Skip to content

بانگِ درا 163: طلوعِ اسلام

فہرست

تعارف

نظم ”طلوعِ اسلام“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کا وہ تاریخ ساز اور شاندار شاہکار ہے جس نے مایوس مُسلم امہ میں امید اور حیاتِ نو کی نئی لہر دوڑا دی تھی۔ علامہ اقبال نے پہلی جنگِ عظیم اور تحریکِ خلافت کے کٹھن حالات کے بعد مصطفیٰ کمال پاشا کی قیادت میں ترکوں کی شاندار فتح کے موقع پر یہ ولولہ انگیز کلام پیش کِیا تھا۔

جنگِ سقاریہ کے پسِ منظر اور نظم کے تاریخی محرکات پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی تحریر کرتے ہیں:-

نظم ”طلوعِ اسلام“ علامہ اقبال نے 1922ء میں لکھی تھی۔ چونکہ اس زمانہ میں مصطفیٰ کمال پاشا نے سقّاریہ کی جنگ میں یونانیوں کو شکست دے کر ساری دُنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دی تھی کہ ترک ابھی زندہ ہیں اور سمرنا فتح کر کے مسٹر گلیڈسٹن کے خاندان میں صفِ ماتم بِچھا دی تھی، اس لیے اقبالؔ نے جس طرح مایوسی کے عالم میں ”شمع اور شاعر“ لکھی تھی، اُسی طرح رجائیّت (اُمید کی کیفیت) کے عالم میں یہ نظم کہی۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

دلیلِ صُبحِ روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفُق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی

معانیالفاظ
گواہی، نشانیدلیل
ہلکی روشنی، ٹِمٹِماہٹ، دھیمی دھیمی روشنیتُنک تابی
آسمان کا کنارہاُفق
سورج طلوع ہوا، اشارہ ہے اُس دور کی طرف جب مسلمانغفلت کا شکار تھے کہ اچانک مصطفی کمال اتاتُرک اُٹھے اور کفار کے بڑھتے ہوئے قدم روک دیےآفتاب اُبھرا
گہری نیند میں سونے کا زمانہدورِ گِراں خوابی

تشریح:

ستاروں کی روشنی کا پھیکا پڑنا (ٹِمٹِمانا) اس بات کی روشن نشانی ہے کہ تاریک رات بالآخر ختم ہونے والی ہے اور روشن صبح کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ وہ دیکھو! سورج آسمان کے کنارے پر نمودار ہو رہا ہے اور گہری نیند سونے والوں کے لیے بیداری کا پیغام لایا ہے۔

یعنی مسلمانوں پر عرصۂ دراز سے غفلت کی تاریک رات چھائی ہوئی تھی، بالآخر مصطفیٰ کمال (آفتاب) نے اُنہیں خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی کے مطابق یہاں ”آفتاب“ سے مراد مصطفی کمال پاشا ہیں، کیونکہ ترکی نے اُن ہی کی قیادت میں یونانیوں کو شِکست دی۔

شعر 2

عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

معانیالفاظ
عرق کی جمع۔ بے جان رگیںعُروقِ مُردہ
زندگی کا خون چلنے لگا، بیداری کے اثار پیدا ہو گئےخونِ زندگی دوڑا
بو علی سینا اور محمد بن طرخان ابو نصر فارابی، دونوں مشہور فلسفی تھےسینا و فارابی

تشریح:

سرزمینِ مشرق (ایشیاء) کی مُردہ رگوں میں زندگی کا خون گردِش کرنے لگا ہے اور یہ وہ راز ہے جسے بو علی سینا اور بو نصر فارابی جیسے فلسفی نہیں سمجھ سکتے۔

یعنی مشرقی اقوام میں زندگی کی جو نئی لہر پیدا ہوئی ہے اس کا صحیح اندازہ وہ لوگ نہیں کر سکتے جن کی عمریں اسباب و عوامل کے منطقی کھوج میں بسر ہو جائیں۔ اُن کی نظریں ہمیشہ چیزوں کی ظاہری حالت پر رہتی ہیں۔ وہ زندگی اور بیداری کی ان کیفیّتوں کا اندازہ نہیں کر سکتے جو قوموں کے ذہنوں، دِماغوں اور دِلوں میں موج زَن ہوتی ہیں۔

شعر 3

مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفانِ مغرب نے
تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی

معانیالفاظ
صحیح معنوں میں اسلام کا شیدائی بنا دیامسلماں کر دیا
یورپ کا ہنگامہ، اشارہ ہے 1914ء کی عالمگیر جنگ کی طرفطوفانِ مغرب
طلاطم کی جمع۔ طوفان کے تھپیڑے، پانی کی طغیانیطلاطُم ہا
موتی۔ مراد: مسلمانگوہر
تازگی، چمک دمکسیرابی

تشریح:

سچ ہے، سمندر میں طوفان آتے رہنے سے ہی موتیوں میں آب و تاب اور چمک دمک پیدا ہوتی ہے۔ مشہور ہے کہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے تو لہریں سیپیوں کو سطح سے اُٹھا کر ساحل کے قریب پھینک دیتی ہیں۔ سیپی میں جو کیڑا ہوتا ہے وہ ساحل کی ریت سے ایک دو ذرّے اپنے اندر کھینچ لیتا ہے اور سیپی کا منہ بند ہو جاتا ہے۔ پھر کیڑا انہیں ذرّوں کے اردگرد اپنے لعاب سے تہیں بناتا ہے یہاں تک کہ موتی تیار ہو جاتا ہے۔ اگر طوفان کے سبب سیپیوں کو ساحل کے قریب پہنچنا نصیب نہ ہو تو وہ اپنی گودیوں میں موتیوں کی پرورِش نہ کر سکیں۔

اقبالؔ نے اس سے یہ مضمون پیدا کیا ہے کہ مغرب سے طوفان (جنگِ عظیم 1914ء تا 1918ء) اُٹھا اور اس نے مسلمانوں میں سچّی دینی حمیّت پیدا کر دی۔ وہ مسلمان جو برسوں سے غفلت کی نیند سو رہے تھے، بیدار ہو گئے اور اُن میں اپنی حفاظت کا جوش اور ولولہ پیدا ہو گیا، یعنی مسلمانوں کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ اگر ہم جدوجہد نہیں کریں گے تو فنا ہو جائیں گے۔ گویا اس طوفان نے اُنہیں صحیح معنوں میں مسلمان بنا دیا۔

شعر 4

عطا مومن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی، ذہنِ ہندی، نُطقِ اعرابی

معانیالفاظ
اللہ کی بارگاہ / درباردرگاہِ حق
تُرکوں کی سی شان و شوکتشِکوہِ تُرکمانی
ہندوستان والوں کی ذہانتذہنِ ہندی
عربوں کی زبان یعنی عربوں جیسی فصاحت (یعنی خوش بیانی، خوش کلامی، گُفتگو کا پُرکشش انداز)نُطقِ اعرابی

تشریح:

آثار بتا رہے ہیں کہ مسلم اُمّت کو دُنیا میں دوبارہ سر بُلندی نصیب ہوگی اور ترکوں کی سی شان و شوکت، ہندیوں کی سی تیزیٔ ذہن اور عقل و دانائی، عربوں کی سی فصاحت و بلاغت عطا ہوگی۔ یعنی مسلمان دوبارہ زندگی کے اعلیٰ جوہروں سے زینت پانے والے ہیں۔

آثار ایسا اِس لیے بتا رہے ہیں کیونکہ مسلمان غفلت کی نیند سے بیدار ہو چُکے ہیں اور اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

شعر 5

اثر کچھ خواب کا غُنچوں میں باقی ہے تو اے بُلبل!
“نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی”

معانیالفاظ
کلیوںغُنچوں
مراد: اقبالبُلبُل

تشریح:

اے بُلبُل! اگر تُو محسوس کرے کہ تیری کلیوں میں اب تک نیند کا اثر موجود ہے اور وہ کھِلنے اور اپنی خوشبو سے فضا کو معطّر کرنے کے لیے ابھی مکمل طور پر بیدار نہیں ہوئیں، تو مناسب یہ ہے کہ اپنے نغموں کو اور بلند کر دے تاکہ اُنہیں تیری گیت سُننے کا شوق کم نہ ہونے پائے۔ ”بلبل“ سے اقبالؔ کا اشارہ بہ ظاہر اپنی طرف ہے جو اپنے باغ کی کلیوں کو بیدار کرنے لگے ہیں اور کلیوں سے مراد افرادِ ملت ہیں۔

یعنی اے اقبالؔ! اگر تُو دیکھے کہ تیری قوم میں ابھی بھی کُچھ غفلت باقی ہے تو تجھے چاہیے کہ اپنی شاعری میں مزید جوش و خروش کا رنگ پیدا کر دے۔ اگر لوگوں میں گانا سُننے کا ذوق نہیں ہے تو مُطرب (نغمے گانے والا) کو چاہیے کہ زیادہ دِلکشی سے گائے تاکہ لوگ متوجہ ہوں۔

اِس شعر کا دوسرا مصرع عُرفیؔ کا ہے:–

؎ نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی
حُدی را تیز تر می خواں چو محمل را گِراں بینی

ترجمہ: اگر تُو نغمے کا ذوق کم پائے، تو ساز کی لے کو اور تلخ (تیز اور پُرجوش) کر دے؛ اور اگر تُو دیکھے کہ اونٹ پر کجاوہ وزنی اور سواری سست ہو گئی ہے، تو حدی خوانی (ساربان کا گیت) اور تیز کر دے۔

شعر 6

تڑپ صحنِ چمن میں، آشیاں میں، شاخساروں میں
جُدا پارے سے ہو سکتی نہیں تقدیرِ سیمابی

معانیالفاظ
درخت کے اوپر کا حصہ جو ٹہنیوں والا ہوتا ہے، درختوں کا جھُنڈشاخسار
بے چینی، جذبۂ عشق کے سبب بے قراریتڑپ
تڑپ، پارے کی سی قسمتتقدیرِ سیمابی

تشریح:

اے اقبالؔ! مِلّتِ اسلامیہ کے باغ میں تیری حیثیت ایک بُلبُل کی سی ہے اور باغ کو اُجڑتا ہوا دیکھ کر تڑپنا بُلبُل کی فطرت میں شامل ہے۔ تُو باغ کے صحن میں ہو یا گھونسلے میں یا درختوں کی شاخوں پر۔۔ جہاں بھی ہو، تڑپتا رہ تاکہ باغ میں بیداری پیدا ہو۔ تُو پارا (سیماب) ہے اور پارے کی فطرت ہی یہ ہے کہ ہر لحظہ تڑپتا ہے، یہ فطرت اس سے چھینی نہیں جاسکتی۔ یعنی تجھے چاہیے کہ اور ہر جگہ، ہر مجلس اور ہر تقریب میں مسلمانوں کو بیدار کر اور جہاں موقع ملے اور جس طرح ممکن ہو، قوم کو بیداری کا پیغام دے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی اس شعر کی شرح میں فرماتے ہیں کہ:-

اقبالؔ لاکھ خطاکار سہی لیکن اُس اللہ کے بندے نے اپنے طرزِ عمل سے اس مصرع کو سچ کر دِکھایا، جب تک وہ زندہ رہا (میں گواہی دیتا ہوں) کہ قوم کے عشق میں تڑپتا رہا۔ میرے علاوہ صدہا انسانوں نے اُسے بچشمِ خود تڑپتے دیکھا، بلکہ اُس نے بہت سے مسلمانوں کو تڑپنا سِکھا دیا۔ مجھے اب تک یاد ہے کہ ایک مرتبہ تڑپنے کی حالت میں یہ الفاظ اُس کے منہ سے نکلے تھے: ”یاد رکھو! سرکارِ دو عالم ﷺ کا عاشق دُنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہو سکتا۔“

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
شعر 7

وہ چشمِ پاک‌ بیں کیوں زینتِ برگستواں دیکھے
نظر آتی ہے جس کو مردِ غازی کی جگر تابی

معانیالفاظ
اچھی / پاک چیزوں کا نظارہ کرنے والی آنکھچشمِ پاک بیں
گھوڑے کا ساز اور زین، پاکھر، گھوٹے کا حفاظتی لباسبرگستوَاں
چمکتا ہوا دِل، بہادُر دِل، جوشِ جہادجِگر تابی

تشریح:

جس حقیقت نِگر اور حق شناس آنکھ کو مردِ غازی کی بہادری، دلیری اور جاں فشانی نظر آتی ہے، اُسے یہ دیکھنے کی کیا ضرورت ہے کہ گھوڑوں پر جو پاکھڑیں پڑی ہوئی ہیں اُن کی زیب و زینت اور آرائش کی کیا کیفیت ہے؟

اِس شعر میں جن استعاروں سے کام لیا گیا ہے وہ بڑے ہی پاکیزہ ہیں، لیکن اندیشہ ہے کہ عام پڑھنے والوں کی نظریں استعاروں سے گزر کر حقیقت تک نہ پہنچ سکیں، اس لیے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ”زینتِ برگستواں“ سے مراد لڑائی کا ساز و سامان ہے۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ بے شک مسلمانوں کے پاس لڑائی کا وہ ساز و سامان موجود نہیں جو اہلِ یورپ کے پاس ہے لیکن ان میں جاں باز مجاہدوں کی کمی نہیں ہے اور اس کی تازہ مثال وہ ترک غازی پیش کر چُکے تھے، جنہوں نے مصطفیٰ کمال کی سالاری میں یورپ کی بڑی بڑی طاقتوں کے سازشی پھندے ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالے۔ اُن کے پاس کون سا ساز و سامان تھا؟ وہ اپنی ہمت سے اُٹھے اور یونانیوں کو پے در پے شکست دے کر اناطولیہ سے نکال دیا، حالانکہ انگریز اور فرانسیسی یونانیوں کی پُشت پر تھے۔ یونانیوں سے فارغ ہو کر ترک غازی قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) کی طرف بڑھے تو انگریزوں اور فرانسیسیوں سے جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ ترک اس سے ہراساں نہ ہوئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فرانس نے ترکوں سے صُلح کر لی۔ انگریزوں کے وزیرِاعظم لارئڈ جارج نے جنگ کی ٹھانی لیکن کسی نے بھی اُس کا ساتھ نہ دیا۔ اُس کی وزارت ٹوٹ گئی۔ نئی وزارت نے ترکوں سے صُلح کی گفتگو شروع کر دی، لوازن میں عہد نامہ مکمل ہو گیا اور ترکوں کو آزادی مل گئی۔ اِس مثال سے یہ بات روزِ روشن کی طرح آشکارا ہے کہ ہمت، دلیری ور جاں فشانی موجود ہو تو بڑے ساز و سامان کے بغیر بھی فتح و نصرت پاؤں چومنے لگتی ہے۔

بات یہ ہے کہ لڑائی میں ہر حال مردِ غازی کا وجود ہر چیز ہر مقدّم ہے۔ غازی ہوگا تو ساز و سامان سے کام لے گا۔ غازی ہی نہ ہوگا تو ساز و سامان کس کام آئے گا؟

شعر 8

ضمیرِ لالہ میں روشن چراغِ آرزو کر دے
چمن کے ذرّے ذرّے کو شہیدِ جُستجو کر دے

معانیالفاظ
لالہ کا دِل۔ مراد: قلبِ مسلمضمیرِ لالہ
باغ۔ مراد مسلمان قومچمن
تلاش و جستجو کا شیدائی اور عاشقشہیدِ جُستجو

تشریح:

اے اقبال! تُو لالہ یعنی مسلمانوں کے سینوں میں پھر سے عشقِ رسول اللہ ﷺ کی آگ بھڑکا دے دے اور قوم کے افراد کے دِل میں یہ آرزو پیدا کر دے کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کر سکیں۔

نوٹ: ”جستجو“ سے مراد ہے عظمتِ رفتہ کی جستجو اور ”آرزو“ سے مراد ہے سرکارِ دو عالم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنے کی آرزو۔

بند نمبر 2

شعر 9

سرشکِ چشمِ مُسلم میں ہے نیساں کا اثر پیدا
خلیل اللہؑ کے دریا میں ہوں گے پھر گُہر پیدا

معانیالفاظ
سرشک: آنسو۔ چشم: آنکھ۔ سرشکِ چشمِ مسلم یعنی مسلمان کی آنکھ سے بہنے والا آنسوسرشکِ چشمِ مسلم
بارش کا وہ قطرہ جو سیپی کے منہ میں پڑ کر موتی بنتا ہےنیساں
لفظی معنی: اللہ کا دوست۔ خلیل اللہ حضرت ابراہیمؑ کا لقب ہےخلیل اللہ
موتیگُہر

تشریح:

مسلمان اپنی حالتِ زار پر آنسو بہا رہے ہیں۔ خدا کی بارگاہ میں گِڑگِڑا رہے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو جائیں اور انہیں پھر دینی فرائض بجا لانے کی توفیق نصیب ہو۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ ان آنسوؤں میں اس ابرِ بہار کی کیفیت نمایاں ہے جس کے برسنے سے سیپیوں کی گود میں موتی پرورِش پانے لگتے ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ حضرت ابراہیمؑ خلیل اللہ کی اولاد میں پھر سے وہ قوتِ عمل بیدار ہونے لگی ہے جو کبھی اُن کے اسلاف کا ورثہ ہوا کرتی تھی اور جس کے سبب انہوں نے اپنی قلیل تعداد کے باوجود دنیا بھر میں فتح و نصرت کے جھنڈے گاڑ دیے۔

”خلیل اللہ کے دریا“ سے مراد مِلتِ اسلامیہ ہے۔

شعر 10

کتابِ مِلّتِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر برگ و بر پیدا

معانیالفاظ
روشن قوم۔ مراد: مسلمانمِلّتِ بیضا
جِلد بندی۔ یعنی اتفاق، تنظیم اور اتحاد۔ متحد کرنا، اِکٹھا کرناشیرازہ بندی
ہاشم کا درخت، مراد: مسلمان قومشاخِ ہاشمی
پتے اور پھلبرگ و بر

تشریح:

مِلّتِ اسلامیہ پارہ پارہ ہو کر بِکھر چُکی تھی لیکن اب پھر متحد ہو رہی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے شاخِ ہاشمی یعنی مِلّتِ اسلامیہ ایک بار پھر پھول و پھل سےآراستہ ہوگی یعنی مسلمانوں کی ترقی کا زمانہ آ گیا ہے۔

شعر 11

ربود آں تُرکِ شیرازی دلِ تبریز و کابل را
صبا کرتی ہے بُوئے گُل سے اپنا ہم‌سفر پیدا

معانیالفاظ
صبح کی خوشگوار ہواصبا
پھول کی خوشبوبوئے گُل
سفر کا ساتھیہم سفر

تشریح:

وہ شیرای تُرک، تبریز اور کابل کا دِل چھین کر لے گیا۔ صبا باغ سے نکلتی ہے تو پھولوں کی خوشبو کو سفر میں اپنا ساتھی بنا لیتی ہے۔

یہ شعر بھی استعاروں سے بھرا ہوا ہے۔ ”ترُکِ شیرازی“ حافظؔ کی ایجاد کی ہوئی ترکیب ہے:-

؏ اگر آں ترکِ شیرازی بدست آرد دلِ مارا

اقبالؔ نے جو انداز اختیار کیا ہے اس سے بھی صاف ظاہر ہے کہ یہ مصرع کہتے وقت خواجہ حافظؔ کا شعر سامنے تھا۔ تُرکِ شیرازی سے اشارہ بہ ظاہر مصطفیٰ کمال کی طرف ہے۔ تبریز سے مراد ایران اور کابل سے افغانستان مراد ہے۔ اقبالؔ کا مُدعا یہ ہے کہ ترک غازیوں کے مجاہدانہ کارناموں نے ایران اور افغانستان میں بھی زندگی کا جذبہ پیدا کر دیا۔ ترکوں میں ہمت تھی وہ تنہا لڑ کا کامیاب ہو گئے۔ ایران و افغانستان میں اتنی ہمت نہ تھی، لیکن ترکوں کے سہارے انہیں بھی فائدہ پہنچا اور اس کی مثال یہ ہے کہ پھول کی خوشبو صبا کے بغیر اِدھر اُدھر نہیں بِکھر سکتی۔ صبا چلے تو خوشبو بھی اُس کے ساتھ چل نکلتی ہے۔

مختصر یہ کہ ترکی کے عظیم سپوت مصطفی کمال اور اُس کے رفقاء نے اپنی جرأت و ہمت کے طفیل ایران اور افغانستان کے مسلمانوں کے دل جیت لیے اور جس طرح صبا پھولوں کی خوشبو کو اپنا ہم سفر بنا لیتی ہے اسی طرح دوسرے علاقوں کے مسلمان بھی ترکوں کی طرح بیدار ہو گئے ہیں۔

شعر 12

اگر عثمانیوں پر کوہِ غم ٹُوٹا تو کیا غم ہے
کہ خُونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحَر پیدا

معانیالفاظ
ترکعثمانی
غم کا پہاڑ گِر پڑا۔ اشارہ ہے 1914ء کی عالمگیر جنگ کی طرف جس میں ترکوں نے بہت مصیبتیں برداشت کیںکوہِ غم ٹوٹا
لاکھوں ستاروں کا خونخونِ صد ہزار انجم
صبح طلوع ہوناسحر پیدا ہونا

تشریح:

اے مسلمانو! یہ سچ ہے کہ جنگِ عظیم میں ترکوں نے عظیم نقصان برداشت کیا بلکہ سلطنت، سیادت اور سطوَت تینوں چیزوں کا خاتمہ ہو گیا لیکن یہ آزردہ ہونے کی بات نہیں ہے، کیونکہ ہمیشہ مصائب کے بعد راحت نصیب ہوتی ہے اگر فطرت سے اس بات کی شہادت درکار ہے تو اس بات پر غور کرو کہ لاکھوں ستارے فنا ہو جاتے ہیں تو ایک سحر پیدا ہوتی ہے۔ گویا قربانیاں پیش کرنے سے ہی آزادی و عظمت حاصل کی جاتی ہے۔

شعر 13

جہاں بانی سے ہے دُشوار تر کارِ جہاں بینی
جگر خُوں ہو تو چشمِ دل میں ہوتی ہے نظر پیدا

معانیالفاظ
دُنیا پر حکومت کرناجہاں بانی
زیادہ مشکلدُشوار تر
کامکار
حکومت کا نظام، نظامِ کائنات کو سمجھناجہاں بینی
تکالیف برداشت کرنا، سخت محنت کرناجِگر خوں ہونا
بصیرت، فراستچشمِ دِل

تشریح:

دُنیا پر حکمرانی (جہاں بانی) اتنی مشکل نہیں جتنا زندگی کی حقیقتوں کو پہچاننا مشکل ہے۔ جب تک کلیجا لہو نہ ہو جائے دِل کی آنکھ میں نظر پیدا نہیں ہوتی۔

مراد ہے کہ اے مسلمانو! حکومت (جہاں بانی) تو ایک عارضی شے ہے، آج چلی گئی تو کل آ جائے گی۔ بڑی چیز ”جہاں بینی“ ہے یعنی تمہیں قوموں کے عروج و زوال کے فلسفہ کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ تم وہ غلطی نہ کرو جس کا نتیجہ تباہی ہوتا ہے۔

شعر 14

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ‌وَر پیدا

معانیالفاظ
ایک پھول جو آنکھ سے مشابہت رکھتا ہےنرگس
آنکھوں کا روشن نہ ہونا، اندھا پنبے نوری
باغچمن
آنکھوں والا، پرکھنے والادیدہ ور

تشریح:

اپنے استدلال کی حمایت میں اقبالؔ نرگس کے حوالے سے تمثیل اس طرح پیش کرتے ہیں کہ نرگس کا پھول جو آنکھ سے بہت مشابہت رکھتا ہے وہ ہزارہا سال بینائی سے محرومی کے کرب میں مبتلا رہتا ہے اس کے باوجود بصارت اس کا مقدر نہیں بنتی کہ اس کا حصول بہت مشکل ہے۔ مراد یہ ہے کہ انسان آنکھیں رکھنے کے باوجود بصیرت حاصل کرنے کے لیے بڑے مراحل سے گزرتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یادرکھو! ایسا شخص جو کسی مُردہ قوم کو زندہ کر دے صدیوں بعد جا کر پیدا ہوتا ہے۔ ”دیدہ وَر“ سے اشارہ مصطفی کمال کی طرف ہے جس نے 1922ء میں اقبالؔ کے اس شعر پر عمل کر دکھایا:-

؎ پھونک ڈالے یہ زمین و آسمانِ مستعار
اور خاکستر سے آپ اپنا جہاں پیدا کرے

(بانگِ درا: خضرِ راہ)

دُنیا شاہد ہے کہ اس نے نئی ترکی پیدا کر دی؛ جس میں نہ ملوکیّت ہے، نہ احباریت، نہ حرم سرائے سُلطانی ہے نہ کنیزوں کی فوج ظفر موج، نہ گنڈا، نہ تعویز۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

بقول علامہ اقبال:-

؎ عمر ہا در کعبہ و بُت خانہ می نالد حیات
تا ز بزمِ عشق یک دانائے راز آید برُوں

زندگی طویل عرصے تک کعبہ اور بُت خانے میں گِریہ و زادی کرتی ہے۔ تب کہیں جا کر بزمِ عشق سے ایک دانائے راز پیدا ہوتا ہے۔
(زبورِ عجم: حصہ دوم: خضرِ وقت از خلوتِ دشتِ حجاز آید برُوں)

شعر 15

نوا پیرا ہو اے بُلبل کہ ہو تیرے ترنّم سے
کبوتر کے تنِ نازک میں شاہیں کا جگر پیدا

معانیالفاظ
چہچہانا۔ مراد: جذبے اُبھارنے والے شعر کہنانوا پیرا ہونا
ایک پرندہ۔ مراد: شاعر / اقبالؔبُلبُل
نغمہ، گیتترنّم
مراد: کمزور اور محکوم مسلمانکبوتر
شاہین کی سی جرأت، شاہین کا دِلشاہیں کا جگر

تشریح:

اے بلبل! تُو نغمے گائے جا تاکہ تیرے نغموں سے کبوتر کے نازک جسم میں شاہین کا جگر پیدا ہو جائے۔ مراد یہ ہے کہ اے اقبالؔ! جو مسلمان تیرے مخاطب ہیں وہ کبوتروں کے سے ہیں اور جو منزل درپیش ہے اُس کے لیے شاہیں درکار ہیں، چنانچہ تُو اپنا پیغامِ زندگی اُنہیں (مسلمانوں کو) سُنائے جا۔ اسی طرح اُن میں وہ دلیری پیدا ہو گی جو شاہینوں کے دلوں میں ہوتی ہے۔

یعنی بیشک مال و اسباب اور ساز و سامان کے اعتبار سے مسلمانوں کی حالت کبوتر کی سی ہے اور وہ حالات کا مقابلہ کرنے کی سَکَت نہیں رکھتے لیکن تیرے نغموں سے حاصل ہونے والے ولولے اور ہمت کے باعث یہی لوگ بہادر اور دلیر ہو کر اپنے حقوق کی حفاظت کر سکتے ہیں۔

شعر 16

ترے سینے میں ہے پوشیدہ رازِ زندگی کہہ دے
مسلماں سے حدیثِ سوز و سازِ زندگی کہہ دے

معانیالفاظ
چھُپا ہواپوشیدہ
زندگی کا بھید۔ مراد: زندگی کی اصلیّت و مقصودرازِ زندگی
بات، روایتحدیث
جلنے اور بنانے کی حالتسوز و ساز

تشریح:

اِس مقصد کے لیے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ اے شاعر! تیرے سینے میں جو زندگی کا راز پوشیدہ ہے وہ منکشف کر دے اور مسلمانوں کو زندگی کے ان تمام نشیب و فراز سے آگاہ کر دے جو اُن کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ مراد یہ ہے کہ مِلّت کے افراد اپنی بے حسی کے سبب دینِ اسلام کے اصولوں اور تعلیمات کو جس طرح بھُلائے بیٹھے ہیں، تُو اُن کو آگاہ کر دے تاکہ وہ بیدار ہو کر اپنی سابقہ عظمت و سربلندی کا پھر سے سامان کریں۔

بند نمبر 3

شعر 17

خدائے لم یزل کا دستِ قُدرت تُو، زباں تُو ہے
یقیں پیدا کر اے غافل کہ مغلوبِ گُماں تو ہے

معانیالفاظ
جس کو کبھی زوال نہ آئےلم یزل
ہاتھدست
قوت، طاقتقدرت
اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کر، ایمانیقیں پیدا کر
ویم کا شکار، وہمیمغلوبِ گُماں

تشریح:

اے مسلمان! تُو نے کبھی سوچا ہے کہ اس کائنات میں تیرا درجہ کیا ہے؟ تُو اُس خدا پاک کی قدرت کا ہاتھ اور زبان ہے جسے کبھی زوال نہیں۔ تیرے ذریعہ سے، وہ دُنیا والوں سے ہمکلام ہونا چاہتا ہے یعنی اُس نے تجھے اپنے کلام کا امین اور مبلّغ بنایا ہے۔ تیرے پاس وہ ضابطۂ حیات (قرآنِ مجید) موجود اور محفوظ ہے جو اللہ کی مشیّت کا ترجمان ہے۔ البتہ یہ ہے کہ تُو بے اعتمادی کا شکار ہے چنانچہ اپنی حقیقت کو پوری طرح جاننے کے لیے یقین و اعتماد حاصل کرنا ناگزیر ہے۔ تیرا دِل شکوک و شبہات کا خزینہ بنا ہوا ہے جس کے سبب تُو حقائق کی آگاہی سے محروم رہتا ہے۔ لہذا تجھ پر لازم ہے کہ خود پر یقین و اعتماد پیدا کرے۔

؎ یقیں پیدا کر اے ناداں! یقیں سے ہاتھ آتی ہے
وہ درویشی، کہ جس کے سامنے جھُکتی ہے فغفوری

(بالِ جبریل)

شعر 18

پرے ہے چرخِ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے

معانیالفاظ
بُلند تر ہےپرے ہے
آسمانچرخ
نیلگوں آسماںچرخِ نیلی فام
راستے کی مٹیگردِ راہ

تشریح:

کیا تجھے معلوم نہیں کہ مسلمان کی منزلِ مقصود اس نیلے آسمان سے بھی بہت آگے ہے؟ اس کے قافلے کو اتنی بلندی پر جانا چاہیے کہ ستارے راستے کا غبار بن جائیں۔ سربلندی کے ان منازل و مقامات کا اندازہ کون کر سکتا ہے؟ مراد ہے کہ قدرت نے تیرے مقام کو جو رِفعت عطا کی ہے وہ کسی دوسری قوم کو حاصل نہیں ہے۔

؎ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے اِمتحاں اور بھی ہیں

(بالِ جبریل)

شعر 19

مکاں فانی، مکیں آنی، ازل تیرا، ابد تیرا
خدا کا آخری پیغام ہے تُو، جاوداں تو ہے

معانیالفاظ
فنا ہو جانے والافانی
رہنے والامکیں
یعنی وقت تیرے قابو میں ہےازل تیرا، ابد تیرا
اسلام آخری اور مکمل پیغام ہےخدا کا آخری پیغام
ہمیشہ رہنے والاجاوداں

تشریح:

یاد رکھ! یہ دنیا فانی ہے اور اِس میں تیرا قیام (انسانی زندگی) عارضی ہے لیکن اپنی ذات کے اعتبار سے تُو غیر فانی ہے اور تیرے بعد کوئی قوم پیدا نہیں ہوگی۔ یہ سب کُچھ مِٹ جائے گا لیکن تُو خدا کا آخری پیغام ہے اور ہمیشہ باقی رہے گا۔ یقین رکھ کہ دُنیا کی پیدائش سے اِس کے انجام تک جو کُچھ ہے، سب تیرا ہے۔ مبادا کسی کو غلط فہمی نہ ہو، اقبالؔ کا مقصد خدانخواستہ یہ نہیں کہ مسلمان بطورِ وجود جاودانی (ہمیشہ رہنے والا) ہے یا ازل و ابد اُس کے ہیں۔

مقصود یہ ہے کہ وہ اِس دنیا میں خدا کا آخری پیغام ہے۔ وہ قرآن پاک کی تعلیم دینے کا ذمہ دار ہے۔ اِس لحاظ سے اُ،س کا وجود اس وقت تک قائم رہے گا جب تک قرآن کی تعلیم باقی رہے گی۔ نہ کوئی اور تعلیم نازل ہوگی نہ کوئی دوسری قوم بنے گی۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر مسلمان خدا کے پیغام کا داعی نہ ہو تو اُس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ یہی پاک تعلیم اُس کے لیے دائمی زندگی کا سامان ہے۔

شعر میں ترکیبِ ”ازل تیرا“ کی کلامی و فکری توجیہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

نوٹ: ”ازل تیرا“ شاعرانہ اندازِ بیاں ہے۔ وگرنہ اقبالؔ انسان کو ازلی نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بات قرآن پاک کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ چونکہ قرآن مجید اللہ تعالی کا آخری پیغام ہے اور مسلمان اُس کا حامل ہے، اس لیے وہ بھی قرآنِ حکیم سے رابطۂ قلبی کی بِنا پر جاودانی ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
شعر 20

حنا بندِ عروسِ لالہ ہے خُونِ جگر تیرا
تری نسبت براہیمی ہے، معمارِ جہاں تو ہے

معانیالفاظ
دُنیا کے باغ کی دُلہن کو مہندی لگانے والا / سُرخی دینے والاحنا بندِ عروسِ لالہ
مراد: تیری توحید پرستی اور حُسنِ عمل یا جذبۂ جہادخونِ جگر تیرا
واستہ، تعلق، لگاؤنسبت
دُنیا کی تعمیر کرنے والامعمارِ جہاں

تشریح:

لالے کی دُلہن کے لیے تیرے جگر کے لہو سے مہندی کا سامان مہیا ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ انسانی فطرت کی آرائش تیری ہی محنت و مشقت اور تعلیم و تربیت کی محتاج ہے۔ تجھے حضرت ابراہیمؑ سے خصوصی نسبت ہے اس لیے تو بھی دنیا کا معمار ہے، جس طرح اُنہوں نے خانہ کعبہ کی بنیادیں اُٹھائیں، تُو بھی نئی (اسلامی) دُنیا تعمیر کر۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:-

وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْـرَاهِيْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاِسْـمَاعِيْلُ ؕرَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِـيْمُ

ترجمہ: اور جب ابراھیم اور اسماعیل کعبہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے، اے ہمارے رب ہم سے قبول کر، بے شک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
(القرآن: سورۃ البقرۃ: آیت 127)

واضح ہو کہ اِس بند میں یہ اور اگلے دو شعر بہت مشکل ہیں۔ مضامین نہایت بلند ہیں اور بندِش بغایت پیچیدہ ہے۔

”حنا بندِ عروس۔۔۔“ بہت بلیغ مصرعہ ہے اقبالؔ نے اس مصرع کو بالِ جبریل میں یوں باندھا ہے:-

؏ مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دِلنوازی کا

”عروسِ لالہ“ سے وہ افراد اور اشیاء مراد ہیں جن میں ترقی کی صلاحیت پائی جاتی ہے یا جن کا وجود دُنیا کے لیے زیب و زینت کا موجب ہے۔

شعر 21

تری فطرت امیں ہے ممکناتِ زندگانی کی
جہاں کے جوہرِ مُضمَر کا گویا امتحاں تو ہے

معانیالفاظ
امانت دارامیں
انسانی زندگی کی ممکن ہو سکنے والی چیزیںممکناتِ زندگانی
چھُپا ہوا جوہر، اصلی روحجوہرِ مضمر

تشریح:

اے مسلمان! اللہ نے تیرے فطرت میں ترقی کی غیر محدود صلاحیتیں ودیعت فرما دی ہیں (ممکنات زندگی اقبالؔ کی وضع کردہ اصطلاح ہے) اس لیے تُو اپنی اہمیت کا صحیح شعور پیدا کر۔ اگر تُو نے اپنی صلاحیتوں کو برباد کر دیا، تو یہ کائنات گویا امتحان میں فیل ہو جائے گی۔ اللہ نے اس کائنات میں بہت سی نعماء مخفی کر دی ہیں۔ اگر تُو ان کو مُسخّر نہیں کرے گا تو اِس کائنات کی تخلیق کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا۔

گویا قدرت نے تجھے وہ قوت و صلاحیت عطا کی ہے جس سے تُو پردۂ راز میں پوشیدہ اُن چیزوں کو سامنے لا سکتا ہے جو دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ اُن چیزوں سے بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

شعر 22

جہانِ آب و گِل سے عالَمِ جاوید کی خاطر
نبوّت ساتھ جس کو لے گئی وہ ارمغاں تو ہے

معانیالفاظ
پانی اور مٹی کی یہ دُنیا، یہ کائناتجہانِ آب و گِل
غیر فانی دنیا، ہمیشہ قائم رہنے والی دنیاعالمِ جاوید
نبی ہونے کا درجہنبوّت
تحفہارمغاں

تشریح:

اے مسلمان! تُو وہ تحفہ ہے جس کو نبوّت اس دنیا سے عالمِ جاوید کی خاطر اپنے ساتھ لے گئی۔ اِس بلیغ شعر کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دِن اللہ سرکارِ دو عالم ﷺ سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے آپ ﷺ کو جو دُنیا میں نبی بنا کر بھیجا آپ ﷺ نے وہاں کیا کارِ نمایاں سر انجام دیا؟ تو حضورِ اقدس ﷺ بارگاہِ ایزدی میں عرض کر سکتے ہیں کہ میں نے تیرے مخلص بندوں کی ایک جماعت پیدا کر دی مثلاً صدیقِ اکبرؓ، فاروق اعظمؓ، عثمان غنیؓ اور علی المرتضیؓ وغیرہم۔

لہذا اے مسلمان! تُو اپنے اندر ایمان پیدا کر لے تاکہ قیامت کے دن تیرا شمار بھی اُن مسلمانوں میں ہو سکے جن پر حضورِ انور ﷺ فخر کریں گے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں کہ اقبالؔ نے جب یہ شعر لکھا تھا تو اُس وقت یہ حدیث اُن کے پیشِ نظر رہی ہوگی:-

”انی اباھی بکم الامم“ یعنی میں تمہاری وجہ سے (قیامت کے دن) دوسری اُمتوں پر فخر کروں گا (کہ اے خدا میری اُمت نے سب اُمتوں سے بڑھ کر تیرے نام کو بلند کیا ہے)۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
شعر 23

یہ نکتہ سرگزشتِ مِلّتِ بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوامِ زمینِ ایشیا کا پاسباں تو ہے

معانیالفاظ
واقعہ، کہانی، تاریخسرگزشت
روشن مِلّت – مِلّتِ اسلامیہمِلّتِ بیضاء
ظاہرپیدا
محافظپاسباں

تشریح:

مِلّتِ اسلام کی تاریخ سے یہ بنیادی نکتہ آشکارا ہوتا ہے کہ ایشیا کی سرزمیں میں جتنی بھی قومیں آباد ہیں، اُن کی حفاظت کرنے والا مسلمان کے سوا اور کوئی نہیں۔

اِس بند کے اشعار میں مسلمان کو جو بلند درجہ دیا گیا ہے، اُس کی مثال شعر و ادب کی کسی کتاب میں نہیں ملتی۔ لیکن حقیقت میں یہ تعریف مسلمان کی نہیں، خدا کے آخری پیغام اسلام کی ہے اور مسلمان کی ساری عظمت اسلام ہی کی پیروی پر موقوف ہے۔

شعر 24

سبَق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

معانیالفاظ
سچائی، حق باتصداقت
عدل و انصافعدالت
دلیری، بہادریشجاعت
پیشوائی، سرداری، رہنمائیامامت

تشریح:

اس صورتِ حال میں تیرے لیے لازم ہے کہ پھر سے اپنے اسلاف کی تعلیمات کو یاد کرے یعنی سچائی، انصاف اور شجاعت کو اپنا لے جو تیرے اجداد کی خصوصیات تھیں، اس لیے کہ یہ تو طے ہے اور قدرت نے اس مرتبے کا تجھے اہل قرار دیا ہے کہ بالآخر مستقبل میں دنیا بھر کی رہنمائی اور قیادت کا ذمہ دار تُو ہی ہے۔

  • ”صداقت“ سے مراد یہ کہ مسلمان اس کائنات میں اُن سچائیوں کا عملی پیکر ہو، جن کی تصدیق کلام اللہ کر رہا ہے اور وہ دنیا کو اُن سچائیوں کی دعوت دیتا رہے۔
  • ”عدالت“ سے مقصود یہ ہے کہ خدا کے بندوں کا اِنتظام اُس کے حوالے ہو تو اپنے پرائے میں تمیز کیے بغیر سب سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرے۔
  • ”شجاعت“ سے مراد یہ ہے کہ جب خدا کی راہ میں باطل قوتوں سے ٹکراؤ کا موقع آ جائے تو مسلمان عزم و ہمّت کی بے پناہ تلوار بن جائے اور دُشمنوں کی بڑی سے بڑی قوّت بھی اسے ہراساں نہ کر سکے۔

جس قوم میں یہ اوصاف پیدا ہو جائیں وہی دُنیا کی امامت کا فریضہ سر انجام دے سکتی ہے اور اسی کے لیے یہ منصب زیبا ہے۔

واضح ہو کہ یہ تینوں خوبیاں اصحاب رسولِ ﷺ میں بدرجۂ اُتم موجود تھیں۔ صداقت سیّدِنا صدیقِ اکبرؓ کا خاص وصف ہے، عدالت سّیدِنا عمرِ فارقؓ کا خاص وصف ہے اور شُجاعت سیّدِنا علی المرتضیٰؓ کا خاص وصف ہے۔ اسی طرح ”جوابِ شکوہ“ میں ایک مقام پر چاروں اصحابِ کرام کے اوصاف کا ذکر یوں آیا ہے:-

دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک
عدل اُس کا تھا قوی، لوثِ مراعات سے پاک
شجَرِ فطرتِ مسلم تھا حیا سے نم ناک
تھا شجاعت میں وہ اک ہستیِ فوق الادراک

(بانگِ درا: جوابِ شکوہ)

  • صداقت: سیّدنا ابوبکر صدیقؓ
  • عدل: سیّدنا عمرِ فاروقؓ
  • حیا: سیّدنا عثمان غنیؓ
  • شجاعت: سیّدنا علی المرتضیٰؓ

بند نمبر 4

شعر 25

یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اُخُوّت کی جہاں‌گیری، محبّت کی فراوانی

معانیالفاظ
قدرت کی غرض و غایت، فطرت کا منشامقصودِ فطرت
مسلمان ہونے کا راز / بھیدرمزِ مسلمانی
دُنیا میں انسانی بھائی چارے کا پھیلاؤاُخوت کی جہاں گیری
دُنیا کو فتح کرناجہاں گیری
بہتات، کثرتفراوانی

تشریح:

اے مسلمان! تُو سوچ کہ فطرت کا مقصد کیا ہے اور اسلامی روح کیا پیغام دیتی ہے؟ صرف یہ کہ بھائی چارے کے رشتے ساری دُنیا میں پھیل کر عام ہو جائیں اور ہر گوشے میں محبت ہی محبت نظر آئے۔ ہر شخص دوسروں کو اپنا بھائی سمجھے اور بھائیوں کی طرح اُن سے محبّت کرے۔

؎ تعصّب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانہ میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے بُرا تُو نے

(بانگِ درا: تصویرِ درد)

اقبالؔ نے اسلام کی پیروی میں دُنیا بھر کو اخوت اور محبت کا پیغام دیا لیکن خاص اس مقام پر یہ پیغام صرف مسلمانوں کے لیے ہے، جیسا کہ اگلے شعر میں واضح فرما دیا۔

شعر 26

بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

معانیالفاظ
رنگ اور نسل کے امتیازات – ذات پات کا فرقبُتانِ رنگ و خوں
اِتحاد و اتفاق سے ایک قوم بن جامِلّت میں گُم ہو جا
یعنی علاقائی قومیتیں ختم ہو جائیںنہ تُورانی نہ افغانی

تشریح:

تُو رنگ اور خون کے بُتوں کو توڑ کر ریزہ ریزہ کر دے اور اسلام کے سِوا کوئی رشتہ باقی نہ رہنے دے۔ نہ تو تُو تُورانی ہے، نہ ایرانی اور نہ افغانی۔ تیرا رسول ﷺ ایک ہے، تیرا قرآن ایک ہے۔ پھر چھوٹے چھوٹے گروہ کیوں بناتا ہے؟ اور کیا وجہ ہے کہ تمام مسلمان ہر تعلق توڑ کر صرف اسلامی تعلیق اختیار نہیں کر لیتے؟ تجھے چاہیے کہ ذات، پات، نسل، خاندان اور قبیلہ کے اِمتیازات کو مٹا دے اور اپنے آپ کو ایرانی افغانی پاکستانی کہنے کی بجائے ملتِ اسلامیہ کا فرد قرار دے یعنی اپنے آپ کو کسی مُلک یا نسل سے منسوب نہ کر۔

منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبیؐ، دین بھی، ایمان بھی ایک
حرَمِ پاک بھی، اللہ بھی، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک

(بانگِ درا: جوابِ شکوہ)

واضح ہو کہ مِلّتِ واحدہ کا تصور اُسی صورت عام ہو سکتا ہے جب علاقائی حدود کو یکسر مسترد کر دیا جائے اور قومیّت کی بنیاد عقیدۂ توحید پر رکھی جائے۔

شعر 27

میانِ شاخساراں صحبتِ مرغِ چمن کب تک!
ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہستانی

معانیالفاظ
ٹہنیوں کے درمیانمیانِ شاخساراں
باہم مل بیٹھناصحبت
اُڑنے کی قوتپرواز
خراسان کے ایک علاقے کا نامقھستان
قھستان خراسان کا ایک علاقہ ہے جہاں کے شاہین مشہور ہیںشاہیں قھستانی
عقاب کی قسم کا ایک پرندہ جو تیز اور بلندی کی طرف اُڑتا ہےشاہین

تشریح:

اِس شعر کا لفظی معنی یہ ہے کہ اے مسلمان! تُو باغ کے پرندوں کی صحبت اختیار کر کے شاخوں کے اندر کب تک بیٹھا رہے گا۔ تیرے پروں میں وہ قوت موجود ہے جو قہستانی شاہیں کے پروں میں ہوتی ہے اور اُسی کی طرح انتہائی بلندیوں پر اُڑ سکتا ہے۔

مراد ہے کہ اے مسلمان! تُو غیروں کے درمیان کب تک اپنی انفرادیت کو گُم کرتا رہے گا، جب کہ تیرے بازو میں ایسی قوت ہے کہ تُو اپنا جہاں آپ تعمیر کر سکتا ہے۔ تیری ذات تو شاہین جیسی ہے جو دوسرے پرندوں کا مارا ہوا اور پس خوردہ کھانے سے گریز کرتا ہے اور بلند پروازی کے ذریعے اپنے لیے خود ہی شکار کرتا ہے۔ تجھے چاہیے کہ عیش و عشرت کی زندگی چھوؑ کر جہد و عملی کی طرف آ اور اپنی عظمت و بقا کا سامان کر۔

دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ جب تُو ساری دنیا فتح کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو کسی خاص خطۂ ارض پر قناعت کیوں کرتا ہے؟

؎ یہ پورب، یہ پچھم چکوروں کی دنیا
مِرا نیلگوں آسماں بیکرانہ

(بالِ جبریل: شاہین)

شعر 28

گماں آبادِ ہستی میں یقیں مردِ مسلماں کا
بیاباں کی شبِ تاریک میں قِندیلِ رہبانی

معانیالفاظ
شک و شبہ، وہم، خیال، قیاسگُماں
دشت، صحرا، ریگستان، جنگل، ویرانہ، اُجاڑبیاباں
اندھیری راتشبِ تاریک
شمعقندیل
ترکِ دُنیا کرنے والے (راہبوں) کا چراغقندیلِ رہبانی

تشریح:

یہ دُنیا وہم و گمان سے بھری ہوئی ہے۔ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے، اس میں مسلمان کے یقین و ایمان کو وہی درجہ حاصل ہے جو بیابان کی اندھیری رات میں درویش کے چراغ کو حاصل ہوتا ہے۔ جس طرح وہ بھولے بھٹکے مسافروں کو راہ دکھا سکتا ہے یا پناہ دے سکتا ہے، اُسی طرح مسلمان اس دنیا میں گمراہ انسانیت کو راہِ راست دِکھا سکتا ہے۔ یہی ایمان انسانیت کے لیے پہلا اور آخری سہارا ہے۔ یقین و ایمان سے انسان میں وہ عزم و ہمت پیدا ہوتی ہے جس کی بدولت دنیا کی تاریخ کے عظیم الشان کارنامے انجام پائے۔

شعر 29

مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا، زورِ حیدرؓ، فقرِ بُوذرؓ، صِدقِ سلمانیؓ

معانیالفاظ
شہنشاہِ روپ کا لقبقیصر
نوشیرواں بادشاہ، ایران کا لقبکسریٰ
ظلم و جود سے حکومت کرنااِستبدار
حضرت علی المرتضیؓ کی قوتِ بازوزورِ حیدرؓ
حضرت ابوذر غفاریؓ کا صبر و قناعتفقرِ بوذرؓ
حضرت سلمان فارسیؓ کا صدق و اخلاقصدقِ سلمانیؓ

تشریح:

قیصر و کسریٰ اور ایران و روم کے مطلع العنان شہنشاہوں کو کس نے مِٹایا؟ حضرت علی المرتضیؓ کے زور و قوت، حضرت ابوذرغفاریؓ کے فقر اور حضرت سلمان فارسیؓ کے صدق نے۔ جو قوم خدا کی راہ میں انتہائی مردانگی سے لڑنے کے واسطے تیار نہ ہو، جو خود کم سے کم چیزوں پر قناعت نہ کر لے اور سب کے سامنے بے باکانہ سچ نہ کہے؛ وہ قوم اس دنیا میں شہنشاہی اور ظُلم و جور کو نہیں مِٹا سکتی اور نہ اسلامی نظام قائم کر سکتی ہے۔ مسلمانوں کو زور و قوت، فقر اور صدق کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اگر تم اپنے زمانہ میں ملوکیّت کو مِٹا کر اسلامی مساوات قائم کرنا چاہتے ہو تو حضرت علیؓ کا زور، حضرت ابوزرغفاریؓ کا فقر اور حضرت سلمان فارسیؓ کا صدق پیدا کر لو۔

  • حضرت علیؓ کی قوت ایسی تھی کہ کبھی ذاتی اغراض کے لیے متحرک نہ ہوئی اور کفر و باطل کے مقابلے میں کبھی شش و پنج کا شکار نہیں ہوئی۔
  • حضرت ابوذر غفاریؓ کا فقر یہ تھا کہ اُن کے نزدیک مسلمانوں کے لیے مال و زر جمع کرنا بالکل حرام تھا۔
  • دین کے معاملے میں حضرت سلمان فارسیؓ کے صدق کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک زرتشی کے گھرانے میں پیدا ہوئے، راہِ حق کی تلاش میں عیسائیت اختیار کی۔ بے سر و سامانی کے باوجود ہزاورں میل کا سفر طے کرکے اور سینکڑوں مقامات پر ٹھوکریں کھانے کے بعد مدینہ منورہ پہنچے اور اسلام قبول کیا۔

زیرِ تشریح شعر کی افادیت اور عملی مقصد پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ شعر افادیت کے لحاظ سے اِس نظم کا حاصل ہے۔ اگر اقبالؔ صرف یہی ایک شعر لِکھ کر اس نظم کو ختم کر دیتے تو اُن کا مقصد پورا ہو جاتا۔ میری رائے میں مسلمانوں کی سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ وہ دنیا میں حکمرانی کی آرزو تو رکھتے ہیں لیکن ساری دُنیا جانتی ہے کہ وہ اُس کے اہل نہیں ہیں اور وہ خود بھی اس تلخ حقیت سے بے خبر نہیں ہیں۔ قرآن مجید یہ فرماتا ہے کہ پہلے حکمرانی کی اہلیت پیدا کرو، پھر آرزو کرو۔ لیکن ہماری قوم کو طرزِ عمل یہ ہے کہ خود تو اسلام دے دُور کر واسطہ بھی نہیں ہے لیکن پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے آرزومند ہیں۔

؎ سُنا ہے میں نے غلامی سے اُمّتوں کی نجات
خودی پرورِش و لذّتِ نمود میں ہے

(ضربِ کلیم: فلسطینی عرب سے)

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
شعر 30

ہُوئے احرارِ مِلّت جادہ پیما کس تجمّل سے
تماشائی شگافِ در سے ہیں صدیوں کے زِندانی

معانیالفاظ
حُر کی جمع – آزادی پسند، بے قیداحرار
مِلّتِ اسلامیہ کے آزاد نوجواناحرارِ مِلّت
راستہ ناپنے والے۔ مراد راستہ چلنے والے، راستہ طے کرنے والےجادہ پیما
شان و شوکتتجمّل
دیکھنے والےتماشائی
دروازے کا سوراخشگافِ در
سیکڑوں برسوں سےصدیوں
قیدیزندانی

تشریح:

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ ترکی، ایران اور افغانستان میں مِلت کی آزادی کے لیے لڑنے والے جس شان و شوکت سے اپنے سفر پر نکلے، اس کو سینکڑوں سال کے اسیر و مقید بھی اپنے اپنے قید خانوں کے سوراخوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یعنی احرارِ ملت کا ایک بہت بنیادی نوعیت کا فریضہ یہ بھی ہے کہ وہ مظلم و مقہور لوگوں کو ظُلم و جبر سے نجات دلائیں۔

اِس شعر کا ایک مطلب یہ ہے سکتا ہے کہ مسلمانوں نے اِس شان کے ساتھ حکومت کی یعنی بنی آدم کو حریت کا درس دیا کہ جو لوگ صدیوں سے انسانوں کی غلامی میں مبتلا تھے، وہ بیک جنبشِ نگاہ آزاد ہو گئے مثلاً مصری، شامی، عراقی، ایرانی، اور ہندی اقوام اسلام لائیں تو وہ بُتوں، برہمنوں، ذات پات اور توہماتِ غلامی سے آزاد ہو گئیں۔

شعر 31

ثباتِ زندگی ایمانِ مُحکم سے ہے دنیا میں
کہ المانی سے بھی پائندہ تر نکلا ہے تُورانی

معانیالفاظ
زندگی کا وجود یا زندگی کا قیامثباتِ زندگی
مضبوط، پُختہ، پکامحکم
جرمنالمانی
زیادہ مضبوط و مستحکمپائندہ تر
تُوران / ترکی کا باشندہتُورانی

تشریح:

دیکھو! اِس دُنیا میں زندگی کا قیام مضبوط ایمان پر موقوف ہے، نہ کہ ساز و سامان کی زیادتی پر۔ اس کی مثال تمہارے سامنے ہے۔ جرمنی سے ساز و سامان کا مقابلہ کوئی نہ کر سکتا تھا، پس یہ ختم ہو گیا تو جرمن قوم مقابلے کی تاب نہ لا سکی اور ہار گئی۔ اس کے برعکس ترکوں کو دیکھو! اُن کے پاس ساز و سامانِ جنگ جرمنی سے بہت کم تھا، لیکن بے سامانی کی حالت میں بھی وہ لڑتے رہے۔ جرمن اپنے عہدنامۂ صلح کو بدلوا نہ سکے، لیکن ترکوں نے تلوار کے زور سے پہلا عہد نامہ پُرزے پُرزے کر ڈالا اور نیا عہد نامہ بنوا لیا جو اُن کی آزادی کا پروانہ تھا۔ گویا ایمان کی بدولت تُرک جرمنوں کے مقابلے میں زیادہ پُختہ اور پائیدار نکلے۔

؎ کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

(بالِ جبریل)

اقبالؔ کا اشارہ اُن فتوحات کی طرف ہے جو ترکوں نے 1918ء کی شکست کے صرف چار سال بعد 1923ء میں حاصل کیں۔

شعر 32

جب اس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا
تو کر لیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا

معانیالفاظ
مٹی کا دھکتا ہوا ٹُکڑا – مراد جوشیلا انسانانگارۂ خاکی
حضرت جبرائیلؑ کی سی قوتِ بازوبال و پرِ روح الامیں

تشریح:

بات یہ ہے کہ جب مٹی کے اِس پُتلے (انسان) میں یقین (ایمان) کی صِفت پیدا ہو جاتی ہے تو وہ جبرائیلؑ (روح الامین) کی طرح قدسی نفس اور مقربِ بارگاہِ خداوندی ہو جاتا ہے۔

بند نمبر 5

شعر 33

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

معانیالفاظ
تلواریںشمشیریں
کوششیںتدبیریں
پکا ایمان، قوتِ ایمانذوقِ یقیں
آزادی حاصل کرنازنجیریں کٹ جانا

تشریح:

اے مسلمانو! تُم اِس وقت غلامی کی لعنت میں گرفتار ہو۔ اِس سے نکلنے کا طریقہ، اسلامی طریقہ یہ ہے کہ تم فتنہ و فساد اور قتل و غارت کا سلسلہ شروع کرنے کی بجائے اپنے اندر ایمان کا رنگ پیدا کر لو۔ مثلاً سرکارِ دو عالم ﷺ نے مسلمانوں کے اندر پہلے ایمان پیدا کیا، پھر اللہ نے ان کو جنگِ بدر میں کامیاب کیا۔ اکبر الہ آبادی لِکھتے ہیں:-

؎ خدا کے کام دیکھو بعد کیا ہے اور کیا پہلے
نظر آتا ہے مجھ کو بدر سے غارِ حرا پہلے

یعنی پہلے ایمان، پھر جہاد۔ گویا یہ شعر اقبالؔ نے اسوۂ رسولِ مقبول ﷺ کو پیشِ نظر رکھ کر لِکھا ہے۔ راقم الحروف کا بھی یہی مسلک ہے یہ اگر مسلمان اپنے دُشمنوں سے اِنتقام لینا چاہتے ہیں تو پہلے ایمان پیدا کر لیں۔

یہ بند اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ اقبالؔ نے یہاں یقین و اعتماد کے موضوع کو نسبتاً وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اُن کا نظریہ ہے کہ غلامی کے دور میں اسلحہ اور تدابیر عملاً اُس وقت تک مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں جب تک کہ متعلقہ قوم کے افراد یقین و اعتماد کی منزل تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وہ صورت ہے جو غلامی کی زنجیروں کو کاٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

عشق کے ہیں معجزات سلطنت و فقر و دِیں
عشق کے ادنیٰ غلام صاحبِ تاج و نگیں
عشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیں
عشق سراپا یقیں، اور یقیں فتحِ باب!

(ضربِ کلیم: علم و عشق)

یقیں، مثلِ خلیل آتش نشینی
یقیں، اللہ مستی، خود گُزینی
سُن، اے تہذیبِ حاضر کے گرفتار
غلامی سے بَتر ہے بے یقینی

(بالِ جبریل)

اُٹھّو! مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
کاخِ اُمَرا کے در و دیوار ہِلا دو
گرماؤ غلاموں کا لہُو سوزِ یقیں سے
کُنجشکِ فرومایہ کو شاہیں سے لڑا دو

(بالِ جبریل: فرمانِ خدا)

؎ آگ اس کی پھُونک دیتی ہے برنا و پیر کو
لاکھوں میں ایک بھی ہو اگر صاحبِ یقیں

(ضربِ کلیم)

؎ نُقطۂ پرکارِ حق، مردِ خدا کا یقیں
اور یہ عالم تمام وہم و طلسم و مجاز

(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

شعر 34

کوئی اندازہ کر سکتا ہے اُس کے زور بازو کا!
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

معانیالفاظ
نظرنگاہ
پکے ایمان والا مسلمانمردِ مومن

تشریح:

اے مسلمانو! جب تمہارے اندر ایمان پیدا ہو جائے گا تو تُم دُنیا میں اسی طرح انقلاب برپا کر دو گے جس طرح تمہارے اسلاف نے پیدا کر کے دُنیا کو محوِ حیرت بنا دیا تھا، کیونکہ:

؎ ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکُشا، کارساز

(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

اقبالؔ کہتے ہیں کہ نگاہِ مردِ مومن سے تقدیر بدل سکتی ہے۔ جب مسلمان اس شعر کو سُنتے ہیں تو بغیر سمجھے واہ واہ اور سبحان اللہ کرنے لگتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ آج تک کسی کو یہ توفیق حاصل نہ ہو سکی کہ وہ اس کا مفہوم سمجھتا اور پھر اس پر عمل کرتا۔ بات یہ ہے کہ ہم لوگ کلامِ اقبالؔ کو محض سیاسی اغراض یا گرمیٔ محفل، یا قوالی یا تقریر کی زینت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بیشک نگاہِ مردِ مومن سے تقدیر بدل سکتی ہے لیکن پہلے کوئی مسلمان کسی مومن کی صحبت میں بیٹھ کر کُچھ دنوں اُس کی کشف برداری کرکے اپنے اندر نگاہ تو پیدا کر لے۔ افسوس کے ساتھ لکھنا پڑتا ہے کہ مغربی تعلیم کی بدولت مسلمان کی ذہنیّت اس قدر مادہ پرستانہ ہو گئی ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتا کہ:-

ا۔ تقدیر بھی کوئی چیز ہے۔
ب۔ نگاہ کی بھی کوئی اصلیّت ہے۔
ج۔ صحبت سے یہ چیز پیدا ہو سکتی ہے۔
د۔ دُنیا میں مجھ سے زیادہ قابل بھی کوئی شخص موجود ہے۔

خدا معلوم اقبالؔ کا تجربہ کیا تھا، راقم الحروف (پروفیسر یوسف سلیم چشتی) کا تیس سالہ تجربہ تو یہ ہے کہ میری قوم میں جہلِ مرکّب کی کیفیّت یہ ہے کہ معمولی پڑھا لکھا آدمی تو اپنے آپ کو ارسطو سے بڑھ کر سمجھتا ہے اور شریعت کا برائے نام پابند مسلمان اپنے آپ کو مجدد الف ثانی کا ہم پلہ شمار کرتا ہے۔ اندریں حالات نگاہ پیدا ہو تو کیسے۔

شعر 35

ولایت، پادشاہی، علمِ اشیا کی جہاں‌گیری
یہ سب کیا ہیں، فقط اک نکتۂ ایماں کی تفسیریں

معانیالفاظ
ولی ہونا، اللہ تعالی سے تقربولایت
فلسفہ، سائنسعلمِ اشیاء
فلسفہ و سائنس پر دسترسعلمِ اشیاء کی جہاں گیری
ایمان کی گہری بات / حقیقتنُکتۂ ایماں
وضاحتیں، تشریحاتتفسیریں

تشریح:

انسان کو اِس دنیا میں کن کن درجوں کی آرزو ہو سکتی ہے؟ یہ کہ اُسے ولایت کا مرتبہ مل جائے اور وہ خدا کا قرب حاصل کر لے، اسے بادشاہی اور حکمرانی نصیب ہو، اُسے اشیاء کا علم عطا ہو جائے جس سے کوئی شے باہر نہ رہے، لیکن یہ سب چیزیں کیا ہیں؟ صرف ایمان کے نُکتے کی شرحیں ہیں۔ ایمان پُختہ ہو تو سب کُچھ حاصل ہو سکتا ہے۔ ایمان پُختہ نہ ہو تو اولاً یہ حاصل نہ ہوں گی اور اتفاق سے ہاتھ آجائیں تو زیادہ دیر تک باقی نہ رہیں گی۔

تمہیں یقین نہ ہو تو عربوں کی تاریخ کا مطالعہ کر لو، اُن کو یہ سب نعمتیں حضورِ انور ﷺ کی غلامی (ایمان) کی بدولت حاصل ہو گئیں تھیں۔

شعر 36

براہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہَوس چھُپ چھُپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

معانیالفاظ
حضرت ابراہیمؑ کی سی بصیرت، شانِ توحیدبراہیمی نظر
لالچ، حرصہوَس
خاکہ / نقشہ بناناتصویریں بنانا

تشریح:

صحیح اور پُختہ ایمان، جیسا حضرت ابراہیمؑ کی حقیقت رس نظروں نے حاصل کیا، آسانی سے ہاتھ نہیں آتا۔ انسان کی حرص آرزوؤں کی تصویریں سینوں میں بنا لیتی ہے اور اُن کی پرستش میں لگ جاتی ہے۔ خالص اللہ اور اس کے دینِ پاک کے لیے قربانیاں کرنا سہل نہیں۔ ہمیں ایسے ہی ایمان کی ضرورت ہے جو ذاتی اغراض سے پاک ہو اور جس میں دین و مخلوق کی خدمت کے سوا کوئی جذبہ کارفرما نہ ہو۔

انسان کے اندر دُنیا حاصل کرنے کی ہوس بڑی شدت سے کار فرما ہے اور اس ناپاک مگر واقعی صفت کی بدولت، انسان زبان سے تو اسلام کا اِدِّعا (دعویٰ) کرتا ہے لیکن دل میں خدا کی بجائے اپنی ہوا و ہوس یعنی نفسانی خواہشات کی پرستِش کرتا ہے۔ واضح ہو کہ کوئی شخص، مرشد کی صحبت کے بغیر اس دشمن پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتا۔ حضرت علیؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ اور حضرت سلمان فارسیؓ میں ایمان کا رنگ ذاتی کوشش کی بنا پر پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ یہ کسی ”مردِ مومن“ کی نگاہ کا فیض تھا۔ پس اگر مسلمان ”ہوس“ کے بُت کو توڑنا چاہتے ہیں تو کسی مومن کی صحبت میں بیٹھ کر اپنے بازہ میں طاقت پیدا کر لیں۔ اگر استاد کی تعلیم اور اکھاڑے کی ورزش کے بغیر کوئی شخص اپنے مادی حریف کو چِت نہیں کر سکتا تو مُرشد (استاد) کی نگاہ (تعلیم) اور خانقاہ (اکھاڑا) میں مجاہدہ (ورزش) کے بغیر کوئی شخص اپنے روحانی دشمن کو کیسے شکست دے سکتا ہے؟ اے مسلمانو! یاد رکھو جو شخص تمہیں بزرگانِ دین کی صحبت سے روکتا ہے، وہ تمہار بدترین دُشمن ہے۔

اب کوئی شخص اللہ والا ہے یا نہیں، یہ صرف اُسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب اُسے قرآن و سُنت کی روشنی میں پرکھا جائے، کیونکہ:-

؎ اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہ ہر دستے نباید داد دست

ترجمہ: کبھی کبھی شیطان بھی مشائخ کی شکل بنا لیتے ہیں، پس اُن کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دینے سے بچو۔
(مولانا جلال الدین رومی)

شعر 37

تمیزِ بندہ و آقا فسادِ آدمیّت ہے
حذَر اے چِیرہ دستاں! سخت ہیں فطرت کی تعزیریں

معانیالفاظ
غلام اور آقا میں فرق کرناتمیزِ بندہ و آقا
انسانیت کا بگاڑ / تباہیفسادِ آدمیّت
ڈرو، پرہیز کروحذر
ظلم و ستم کرنے والاچیرہ دست
فطرت کی سزائیں – قانونِ مکافاتِ عملفطرت کی تعزیریں

تشریح:

اے مسلمانو! ذات پات، قوم، قبیلہ اور برادریوں کے اِمتیازات اور بندہ و آقا کی تمیز کو مِٹا دو۔ یہ امتیازات انسانیّت کے حق میں سمِ قاتل ہیں۔ یاد رکھو! قرآن کی رو سے کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا آقا یا غلام نہیں ہو سکتا۔ تم سب کا ایک ہی آقا ہے اور وہ ﷺ— کیا اُس ﷺ کا نام بتانے کی ضرورت ہے؟

؎ وہ دانائے سُبل، ختم الرُّسل، مولائے کُلؐ جس نے
غُبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا

(بالِ جبریل)

دوسرے مصرع میں اقبالؔ نے اُن سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کو، جو مظلوم، بے کس اور بے زبان مزدوروں اور کاشتکاروں کو اپنا زرخرید غلام سمجھتے ہیں اور اُن کی عورتوں کی بے عزتی کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں، متنبہ کیا ہے کہ اگر تُم اپنی حرکاتِ ملعونہ سے باز نہیں آؤ گے تو فطرت تمہیں مِٹا کر رکھ دے گی۔

قرآن پاک میں اِرشاد ہے:-

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيْدٌ

ترجمہ: بے شک تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
(القرآن: سورۃ البروج: آیت 12)

علامہ لِکھتے ہیں:-

؎ ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اُس کی
بُرّاں صفتِ تیغِ دوپیکر نظر اُس کی

(ضربِ کلیم: تقدیر)

شعر 38

حقیقت ایک ہے ہر شے کی، خاکی ہو کہ نُوری ہو
لہُو خورشید کا ٹپکے اگر ذرّے کا دل چِیریں

معانیالفاظ
اصلیت، سچائیحقیقت
مٹی کا بنا ہوا، انسانخاکی
نور کا بنا ہوا، فرشتہنوری
خونلہو
سورجخورشید

تشریح:

اے مسلمانو! بندہ اور آقا کا امتیاز ظالم، خودغرض اور بدکار انسانوں کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اللہ نے تو سب کو یکساں بنایا ہے، بلکہ کائنات میں ہر شے کی اصل و بنیاد ایک ہی ہے۔ بظاہر آفتاب اور ذرہ میں بڑا فرق نظر آتا ہے لیکن در حقیقت ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یا یوں سمجھو کہ ان دونوں کی حقیقت ایک ہی ہے۔ آفتاب بھی مادّی ہے، ذرہ بھی مادّی ہے۔ وہ بھی مخلوق اور مجبور، یہ بھی مخلوق اور مجبور ہے۔

رسولِ پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم سب لوگ آدمؑ کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ کوئی وجود خاکی ہو یا ناری ہو، سب کی اصل ایک ہے۔ اگر ذرے کا دِل چیز کر دیکھیں تو اُس میں سے خون ٹپکنے لگے۔ مراد یہ کہ اگرچہ ذرہ سورج کے مقابلے میں ہیچ ہے، لیکن جب ان کی اصل ایک ہے تو پھر فرق کیوں کیا جائے؟

آج کے سائنسی تصورات کی روشنی میں اس شعر کو دیکھنے والے کہہ سکتے ہیں کہ اقبالؔ نے ایک بڑی حقیقت بیان کر دی تھی، جسے (طلوعِ اسلام کی اشاعت کے) پندرہ برس بعد سائنسی تحقیق نے ثابت کر دکھایا، یعنی جوہری قوّت کی دریافت۔ یہ قوّت ذرّے کی تحلیل سے جنم لیتی ہے، مگر اس قدر بے پناہ ہے کہ بڑی بڑی آبادیوں کو چشمِ زدن میں خاک کر دیتی ہے۔ اس حوالے سے ادارہ آدھی بات کی تحقیق پیشِ خدمت ہے:-

اقبالؔ صاحب کی نظم ”طلوعِ اسلام“ کا یہ شعر”نیوکلیئر فشن ری ایکشن“ کی عکاسی کرتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔

واقعہ کُچھ یوں ہے کہ جب اوٹوہان (Otto Hahn) اور سٹراس مین (Fritz Strassmann) نے یورینیئم (Uranium) کے آئسوٹوپ یورینیئم-235 پر کم رفتار کے نیوٹران (Neutron) کی بوچھاڑ کی تو یورینیئم کا یہ نیوکلیئس (Nucleus) دو نیوکلیائی (Nuclei) میں ٹوٹ گیا اور انرجی خارج ہوئی۔ اِس عمل کو ”فشن ری ایکشن“ کہتے ہیں جس کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ: ”ایسا ری ایکشن جس میں ایک بھاری نیوکلیئس دو یا اُس سے زیادہ چھوٹے نیوکلیائی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور انرجی خارج ہوتی ہے۔“ ∆

اِس دریافت نے نیوکلیئر فزکس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ واضح ہو کہ ایٹم بم میں ”فشن ری ایکشن“ ہی وقوع پذیر ہوتا ہے۔ لاتعداد نیوکلیائی ٹوٹتے ہیں، جس سے اس قدر تباہ کُن انرجی خارج ہوتی ہے۔ ∆∆

ایٹم بم میں جب ایک آزاد نیوٹران (Neutron) یورینیم (Uranium) یا پلوٹونیم (Plutonium) جیسے تابکار (Radioactive) مادے کے ایٹم کے مرکز پر حملہ کرتا ہے، تو یہ دو یا تین مزید نیوٹرانوں کو وہاں سے آزاد کر دیتا ہے۔ توانائی اُس وقت خارج ہوتی ہے جب وہ نیوٹران نیوکلئس (Nucleus) سے الگ ہو جاتے ہیں۔ نکلنے والے یہ نئے نیوٹران دوسرے یورینیم یا پلوٹونیم نیوکلیائی (Nuclei) پر حملہ کرتے ہیں، اسی طرح ان کو تقسیم کرتے ہیں، زیادہ توانائی اور مزید نیوٹران آزاد کرتے ہیں۔ یہ ردِ عمل تقریباً فوری طور پر (instantly) پھیلتا ہے اور انرجی کی ایک بڑی مقدار خارج ہوتی ہے۔ ∆∆∆

”فشن ری ایکشن“ نیوکلیئر پاور پلانٹس میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی تقریباً بیس فیصد بجلی نیوکلیئر پاور پلانٹس سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بحری بیڑے اور سبمرین (submarine) وغیرہ بھی نیوکلیئر انرجی سے استعفادہ کرتے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ نظم ”طلوعِ اسلام“ 1923ء میں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھی گئی جبکہ ”فِشن ری ایکشن“ کی دریافت 19 دسمبر 1938ء میں وقوع پزیر ہوئی۔ ∆∆∆∆

حوالہ جات:-

∆ https://bit.ly/3R7ZJsz

∆∆ https://bit.ly/3feaUm8

∆∆∆ https://bit.ly/2Ocf2zM

∆∆∆∆ https://bit.ly/3xMeESp

فشن ری ایکشن کی دریافت کا سن اس صفحہ سے لیا گیا ہے:-

https://bit.ly/3xLyPjd

طلوعِ اسلام کا سن ذیل شُرُوح سے لیا گیا ہے:-

  • مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر
  • شرح بانگِ درا از ڈاکٹر شفیق احمد
تحقیق: آدھی بات
شعر 39

یقیں محکم، عمل پیہم، محبّت فاتحِ عالم
جہادِ زِندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

معانیالفاظ
پکا ایمانیقیں محکم
مسلسل اور لگاتار جدوجہدعمل پیہم
دُنیا کو فتح کرنے والی محبتمحبت فاتحِ عالم
زندگی کی کشمکشجہادِ زندگانی
شمشیر کی جمع، تلوارشمشیریں

تشریح:

اے مسلمانو! اگر تم اپنے اندر یقینِ محکم، عملِ پیہم اور محبت، یہ صفاتِ سہ گانہ پیدا کر لو تو تُم ساری دُنیا کو فتح کر سکتے ہو۔

زندگی کے جہاد میں مردانِ خُدا کی یہ تلواریں کیا ہیں؟ محض یہ کہ خدا پر اور اپنے مقاصد کی سچائی پر پکا ایمان، اس کے مطابق لگاتار کوشش اور ایسی محبت جو زمانے بھر کو مسخّر کر لے۔ ”یہی تلواریں“ تھیں جن کی بدولت مسلمان ابتدائی دور میں کامیابی کی معراج پر پہنچے تھے۔ اُن کے پاس ساز و سامان نہ تھا۔ بڑے بڑے خزانے بھی نہ تھے، تربیت یافتہ فوجیں بھی نہ تھیں، لیکن خدا پر ایمان پُختہ تھا۔ کتاب اللہ کی بیان کی ہوئی سچائیوں پر اُن کا عقیدہ اُستوار ہو چُکا تھا۔ اِنہیں سچائیوں کو دُنیا میں پھیلانے کے لیے وہ لگاتار جدوجہد کرتے رہے۔ پھر خدا کی مخلوق سے اُنہیں دِلی محبت تھی۔ جہاں گئے، انسانوں کے لیے راحت و آسائش، عدل و انصاف، بہبود و خیر خواہی کے ایسے سامان فراہم کر دیے جو دُنیا نے کبھی نہ دیکھے تھے۔ یہی چیزیں آج کے مسلمانوں کے لیے کامیابی کے گُر ہیں۔ اِن ”تلواروں“ کا مقابلہ نہ توپیں کر سکتی ہے اور نہ ایٹم بم۔

شعر 40

چہ باید مرد را طبعِ بلندے، مشربِ نابے
دلِ گرمے، نگاہِ پاک بینے، جانِ بیتابے

معانیالفاظ
بلند فطرتطبعِ بلند
محبتِ الہی سے سرشار دِلمشربِ ناب
عشقِ رسول اللہ ﷺ سے گرم دِلدلِ گرمے
ہمیشہ پاکیزگی پر رہنے والی نگاہنگاہِ پاک بینے
روح کی تڑپ اور سوز و گُدازجانِ بے تابے

تشریح:

اے مسلمانو! جہاد میں ایک سپاہی (مرد) کو بندوق اور رائفل سے بدرجہا زیادہ ”طبعِ بلند“، ”مشربِ ناب“، ”دلِ گرم“، ”نگاہِ پاک بیں“ اور ”جانِ بے تاب“ کی ضرورت ہے۔

  • ”طبعِ بلند“: ایک مردِ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اُس کی فطرت بلند ہو اور وسیع نظر والا ہو
  • ”مشربِ ناب“: اُس کا دِل محبّتِ الہی سے سرشار ہو
  • ”دِلِ گرم“: اُس کا دِل عشقِ رسول ﷺ سے گرم ہو
  • ”نگاہِ پاک بیں“: اُس کی نگاہ ہمیشہ پاکیزگی پر رہے
  • ”جانِ بے تاب“: اُس کی روح میں سوز و گداز اور تڑپ ہو

اقبالؔ کی فراست کی داد دینی پڑتی ہے کہ اُنہوں نے اس فہرست میں تمام وہی باتیں گِنائی ہیں جو ہماری قوم میں ناپید ہیں۔ مثلاً ہماری:-

(1) طبیعت کی بلندی کا یہ عالم ہے کہ چند روپیوں کے زیورات کے لیے ہم ایک معصوم لڑکی کا قتل کر سکتے ہیں۔

(2) مشرب کی پاکیزگی کا حال یہ ہے کہ سرے سے ہمارا کوئی مشرب ہی نہیں ہے۔

؎ ایمان بیچنے پہ ہیں اب سب تُلے ہوئے
لیکن خریدو ہو جوعلی گڑھ کے بھاؤ سے

(3) دل کی گرمی کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ اُس میں حضورِ انور ﷺ کے تصور کی گنجائش ہی نہیں ہے اور جب محبت ہی نہیں تو پھر گرمی کا ذکر خارج از بحث ہے۔

(4) نگاہِ پاک بیں کی کیفیت یہ ہے کہ مسلمانوں نے اگست 1947ء سے پاک اور ناپاک کی تمیز ہی اُٹھا دی ہے۔

؏ جو گنہ کیجیے ثواب ہے آج

(5) اب رہی جانِ بیتاب، تو آج قوم کی زندگی ہی میں کلام ہے۔ بے تابی کا مسئلہ تو اس کے بعد زیرِ بحث آئے گا۔

؎ دیکھ آئے قوم سنتے تھے جسے!
چند لڑکے ہیں مشن اسکول کے

(اکبر مرحوم)

بند نمبر 6

شعر 41

عقابی شان سے جھپٹے تھے جو، بے بال و پر نکلے
ستارے شام کے خُونِ شفَق میں ڈُوب کر نکلے

معانیالفاظ
مراد رعب و دبدبہ – جرمنوں کی طرف اشارہ ہےعقابی شان
اُڑنے سے عاری، مار کھا گئےبے بال و پر نکلے
سُرخی جو طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت اُفق پر نمودار ہوتی ہےشفق

تشریح:

تمہیں مسلمانوں کی شانِ استواری اور بلندی میں کوئی شبہ ہے؟ یہ دیکھو، جرمن جن کے جھنڈوں کا نشان عقاب تھا، عقابی شان سے اپنے دشمنوں پر حملہ آور ہوئے تھے لیکن لڑائی ختم ہوئی تو یہ ظاہر ہو گیا کہ وہ بال و پر نچوا بیٹھے۔ دوسری طرف نگاہ ڈالو کی سرزمینِ شام کے ستارے یعنی ترک شفق کی لہر میں ڈوب پر پھر اُبھر آئے۔

جیسا کہ شرح میں عرض کیا گیا، عقابی شان کے ساتھ جھپٹنے والوں سے اشارہ جرمنوں کی طرف ہے، جن کی ابتدائی فتوحات نے (پہلی جنگِ یورپ) ساری دُنیا پر کپکپی طاری کر دی تھی، لیکن چار سال میں اس کی قوت زائل ہو گئی اور وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے جو صُلح نامہ اُن کے سامنے پیش کیا، اُسے چُپ چاپ قبول کر لیا۔

”شام کے ستاروں“ سے مراد ترک ہیں، اور یہاں لفظ ”شام“ بیک وقت دو معنوں میں آیا ہے: سرزمینِ شام اور شام کا وقت۔ ترکوں کے پاس وہ قوت ہرگز نہ تھی جو جرمنوں کو حاصل تھی۔ ان کا خون بڑی بے دردی سے بہایا گیا اور انہوں نے بھی ہتھیار ڈالے، مگر اس شرط پر کہ ان کی آزادی برقرار رہے گی۔ جب اتحادیوں نے اس آزادی پر ہاتھ ڈالنا چاہا تو ترک تلوار سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے، اور آزادی کو محفوظ کر لینے کے بعد ہی دم لیا۔

شعر 42

ہُوئے مدفونِ دریا زیرِ دریا تیرنے والے
طمانچے موج کے کھاتے تھے جو، بن کر گُہر نکلے

معانیالفاظ
دفنمدفون
یونانیوں کی آبدوزیں جنہیں ترکوں نے تباہ کر دیا تھازیرِ دریا تیرنے والے
تھپیڑےطمانچے
موتیگُہر

تشریح:

جن کی آبدوزیں سمندر کے نیچے ہر جگہ دوڑتی پھرتی تھیں یعنی جرمن، وہ سمندر ہی میں دفن ہو گئے، یعنی اپنے بچاؤ کے لیے کُچھ بھی نہ کر سکے۔ اِس کے برعکس ترکوں کو دیکھو کہ وہ ہر جگہ لہروں کے طمانچے کھا رہے تھے اور بظاہر اُن کی حالت بہت خستہ نظر آتی تھی، لیکن اُنہیں مصیبتوں کے طوفانوں میں سختیاں سہتے سہتے وہ موتی بن گئے اور آج اُن کی آب و تاب سے دُنیا کی نگاہوں میں چکا چوند پیدا ہو رہی ہے۔ اس شعر میں بھی جرمنوں اور ترکوں ہی کا مقابلہ کیا ہے، اگلے دو شعروں میں بھی یہی کیفیت ہے۔

شعر 43

غبارِ رہ گزر ہیں، کیمیا پر ناز تھا جن کو
جبینیں خاک پر رکھتے تھے جو، اِکسیر گر نکلے

معانیالفاظ
راستے کی مٹی / خاکغبارِ رہ گزر
کیمسٹری، زر سازیکیمیا
ماتھاماتھا
کیمیا گر، سونا بنانے والااکسیر گر

تشریح:

جس قوم کو سائنس کے علوم میں کمال کا درجہ حاصل تھا وہ راستے کا غبار بن کر رہ گئی، لیکن جس قوم کی پیشانیاں خدا پاک کے روبرو سجدہ ریز ہوتی تھیں، وہ اکسیر بنانے والی ثابت ہوئی۔

فارسی ادب میں ”کیمیا“ سے وہ علم مراد ہے جس سے اکسیر بنائی جاتی ہے اور اکسیر مٹی یا معمولی دھاتوں کو سونا بنا دیتی ہے۔ یہاں کیمیا سے مراد کیمسٹری، طبعیات اور سائنس کے دوسرے علوم ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

راقم الحروف کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب 1922ء میں فتح سمرنا کی خبر اخباروں میں شائع ہوئی تھی تو بریلی کی کوئی مسجد ایسی نہ تھی جس میں مسلمانوں نے گھی کے چراغ نہ جلائے ہوں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
شعر 44

ہمارا نرم رو قاصد پیامِ زندگی لایا
خبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں وہ بے خبر نکلے

معانیالفاظ
آہستہ چلنے والا پیامینرم رو قاصد
مسلمانوں کی بیداری کا سبب بناپیامِ زندگی لایا
مراد یونانی فوج جو فون اور ٹیلی گراف سے لیس تھیخبر دیتی تھیں جن کو بجلیاں

تشریح:

بیشک ترکوں کے پاس نہ لاسکی (wireless) کا انتظام تھا نہ تلغراف (telegraph) کا نہ ٹیلی فون کا؛ لیکن اس کے باوجود اُنہوں نے ان دشمنوں کے دانت کھٹے کر دیے، وہی دشمن کہ جو جدید ترین آلاتِ حرب سے مسلح تھے۔

شعر 45

حرم رُسوا ہُوا پیرِ حرم کی کم نگاہی سے
جوانانِ تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے

معانیالفاظ
عربوں کی غداری کی طرف اشارہ ہےحرم رُسوا ہوا
یعنی حجاز کا گورنر شریفِ مکہ جس نے غداری کیپیرِ حرم
تنگ نظری، پست ہمتیکم نگاہی
ترک جوانجوانانِ تتاری
اہلِ بصیرتصاحب نظر

تشریح:

عربوں کے ماتھے پر اگر مِلّت سے غدّاری اور اسلام سے بے وفائی کا داغ لگا تو یہ سب شریفِ مکہ (حجاز کا گورنر) کی کم نگاہی یعنی عاقبت نااندیشی اور خودغرضی کا نتیجہ تھا، کہ اُس نے ترکوں کے خلاف اجنبیوں سے ساز باز کر لی اور اسلامی مقاصد کو نقصان پہنچایا۔ وہ اپنی بادشاہی کی حرص میں سب کچھ کرنے پر آمادہ ہوا تھا، اُسے جو بادشاہی ملی وہ دوسروں کی سرپرستی کی محتاج تھی۔ لیکن ترک جوانوں کو دیکھو! انہوں نے حقیقتِ حال کا صحیح اندازہ کیا اور ہمت و جواں مردی سے کام لیتے ہوئے اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر کافروں کا مقابلہ کیا اور اپنی آزادی بہ زورِ شمشیر سب سے منوا لی۔ یہ اُن کی ”صاحب نظری“ کا ایک روشن ثبوت ہے۔

حسین شریفِ مکہ نے تو لُٹیا ہی ڈبو دی۔ اسلام کو رُسوا کر دیا کہ کافروں کے ساتھ مِل کر اُس قوم کا سینہ گولیوں سے چھلنی کر دیا جس نے حرمین شریفن کی حفاظت کے لیے صدیوں تک اپنا خون پانی کی طرح بہایا۔

حسین ابن علی (شریفِ مکہ)
شعر 46

زمیں سے نُوریانِ آسماں پرواز کہتے تھے
یہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے

معانیالفاظ
آسمانوں پر اُڑنے والے، نوری مخلوق، فرشتےنوریانِ آسماں پرواز
یہ مٹے کے بنے ہوئے انسان، مراد ترکیہ خاکی
زیادہ جان دارزندہ تر
ثابت قدم، مضبوطپائندہ تر
زیادہ روشنتابندہ تر

تشریح:

یہی وجہ ہے کہ دنیائے اسلام میں جس قدر سچے مسلمان موجود تھے، وہ سب، اور جس قدر فرشتے زمین سے آسمان تک جاتے تھے، وہ سب یہی کہتے تھے کہ واقعی ترک تو بڑے ثابت قدم، بڑے جانباز اور بڑے حوصلہ مند ثابت ہوئے۔

شعر 47

جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں
اِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے، اُدھر ڈُوبے اِدھر نکلے

معنیلفظ
سورج کی طرحصورتِ خورشید

تشریح:

ایمان والے لوگ اس دُنیا میں سورج کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ پرانی دنیا میں ڈوبے تو نئی دنیا میں جا نکلے، نئی دنیا میں ڈوبے تو پرانی دنیا میں آ نکلے۔ مراد یہ ہے کہ اِن کی کسی شکست کو شکست نہ سمجھنا چاہیے۔ وہ ایک میدان میں شکست کھاتے ہیں تو قوتِ ایمان کے بل پر دوسرے میدان میں فتح حاصل کر کے پہلی شکست کی تلافی کر لیتے ہیں۔ ان کے لیے سورج کی مثال نہایت ہی پاکیزہ مثال ہے۔

حقیقت بھی یہ ہے کہ جن لوگوں کے دِلوں میں ایمان کی چنگاری پوشیدہ ہوتی ہے وہ دُنیا میں آفتاب کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں۔ اِدھر ڈُوبے اُدھر نکلے یعنی اگر 1918ء میں شکست کھائی تو 1922ء میں شکست دے دی۔

شعر 48

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے
یہی قوّت ہے جو صورت گرِ تقدیر مِلّت ہے

معانیالفاظ
ایمان، خود اعتمادییقیں
پوری قوم کی سربلندی اور ترقی کا سببسرمایۂ تعمیرِ مِلّت
صورت بنانے والا / والی، نقاش، مصورصورت گر

تشریح:

حق بات تو یہ ہے کہ افراد کا یقین ہی وہ سرمایہ ہے جو مِلّت کی تعمیر کا باعث بنتا ہے۔ اگر افراد کے دِلوں میں یقین (ایمان) کا رنگ موجود ہو تو قوم اگر کسی معرکہ میں ناکام بھی ہو جائے تو دوبارہ کُچھ عرصہ کے بعد کامیاب ہو سکتی ہے۔ یہ صفتِ یقین وہ قوت ہے جس کی بدولت کسی قوم کی بگڑی ہوئی تقدیر بن جاتی ہے۔

بند نمبر 7

شعر 49

تُو رازِ کن فکاں ہے، اپنی انکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز داں ہو جا، خدا کا ترجماں ہو جا

معانیالفاظ
کائنات کو پیدا کرنے کا رازرازِ کُن فکاں
محرمِ اسراررازداں
توحیدِ خداوندی سے آگاہ ہو کر دوسروں کو بتانے والاخدا کا ترجماں

تشریح:

اے ہندی مسلمان! ترکوں کی زندگی سے سبق لے۔ اگر وہ آزاد ہوگئے تو تُو بھی آزاد ہو سکتا ہے۔ بس اس کی صورت یہ ہے کہ تُو:-

ا۔ پہلے اپنی حقیقت سے آگاہی حاصل کر کہ تُو مقصدِ تخلیقِ کائنات ہے۔
ب۔ اس کے بعد اپنی خودی کی صحیح طریق پر (اور عشقِ رسول ﷺ کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے) تربیت کر۔
ج۔ اس کے بعد دُنیا میں حکومتِ الہیہ قائم کر دے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی اس شعر کے حوالے سے رقم طراز ہیں:-

نوٹ: واضح ہو کہ یہ شعر بہت تفصیل طلب ہے۔ میں نے صرف مطلب بیان کر دیا ہے۔ اس کی وضاحت کروں تو بذات خود ایک کتاب مرتب ہو سکتی ہے۔ ہاں اگر قوم نے کبھی اشتیاق ظاہر کیا تو یہ خدمت بسر و چشم انجام دوں گا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
شعر 50

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا

معانیالفاظ
لالچ، حرصہوَس
مراد تمام انسان، تمام انسانوں کی جماعتنوعِ انساں

تشریح:

اے مسلمان! اس وقت تمام دُنیا اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کر رہی ہے۔ ہر شخص نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ حرص و ہوس نے بنی نوع انسان کو ٹُکڑے ٹُکڑے کر ڈالا، وہ گروہوں میں بٹ گئے۔ کہیں نسلی گروں ہیں، کہیں جغرافیائی، کہیں ذات پات کی تفریق ہے، کہیں رنگ اور مذہب کی۔ پس تُو ان سب کو اخوت اور برادری کا پیغام پہنچا اور محبت کی زبان بن کر اُنہیں آپس میں جوڑ دے۔

شعر 51

یہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی
تُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جا

معانیالفاظ
مراد خاص علاقے تک خود کو محدود کرنے والاشرمندۂ ساحل
وسیع یعنی علاقئی حدود سے آزاد ہو جابے کراں ہو جا

تشریح:

خود مسلمانوں کی حالت دیکھ، ایک گروں ہندیوں کا ہے، دوسرا خراسانیوں کا۔ کوئی اپنے آپ کو افغان کہتا ہے، کوئی تورانی، یہ اوٹیں ہیں جو انہوں نے خود کھڑی کی ہیں۔ تُو سمندر ہے اچھل اور اوٹوں کو توڑتا ہوا ایسی وُسعت اختیار کر لے کہ کسی کو تیرے کناروں کا پتا نہ لگ سکے۔ یعنی ان چھوٹی چھوٹی حدبندیوں کو توڑ کر اسلام کے رشتہ میں جوڑ دے اور ایسی ملت بنا دے جو ساری دنیا پر چھائی ہوئی ہو۔ یعنی تُو ان کو وحدتِ ملی کا درس دے اور جغرافیائی حدود و قیود سے بالا تر ہو کر ان کے اندر آفاقیّت (عالمگیریّت) کی شان پیدا کر دے۔ واضح ہو کہ اسلام نے تمام جغرافیائی حدود کو باطل کرکے مسلمانوں کو ایک عالمگیری قوم بنا دیا ہے۔

؎ بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے

(وطنیّت)

شعر 52

غبار آلودۂ رنگ و نَسب ہیں بال و پر تیرے
تُو اے مُرغِ حرم! اُڑنے سے پہلے پَرفشاں ہو جا

معانیالفاظ
تنگ نظری کی مٹی میں اٹا ہواغبار آلودۂ رنگ و نسب
مراد قوتیں اور صلاحیتیںبال و پر
حرم کا پرندہ، مراد مسلمانمُرغِ حرم
پروں کو جھاڑناپر فشاں ہونا

تشریح:

تُو کعبے کا پرندہ ہے لیکن تیرے بال و پر رنگ و نسل کے غبار سے اٹ گئے ہیں۔ اے پرندے! تُو اُڑنے سے پہلے ان پروں کو جھاڑ لے، یعنی رنگ اور نسب کا امتیاز مِٹا کر رکھ دے۔

شعر 53

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سِرِّ زندگانی ہے
نکل کر حلقۂ شام و سحَر سے جاوداں ہو جا

معانیالفاظ
رازسِر
زمانے کا چکرحلقۂ شام و سحر
ہمیشہ کی زندگی پانے والاجاوداں

تشریح:

اے مسلمان! اپنی خودی کی معرفت حاصل کر لے کیونکہ تیری ”خودی“ حیات کا راز ہے۔ زندگی کی حقیقت اسی میں پوشیدہ ہے۔ اور تیری زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ تُو اپنی خودی سے آگاہ ہو جائے۔

؎ یہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار

(بالِ جبریل: ساقی نامہ)

یاد رکھ! جب تُو اپنی خودی کی معرفت حاصل کر لے گا تو اُس وقت تجھ میں اس قدر طاقت حاصل ہو جائے گی کہ تُو زمان و مکان کی قید سے نکل سکے گا اور جو شخص زمان و مکان سے بالا تر ہو جاتا ہے وہ (جیسا کہ سب جانتے ہیں) حیاتِ جاوداں (ہمیشہ کی زندگی) حاصل کر لیتا ہے۔

شعر 54

مَصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
شبستانِ محبّت میں حریر و پرنیاں ہو جا

معانیالفاظ
زندگی کا میدانِ جنگمصافِ زندگی
فولاد کی سی خصلت / خوبی، مصیبتوں میں بھی ثابت قدم رہنے کی عادتسیرتِ فولاد
امیروں کے رات بسر کرنے کی جگہشبستان
محبت کا محلشبستانِ محبت
ریشم و دیباحریر و پرنیاں

تشریح:

اے مسلمان! زندگی کی جنگ یا جد و جہد میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تجھے اپنے آپ کو فولاد کی طرح مضبوط بنانا چاہیے یعنی مصائب برداشت کرنے کی طاقت پیدا کرنی چاہیے لیکن جب تُو اپنے بھائیوں (مسلمانوں) سے ملے تو ریشم کی طرح نرم ہوجا۔ یعنی اُن سے نرمی کا برتاؤ کر۔ یہ مضمون اس آیت سے ماخوذ ہے:-

مُّحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّـٰهِ ۚ وَالَّـذِيْنَ مَعَهٝٓ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَـمَآءُ بَيْنَـهُـمْ ۖ

ترجمہ: بے شک (حضرتِ اقدس) محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں، یعنی (مسلمان) اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ لافروں کے مقابلہ میں (فولاد کی طرح) سخت ہیں (لیکن) آپس میں ایک دوسرے پر مہربان ہیں۔
(القرآن: سوۃ الفتح: آیت 29)

اسی مضمون کو اقبالؔ نے اپنی نظم ”مومن“ میں یوں ادا فرمایا ہے:-

؎ ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

(ضربِ کلیم: مومن)

شعر 55

گزر جا بن کے سیلِ تُند رَو کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آئے تو جُوئے نغمہ خواں ہو جا

معانیالفاظ
پانی کا تیز چلنے والا طوفانسیلِ تند رو
پہاڑ ار اُجاڑکوہ و بیابان
باغ، یعنی مسلمانوں کی جماعتگُلستاں
گاتی ہوئی ندی، مراد فائدہ پہنچانے والاجُوئے نغمہ خواں

تشریح:

پہاڑ اور بیابان راستے میں آ جائیں تو تند و تیز سیلاب کی طرح گزر جانا چاہیے۔ اگر کہیں باغ سامنے آجائے تو وہ ندی بن جانا چاہیے جس کی رفتار سے نغمے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ دراصل پہلے شعر کے مضمون کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

یعنی اے مسلمان! اگر کوئی دشمن تیرے سامنے کوہ بن کر آئے تو اُس کا مقابلہ کر، لیکن اگر کوئی شخص تجھ سے دوستی کرے تو اُس کو فائدہ پہنچا، اُس کے ساتھ حُسنِ سلوک کر۔

شعر 56

ترے علم و محبّت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر سازِ فطرت میں نَوا کوئی

معانیالفاظ
قدرت کا سازسازِ فطرت
آواز، صدا، نِدا، سُرنوا

تشریح:

اے مسلمان! تیرے علم اور محبت کی کوئی حد نہیں۔ یہ دو نعمتیں جو تجھے عطا ہوئی ہیں، کسی دوسرے کو عطا نہیں ہوئیں۔ یقین رکھ کہ فطرت کے ساز میں تجھ سے بہتر کوئی نغمہ نہیں۔ ”علم“ سے مراد وہ علم ہے جس انبیاء کے ذریعے سے انسان کو مِلا اور اس میں حقائقِ اشیاء کا علم بھی شامل ہے۔ ”محبت“ سے مراد ہے خدائے پاک سے محبّت جس کی بدولت انسانوں میں خلقِ خدا کے لیے شفقت پیدا ہوتی ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی اِس شعر کی تشریح میں لکھتے ہیں:-

اے مسلمان! تجھے اللہ نے دو قوتیں عطا فرمائی ہیں، فکر اور ذکر۔ قوتِ فکر کی بدولت تو علم حاصل کر سکتا ہے اور قوتِ ذکر کی بدولت تجھ میں عشقِ رسول ﷺ کا رنگ پیدا ہو سکتا ہے اور اس حقیقت کو مدِ نظر رکھ کہ نہ تیرے علم کی کوئی انتہا ہے نہ عشق کی کوئی نہایت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تُو کائنات میں اشرف المخلوقات ہے، تُو اس کائنات کا حاکم اور سردار ہے اس لیے اللہ نے تجھ کو یہ دو طاقتیں ایسی عطا فرمائی ہیں جو ذات کے اعتبار سے غیر محدود ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

بند نمبر 8

شعر 57

ابھی تک آدمی صیدِ زبونِ شہریاری ہے
قیامت ہے کہ انساں نوعِ انساں کا شکاری ہے

معانیالفاظ
شکارصید
عاجز شکارصیدِ زبوں
بادشاہت، حکومت، ملوکیتشہریاری
کتنے دُکھ کی بات ہےقیامت ہے
ظلم و ستم کرنے والاشکاری

تشریح:

اے مسلمان! یہ بات تیرے لیے کیا باعثِ خجالت (شرمندگی، ندامت) نہیں ہے کہ تُو نے ابھی تک دُنیا سے ملوکیت کا خاتمہ نہیں کیا، جس کی وجہ سے انسان آج بھی حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہو سکا۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ انسان خود اپنے ہی بھائیوں کو اپنا غلام (شکار) بناتا رہتا ہے۔ آج سرمایہ داروں اور حکمرانوں نے اپنے اغراض کے لیے انسانوں کو نشانۂ ستم بنا رکھا ہے۔

شعر 58

نظر کو خِیرہ کرتی ہے چمک تہذیبِ حاضر کی
یہ صنّاعی مگر جھُوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

معانیالفاظ
چندھیا دینا، چکا چوند پیدا کرناخِیرہ کرنا
جدید دور کا تہذیب و تمدن (رسم و رواج، اخلاقیات وغیرہ) جس پر یورپی تہذیب کا اثر ہےتہذیبِ حاضر
کاریگریصناعی
وہ نگینے جو اصلی نہ ہوںجھوٹے نگ
نازک زیوارت میں ٹکڑے جوڑنا، باریک کام کرناریزہ کاری

تشریح:

ملوکیت کے علاوہ تہذیبِ مغرب بھی آدم کے حق میں لعنت ہے۔ اگر بظاہر یہ تہذیب بڑی دِلکش ہے لیکن یہ وہ زیور ہے جس میں جھوٹے نگینے لگے ہوئے ہیں، یعنی اس میں جس قدر خوبیاں نظر آتی ہیں، وہ در اصل برائیاں ہیں۔

شعر 59

وہ حکمت ناز تھا جس پر خردمندانِ مغرب کو
ہوَس کے پنجۂ خُونیں میں تیغِ کارزاری ہے

معانیالفاظ
دانائیحکمت
خردمند کی جمع۔ مراد دانا، فلسفیخِردمندان
لالچ، حرصہوَس
خون سے لتھڑا ہوا ہاتھپہنجۂ خونیں
جنگ کی تلوارتیغِ کارزاری

تشریح:

جس سائنس پر اہل یورپ فخر کرتے تھے، آج وہی سائنس اقوامِ مغرب کی ہوس پرستی اور استعمار پسندی کی وجہ سے بنی آدم کے حق میں لعنت بلکہ تباہی کا موجب بن گیا ہے۔

اِس شعر میں اُن خوفناک اور مہلک آلاتِ جنگ کی طرف اشارہ ہے جو سائنس کی بدولت عالمِ وجود میں آئے (اب اُن میں ”ایٹم بم“ کا اور اضافہ ہو گیا ہے)۔

شعر 60

تدبّر کی فسُوں کاری سے محکم ہو نہیں سکتا
جہاں میں جس تمدّن کی بِنا سرمایہ داری ہے

معانیالفاظ
غور و فکر، عقلتدبّر
جادوگریفسوں کاری
پکامحکم
رہنے سہنے کا طریقہتمدّن
بنیادبِنا
زیادہ مال دار / دولت مند ہوناسرمایہ داری

تشریح:

حقیقت یہ ہے کہ اہلِ مغرب کتنی ہی کوشش کیوں نہ کریں، تمدن (طریقِ زندگی) جس کی بنیاد سرمایہ داری اور ظلم و ستم پر ہے، کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔ اقبالؔ نے یہ خیال 1922ء میں ظاہر کیا تھا، اور یہ بات آج بھی روزِ روزشن کی طرح درُست ہے۔

شعر 61

عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی، جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہے

معانیالفاظ
مراد انسانخاکی
نور سے بنا ہوانوری
آگ سے بنا ہواناری

تشریح:

انسان، اپنی فطرت کے اعتبار سے نہ نیک (نوری) ہے نہ بد (ناری) ہے۔ وہ اس دنیا میں جیسے اعمال کرتا ہے، ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ جو قوم اللہ کے احکام کی پابندی کرتی ہے وہ نِکوکار (جنتی) ہے اور جو نافرمانی کرتی ہے وہ بدکار(جہنمی) ہے۔

علامہ مشہور فلسفی بھرتری ہری کی زبان سے فرماتے ہیں:-

؎ سجدۂ بے ذوق عمل خشک و بجائی نرسد
زندگانی ہمہ کردار، چہ زیبا و چہ زشت

ترجمہ: ذوقِ عمل کے بغیر عبادت خشک رہتی ہے اور کہیں نہیں پہنچاتی؛ زندگی سر تا پا کردار ہے خواہ اچھا ہو یا برا۔
(جاوید نامہ: آں سوئے افلاک: صحبت با شاعرِ ہندی برتری ہری)

شعر 62

خروش آموزِ بُلبل ہو، گِرہ غنچے کی وا کر دے
کہ تُو اس گُلِستاں کے واسطے بادِ بہاری ہے

معانیالفاظ
جوش سکھانے والا، جوشیلا بنانے والاخروش آموز
کلی کی گانٹھ کھول دےگِرہ غنچے کی وا کر دے
باغگُلستاں
بہار کی ہوابادِ بہاری

تشریح:

اے مسلمان! تیرا وجود اس دنیا کے حق میں سراسر باعثِ رحمت و برکت ہے، اس لیے تُو انسانوں کو محبت کا پیغام دے اور اطاعتِ الہی کا سبق پڑھا۔ کیونکہ انسان کو صرف اللہ کی اطاعت سے اطمینانِ قلبی حاصل ہو سکتا ہے۔

شعر 63

پھر اُٹھّی ایشیا کے دل سے چنگاری محبّت کی
زمیں جولاں گہِ اطلس قبایانِ تتاری ہے

معانیالفاظ
گھوڑے دوڑانے کا میدانجولاں گاہ
تاتار کے وہ لوگ جنہوں نے اطلس (ریشم) کی قبائیں پہن رکھی ہیں، ترک سرداراطلسِ قبایانِ تتاری

تشریح:

ترکوں نے اپنے موجود طرزِ عمل سے ثابت کر دیا ہے کہ اگر وہ کمر بستہ ہو جائیں تو دُنیا کو اسلام کا امن آفریں پیغام سُنا سکتے ہیں۔

شعر 64

بیا پیدا خریدارست جانِ ناتوانے را
”پس از مدّت گذار افتاد بر ما کاروانے را“

معانیالفاظ
ستم رسیدہ جانجانِ ناتواں
ایک مُدت گزرنے کے بعدپس از مُدّت

تشریح:

اے مسلمانو! اُٹھو! ستم رسیدہ انسانیّت (جانِ ناتواں) تمھارے پیغام کو سُننے کے لیے بیتاب ہے۔ بڑی مُدّت کے بعد تمہیں یہ موقع نصیب ہوا ہے کہ اسلام کی خوبیاں دُنیا پر ظاہر کر دو۔ آج یورپ، جس مصیبت میں گرفتار ہے، اُس کا ازالہ صرف اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہو سکتا ہے۔

بند نمبر 9

اِس پورے بند میں مِلّتِ اسلامیہ کے احیاء پر جوشِ مسرّت کا اظہار کیا گیا ہے اور ضمناً مسلمانوں کو اُن کے اصل مقاصد و فرائض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔


شعر 65

بیا ساقی نواے مرغِ زار از شاخسار آمد
بہار آمد نگار آمد، نگار آمد قرار آمد

تشریح:

اے ساقی، آ، کہ شاخ سے ایک ناتواں پرندے کی آواز آ رہی ہے کہ بہار آ گئی، محبوب آ گیا اور جب محبوب آ گیا تو بے قرار دِل کو سکون آ گیا۔

شعر 66

کشید ابرِ بہاری خیمہ اندر وادی و صحرا
صداے آبشاراں از فرازِ کوہسار آمد

تشریح:

بہار کے بادل نے جنگل کی وادی میں اپنا خیمہ نصب کر دیا ہے اور پہاڑ کی چوٹی سے چشموں کے بہنے کی (دِل کش) آوازیں آ رہی ہیں (اس سارے بند میں ایک ہی بات مختلف استعاروں / تشبیہوں میں کی گئی ہے)۔

شعر 67

سرت گردم تو ہم قانونِ پیشیں ساز دہ ساقی
کہ خیلِ نغمہ پردازاں قطار اندر قطار آمد

تشریح:

اے ساقی! میں تیرے قربان جاؤں، اب تُو بھی وہی پرانا یعنی اگلے مجاہدوں کا ساز چھیڑ، کیونکہ آج نغمے سنانے والوں کی جماعت / گروہ قطار در قطار چلی آ رہی ہے (مسلمانوں میں پھر مجاہد پیدا ہونے لگے ہیں)۔

شعر 68

کنار از زاہداں برگیر و بےباکانہ ساغر کش
پس از مدّت ازیں شاخِ کہن بانگِ ہزار آمد

تشریح:

اے (مسلمان!) تُو زاہدوں (یا نام نہاد مُلّاؤں) کا ساتھ چھوڑ اور بے خوف ہو کر عشقِ حقیقی کا جام پی، کیونکہ ایک مُدّت کے بعد اس پرانی شاخ سے بُلبُل کی آواز آئی ہے۔ یعنی ایک مُدّت کے بعد مردِ مجاہد کی آواز سُنی ہے۔

فارسی مصرعے کی تضمین اور الفاظ کے فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

دوسرا مصرع نظیری نیشاپوری کا ہے جس میں ”مُدّت“ کی بجائے ”عمرے“ آیا ہے۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بانگِ درا
شعر 69

بہ مشتاقاں حدیثِ خواجۂؐ بدر و حنین آور
تصرّف ہاے پنہانش بچشمم آشکار آمد

تشریح:

عاشقوں کو جنگِ بدر اور جنگِ حنین کے سردار حضور اکرم ﷺ کا ذکر سنا دے، جن کے باطنی تصرّفات میری آنکھوں کو صاف صاف نظر آ رہے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کو پھر سے جو کامیابی حاصل ہوئی ہے، وہ حضور اکرم ﷺ کے روحانی تصرّف (اختیار) ہی کا پھل / ثمرہ ہے۔

شعر 70

دگر شاخِ خلیلؑ از خُونِ ما نم ناک می گردد
ببازارِ محبّت نقدِ ما کامل عیار آمد

تشریح:

گُلزارِ ابراہیمی اب پھر ہمارے خون سے تر ہونے والا ہے (یعنی ہم اس کے تحفظ کی خاطر جان دینے پر بالکل تیار ہیں)۔ اس صورت میں ہمارا نقدِ جاں محبّت کے بازار میں کھرا نِکلا ہے۔

شعر 71

سرِ خاکِ شہیدے برگہاے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہالِ مِلّتِ ما سازگار آمد

تشریح:

میں اُس شہید کی خاک پر لالہ کے پھول چڑھاتا ہوں جس کے خون نے ہماری مِلّت کے درخت کو سرسبز کر دیا۔

اِس شعر میں حضرت امام حسینؓ کے واقعۂ کربلا کی طرف اشارہ ہے، جنہوں نے باطل قوت سے ٹکرا کر جان دینا قبول کیا لیکن اس کے آگے جھُکے نہیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اقبالؔ نے اس شعر سے ترک شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا ہو، کہ جن کی قربانیوں نے مسلمان قوم میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑا دی۔

شعر 72

”بیا تا گُل بیفشانیم و مے در ساغر اندازیم
فلک را سقف بشگافیم و طرحِ دیگر اندازیم“

تشریح:

(اے مسلمان!) آ تاکہ ہم سب مل کر پھول کی بارش کریں، یا پھول برسائیں اور دل کے پیالے کو محبت کی شراب سے لبریز کر لیں، یعنی پھر اپنے نعرہ ہائے تکبیر سے آسمان کی چھت میں شگاف ڈال دیں اور ایک نئی زندگی کی بنیاد رکھیں۔ آخری شعر حافظؔ شیرازی کی ایک غزل کا مطلع ہے۔ اسی غزل کا مقطع یوں ہے:-

؎ سُخن دانی و جوش خوانی نمی ورزند در شیراز
بیا حافظ کہ تا خود را بہ مُلکے دیگر اندازیم

ترجمہ: شیراز میں اب نہ تو سخن فہمی (شعر کی قدردانی) باقی رہی ہے اور نہ ہی کلام کا وہ جوش و خروش؛ اے حافظ! آؤ (یہاں سے چلیں) اور اپنے آپ کو کسی دوسرے ملک یا شہر میں لے جائیں۔

تبصرہ

”طلوعِ اسلام“ اسلامی نشاۃِ ثانیہ کا ایک لازوال اور الہامی منشور ہے۔ اقبالؔ نے اِس طویل نظم میں ثابت کیا ہے کہ قوموں کی حیات مادی ساز و سامان پر نہیں بلکہ غیر متزلزل یقین، خودی کی بیداری اور جہدِ مسلسل پر منحصر ہے۔ مغربی استعمار اور سرمایہ داری کے کھوکھلے پن کے مقابلے میں قرآنی اخوت اور کردار سازی کو ہی اُنہوں نے انسانیت کا اصل نجات دہندہ قرار دیا ہے۔

بانگِ درا کے شاہکار کلام میں طلوعِ اسلام کے منفرد مقام پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

”طلوعِ اسلام“ بانگِ درا کی آخری نظم ہے اور اپنی نوعیّت کے لحاظ سے بے نظیر ہے۔ بانگِ درا میں تین نظمیں بہت بلند پایہ ہیں۔ ”شمع اور شاعر“، ”خضرِ راہ“ اور ”طلوعِ اسلام“۔ چونکہ ان میں سے ہر ایک کا موضوع جُداگانہ ہے، اس لیے ان میں موازنہ نہیں ہو سکتا۔ اپنی اپنی جگہ ہر نظم لاجواب ہے۔

”شمع اور شاعر“ کا پس منظر یہ ہے کہ 1911ء-1912ء میں دنیائے اسلام پر نکبت (بدحالی، ذلت و خواری، بد نصیبی / زوال) اور ادبار (بداقبالی / بدقسمتی / بدبختی) کے مسلّط ہو جانے کی وجہ سے اقبالؔ کا دِل رنج و غم سے معمور ہو گیا تھا۔ اس لیے اِس نظم میں اُنہوں نے مسلمانوں کی غفلت پر نوحہ خوانی کی ہے اور اس کے بعد اُنہیں دوبارہ زندہ ہو جانے کی ترکیب بتائی ہے، جس پر اُنہوں (مسلمانوں) نے ابھی تک عمل نہیں کیا اور نہ مستقبل قریب میں راقم الحروف کو کوئی اُمید نظر آتی ہے:-

؏ تھا جنہیں ذوقِ تماشا وہ تو رُخصت ہو گئے
(بانگِ درا: شمع اور شاعر)

”خضرِ راہ“ کا پس منظر یہ ہے کہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1919ء تا 1920ء میں دُنیا میں ایک انقلابِ عظیم رونما ہو رہا تھا۔ اس جنگ نے ملوکیّت اور سرمایہ داری، دونوں کے مفاسد (خرابیاں، برائیاں، فتنے، جھگڑے، فسادات) آشکارا کر دیے۔ اس لیے اقبالؔ نے اس نظم میں زندگی کی حقیقت بیان کی ہے، حیات کے اسرار آشکار کیے ہیں، سلطنت اور حکومت کی ماہیّت واضح کی ہے، سرمایہ اور محنت کا نقشہ کھینچا ہے، ممالکِ اسلامیہ کی غیر اسلامی روِش (قوم پرستی کی طرف میلان) پر تنقید کی ہے اور آخر میں مسلمانوں کو اُمّید کا درس دیا ہے۔

نظم ”طلوعِ اسلام“ کا بنیادی تصوّر خود اسی کے عنوان ہی میں مضمر ہے اور اس کا پہلا بند مسرّت اور شادمانی کے جذبات سے لبریز ہے۔ بلکہ ساری نظم میں یہی رنگ نظر آتا ہے۔ اقبالؔ نے مصطفیٰ کمال کی کامیابی کو طلوعِ اسلام سے تعبیر کیا ہے۔ ”خضرِ راہ“ میں کہیں نہ کہیں نااُمیدی اور مایوسی کا رنگ بھی جھلکتا ہے لیکن اِس نظم میں اقبالؔ کا دِل یقین سے معمور ہے کہ اگر مسلمان اپنے اندر ایمان پیدا کر لے تو وہ پھر ساری دُنیا کو فتح کر سکتا ہے۔

؏ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!
(بالِ جبریل)

میری رائے میں بندش اور ترکیب، مضمون آفرینی اور بلند پروازی، رمز و کنایہ کی فراوانی اور مشکل پسندی، شوکتِ الفاظ اور فلسفہ طرازی، غرضکہ صوری اور معنوی محاسنِ شعری کے اعتبار سے یہ نظم بانگِ درا کی تمام نظموں پر فوقیّت رکھتی ہے۔ اقبالؔ کی شاعرانہ عظمت کا نقش میرے دِل پر اسی نظم کے مطالعہ سے مرتسم ہوا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ نظم اُنہوں نے اُس وقت لکھی جب ترکوں کی کامیابی سے اُن کے دِل میں مسرّت کے جذبات موجزن تھے۔

؏ اُفق سے آفتاب اُبھرا، گیا دورِ گراں خوابی

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *