیخلوَت پسند

تشریح:

خودی کو ذاتِ باری تعالی کا وجدانی طور پر یقین حاصل ہے اور اس یقین کی بدولت اس میں یہ خواہش موجزن ہے کہ وہ اس ذاتِ غیر محدود (اللہ تعالی) کو اپنے اندر جذب کرلے، اسی لیے اس (خودی) میں مستی کا رنگ پایا جاتا ہے۔

چونکہ اس مقصدِ عظمی کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے جسے اصطلاح میں مراقبہ (گیان، دھیان) کہتے ہیں اور اس کے لیے تنہائی لازمی ہے۔ اس لیے خودی قدرتی طور پر خلوت پسند (تنہائی) پسند ہے۔ خودی مادی دنیا کی تسخیر کے لیے جلوت میں نمودار ہوتی ہےاور روحانی دنیا میں اونچا درجہ حاصل کرنے کرنے کے لیے خلوت (تنہائی) میں جا بیٹھتی ہے۔

عالمِ ناسوت (جہانِ فانی) کی تسخیر کے لیے انجمن (جلوت) بہت مفید ہے لیکن عالمِ لاہوت میں مقام حاصل کرنے کے لیے جلوت کی بجائے خلوت درکار ہے کیونکہ خودی مظاہرِ کائنات سے قطع تعلق کرکے اپنی توجہ صرف اپنی ذات پر محدود کرتی ہے اور یہ بات جلوت (انجمن) میں ممکن ہی نہیں۔ عالمِ لاہوت کی سیر میں خودی (سالک) اگر اپنے سوا غیر کو بھی دیکھے تو وہاں پہنچ نہیں سکتی۔ جلوت اور خلوت دونوں صورتوں میں خودی اپنا کمال دکھاتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ خودی کی شکل میں سمندر ہے جو محض ایک قطرہ میں بند ہے۔ گویا خودی کی جلوت اس مادی دنیا کی تسخیر کی خاطر ہے اور خلوت روحانی دنیا میں بلند مقام کے حصول کے لیے

؏ ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئی
(بانگِ درا)

یعنی اپنے آپ کو دیکھنا چاہتے ہو تو غیر کو مت دیکھو۔

شعر 73

اندھیرے اُجالے میں ہے تابناک
من و تُو میں پیدا، من و تُو سے پاک

معانیالفاظ
روشن، چمکدراتابناک
میں اور تُومن و تُو

تشریح:

خودی چونکہ بذاتِ خود ایک نقطہ نوری ہے اس لیے اس کی نظر میں تاریکی اور روشنی دونوں برابر ہیں۔ یعنی خودی اگر مرتبہ کمال کو پہنچ جائے تو تاریکی میں بھی دیکھ سکتی ہے۔ غیر مادی اس کے حق میں پردہ یا حجاب نہیں بن سکتے۔ اِس بات سے اشارہ ہے ارشادِ نبوی ﷺ کی طرف اور سالک کو یہ مقام اتباعِ رسول ﷺ ہی سے حاصل ہوتا ہے۔

حدیث: ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی ، پچھلی صفوں میں کسی آدمی نے نماز میں خرابی کی ، جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بلایا :’’ فلاں شخص ! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کیسی نماز پڑھتے ہو ، کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کرتے ہو وہ مجھ پر مخفی رہتا ہے ، اللہ کی قسم! میں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں ویسے ہی اپنے پیچھے دیکھتا ہوں۔
(حدیث 811، مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح)

اگرچہ خودی عناصر (میں اور تُو) کی قید میں ہے اور اس کا ظہور بھی انسانی اجسام میں ہوتا ہے لیکن وہ (خودی) عناصرِ مادی (میں اور تُو) سے پاک بھی ہے، اسی لیے اگر خودی مرتبہ کمال کو پہنچ جائے (اور اس کی صورت عشقِ رسول ﷺ ہے) تو پھر غیر محدود ہوجاتی ہے۔

شعر 74

ازل اس کے پیچھے، اَبد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے، نہ حد سامنے

معانیالفاظ
وہ زمانہ جس کی ابتدا شمار میں نہ ہوازل
وہ زمانہ جس کی انتہا مستقبل میں نہ ہو، غیر متناہی زمانہ، ہمیشگی، دوَامابد
اِنتہا، کنارہحد

تشریح:

اگر خودی سے پہلے کے زمانے پر تحقیقی نگاہ ڈالی جائے تو اس کی کڑی آغازِ عالم کے بے کنارہ وقت (ازل) سے جاملتی ہے۔ یعنی اس کے پیچھے ازل ہے اور اگر خودی کے بعد کے زمانے پر غور کیا جائے تو اس کا سلسلہ ہمیشگی (ابد) سے جاملتا ہے۔ یعنی خودی کے قبل اور بعد کے دونوں زمانوں کی کوئی حد و نہایت نہیں۔

شعر 75

زمانے کے دریا میں بہتی ہوئی
سِتم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی

معانیالفاظ
ظُلمسِتم
لہرموج

تشریح:

خودی زمانے کے دریا میں بہتی ہے اور اس کی لہروں کے ظلم و ستم بھی برداشت کرتی ہے۔

مراد یہ ہے کہ خودی زمانے کے ساتھ بغل گیر (ہم آہنگ) ہے۔ خودی اور زمانہ، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے۔ خودی سے زمانے کی اور زمانے سے خودی کی حقیقت معلوم کی جاسکتی ہے۔ خودی اگرچہ زمان و مکان کی قید میں رہ کر ترقی کرتی ہے اور جب اپنے نقطہ کمال کو پہنچ جاتی ہے تو زمان و مکان پر حکمران ہوجاتی ہے، کیونکہ خالقِ خودی نے اس کے اندر یہ صلاحیتیں ودیعت فرمادی ہیں۔

شعر 76

تجسّس کی راہیں بدلتی ہوئی
دمادم نگاہیں بدلتی ہوئی

معانیالفاظ
تلاش، جستجوتجسّس
ہر دم، ہر لمحہ، ہر پل، ہر لحظہدما دم

تشریح:

خودی کے باطنی اظہار اور مادی قالب میں اُس کے ظہور کی فلسفیانہ تشریح پیش کرتے ہوئے شارح فرماتے ہیں:-

چونکہ خودی کو اپنے اظہار کے لیے ایک جسم درکار تھا جس میں وہ سما کر اپنا جلوہ دکھانا چاہتی تھی، اسی لیے وہ جستجو کی راہیں بدل بدل کر، اپنی متلاشی آنکھیں کھول کر آس پاس، ارد گرد کا جائزہ لیتے ہوئے زمان و مکان کے دریا میں رواں دواں رہی تاکہ اس کو کسی مناسب وقت پر کوئی موزوں جسم مل جائے، تاکہ یہ اس میں سما سکے اور اپنی شناخت کرواسکے۔

سید عابد علی عابد، اقبالؔ کی آواز

خودی کی دائمی جستجو اور کمال کے مختلف مدارج طے کرنے پر مولانا غلام رسول مہر تحریر کرتے ہیں:-

خودی تلاش کی راہیں اور نگاہیں لگاتار بدلتی رہتی ہے، یعنی جب خودی کمال کے درجے طے کرتی ہے تو اسے تغیّر اور انقلاب کے گوناگوں راستوں سے گزرنا پڑتا ہے اور اس پر رنگ برنگ حالتیں طاری ہوتی ہیں۔

غلام رسول مہر، مطالبِ بالِ جبریل

معرفتِ خودی کی عملی دشواریوں اور اس تک رسائی کے راستوں پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اقبالؔ کہتے ہیں کہ خودی کی تلاش عملًا بڑا مشکل مسئلہ ہے کہ اس تک رسائی کے لیے طرزِ عمل حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے اور اس طرزِ عمل کی طرح نظروں میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ مراد یہ ہے کہ خودی کو درجۂ کمال تک پہنچنے کے لیے انتہائی کٹھن اور پیچیدہ راستوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل
شعر 77

سبک اس کے ہاتھوں میں سنگِ گراں
پہاڑ اس کی ضربوں سے ریگِ رواں

معانیالفاظ
ہلکی چیزسُبُک
بھاری پتھرسنگِ گراں
ضرب کی جمع، چوٹیںضربوں
چلتی / اُڑتی ہوئی ریتریگِ رواں

تشریح:

جب خودی مرتبۂ کمال کو پہنچ جاتی ہے (اور اس کے لیے انسان کو بڑے مجاہدے کرنے پڑتے ہیں) تو پھر اس میں وہ طاقت پیدا ہوجاتی ہے کہ بھاری پتھر بھی اس کے لیے سبک اور بے وزن ہو کر رہ جاتا ہے حتی کہ اس (خودی) کی ضربوں سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر ریت میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ یہاں اقبال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب خودی کا جذبہ مستحکم ہوجاتا ہے اور بڑی سے بڑی شے بھی اس کے سامنے ہیچ ہوتی ہے۔

شعر 78

سفر اس کا انجام و آغاز ہے
یہی اس کی تقویم کا راز ہے

معانیالفاظ
اختتام اور اِبتداانجام و آغاز
قائم / برقرار رہنا، بقا، وقت، زمانہتقویم

تشریح:

خودی کا آغاز بھی سفر ہوتا ہے اور انجام بھی۔ خودی کی استقامت اور استحکام کا راز اس کے مسلسل سفر کی حالت میں مضمر ہے۔ اگر وہ (خودی) ساکن ہوجائے تو فنا ہوجائے گی۔ دراصل سفر سے یہاں مراد حرکت اور جدوجہد ہے کہ حرکت اور جدوجہد کے بغیر منزل تک رسائی مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہوتی ہے۔

شعر 79

کِرن چاند میں ہے، شرر سنگ میں
یہ بے رنگ ہے ڈُوب کر رنگ میں

معانیالفاظ
چنگاری، شرارہشرر
پتھرسنگ
جس کا کوئی رنگ نہ ہو، رنگ کے بغیر، ہر حال میں ایک ہی رنگ رکھنے والی، بے تعصّببے رنگ

تشریح:

خودی چاند میں کِرن اور پتھر میں چنگاری کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہ رنگ میں غوطہ لگاکر بھی بے رنگ ہی رہتی ہے۔ یعنی طرح طرح کی شکلوں اور رنگوں میں ظاہر ہونے کے باوجود شکل اور رنگ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ خودی مادّی نہیں ہے۔

صورت تو مادہ کا خاصہ ہے۔ مادہ صورت کے بغیر موجود نہیں ہوسکتا اور صورت مادے کے بغیر نہیں پائی جاسکتی۔ خودی چونکہ غیرمادی ہے، اس لیے بذاتِ خود صورت سے پاک ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رنگ میں غوطہ لگانے کے باوجود بھی خودی بے رنگ ہی رہتی ہے۔ یعنی مختلف اشیاء میں موجود ہونے کے باعث اپنی انفرادیت برقرار رکھتی ہے اور دوسری اشیاء میں گم ہوکر نہیں رہ جاتی۔

شعر 80

اسے واسطہ کیا کم و بیش سے
نشیب و فراز و پس و پیش سے

معانیالفاظ
رشتہ، تعلق، نسبتواسطہ
تھوڑا بہتکم و بیش
پستی و بُلندی، اُونچ نیچ، اُتار چڑھاؤنشیب و فراز
آگا پیچھا، آس پاس، اِدھر اُدھر، کسی خاص حد (زمان یا مکان) کے اندر ، کہیں نہ کہیںپس و پیش

تشریح:

خودی کو کم اور زیادہ، اونچ نیچ اور آگے پیچھے سے کوئی واسطہ نہیں۔ گویا خودی مادیات سے آزاد و پاک ہے، اور مادے کی خاصیتوں یا خرابیوں سے بھی آزاد ہے۔

خودی اگرچہ آدمِ خاکی میں جلوہ گر ہوتی ہے لیکن خاک سے پیوند نہیں رکھتی۔ خودی خاک (جسم) میں ہے ضرور۔۔ لیکن خاکی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے نہ ناپ سکتے ہیں، نہ تول سکتے ہیں اور نہ ہی حواسِ خمسہ سے محسوس کرسکتے ہیں۔

شعر 81

اَزل سے ہے یہ کشمکش میں اسِیر
ہُوئی خاکِ آدم میں صُورت پذیر

معانیالفاظ
کشا کش، کھینچا تانی، سعی، جد و جہد، کوشش، تگ و دوکشمکش
قید، گرفتاراسِیر
شکل اختیار کرنے والیصُورت پذیر

تشریح:

ابتدائے آفرینش (آغازِ کائنات) سے ہی خودی اس کشمکش میں مبتلا رہی ہے کہ اس کا حقیقی مسکن کہاں ہے؟ بالآخر اس پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا کہ آدمِ خاکی (انسان) کا جسم ہی اس کی پناہ گاہ بن سکتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انسان اور صرف اور صرف انسان ہی خودی کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری شے اس کے مقام و مرتبہ کا اندازہ کرنے کی قطعی اہل نہیں۔

شعر 82

خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے

معانیالفاظ
آشیانہ، مسکن، مکان، ٹھِکانہنشیمن
آسمانفلک

تشریح:

جس طرح اِس بند کا پہلا شعر بے مثل (جس کی کوئی مثال نہ ہو) ہے، اسی طرح آخری شعر بھی بے نظیر ہے۔ اس شعر میں اقبال نے خودی کا سب سے بڑا راز آشکار کیا ہے یعنی خودی کا نشیمن (مقام) انسان کے دل میں ہے۔ اب چونکہ یہ بات عقل میں نہیں آسکتی کہ خودی جو اس قدر غیر محدود طاقتوں کی مالک ہے، وہ دِل میں کس طرح سما سکتی ہے؟ اس لیے اقبال نے بڑی دِلکش تشبیہ سے سمجھایا ہے کہ اپنی آنکھ کے تِل پر غور کرو! اتنا بڑا آسمان اس ننھے سے تِل میں کس طرح نظر آجاتا ہے۔

واضح ہو کہ عالمِ مادی میں آنکھ سب سے زیادہ عجیب و غریب بلکہ محیّر العقول آلہ یا کرشمہِ قدرت ہے۔ کوئی انسان آج تک اس راز کو نہیں سمجھ سکا کہ آنکھ کے تِل میں تصویر اُتر آتی ہے، اسے دماغ کس طرح سمجھتا ہے کہ یہ فلاں چیز ہے۔۔ اتنا تو معلوم ہے کہ دماغ تصویر کو سمجھتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس طرح سمجھتا ہے، اس کا جواب کوئی نہیں سے سکتا۔

اسی طرح خودی کا نشیمن دِل میں ہے، دِل سے مراد گوشت کا ٹکڑا نہیں بلکہ وہ لطیفہِ نورانی جو دِل سے تعلق ہے۔ اب اگر کسی کو اس کے سمجھنے کی آرزو ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ

؏ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سُراغِ زندگی
(بالِ جبریل)

بند نمبر 7

شعر 83

خودی کے نِگہباں کو ہے زہرِ ناب
وہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آب

معانیالفاظ
حفاظت کرنے والا، محافظ، پاسبان، نگران، پاسدار، سرپرست، متولی، نگرانی کرنے والا، نگاہباننگہبان
خالص زہر، پانی جس میں زہر ملایا گیا ہوزہرِ ناب
نان، روٹی۔ مراد ہے رزق یا ضروریاتِ زندگی سےناں
پانی، زمک دمک۔ مراد ہے عزت، اصلیّت، صلاحیّتآب

تشریح:

اقبال کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی خودی کو مرتبہ کمال تک پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے لیے پہلی شرط رزقِ حلال ہے۔ ناجائز کمائی کا ایک لقمہ بھی اگر حلق کے نیچے اتر گیا تو خودی پر موت طاری ہوجائے گی اور جب ایک چیز مردہ ہوگئی تو پھر اس کی ترقی کا سوال ہی بحث سے خارج ہوجاتا ہے۔

اقبالؔ کہتے ہیں کہ جس طرح زہر کھانے سے آدمی مر جاتا ہے، اُسی طرح حرام کھانے سے خودی کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کا فلسفہ، فلسفہِ اسلام سے علیحدہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اکلِ حلال (حلال رزق) اور صدقِ مقال (سچ بولنا) کی اہمیت اور ضرورت کو بڑی شد و مد سے واضح کیا گیا ہے۔ صرف ایک شعر لکھتا ہوں:-

؎ سرِّ دیں، صدقِ مقال، اکلِ حلال
جلوت و خلوت تماشائی جمال

ترجمہ: دین کا راز سچ بولنے اور حلال روزی میں ہے، خلوَت ہو یا جلوت دونوں حالتوں میں اللہ تعالی کے جمال کا نظارہ کرنے میں ہے۔
(جاوید نامہ: آن سوی افلاک: خطاب بہ جاوید سخنی بہ نژاد نو)

صدقِ مقال (سچ بولنا) اور اکلِ حلال (حلال رزق) وہ خوبیاں ہیں جن میں دینِ اسلام کی حقیقت پوشیدہ ہے یعنی جب تک انسان ان دونوں باتوں پر عمل نہ کرے وہ مسلمان نہیں بن سکتا۔ وہ بو علی سینا بن سکتا ہے، لارڈ بیکن بن سکتا ہے، شیکسپیئر بن سکتا ہے، تیمور بن سکتا ہے لیکن مسلمان نہیں بن سکتا، پروفیسر یوسف سلیم چشتی۔

آج بفضلِ خدا سب کچھ موجود ہے لیکن مسلمانوں میں اسلام کی روح نظر نہیں آتی۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ صدقِ مقال اور اکلِ حلال یہ دونوں باتیں مفقود ہیں اور منطق میں یہ اصول مسلّم ہے کہ اذافات الشرط فات المشروط، اسلام مشروط ہے اور اکلِ حلال شرط ہے، جب شرط فوت ہوگئی تو مشروط ازخود فوت ہوجائے گا۔

شعر 84

وہی ناں ہے اس کے لیے ارجمند
رہے جس سے دُنیا میں گردن بلند

معانیالفاظ
نان، روٹی۔ مراد ہے رزق یا ضروریاتِ زندگی سےناں
قدر قیمت والا، فائدہ مند، عزت بخشنے والاارجمند
فخر سے سر بلند ہونا، عزت، سرفرازیگردن بلند رہنا

تشریح:

خودی کے لیے وہی رزق فائدہ مند ہے جس سے دنیا میں اس کی گردن بلند رہے۔ حلال کمائی ہی سے انسان اپنی خودی مضبوظ رکھ سکتا ہے اور یوں عظمت و بقا کو پالیتا ہے۔ اسی مضمون کو اقبال نے قدرے مختلف انداز میں اس طرح بیان کیا ہے کہ:-

؎ اے طائرِ لاہوتی اُس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

(بالِ جبریل)

شعر 85

فرو فالِ محمود سے درگزر
خودی کو نِگہ رکھ، ایازی نہ کر

معانیالفاظ
محمود سے مراد ہے محمود غزنوی، حکمران۔ فروفالِ محمود یعنی محمود غزنوی کی سی شان و شوکت، دبدبہفر و فالِ محمود
حفاظت کرنانِگہ رکھنا
غلامی نہ کر (ایاز محمود غزنوی کا غلام تھا)، محکومیایازی نہ کر

تشریح:

تُو محمود غزنوی جیسی شان و شوکت والے بادشاہوں، لیڈروں اور بڑے بڑے مالداروں سے متاثر نہ ہو اور نہ ہی ایاز (ایاز، محمود غزنوی کا غلام جو صوبہ پنجاب میں گورنر بھی رہا، بعض روایات میں اسے محمود غزنوی کا عاشق اور محبوب بھی کہا گیا ہے) کی طرح خود کو غلامی میں مبتلا کر کیونکہ غلامی انسان کے کردار کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہے اور دنیا میں کھوکھلی شخصیت کسی کام کی نہیں ہوتی۔

حاصل یہ ہے کہ خودی کی دولت انمول ہے، اسے کسی بھی قیمت پر ہاتھ سے جانے نہ دے۔ جہاں تک ممکن ہو یہ نایاب نعمت ہر قسم کی حرص سے بچا کر رکھ۔ اگر تُو اسے فروخت کردے گا تو غلامی کی لعنت میں گرفتار ہوجائے گا۔

شعر 86

وہی سجدہ ہے لائقِ اہتمام
کہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرام

معنیلفظ
اہتمام و انتظام کا حق دارلائقِ اہتمام

تشریح:

تیرے لیے وہی سجدہ اہتمام کا حق دار ہے، جسے ادا کرنے سے تمام سجدے تیرے لیے ناجائز اور حرام ہوجائیں۔ یعنی خودی اس طرح مکمل ہوتی ہے کہ ذاتِ باری تعالی کے سوا کسی کے آگے سر خم نہ کیا جائے۔ بندگی، اطاعت اور سجدہ صرف اور صرف شہنشاہِ حقیقی کے لیے زیبا ہے۔ غیر اللہ کی فرمانبرداری، غلامی اور اس کے آستانے پر ماتھا رگڑنا سراسر حرام ہے۔ بزرگانِ دین کی قبروں پر سجدہ ریز ہونا اور ان سے مدد طلب کرنا شِرک ہے۔

؎ یہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!

(ضربِ کلیم: نماز)

اِن دو شرطوں کی وضاحت کے بعد اب قبال یہ بتاتے ہیں کہ اگر مسلمان اپنی خودی کو مرتبہ کمال تک پہنچادے تو کیا انقلاب پیدا ہو جائے گا۔

شعر 87

یہ عالم، یہ ہنگامۂ رنگ و صوت
یہ عالم کہ ہے زیرِ فرمانِ موت

شعر 88

یہ عالم، یہ بُت خانۂ چشم و گوش
جہاں زندگی ہے فقط خورد و نوش

شعر 89

خودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیں
مسافر! یہ تیرا نشیمن نہیں

شعر 90

تری آگ اس خاک داں سے نہیں
جہاں تجھ سے ہے، تُو جہاں سے نہیں

معانیالفاظ
دُنیا، جہان، کائنات، زمانہعالم
رنگ اور آواز کا ہنگامہ، دُنیا کی چہل پہلہنگامۂ رنگ و صوت
موت کا تابع فرمان یعنی فانیزیرِ فرمانِ موت
آنکھ اور کان کا بُت خانہ، حواسِ خمسہ کا بُت خانہبُت خانۂ چشم و گوش
صرف کھانا اور پینافقط خورد و نوش
پہلی منزلمنزلِ اوّلیں
آشیانہ، مسکن، مکان، ٹھِکانہنشیمن
لفظی معنی مٹّی کا گھر، مراد دنیاخاکداں

تشریح:

فرماتے ہیں کہ اے مخاطب! یہ کائنات— یہ رنگ اور آواز کا ہنگامہ— یہ دنیا کہ جہاں زندگی کھانے پینے کے سوا کُچھ نہیں۔ یہ عالم کہ جو موت کے تابع فرمان ہے یہ تیری خودی کی پہلی منزل ہے۔ تُو اسے اپنی مستقل اقامت گاہ مت سمجھ۔ یہ دنیا تیری خادم ہے، اسے مقصود قرار مت دے۔ تیری اصل مادی نہیں ہے۔ تیرا وجود اس دنیا سے نہیں ہے، ہاں یہ دنیا تجھ سے ضرور ہے۔ اسلام کی رو سے حقائقِ سہ گانہ یعنی خدا، انسان اور کائنات میں یہ ربط ہے کہ:۔

1۔ خدا خالقِ انسان و کائنات ہے۔
2- انسان خدا کے لیے ہے یعنی اس کا خادم ہے۔
3- کائنات انسان کے لیے ہے یعنی اس کی خادم ہے۔

اسی لیے اقبالؔ نے انسان کو آگاہ کیا ہے کہ:-

؏ جہاں تجھ سےہے، تُو جہاں سے نہیں

شعر 91

بڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر
طلسمِ زمان و مکاں توڑ کر

معانیالفاظ
بھاری پہاڑکوہِ گراں
حدود اور وقت / وقت اور جگہ / Time and Space کا جادوطلسمِ زمان و مکاں

تشریح:

اے انسان! آگ، پانی، ہوا اور مٹّی کی یہ دنیا، زمان و مکان کا گورکھ دھندا، یہ بھاری پہاڑ توڑ کر آگے قدم بڑھائے جا اور خودی کو معراجِ کمال پر پہنچا کر زمان و مکان کی زنجیریں ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھینک دے۔

لہذا یہ بھاری پہاڑ یعنی اس مادی دنیا اور زمان و مکان کے طلسم کو توڑ کر آگے بڑھتا چلا جا۔ اپنی خودی کے استحکام و عروج کے لیے جہد و عمل کی راہ پر گامزن ہوجا کہ اس طرح مادی دنیا اور زمان و مکان کے الجھیڑے تیرے لیے ختم ہوجائیں اور تُو اپنی خودی کو مرتبہ کمال تک لے جاکر صاحبِ عظمت و بقا بن جائے۔

لیکن جو شخص اپنے پیٹ کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہے، وہ اِس طلسم کو کیسے توڑ سکتا ہے، کہیں بتوں کو پوجنے والے بھی بت شکنی کرسکتے ہیں؟ مارکس اور لینن تو شکم کو اپنا ”معبود“ سمجھتے ہیں، وہ بھلا کب اس کے احکام سے سرتابی کرسکتے ہیں؟ جن لوگوں کا مقصودِ حیات شکم پری اور شکم پروری ہے۔۔ انہیں صدقِ مقال اور اکلِ حلال اور دیگر صفاتِ حسنہ سے کیا تعلق؟

نئی تعلیم کو کیا واسطہ ہے آدمیت سے
جنابِ ڈاروِن کو حضرتِ آدم سے کیا نسبت
میرے صیاد کی تعلیم کی ہے دھوم گلشن میں
یہاں جو آج پھنستا ہے، وہ کل صیاد ہوتا ہے

(شاعر: اکبر الہ آبادی)

شعر 92

خودی شیرِ مولا، جہاں اس کا صید
زمیں اس کی صید، آسماں اس کا صید

معانیالفاظ
اللہ کا شیرشیرِ مولا
شکار، کمندصید

تشریح:

خودی اللہ کا شیر ہے اور یہ جہان اس کا شکار ہے۔ زمین بھی اس کی شکار ہے، آسمان بھی اس کا شکار ہے۔ اس کی کمند آسمان اور زمین دونوں کی گردن میں ہے۔ یعنی اگر انسان اپنی خودی کو مستحکم کرلے تو یہ کائنات اس کی اطاعت گزار ہوجائے گی۔

شعر 93

جہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمود
کہ خالی نہیں ہے ضمیرِ وجود

معانیالفاظ
جو ظاہر / نمُودار/ پیدا نہ ہوا ہوبے نمود
وجود کا ضمیر، کائنات کا باطنضمیرِ وجود

تشریح:

اس عالمِ فانی (فانی دنیا) کے علاوہ اور بھی عالم ہیں جو ابھی تیری نظر میں نہیں ہیں۔ اس لیے کہ وجود کا ضمیر خالی نہیں رہنا ممکن نہیں، تُو خودی کو معراجِ کمال تک پہنچا۔ اگر خودی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے تو ہر ان دیکھی دنیا آنکھوں کے سامنے آشکار ہوجاتی ہے

؎ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

(بالِ جبریل)

شعر 94

ہر اک منتظر تیری یلغار کا
تری شوخیِ فکر و کردار کا

معانیالفاظ
انتظار کرنے والا، انتظار میںمنتظر
یورش، حملہیلغاز
فکر و کردار کی شوخی، دانش و سیرت کی شوخیشوخیِ فکر و کردار

تشریح:

ان بے نمود اور نظر نہ آنے والے جہانوں میں سے ہر ایک تیری یورش اور دانش و سیرت کی شوخی کا منتظر ہے، یعنی ابھی تجھے دوسری دنیائیں بھی مسخّر کرنی ہیں۔

اے مخاطب! یہ کائنات اس لیے بنائے گئی ہے کہ تُو اسے تسخیر کرلے اور اس کی تسخیر کے بعد دوسرے جہان بھی تیری یلغار، تیری شوخی فکر اور کردار کے منتظر ہیں۔ گویا اس مادی دنیا کے علاوہ ابھی تجھے دوسرے کئی جہان مسخر کرنے ہیں۔

شعر 95

یہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار

معانیالفاظ
مطلب، غرض، مقصودمقصد
زمانے کی گردِشگردشِ روزگار
ظاہر، واضحآشکار

تشریح:

اس کائنات میں ”گردشِ روزگار“ یعنی اختلافِ لیل و نہار (دن اور رات کا اختلاف)، تغیراتِ موسمی (موسموں کا ردّ و بدل) اور تمام کائناتی مظاہر مثلًا تضریف ریاح ابر و باد و باراں، موسمِ گُل و موسمِ خزاں، طلوع و غروبِ آفتاب، اجرامِ فلکی— غرض کہ اس نظامِ شمسی کی غایت یہ ہے کہ تیری خودی کی مخفی (چھپی ہوئی) قوتیں بروئے کار آسکیں اور تُو اپنی صلاحیتوں سے آگاہ ہو کر اپنا مقام حاصل کرسکے۔

شعر 96

تُو ہے فاتحِ عالمِ خوب و زِشت
تجھے کیا بتاؤں تری سرنوشت

معانیالفاظ
اس جہان کی اچھی اور بُری چیزوں پر فتح پانے والافاتحِ عالمِ خوب و زشت
خطِ پیشانی، قسمت، نصیب، مقدر، (لفظاً) پیشانی پر لکھا ہواسر نوِشت

تشریح:

اے مخاطب! میں تجھے کیا بتاؤں کہ تیری تقدیر میں کیا لکھا ہے۔ تُو اچھی اور بُری چیزوں کے اس جہان پر فتح پانے والا ہے، تُو خلیفہ اللہ علی الارض ہے، تُو اشرف المخلوقات ہے۔

حاصل یہ ہے اے انسان! تُو بیدار بخت اور جواں نصیب ہے اور تجھے پیدا کرنے سے خآلقِ اکبر کی غرض یہ ہے کہ تُو کائنات میں اس کی نیابت کے فرائض سر انجام دے کر ساری مخلوقات پر اپنا حکم چلائے۔

شعر 97

حقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگ
حقیقت ہے آئینہ، گُفتار زنگ

معانیالفاظ
حرفوں اور لفظوں کا لباس تنگ ہونا، الفاظ کم پڑ جاناجامۂ حرف تنگ ہونا
بات، قولگُفتار

تشریح:

حقیقت پر قول و بیان کا جامہ تنگ ہے۔ حقیقت گویا آئینہ ہے اور گفتگو اس کا زنگ۔

مطلب یہ کہ اے انسان! تیری حقیقیت الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ حقیقت غیر مادّی ہے اور الفاظ مادّی ہیں۔ مادّی چیز غیر مادّی چیز کا مفہوم اور غایت کیونکر ادا کرسکتی ہے؟ بس یہی وجہ ہے کہ میرے الفاظ تیری حقیقت کی صراحت نہیں کرسکتے۔

شعر 98

فروزاں ہے سِینے میں شمعِ نفَس
مگر تابِ گُفتار کہتی ہے، بس!

معانیالفاظ
روشن، منوّرفروزاں
سانس کی شمع، مراد سانسشمعِ نفس
بولنے کی طاقت و ہمّتتابَ گُفتار
اتنا کافی ہےبَس

تشریح:

سانس کی شمع اگرچہ سینے کے اندر جلوے برسارہی ہے، لیکن بولنے کی قوت تھک کر چُورہونے کے باعث جواب دے رہی ہے۔

مراد یہ ہے کہ جو انسان عشقِ حق کی شراب سے مست ہوجائے اسے دل کی خلوتوں میں محبوبِ حقیقی کی تجلّی نظر آتی ہے لیکن اس کے لبوں پر خاموشی کی ہر لگ جاتی ہے۔ وہ اس بھید کو کسی پر ظاہر نہیں کرسکتا۔

شعر 99

’اگر یک سرِ مُوے برتر پَرم
فروغِ تجلّی بسوزد پَرم،

معانیالفاظ
اگر ایک بال کے برابر بھیاگر یک سرِ مُوے
میں بلند اُڑوں / بلند پر مارُوںبرتر پرَم
تجلّی کی تیز آگفروغِ تجلّی
میرے پروں کو جلا کر راکھ کر دے گیبسوزد پرَم

تشریح:

ساقی کا جواب سن کر بندہِ مسلم پکار اٹھتا ہے کہ بس اے رب! میری سینے میں خودی کی شمع روشن ہوگئی ہے اور میں اپنی خودی کی حقیقت جان چکا ہوں، اب اگر اس سے زیادہ کچھ کہا تو میرا سینہ میری خودی کے سوز سے جل جائے گا۔ اے اللہ! میں بیدار ہوگیا ہوں، میں نے تجھےا ور اپنی خودی کو پہچان لیا ہے، میں نے اپنی زندگی کا مقصد پالیا ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی کے ہر شعبے مین سخت محنت کے بل بُوتے پر بلند مقام حاصل کروں اور ترقی کا سفر جاری رکھوں گا، سائنس و ٹیکنالوجی اور علم و ہنر کے میدانوں میں محنتِ شاکا کرکے دنیا میں عروج حاصل کروں گا۔

اگر میری اُڑان مقررہ حد سے بال برابر بھی اونچی ہوجائے تو نورِ مطلق کی آتشیں تجلٗی میرے بال و پر جلا کر راکھ کردے گی۔

حاصل یہ کہ اگر کوئی خدا دوست درویش نشہ عشق کی سرمستی میں کوئی نامناسب حرکت کر بیٹھے تو محبوبَ حقیقی کی بے پناہ تجلّی اسے جلا کر بھسم کردیتی ہے۔

تبصرہ

نظم ”ساقی نامہ“ محض ایک روایتی بہاریہ کلام نہیں، بلکہ خودی اور ارتقائے حیات کا مکمل فلسفہ ہے۔ اقبالؔ نے جمود کا شکار قوم کو یہ انقلابی سبق دیا ہے کہ زندگی آرام و سکون کا نام نہیں بلکہ دمادم رواں رہنے والی وہ ندی ہے جو ہر رکاوٹ کو چیر کر سمندر سے جا ملتی ہے۔

اپنے من میں ڈوبنے اور عشقِ رسول ﷺ کے ذریعے معرفتِ خودی پر پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

اقبالؔ کا مطلب یہ ہے کہ اگر تُو اپنی حقیقت سے آگاہ ہونا چاہتا ہے تو عشقِ رسول ﷺ میں فنا ہوکر (اسی کو اپنے من میں ڈوبنا کہتے ہیں) خود اپنی حقیقت کا مشاہدہ کرلے۔ اسی حقیقت کو اقبال نے یوں بیان کیا ہے:-

؎ بر مقام خود رسیدن زندگی است
ذات را بے پردہ دیدن زندگی است

ترجمہ: اپنے مقام پر پہنچنا ہی زندگی ہے، ذاتِ حق کو بے پردہ دیکھنا ہی زندگی ہے۔
(جاوید نامہ: تمہیدِ زمینی آشکارا می شوَد روحِ حضرت رومی)

لیکن ”ذات“ کو بے پردہ دیکھنے کے لیے پہلے اپنے آپ کو دیکھنا لازمی ہے اور جب انسان اپنے آپ کو دیکھے گا تو اُس وقت اسے یہ حقیقت معلوم ہوگی کہ میں تو اسی کو دیکھ رہا ہوں۔ عاشق جب تک اپنی خودی سے آگاہ نہیں ہوتا، اس وقت تک تلاشِ محبوب میں سرگرداں رہتا ہے لیکن جب وہ اپنی خودی سے واقف ہوجاتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ جسے میں صحرا اور بیاباں میں ڈھونڈ رہا تھا، وہ تو خود میرے ہی اندر پوشیدہ تھا:۔

وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ

ترجمہ: ہم انسان سے اُس کی رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
(سورۃ ق: آیت 16)

اس وقت سالک بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ:۔

؎ بفضلِ مُرشد کھُلا یہ عقد
کہ یار مجھ میں، مَیں یار میں ہوں

یہی مطلب ہے اس مقولہ کا کہ:-

مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّهُ

ترجمہ: جس نے اپنی معرفت حاصل کر لی، اُس نے اپنے رب کی معرف حاصل کر لی۔

میری رائے میں اِس سے بلند تر کوئی فلسفہ نہیں اور یہی وہ صداقت ہے جس سے بالاتر کوئی سچائی نہیں۔ اسی صداقت کو اقبالؔ نے ارمغانِ حجاز میں یوں بیان کیا ہے:-

تُو اے ناداں دِلِ آگاہ دریاب
بخوش مثلِ نیاگاں راہ دریاب
چساں مومن کند پوشیدہ را فاش
ز لا موجود الاللہ٭ دریاب

ترجمہ: اے نادان! تُو دِلِ آگاہ حاصل کر؛
(اور) اپنے بزرگوں کی مانند اپنے آپ تک رسائی حاصل کر۔
مومن پوشیدہ رازوں کو کس طرح فاش کرتا ہے،
یہ نُکتہ ٭لا موجود الاللہ سے سیکھ۔
(ارمغانِ حجاز: حضورِ مِلّت: خودی)

٭لا موجود الا للہ: اللہ تعالی کی ذات ہی فقط حقیقی ذات ہے۔ اُس کے علاوہ جو کچھ ہے، سب مخلوق ہے یعنی اللہ تعالی کا بنایا ہوا ہے۔ اُس نے جس مخلوق کو چاہا، جیسا چاہا، اپنی مرضی، اپنی حکمت اور اپنی قدرت سے بنایا۔ جب چاہتا ہے ختم کر دیتا ہے۔ اللہ تعالی ہمیشہ سے ہے۔ نہ کوئی اُس کی ابتدا ہے نہ انتہا ہے۔ اللہ تعالی کے سا کوئی بھی خود سے نہیں ہے۔ مخلوق خود سے ہو ہی نہیں سکتی، بنانے والے کے بنانے سے وجود میں آتی ہے۔ اس لیے اصل موجود ذات صرف اللہ تعالی کی ہے۔ جو ہمیشہ سے موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔ ”لا موجود الاللہ“ کا یہی مطلب ہے۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح ارمغانِ حجاز (فارسی)

”لا موجود الا اللہ“ یعنی دوسرے کا وجود ہی کہاں پہلے جو علاقہ کا سوال پیدا ہو؟ اسی لیے تو غالبؔ عالمِ بے خودی میں خدا سے سوال کرتے ہیں:-

؎ جبکہ تجھ بِن کوئی نہیں موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

(شاعر: مرزا غالبؔ)

اقبالؔ نے سعدیؔ کے شہرۂ آفاق شعر (ساقی نامہ کا آخری شعر) کے پردہ میں اپنا مطلب بڑی عمدگی کے ساتھ واضح کردیا ہے، میں اِس شعر کا مطلب بیان کرکے ناظرین کے لطف میں کمی پیدا نہیں کرنا چاہتا، اس لیے مرشدِ رومیؔ کے اس شعر پر اکتفا کرتا ہوں:-

؎ سرِّ پنہاں نست اندر زیروبم
فاش اگر گویم جہاں برہم زنم

ترجمہ: ہماری اُونچی نیچی سُروں میں ایک سر بستہ راز چھُپا ہے، اگر اسے میں صاف صاف بیان کر دوں تو(گویا) دنیا کو تباہ برباد کر دوں۔

حضرت علامہ نے اِس جگہ پڑھنے والے کے اندر اشتیاق اور تجسس کا رنگ پیدا کرنے کی غرض سے وضاحت سے اعتراض کیا ہے ورنہ ارمغانِ حجاز (فارسی) میں جو اُن کی حیاتِ ارضی کے آخری چند ماہ کا سرمایۂ افکار ہے، اُنہوں نے اس حقیقت کو بالکل واضح کردیا ہے، تین رباعیات درج ذیل کرتا ہوں:-

خودی را از وجودِ حق وجودے
خودی را از نمودِ حق نمودے
نمی دانم کہ ایں تابندہ گوہر
کجا بودے اگر دریا نمودے

ترجمہ: خودی کا وجود حق تعالی کے وجود سے ہے،
خودی کی نمود حق کے اظہار سے ہے،
میں نہیں جانتا کہ اگر دریا نہ ہوتا،
تو (خودی کا) یہ تابدار گوہر کہاں ہوتا۔
(ارمغانِ حجاز: حضورِ عالمِ انسانیت: 9)

یعنی جس طرح موتی کا وجود دریا سے علیحدہ ہو کر متحقق نہیں ہوسکتا اسی طرح خودی بھی خدا ہی کی بدولت موجود ہے۔ اگر دریا (مراد ہے خدا) نہ ہوتا تو موتی (مراد ہے خودی) کیسے وجود میں آتا؟

بیا بر خویش پیچیدن بیاموز
بناخن سکینہ کاویدن بیاموز
اگر خواہی خدا را فاش بینی
خودی را فاش تر دیدن بیاموز

ترجمہ: اُٹھ اور اپنے آپ پر توجہ مرکوز کرنا سیکھ،
اپنے ناخن سے اپنا سینہ زخمی کرنا سیکھ،
اگر اللہ تعالی کو بے پردہ دیکھنا چاہتا ہے،
تو اپنی خودی کو فاش تر کرنا سیکھ۔
(ارمغانِ حجاز: حضورِ عالمِ انسانیت: 3)

یعنی اگر خدا کو دیکھنا چاہتے ہو اور مقصدِ حیات دیدار کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو خودی کو دیکھ لو۔ چونکہ اِس ایمانی طرزِ بیاں سے شاعر کی تشفی نہیں ہوئی، اس لیے وہ صاف لفظوں میں کہتا ہے کہ:-

کرا جوئی! چرا در پیچ و تابی
کہ از پیداست تو زیر نقابی
تلاش اوکنی جز خود نہ بینی
تلاش اوکنی جز او نیابی

(پیامِ مشرق: لالۂ طُور: 82)

یعنی اے انسان! تُو کِسے ڈھوند رہا ہے؟ اور کس لیے اس قدر پریشان ہے؟ جسے تُو ڈھونڈ رہا ہے وہ تو ہر جگہ عیاں ہے۔ اس لیے اگر تجھے ڈھونڈنا ہی ہے تو اپنے آپ کو ڈھونڈ کیونکہ تُو یعنی تیری خودی تجھ سے پوشیدہ ہے، اگر تُو اس کی تلاش کرلے گا تو انجام کار اپنے کو پاجائے گا اور اگر اپنی جستجو کرے گا تو آخر کار وہ تجھے مل جائے گا۔ یہ بات کیا ہے؟ صرف اتنی سی کہ دوسرا موجود ہی کہاں ہے جو دوئی متحقق ہو۔ مَیں نے اِس مسئلہ کو قدرے وضاحت سے اس لیےبیان کیا ہے کہ اقبالؔ کے بہت کم نقاد اور مداح اور شیدائی اس بات سے واقف ہیں کہ دراصل اُن کا مقصد کیا تھا۔ اس لیے مرنے سے کچھ دنوں پہلے اُنہوں نے یہ شعر کہا تھا:-

چُو رخت خویش بربستم ازین خاک
ہمہ گفتند با ما شنا بود
ولیکن کس نداست ایں مسافر
چہ گفت و با کہ گفت و از کجا بود

ترجمہ: جب میں نے اس دنیا سے رختِ سفر باندھا،
تو سب نہ کہا کہ یہ ہمارا جاننے والا ہے،
مگر کوئی نہیں سمجھا کہ اس مسافر نے کیا کہا،
کس سے کہا اور یہ کہاں سے آیا تھا؟
(ارمغانِ حجاز : بہ یاران طریق: بیا تا کار این امت بسازیم)

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *