Skip to content

بانگِ درا 34: تصویرِ درد

فہرست

تعارف

نظم ”تصویرِ درد“ علامہ اقبال کے ابتدائی دور (مارچ 1904ء) کا وہ شہرۂ آفاق کلام ہے جو اُنہوں نے انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسے میں پڑھا۔ یہ برِصغیر پاک و ہند کے اُس دور کی عکاسی ہے جب باہمی منافرت اور فرقہ واریت کی آگ نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔

شاعر نے وطن کے درودیوار پر چھائی ہوئی بے حسی اور بربادی کا ایسا دلسوز مرقع کھینچا ہے جو دلوں کو دہلا دیتا ہے۔ کلام میں ایک سچے محبِ قوم کا اضطراب جھلکتا ہے جو اہلِ ہند کو آنے والے طوفانوں، تباہی اور غلامی کے مہیب سائے سے آگاہ کر رہا ہے۔

1904ء کے آغاز میں تصویرِ درد کی تخلیق اور اقبالؔ کے شباب کے فکری جذبے پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں:-

یہ دِلکش نظم علامہ اقبال نے 1904ء کے آغاز میں لِکھی تھی جب اُن کی عمر 30 سال کے قریب تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اِس نظم میں بھی جوانی کا رنگ نمایاں ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب اقبالؔ پر وطن دوستی کا رنگ غالب تھا۔

اِس نظم میں اقبالؔ ایک وطن پروَر (Nationalist) کی شکل میں قوم کے سامنے آتے ہیں اور جو رنگ ہمالہ، نیا شِوالا اور ترانۂ ہندی میں پایا جاتا ہے وہی رنگ پوری شِدّت کے ساتھ اِس نظم میں نظر آتا ہے۔ اُنہوں نے دِل کھول کر اہلِ وطن کی نفاق انگیز روِش پر نوحہ خوانی کی ہے۔ اور اُنہیں صاف لفظوں میں مُتنبہ کیا ہے کہ اگر تم نے آنے والی مصیبت کا اندازہ کرکے آپس میں اِتحاد نہ قائم کیا تو تُم مِٹ جاؤ گے اور:-

؏ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

بدقسمت وطن کی حالتِ زار اُنہیں اِس درجہ مُتاثر کرتی ہے کہ ہر وقت اُس کے تاریک مستقبل پر آنسو بہانا چاہتے ہیں اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِس نظم میں ایک سچئ محبِ وطن کی مضطر روح آہ و فریاد میں مصروف نظر آتی ہے اور جو اشعار دِل کی گہرائیوں سے نکلے ہیں وہ ہر محبِ وطن کو متاثر کر دینے کے لیے کافی ہیں۔ جس بند (تیسرے بند) کا شعر یہ ہے:-

؎ رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

یہ پورا بند اقبالؔ کے وطن پروَرانہ جذبات کا بہترین مرقع ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

سفرِ ولایت سے قبل انجمن حمایتِ اسلام کے جلسوں میں اقبالؔ کی طویل شاہکار نظموں کا احوال بیان کرتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں:-

ولایت جانے سے پہلے اقبالؔ نے پانچ طویل نظمیں انجمن حمایتِ اسلام کے سالانہ جلسوں میں پڑھیں۔ اوّل ”نالۂ یتیم“، دوم ”یتیم کا خطاب ہلالِ عید سے“، سوم ”اسلامیہ کالج کا خطاب مسلمانانِ پنجاب سے“، چہارم ”ابرِ گہربار یا فریادِ اُمّت“ اور پنجم ”تصویرِ درد“۔ اِن میں سے پہلی چار نظمیں بانگِ درا میں شامل نہ کیں۔ ”فریادِ اُمّت“ کا صرف ایک بند ”دِل“ کے عنوان سے باقی رکھا۔

نظم تصویرِ درد کے دس بند اور ایک سو اٹھائیس شعر تھے۔ نظرثانی میں اِس کا تیسرا اور ساتواں بند بالکل حذف کر دیے گئے۔ دوسرے بندوں کے بھی متعدد اشعاد نظر انداز فرما دیے اور صرف انہتّر شعر باقی رکھے۔ یہ نظم الگ چھاپی گئی تھی۔ رسالہ ”مخزن“ نے اسے مارچ 1904ء کی اشاعت کے ساتھ بطور ضمیمہ چھاپا اور اِس پر نوٹ دیا کہ یہ دِل پذیر نظم انجمن حمایتِ اسلام کے اُنیسویں سالانہ جلسے میں پڑھی گئی تھی۔ رسالہ تیّار ہوچکا تھا۔ زائد صفحے لگا کر اسے چھاپا جارہا تھا تاکہ ناظرین جلد اِس سے محفوظ ہوسکیں اور اُنہیں ماہِ آئندہ تک انتظار نہ کرنا پڑے۔

نظم کے ابتدائی دو بند تمہیدی ہیں۔ تیسرے بند میں اصل مضمون شروع ہوتا ہے۔ ترکیب بند اگرچہ بہت پہلے اردو شاعری میں رواج پا چُکے تھے لیکن اس نظم یا اِس سے بیشتر ”فریادِ اُمّت“ میں اقبالؔ نے بالکل نیا طریقہ اختیار کیا، یعنی کُچھ بند اِبتدا میں بطور تمہید لِکھے تھے، جیسے شعراء کے قصیدوں میں تشبیہیں ہوتی تھیں، پھر نفسِ مطلب پر آتے تھے۔ اس کے بعد بھی کُچھ اشعار نفسِ مطلب سے متعلق ہوتے تھے، کچھ بیان و معانی کی نُدرت اور محاسن کے لحاظ سے موزوں معلوم ہوتے تھے، اگرچہ اُنہیں بالتصریح نفسِ مطلب سے زیادہ گہرا تعلق نہ ہوتا تھا۔ اِس نظم کے ابتدائی دو بند بھی تمہیدی ہیں۔

مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

نہیں منّت کشِ تابِ شنیدن داستاں میری
خموشی گفتگو ہے، بے زبانی ہے زباں میری

معانیالفاظ
احسان اُٹھانے، لینے والامنّت کش
سُننے کی طاقت، قوّتتابِ شنیدن
خاموشیخموشی
کُچھ نہ بولنے کی طاقتبے زبانی

تشریح:

میری داستان اس قدر دردناک ہے کہ بہت کم لوگ اسے سننے کی تاب لا سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کی میں نے خاموشی کو اپنی شیوہ بنا لیا ہے۔

شعر 2

یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

معانیالفاظ
طریقہ، قانون، آئیندستُور
بات کرنے کی پابندیزباں بندی
خواہشمند رہتی ہے، بے قرار رہتی ہے، آرزو میں بے چین رہتی ہےترستی ہے

تشریح:

قوم کے افراد اِس قدر بے حس ہوگئے ہیں کہ وہ میری فریاد سننا نہیں چاہتے۔ یہی وجہ ہے کہ میری زبان بات کرنے کو ترستی ہے (مطلب یہ کہ کوئی سننے والا نہیں ہے)۔

شعر 3

اُٹھائے کچھ وَرق لالے نے، کچھ نرگس نے، کچھ گُل نے
چمن میں ہر طرف بِکھری ہُوئی ہے داستاں میری

معانیالفاظ
کتاب کے صفحے، پتیاںورق
لالہ کا پھول، Tulipلالے
ایک قسم کے پودے اور اس کے پھول کا نام جس میں صرف چھ پتیاں ہوتی ہیں جو پیالے اور آنکھ سے بہت مشابہہ ہوتا ہے، Narcissusنرگس
گُلاب کا پھول، Roseگُل
باغچمن
کہانی، قصہداستاں

تشریح:

میرے اہلِ وطن نے میرا پیغام سننے سے انکار کردیا ہے البتہ پیغام کی نوعیت اور دلکشی کی وجہ سے میری داستان کے اوراق سے گُلِ لالہ، گُلِ نرگس اور گلاب کے پھول فیضیاب ہورہے ہیں۔ چنانچہ چمن میں ہر طرف میری داستان پھیلی ہوئی ہے۔

شعر 4

اُڑالی قُمریوں نے، طُوطیوں نے، عندلیبوں نے
چمن والوں نے مِل کر لُوٹ لی طرزِ فغاں میری

معانیالفاظ
چھین لیاُڑا لی
فاختہقُمری
طوطے، پرندےطُوطی
بُلبُلعندلیب
باغ میں رہنے والےچمن والے
فریاد کرنے کا اندازطرزِ فغاں

تشریح:

جس طرح میری داستان سے لالہ، نرگس اور گلاب استعفادہ کررہے ہیں، بالکل اسی طرح قمری، طوطی اور بلبل بھی اس سے بے اعتنائی نہیں برت رہے۔ ان کے نغمے دراصل میری ہی آہ و زاری کا انداز ہے۔ اقبالؔ کہنا چاہتے ہیں کہ ان پرندوں نے گانے کا انداز مجھ ہی سے سیکھا ہے اور ان کے نغموں میں جو سوز و گداز کی کیفیت ہے وہ میری ہی طرزِ فغاں کی وجہ سے ہے۔

شعر 5

ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں، حسرت بھری ہے داستاں میری

معانیالفاظ
اے شمع بہہ جاٹپک اے شمع
پورے طور پر، مکملسراپا درد
افسوس سے پُرحسرت بھری
کہانی، قصہداستاں

تشریح:

اے شمع! تُو ہی میری غم گسار بن جا اور پروانے کی آنکھوں سے آنسو بن کر ٹپک جا۔ (مراد یہ ہے کہ جس طرح میں قوم کے درد میں آنسو بہاتا ہوں، اے شمع تُو بھی میرا ساتھ دے)، کیونکہ میں تو سراپا درد بن کر رہ گیا ہوں اور میری داستان میں اب حسرت کے سوا اور کچھ نہیں۔

شعر 6

الٰہی! پھر مزا کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کا
حیاتِ جاوداں میری، نہ مرگِ ناگہاں میری!

معانیالفاظ
ہمیشہ کی زندگی، دائمی زندگیحیاتِ جاوداں
اچانک موتمرگِ ناگہاں

تشریح:

اے خدا! اندریں حالات اس دنیا میں جینے کا کیا فائدہ ہے۔ نہ زندگی میرے اختیار میں ہے نہ موت۔ اگر زندگی اختیار میں ہوتی تو میں ہمیشگی کی صفت پیدا کرلیتا اور اگر موت اختیار میں ہوتی تو ابھی مرجاتا، کیونکہ اب جینے میں کوئی لطف باقی نہیں رہا۔

شعر 7

مرا رونا نہیں، رونا ہے یہ سارے گُلستاں کا
وہ گُل ہوں مَیں، خزاں ہر گُل کی ہے گویا خزاں میری

معانیالفاظ
گُلابگُل
باغگُلستاں
پت جھَڑ کا موسمخزاں

تشریح:

میری گریہ و زاری اور میری بربادی در اصل ساری کائنات کی بربادی ہے کیونکہ انسان اشرف المخلوقات ہے، جب وہ فنا ہوگیا تو سمجھو ساری کائنات فنا ہوگئی۔

شعر 8

”دریں حسرت سرا عمریست افسونِ جرس دارم
ز فیضِ دل تپیدنہا خروشِ بے نفَس دارم“

معانیالفاظ
اِس میں، اِس کے اندردریں
رنج، شوق، تمناحسرت
سرائے، مقام، دُنیاسرا
ایک عمر بیت چُکی ہے، مُدت پو گئی ہےعمریست
سحر، جادو، تاثیر، اثرافسون
گھنٹیجرس
میں رکھتا ہوں، میرے پاس ہےدارم
سے، کی وجہ سےز
دل کی بخشش، دل کی برکت و کرمفیضِ دِل
دل کی تڑپیں، اضطراب، بے قراریاںتپیدنہا
خاموش چیخ، بے آواز فریادخروشِ بے نفس
میں رکھتا ہوں، میرے پاس ہےدارم

تشریح:

اقبالؔ نے اس شعر کو ایک باکمال آرٹسٹ کی طرح پہلے بند کا آخری شعر بنا دیا ہے کیونکہ اس شعر میں اس پورے بند کی روح سمٹ کر آگئی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ شعر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا کسی کاریگر نے انگوٹھی میں نگینہ جڑ دیا ہو۔مطلب اس کا یہ ہے کہ اس دنیا میں مُدّتِ دراز سے میری کیفیت وہی ہے جو جرس (گھنٹی) کی ہے یعنی وہ بظاہر خاموش ہے لیکن اس کے اندر شور پوشیدہ ہے۔ اسی طرح میں بظاہر خاموش ہوں لیکن بقول غالبؔ:-

؎ پُر ہوں میں ، شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجا
اِک ذرا چھیڑیے، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

(شاعر: مراز غالبؔ)

بند نمبر 2

شعر 9

ریاضِ دہر میں ناآشنائے بزمِ عشرت ہوں
خوشی روتی ہے جس کو، مَیں وہ محرومِ مسرّت ہوں

معانیالفاظ
دُنیا / زمانے کا باغریاضِ دہر
نا واقف، لا علم، بے خبر، انجاننا آشنا
خوشی کی محفلبزمِ عشرت
خوشی سے محروم، غمگینمحرومِ مسرّت

تشریح:

میں وہ بدنصیب شخص ہوں جسے ایک لمحے کے لیے ذرا سی بھی شادمانی اور مسرت حاصل نہ ہو سکی۔ میں اس دنیا کی محفل میں عیش و عشرت کی محفل سے بالکل بیگانہ ہوں۔

شعر 10

مری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی
مَیں حرفِ زیرِ لب، شرمندۂ گوشِ سماعت ہوں

معانیالفاظ
بد قسمتی، بد نصیبیبِگڑی ہوئی تقدیر
بولنے کی طاقت / صلاحیتگویائی
وہ بات جو ہونٹوں تک ائی ہو اور کہی نہ جائےحرفِ زیرِ لب
گوش سے مُراد ہے کان۔ گوشِ سماعت یعنی سننے والا کانگوشِ سماعت

تشریح:

چونکہ میری صدا پر کوئی کان نہیں دھرتا اور میرا پیغام سننے کو کوئی بھی شخص تیار نہیں ہے لہذا اِس بات پر میری بولنے کی قوت و صلاحیت (گویائی) بھی افسوس کررہی ہے۔اِس لیے کہ میں اِس دنیا میں اُس حرف کی مانند ہوں جو بالکل آہستہ آہستہ ادا کیا گیا ہو اور کسی کے کان تک نہ پہنچ سکا ہو۔

شعر 11

پریشاں ہوں میں مُشتِ خاک، لیکن کچھ نہیں کھُلتا
سکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گردِ کدُورت ہوں

معانیالفاظ
بکھرا ہوا / ہوئیپریشاں
خاک کی مُٹھیمُشتِ خاک
مشہور یونانی فاتح اسکندرِ اعظم کی طرف اشارہ ہے، Alexanderسکندر
آئینۂ سکندری: سکندر اور ایران کے بادشاہ دارا کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں لیکن سکندر دارا کی تدبیروں کی وجہ سے شکست کھا جاتا تھا۔ دارا ”جامِ جہاں نما“ کی مدد سے سکندرک ی تمام نقل و حرکت اور تیاریوں سے آگاہ ہوجاتا اور سکندرکی تمام تیاریاں دھری کی دھری رہ جاتیں۔ آخرکار اس نے حکومت کے مدبّروں اور سائنس دانوں کی مدد سے شہر اسکندریہ کے ساحل پر ایک آئینہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی، جس سے وہ دشمن کی نقل و حرکت اور سربستہ رازوں سے آگاہی حاصل کرسکے۔ یہ آئینہ سکندرنے ایک اونچے مینار پر نصب کرایا تھا، اس آئینے کی مدد سے دشمن کی نقل و حرکت کا اندازہ سو میل کی مسافت سے ہوجاتا تھا۔ اس تلمیح کا استعمال اردو شاعری میں بہت کثرت سے ہوا ہے۔آئینہ ہوں
میل / عداوت کا غبارگردِ کدُورت

تشریح:

اگرچہ میں مُٹھی بھر خاک ہوں اور وہ بھی ایسی جو بکھر چکی ہے۔اِس کے باوجود یہ معلوم نہیں کہ میں دنیا کے غالب حصے کو فتح کرلینے والے سکندرِ اعظم کی حیثیت رکھتا ہوں، یا میری حیثیت جمشید کے پیالے کی سی ہے جو خود تو بہت صاف و شفاف اور باکمال تھا لیکن دوسروں کی خدمت کے لیے وقف تھا، یا میں صرف غبارِ راہ یعنی بالکل حقیر اور بے قیمت چیز ہوں؟

شعر 12

یہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قُدرت کا
سراپا نور ہو جس کی حقیقت، مَیں وہ ظلمت ہوں

معانیالفاظ
زندگی، وجودہستی
غرض و غایتمقصد
اصلیّتحقیقت
تاریکی، اندھیراظُلمت

تشریح:

یہ سب کچھ درست ہے لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ میں محور موجود ذات اور مقصدِ کائنات ہوں۔ میری ہستی قدرت کا مقصد ہے، اگرمیں نہ ہوں تو یہ ساری فطرت بیکار ہوجائے گی۔ یہ سب کچھ میرے لیے ہی پیدا کیا گیا ہے۔بظاہر ظلمت (مشتِ خاک) ہوں لیکن میری حقیقت خاکی نہیں ہے بلکہ نوری ہے۔

شعر 13

خزینہ ہُوں، چھُپایا مجھ کو مُشتِ خاکِ صحرا نے
کسی کو کیا خبر ہے مَیں کہاں ہوں کس کی دولت ہوں!

معانیالفاظ
خزانہخزینہ
مُٹھی بھر صحرا کی خاکمُشتِ خاکِ صحرا

تشریح:

اس میں کوئی شک نہیں کہ میری حیثیت ایک خزانے کی سی ہےلیکن ایسے خزانے کی جو صحرا میں چھپا ہوا ہو اور جس سے کوئی استعفادہ نہ کرسکتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ ابھی تک کسی کو یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ میری حقیقت کیا ہے اور میں کس کی دولت ہوں۔ ایسے میں مجھ سے کون استعفادہ کرے گا۔

شعر 14

نظر میری نہیں ممنونِ سیرِ عرصۂ ہستی
مَیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں

معانیالفاظ
نظارہ کرنے کا احسان اُٹھانے والیممنونِ سیر
زندگی کا میدانعرصۂ ہستی
مملکت، حکومتولایت

تشریح:

مجھے اِس کائنات اور اس کے مظاہر کا مطالعہ و مشاہدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے (اگر کوئی شخص غور سے دیکھے تو اِنسان عالمِ صغیر ہے۔ جو کچھ ساری کائنات میں ہے وہ سب انسان میں موجود ہے اور جو شخص اس حقیقت سے آگاہ ہوجاتا ہے کہ سب کچھ اس کے اندر ہی موجود ہے، وہ پھر باہر کی اشیاء کو دیکھنے سے بے نیاز وہوجاتا ہے)۔ ”میں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوں“ یہ مصرعہ اس قدر بلیغ ہے کہ شرح سے بالاتر ہے ۔ اگر انسان اپنے دل کی سیر کرلے تو اسے اس کے اندر کائنات کا جلوہ نظر آئے گا۔ اس لیے وہ اِس خارجی دنیا کی سیر سے بے نیاز ہوجائے گا۔

شعر 15

نہ صہباہوں نہ ساقی ہوں، نہ مستی ہوں نہ پیمانہ
مَیں اس میخانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں

معانیالفاظ
شرابصہبا
شراب پلانے والاساقی
شراب کا نشہ، مدہوشیمستی
شراب کا جام / پیالہپیمانہ
زندگی کا شراب خانہ، یہ دُنیامیخانۂ مستی

تشریح:

اگر اس کائنات کو میخانہ فرض کیا جائے تو انسان نہ تو شراب ہے، نہ ساقی ہے، نہ مستی ہے، نہ پیمانہ ہے۔بلکہ اِس میخانے میں جس قدر اشیاء نظر آتی ہیں، انسان ان سب اشیاء کی حقیقت ہے۔ یعنی سب کچھ وہی ہے، سب کچھ اسی کی بدولت ظہور میں آیا ہے۔ اگر وہ نہ ہو تو پھر کسی شے کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔

شعر 16

مجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دِکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

معنیلفظ
دونوں جہانوں کا بھید / رازرازِ دو عالم

تشریح:

میں اپنے دِل کے آئینہ میں ساری کائنات کے راز دیکھ سکتا ہوں (یعنی انسان کا دل وہ آئینہ ہے جس میں ساری کائنات منعکس ہے) اور یہی وجہ ہے کہ میں جو دیکھتا ہوں وہی کہنے کا عادی ہوں۔

اِس بند کے چار اشعار میں تصوف کے عمیق حقائق و معارف کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی فرماتے ہیں:-

نوٹ: اِس بند کے چار اشعار میں اقبالؔ نے تصوف کے حقائق و معارف بیان کیے ہیں اور اگر کوئی شخص ان اشعار کو ”یہ سب کچھ ہے مگر ہستی۔۔۔“ سے لے کر ”۔۔۔ ہر شے کی حقیقت ہوں“ تک پڑھے گا تو اُسے اقبالؔ کے فلسفۂ خودی کے ابتدائی نقوش بھی نظر آسکتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ اس مختصر شرح میں ان باتوں کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی۔ بس اس قدر کہنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ یہ شعر:-

؎ نہ صہبا ہوں، نہ ساقی ہوں، نہ مستی ہوں، نہ پیمانہ
میں اس میخانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوں

مُرشدِ رومیؔ کے اِس شعر سے ماخوذ ہے:-

؎ بادہ از ما مست شد نے ما ازو
قالب از ما ہست شد نے ما ازو

ترجمہ: شراب ہماری وجہ سے مست ہوئی ہے نہ کہ ہم اُس سے، جسم ہماری وجہ سے پیدا ہوا ہے نہ کہ ہم اُس کی وجہ سے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

بند نمبر 3

شعر 17

عطا ایسا بیاں مجھ کو ہُوا رنگیں بیانوں میں
کہ بامِ عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں

معانیالفاظ
خدا کی طرف سے مِلاعطا ہوا
شاعری / ذکربیاں
دِل کش باتیں کہنے والارنگیں بیان
عرش کی چھت، مراد عرشبامِ عرش
طائر یعنی پرندہ۔ بامِ عرش کے طائر یعنی عرش پر رہنے والے پرندے، مُراد ہے فرشتوں سےبامِ عرش کے طائر
ہم قول، زبان کے ساتھیہم زبان

تشریح:

خدا نے مجھ کو شعراء کی صف میں وہ بلند مقام عطا کیا ہے کہ فرشتے بھی میرے ہم زبان ہیں (یعنی میری شاعری کوئی عام شاعری نہیں ہے، اس میں کائنات کی حقیقتوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے۔ میں اپنی شاعری میں وہی باتیں پیش کرتا ہوں جو پہلے مشیتِ ایزدی کو پورے کرنے والے فرشتوں کے خیال میں ہوتی ہیں یعنی میری شاعری صداقت اور سچائی پر مبنی ہے)

شعر 18

اثر یہ بھی ہے اک میرے جُنونِ فتنہ ساماں کا
مرا آئینۂ دل ہے قضا کے رازدانوں میں

معانیالفاظ
وہ جنون جو فتنے اُٹھاتا رہےجنُونِ فتنہ ساماں
ایسا دِل جس پر قدرت کے راز ظاہر ہوںآئینۂ دِل
خدائی حکم، قدرت، تقدیرقضا
ہم راز، رازوں کو جاننے والاراز دان

تشریح:

میرے فتنے اور ہنگامے پیدا کرنے والے جنون یعنی عشق کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ میں اس قدر حساس ہوں کہ قدرت اور قضا و قدر کے سب راز مجھ ہر عیاں ہیں، جو میں اپنی شاعری میں پیش کردیتا ہوں۔

شعر 19

رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

معانیالفاظ
دُکھ پہنچاتا ہےرُلاتا ہے
تماشا، سیاسی صورتِ حالنظّارہ
عبرت دِلانے والاعبرت خیر
حکایت، قصہفسانہ

تشریح:

اے ہندوستان! تیری کیفیت ایسی ہے کہ تجھے دیکھتے ہی میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں (میں آئندہ آنے والے مصائب کا تصور کرکے لرزہ بر اندام ہوجاتا ہوں)۔ تیری کہانی دنیا کے تمام خطوں اور ممالک کی داستانِ آزادی و غلامی کے مقابلے میں کہیں زیادہ دردناک اور حیرت انگیز ہے۔ اِس وجہ سے لوگ تیری داستان سے عبرت اور تنبیہ حاصل کرتے ہیں۔

شعر 20

دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لِکھا کلکِ ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں

معانیالفاظ
قدرت کا قلم، تقدیرِ اِلہیکِلکِ ازل
مرثیہ پڑھنے والانوحہ خوان

تشریح:

اے ہندوستان! اللہ تعالی نے مجھے دکھ عطا کیا ہے اور دُکھ تیرا دکھ ہے۔ اِس دُکھ کے بعد مجھے کسی اور شے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔اس لیے کہ میں رات دن اپنی شاعری میں تیرے ہی غم بیان کرتا رہتا ہوں۔ دراصل خدا اور قضا و قدر نے مجھے ان لوگوں میں شامل کردیا ہے جو تیری حالت پر نوحہ خواں ہیں۔

شعر 21

نشانِ برگِ گُل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گُلچیں!
تری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں

معانیالفاظ
پھول کی پتّیبرگِ گُل
مراد ہندوستان / برِ صغیرباغ
پھول توڑنے والا، مُراد انگریز حکمرانگُلچیں
جنگ کے لیے صفین باندھے جانے کا عملرزم آرائیاں
مالی۔ مراد برِصغیر کی دو بڑی اقوام، ہندو اور مسلمانباغبان

تشریح:

اے پھول توڑنے والے (گُلچیں، یہاں انگریز مراد ہیں)! پھول تو پھول، اِس گُلستاں (ہندوستان) میں تُو پھول کی پتی کا نشان تک بھی نہ چھوڑ۔ اِس لیے کہ باغ کی دیکھ بھال کرنے والے لوگ (ہندو و مسلمان) اس کی حفاظت کرنے کی بجائے آپس میں لڑ رہے ہیں۔یعنی اگر باغباں (ہندو و مسلم) اسی طرح آپس میں لڑتے رہے تو گلچیں (انگریز) اس باغ (ہندوستان) کو ضرور تاراج (برباد) کردے گا۔

شعر 22

چھُپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے
عنادِل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

معانیالفاظ
قمیض کا وہ حصہ جو ہاتھ کے ساتھ رہےآستیں
مراد تباہی کے سامانبجلیاں
آسمانگردُوں
عندلیب کی جمع۔ بلبل۔ مراد برِ صغیر کی اقوامعنادِل
ٹھکانا، مراد اپنی اپنی جگہآشیانہ

تشریح:

علامہ اقبال دردِ وطن رکھنے والے اہلِ وطن سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ آسمان، یعنی گردشِ شب و روز اور تقدیر نے ہندوستان کو تباہ و برباد کرنے کا پورا پورا سامان کرلیا ہے۔ اس نے اپنی آستین میں وہ بجلیاں بھی چھپا رکھی ہیں جو اِس گلستاں (ہندوستاں) کو پل بھر میں جلا کر خاکستر کردیں گی۔ ایسے میں بُلبُلوں کو، کہ جو گلشن اور پھول سے عشق کا دعویٰ کرتے ہیں، اپنے گھونسلوں میں بے پروا ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اپنے گلستان کی حفاظت کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔

واضح ہو کہ اقبالؔ خود کو بُلبُل تصور کرتے ہیں جو دِل میں وطن کا درد رکھتا ہے، اسی لیے یہاں اُن بُلبُلوں (لوگوں) سے مخاطب ہیں جو اقبالؔ کی طرح وطن کا درد سینے میں رکھتے ہیں۔ اقبالؔ فرماتے ہیں کہ اب اُنہیں خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے، بلکہ حالات کا کچھ حل نکالنا چاہیے۔

شعر 23

سُن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں

معانیالفاظ
بے خبر، غفلت برتنے والاغافل
آواز، پیغامصدا
روزمرہ پڑھنے کی دُعاوظیفہ
پرندےطائر
باغبوستان

تشریح:

اے غافل! میری آواز سن! یہ (آواز) ایسی چیز ہے کہ جسے پرندے وظیفہ سمجھ کر باغ میں پڑھتے ہیں۔ میں اپنی شاعری میں جو پیغام دے رہا ہوں وہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

شعر 24

وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

معنیلفظ
کم عقل، کم فہمناداں

تشریح:

علامہ اقبال اہلِ ہند کو نادان قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمھیں اپنے وطن کی فکر کرنی چاہیے اور اس کی آزادی و استحکام کے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو جان رکھو! تمھاری بے توجہی اور بے پروائی کے باعث تمھارے وطن کی بربادی بہت قریب ہے اور مشیتِ ایزدی نے اپنے اصولوں کے مطابق اس کا فیصلہ کرلیا ہے (ظاہر ہے کہ جو قوم خود اپنی آزادی اور خود مختاری کے لیے جدوجہد نہ کرسکے وہ تادیر اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتی)۔

شعر 25

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں

معانیالفاظ
کیا رکھا ہےدھرا کیا ہے
پرانا زمانہ، ماضیعہدِ کُہن
کہانی، قصہ۔ اشارہ ہے ہندو مسلم اختلافات کی طرفداستان

تشریح:

اے ہندوستان والو! تمھیں حال اور اِس کے تقاضوں کی طرف توجہ کرنا چاہیے۔اِس لیے ماضی اور حال کی داستانوں کو چھیڑنے اور ان کے حوالے سے جھگڑوں میں پڑنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ (یہ اشارہ اُن مباحث کی طرف ہے جو اس دور کے ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے ماضی اور ایک دوسرے پر اُن کی زیادتیوں کو موضؤع بنا کر ایک دوسرے کو ظالم قرار دینے کے لیے ہورہے تھے)

شعر 26

یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

معانیالفاظ
فریاد و فغاں کی چاشنی یا لُطفلذّتِ فریاد
آواز، پیغامصدا

تشریح:

اے اہلِ ہند! اب تمھیں اپنی غلامی اور تم پر ہونے والے مظالم پر مزید خاموشی اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ تمہیں چاہیے کہ احتجاج کرو اور وہ بھی اِس انداز سے کہ تمہاری آہ و فریاد کی آوازوں سے آسمان تک گونج اٹھیں اور اس سے انگریزوں کے بلند و بالا ایوان تھر تھرانے لگیں۔

شعر 27

نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

معانیالفاظ
نیست و نابود ہو جاؤ گے، ختم ہو جاؤ گےمِٹ جاؤ گے
قصہ، کہانیداستان

تشریح:

اے اہلِ وطن! تمھیں حالات اور ان کی نزاکت کو سمجھنا چاہیے اور اس کے مطابق اپنے عمل اور لائحہ عمل میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے، بصورتِ دیگرتم مِٹ جاؤ گ اور وہ بھی اس طرح کہ آئندہ نسلیں تمھیں ایک داستان اور ماضی کے قصے کے طور پر بھی یاد نہ رکھ سکیں گی یعنی تمہیں بالکل فراموش کردیا جائے گا (ویسے یہ تاریخ کا ایک بہت اہم سبق ہے کہ جو قوم اپنی آزادی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد نہیں کرسکتی وہ صفحہء ہستی سے بالکل فنا ہوجاتی ہے۔ وسطی ایشیاء کی مسلم ریاستوں اور قدیم ہندوستان کی مفتوحہ اقوام کے حشر کو بطور ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے، کہ جن کا آج وجود بھی نہیں ملتا اور تمام آثار و شواہد مٹ چکے ہیں)۔

شعر 28

یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گام زن، محبوبِ فطرت ہے

معانیالفاظ
قدرت کا دستُورآئینِ قدرت
فطرت کا طریقہاسلوبِ فطرت
عمل کا راستہراہِ عمل
قدم بڑھانے والاگام زن
فطرت کا محبوب، فطرت کا پیارامحبوبِ فطرت

تشریح:

یہ بات صرف ایک شاعر کی نکتہ آفرینی نہیں ہے بلکہ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قدرت کا یہی دستور و اصول ہے۔ قدرت (تقدیر) صرف اُسی قوم کو زندہ رکھتی ہے جو عمل سے منہ نہ موڑے اور ہمہ وقت اِس دنیا میں سرگرمِ عمل رہے۔

؎ ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اُس کی
بُرّاں صِفتِ تیغِ دو پیکر نظر اُس کی

(ضربِ کلیم: تقدیر)

بند نمبر 4

شعر 29

ہوَیدا آج اپنے زخمِ پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہُو رو رو کے محفل کو گُلستاں کر کے چھوڑوں گا

معانیالفاظ
ظاہر، واضح، روشنہوَیدا
چھُپے ہوئے زخم، ایسی باتیں جو انسان کے لیے تکلیف دہ ہوں اور وہ اُنہیں دِل میں چھُپائے ہوئے ہوزخمِ پنہاں
خون کے آنسو رو رو کرلہُو رو رو کے
سُرخ گلاب کے پھولوں کا باغ، مراد ہے برِصغیر سےگُلستاں

تشریح:

گو اہلِ ہند میرے پیغام کی طرف متوجہ نہیں۔ اِس کے باوجود میں اپنا فرض ادا کروں گا اور جو کچھ زخم میرے دل پر لگے ہوئے ہیں، انھیں ظاہر کردوں گا۔جن زخموں کے باعث میں مبتلائے درد و تکلیف ہوں، اب انہیں میرے اہلِ وطن بھی دیکھ لیں گے۔ میں اس قدر روؤں گا کہ میرے پُر خوں آنسوؤں سے سارا ہندوستان پھولوں سے بھر جائے گا۔ واضح رہے کہ گلاب کے پھول بھی سرخ ہوتے ہیں اور خون کا بھی یہی رنگ ہوتا ہے۔ اقبال نے اِس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ میرے خون آمیز آنسوؤں پر لوگوں پر پھولوں کا گمان گزرے۔

شعر 30

جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا

معانیالفاظ
مراد ہے ہر ہم وطن کے دِل سےشمعِ دِل
چھُپی ہوئی حرارت / آگسوزِ پنہاں
اندھیری راتتاریک رات
روشنیچراغاں

تشریح:

علامہ کہتے ہیں کہ مجھے اپنی کوشش جاری رکھنی ہے اور میری کوشش یہ ہے کہ ملک کے تمام لوگوں کے دل میں بلا تفریق مذہب و ملت، آزادی اور جدوجہد کی شمع روشن ہوجائے۔مَیں ہر قیمت پر اور بڑی سے بڑی قربانی دے کر اپنی شاعری کے ذریعے اس شمع کو جلاؤں گا اور ہندوستان کا مقدر ہوجانے والی سیاہ رات کو دِلوں میں جلنے والی شمع سے روشن کردوں گا۔

شعر 31

مگر غنچوں کی صورت ہوں دلِ درد آشنا پیدا
چمن میں مُشتِ خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گا

معانیالفاظ
غنچہ، بند پھول، کلیغُنچوں
مانندصورت
درد جاننے والادِلِ درد آشنا
باغچمن
مُٹھی بھر خاک، جسم، انسانمُشتِ خاک
بکھیرناپریشاں کرنا

تشریح:

میں اپنے وطن کی دردناک صورتِ حال کی وجہ سے سر تا پا درد ہوگیا ہوں۔ میں درد سے پُر اپنی خاک کو پورے چمن میں بکھیر دوں گا، شاید اس کے بعد گلشن میں جو بھی پھول اُگیں، وہ میرے درد اور کرب سے واقف ہوں۔

تعزل کے انداز میں شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میرے پیغام سے بوڑھے لوگ متاثر ہوں یا نہ ہوں، لیکن میں کوشش کروں گا کہ نوجوان نسل میرے درد کی کَسَک سے آگاہ ہوجائے اور اپنے آپ کو آزادی وطن کے لیے وقف کردے۔ اقبال کا پیغام دراصل ہے ہی نوجوانوں کے لیے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر دور میں اقبال کے پیغام کو نوجوانوں ہی نے آگے بڑھایا ہے۔

”تعزل“ کا انداز: تعزل بنیادی طور پر ایک کیفیت کا نام ہے اور اِس کی کوئی جامع و مانع اور حتمی تعریف نہیں کی جاسکتی۔ یہ غزل میں پائی جانے والی ایک ایسی کیفیت ہے جس کو صرف محسوس کیا جاسکتا ہے، بیان نہیں کیا جاسکتا۔

شعر 32

پرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کو
جو مشکل ہے، تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گا

معانیالفاظ
ان فرقوں / قوموں میں اتحاد پیدا کرناپِرونا ایک ہی تسبیح میں
مختلف فرقےبکھرے دانے

تشریح:

میری قوم کی حالت تسبیح کے بکھرے ہوئے دانوں کی مانند ہے۔ ان کو دوبارہ متحد کرنا سخت دشوار ہے۔ لیکن اگر یہ کام مشکل اور دشوار بھی ہے، توبھی میں تسبیح کے ان متفرق دانوں کو یکجا کرنے کا کام سر انجام دوں گا۔یعنی ملک میں بسنے والی مختلف قومیتوں اور مذاہب کے افراد کو آزادئ وطن کے لیے ایک ہی طریق پر جدوجہد کرنے کے لیے اتھاد و اتفاق کا سبق دوں گا۔

شعر 33

مجھے اے ہم نشیں رہنے دے شُغلِ سینہ کاوی میں
کہ مَیں داغِ محبّت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گا

معانیالفاظ
ساتھی، ہم صحبتہم نشیں
سینہ کو کھُرچنے کا مشغلہ، بہت محنت و مشقتشُغلِ سینہ کاوی
محبت کا زخمداغِ محبّت
ظاہر / کھُلا / فاش / عیاں کرنانمایاں کرنا

تشریح:

اے میرے قریب رہنے والے! تُو مجھے اپنا سینہ کھرچنے اور کریدنے کے عمل سے نہ روک، تجھے یہ خیال ہوگا کہ مجھے تکلیف ہورہی ہے لیکن تکلیف کے باوجود میں یہ کام اُس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک لوگوں کے درمیان کسی بھی طرح کی نفرتیں باقی ہیں۔ یعنی میں لوگوں کو اخوت و بھائی چارے کی تعلیم دے کر انھیں متحد و متفق کیے بغیر دم نہ لوں گا۔

شعر 34

دِکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورتِ آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا

معانیالفاظ
آئینے کی مانندصورتِ آئینہ
حیرت زدہحیراں

تشریح:

وطن اور اہلِ وطن کے بارے میں جو تصویر میں نے اپنے تخیل کی مدد سے دیکھی ہے اور جو خاکہ و نقشہ میرے پیشِ نظر ہے، وہ میں تمام ہموطنوں کو دِکھا دوں گا۔ جو کچھ میں محسوس کررہا ہوں، اپنی شاعری کے ذریعے وہی تمام احساسات اہلِ ہند کے دلوں میں منتقل کردوں گا اور مجھے یقین ہے کہ جب لوگ اِس تخیل، تصور اور خاکے سے واقف ہوں گے تو وہ بھی آئینے کی طرح حیران رہ جائیں گے۔ شاعری میں آئینے کو حیران اس لیے قرار دیا جاتا ہے کہ اُس کا عکس اصل کے عین مطابق اور بے حس و حرکت ہوتا ہے۔ گویا وہ حیرانی سے ہر چیز کو بے حس و حرکت دیکھتا رہتا ہے۔

شعر 35

جو ہے پردوں میں پنہاں، چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

معانیالفاظ
چھُپا ہواپنہاں
دیکھنے والی آنکھ، حالات سے باخبر آنکھچشمِ بینا
فطرت، شرِشت، جبلتطبیعت
ضرورت، خواہش، طلبتقاضا

تشریح:

صرف میں ہی نہیں، بلکہ ہر وہ آنکھ کہ کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ ان تمام باتوں سے بھی واقف ہوجاتی ہے، جو ابھی عالمِ ظہور میں نہیں آئی ہوتیں اور پردہ غائب میں ہوتی ہیں۔ دراصل یہ چشمِ بینا اپنی بصیرت کی روشنی میں حالات سے اندازہ کرلیتی ہے کہ اب زمانہ کونسی کروٹ بدلے گا اور اقوام ق ملل کے حالات کیا رُخ اختیار کریں گے۔

بند نمبر 5

شعر 36

کِیا رفعت کی لذّت سے نہ دل کو آشنا تو نے
گزاری عمر پستی میں مثالِ نقشِ پا تو نے

معانیالفاظ
بلندی، عروجرِفعت
واقف ہوناآشنا ہونا
تنزل، ذلّتپستی
پاؤں کا نشان / تصویرمثالِ نقشِ پا

تشریح:

اے مخاطب! تُو نے اپنے خیالات میں بلندی پیدا نہیں کی اور ساری عمر زمین پر بنے ہوئے پاؤں کے نقوش کی طرح بسر کی (پست خیالات میں ساری عمر گزار دی، یعنی اہلِ ہند چھوٹے چھوٹے لایعنی فرقہ واری مسائل میں الجھ کر اپنی توانائیاں ضائع کرتے رہے، تم نے کبھی اعلی نصب العین اختیار ہی نہیں کیا)۔

شعر 37

رہا دل بستۂ محفل، مگر اپنی نگاہوں کو
کِیا بیرونِ محفل سے نہ حیرت آشنا تو نے

معانیالفاظ
جس کا دِل مجلس کا شیدائی ہودِل بستۂ محفل
محفل سے باہربیرونِ محفل
حیرانی سے واقفحیرت آشنا

تشریح:

تُو نے اپنی جماعت کے تنگ حلقہ میں زندگی بسر کردی اور دیگر ممالک اور دیگر اقوام کے طرزِ عمل کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔

شعر 38

فدا کرتا رہا دل کو حَسینوں کی اداؤں پر
مگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نے

معانیالفاظ
قربان ہونا، صدقے جانافدا
طور طریقہ، نخرہادا

تشریح:

تم تمام عمر حُسن پرست رہے اور حسینوں پر اپنا دِل نثار کرتے رہے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے جو حُسن خود تمھاری ذات میں تھا، تم نے کبھی اس کی طرف دھیان نہیں دیا۔یعنی اہلِ ہند ہمیشہ دوسروں کی صلاحیتوں کے گُن گاتے رہے لیکن اپنی صلاحیت سے کام لینا نہ سیکھ سکے، اس کی بجائیے مذہب و ملت اور فرقہ وارانہ اختلافات اور اُن کی پیدا کردہ نفرت میں اُلجھتے رہے۔

شعر 39

تعصّب چھوڑ ناداں! دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے بُرا تو نے

معانیالفاظ
حمایت، طرف داری، نفرتتعصّب
کم عقل، کم فہمناداں
زمانہ، دنیا، جہاندہر
آئینوں سے بنا ہوا گھر، مُراد دُنیاآئینہ خانہ

تشریح:

اے ناداں! تُو تعصب (نفرت) کو اپنے دِل سے نکال دے۔ تُو جن لوگوں کو برا سمجھتا ہے، وہ لوگ دراصل تیرے بھائی ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ اہلِ ہند مختف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا قومیں تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی مثال ایسے ہے کہ جیسے کوئی شخص آئینہ خانے میں کھڑا ہوکر اپنی مختلف تصویروں کو غیروں کی تصویریں سمجھ کر ان سے نفرت کرنا شروع کردے۔ یعنی مذہب و ملت کے علاوہ تمام ہندوستانیوں میں ایک وجۂ اشتراک بھی ہے، یعنی وہ سب اہلِ ہند ہیں۔ انہیں سب کچھ بھول کر اسی ایک رشتے پر توجہ دینی چاہیے۔

شعر 40

سراپا نالۂ بیدادِ سوزِ زندگی ہو جا
سپند آسا گرہ میں باندھ رکھّی ہے صدا تو نے

معانیالفاظ
پوری طرح، مکمل طور پرسراپا
فریاد، آہ و فغاںنالہ
ناانصافی، ظلم و ستم، جور و جفابیداد
زندگی کی حرارتسوزِ زندگی
سپند: ہرمل کا دانا، آسا: مانند، طرح۔ سِپند آسا یعنی ہرمل کے دانے کی طرحسِپند آسا
سنبھال رکھی ہےگِرہ میں باندھ رکھی ہے
آواز، گُونجصدا

تشریح:

وطن اور اہلِ وطن پر ہونے والے مظالم کے خلاف سب کو صدائے احتجاج بلند کرنی چاہیے۔ ہرمل کا حقیر اور معمولی سا دانہ بھی اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ یہ قوت تیرے پاس بھی ہے اور تجھ پر بھی مظالم ہورہے ہیں۔ لہذا تجھے بھی نالہ و فریاد اور آہ و زاری سے کام لینا چاہیے اور ان مظالم کے خلاد جدوجہد بھی کرنی چاہیے۔ (نوٹ: ہرمل کا دانہ آگ میں گِر کر آواز دیتا ہے)۔

شعر 41

صفائے دل کو کیا آرائشِ رنگِ تعلّق سے
کفِ آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نے

معانیالفاظ
دِل کی پاکیزگیصفائے دِل
آرائش: سجاوٹ / رونقآرائشِ رنگِ تعلق
دنیاوی تعلقات کا رنگرنگِ تعلق
آئینہ کی ہتھیلی پر مہندی لگانا، مراد ہے بے کار کام کرکفِ آئینہ پر حنا باندھنا
کم عقل، کم فہمناداں
مہندیحِنا

تشریح:

کسی کے دل میں صفائی اور پاکیزگی ہو تو اس کے لیے تکلفات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تیرے عمل کی حقیقت یوں ہے جیسے کوئی شخص آئینتے کی شفاف اور اعلی سطح پر مہندی لگا کر اُسے رنگین کرنا چاہے۔ جس طرح مہندی سے آئینے کو رنگ نہیں دیا جاسکتا بالکل اسی طرح دل کی طہارت اور پاکیزگی کے لیے بھی محض ظاہرداری کو کام میں نہیں لایا جاسکتا بلکہ اس سے بڑھ کر کچھ کیا جانا چاہیے۔

شعر 42

زمیں کیا، آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہے
غضب ہے سطرِ قرآں کو چلیپا کر دیا تو نے!

معانیالفاظ
غلط روی، ٹیڑھا دیکھناکج بینی
قرآن کی آیت، قرآن کی سطر، تعلیماتِ قرآنیسطرِ قرآں
صلیب کا نشانچلیپا

تشریح:

اے اہلِ ہند! تمھاری غلط فہمی اور غلط اندازِ نظر پر زمین تو زمین، آسمان بھی ماتم کرتا ہے۔ تم نے قرآن کے احکام پر عمل کرنے کی بجائے، قرآن کے تعویذ آڑے ترچھے انداز میں لکھ کر انھیں گردنوں میں لٹکا لیا اور یہ سمجھا کہ اس طرح انگریز ٹل جائیں گے۔ حالانکہ انگریز تو قرآن کے پیغام پر عمل کرنے سے ہی جائیں گے۔

شعر 43

زباں سے گر کِیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصل!
بنایا ہے بُتِ پندار کو اپنا خدا تو نے

معانیالفاظ
خدا کی وحدت پر ایمان کا اقرارتوحید کا دعویٰ
غرور و تکبّر کا بُتبُتِ پندار

تشریح:

یہ بات درست ہے کہ تم نے زبان سے اللہ تعالی کو ایک ماننے کا اقرار کیا ہے لیکن اس کا کیا فائدہ؟ توحید کی حقیقیت تو یہ ہے کہ انسان دل سے اللہ تعالی کی وحدانیت کا قائل ہوجائے، تو پھر ہی غرور و تکبر جیسی برائیوں سے محفوظ رہ سکے گا۔ لیکن اہلِ ہند نے توحید کا صرف زبانی طور پر اقرار کیا ہے، لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ قرآن کی بجائے اپنے نفس کی اطاعت کررہے ہیں۔

شعر 44

کُنویں میں تُو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا
ارے غافل! جو مطلق تھا مقیّد کر دیا تو نے

معانیالفاظ
قطعی آزاد، خود مختارمطلق
قید کیا ہوا، قیدیمقیّد

تشریح:

اگر تُو نے حضرت یوسفؑ کو کنویں میں دیکھ بھی لیا تو کیا دیکھا۔ ارے غافل! جو مطلق (عالمگیر) تھا، اسے تو نے مقید کردیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک حضرت یوسفؑ کنویں میں تھے، اس وقت تک ان کے کمالات کسی پر واضح نہیں تھے۔ آزاد ہونے پر سب نے ان کے کمالات دیکھ لیے لیکن کنویں میں دیکھنے والے نے حضرت یوسفؑ کو بے بس جانا(یعنی خدا کے جلوے اگر کسی جگہ یا شے کے لیے مختص کر دیے جائیں تو اس کی صحیح معرفت حاصل ہونا ممکن نہیں رہتا)۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ محبت و اخوت ایسی چیز نہیں کہ جسے محدود کیا جا سکے۔ یعنی تُو صرف اپنی جماعت سے محبت کرتا ہے یعنی تُو نے محبت کو جو ایک عاملگیر (مطلق) حقیقت ہے، اسے صرف اپنی قوم کے افراد تک محدود کردیا ہے۔

شعر 45

ہوَس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کی
نصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کی

معانیالفاظ
لالچ، حرصہوَس
منبر کے اوپربالائے منبر
لچھے دار باتیںرنگیں بیانی
اچھی رائے یا بات، نیک صلاح یا مشوَرہ، عبرت کے لیے بھلائی کی بات بتانانصیحت
شکل، مثالصورت
قصے کہانیاں سناناافسانہ خوانی

تشریح:

اے نام نہاد ملّا اور خطیب! تمھیں اس بات کا شوق ہے کہ تم قوم کے رہنما کہلاؤ لیکن تم اُن فرائض کو بالکل نہیں سمجھتے جو ایک رہبر و رہنما پر عائد ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب تم منبر پر کھڑے ہوتے ہو تو لوگوں کو صرف اپنے طرزِ بیان سے محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ اگر تم کسی کو نصیحت کرتے ہو تو بھی حقائقِ عالم سے بے خبری کے باعث حالاتِ حاضرہ کے مسائل کی طرف لوگوں کہ توجہ مبذول کرانے کی بجائے صرف گذشتہ زمانے کے قصے سنانے پر اکتفا کرتے ہو۔ اِس سے لوگ تمہاری فصاحت و بلاغت کے گرویدہ تو ہوجاتے ہیں اُن کو اِس سے حقیقتاً کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔

بند نمبر 6

شعر 46

دِکھا وہ حسنِ عالم سوز اپنی چشمِ پُرنم کو
جو تڑپاتا ہے پروانے کو، رُلواتا ہے شبنم کو

معانیالفاظ
ایسا حُسن جو دُنیا کو اپنی حرارت سے گرما دےحُسنِ عالم سوز
روتی ہوئی آنکھچشمِ پُر نم
پتنگاپروانہ

تشریح:

تم اپنی آنسو بہاتی یوئی آنکھوں کو اُس حُسن سے آشنا کرو، یعنی اپنی آنکھ میں ایسی صلاحیت پیدا کرو کہ وہ ہر شۓ میں خدا کا جلوہ دیکھ سکے۔ اگر ایک انسان پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے کہ کافر بھی اللہ ہی کی مخلوق ہے تو وہ اس پر مہربانی کرے گا۔ جس طرح پروانہ ہر شمع سے محبت کرتا ہے، اسی طرح شبنم ہر پھول کو (خواہ وہ ہندو کے باغ میں ہو یا مسلمان کے) فیض پہنچاتی ہے۔

شعر 47

نِرا نظّارہ ہی اے بوالہوس مقصد نہیں اس کا
بنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشمِ آدم کو

معانیالفاظ
ہوَس کا باپ، لالچی، حریصبو الہوَس
آدم / انسان کی آنکھچشمِ آدم

تشریح:

اے مخاطب! اللہ تعالی نے انسان کو آنکھیں صرف مختلف اشیاء کو دیکھنے کے لیے نہیں دی ہیں۔ بلکہ مقصدِ باری تعالی یہ ہے کہ انسان اپنی آنکھوں کے ذریعے ہر شے میں خدا کا جلوہ دیکھے۔

شعر 48

اگر دیکھا بھی اُس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھا
نظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کو

معانیالفاظ
دُنیا، جہانعالم
اصلیّتحقیقت
شراب کا پیالہجام
جمشید، ایرانی بادشاہ جس کے متعلق مشہور ہے کہ اُس نے ایک ایسا پیالہ (”جامِ جمشید“) بنایا تھا جس سے وہ تمام دُنیا کے حالات دیکھ لیا کرتا تھا۔جم

تشریح:

اگر کوئی شخص اپنی حقیقت سے آگاہ نہ ہوسکے، یعنی اپنے آپ کو نہ دیکھ سکے، تو اگر اس نے ساری کائنات کو دیکھ بھی لیا تب بھی کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔

ساغرِ جمشید: جمشید بادشاہ کے حکماء نے اس کے لیے ایک جام تیار کیا تھا، جس کی خصوصیت یہ تھی کہ اُس کے توسط سے جمشید اپنے محل میں بیٹھے بیٹھے ساری دنیا کے حالات سے واقف ہوجاتا تھا۔ لیکن وہ پیالہ کہ جس کے ذریعے جمشید کو دنیا بھر کے حالات معلوم ہوجاتے تھے، خود جمشید کو جمشید کے بارے میں کچھ نہ بتا سکا۔ یوں جمشید کبھی بھی اپنی حقیقت سے آگاہ نہ ہوسکا۔

شعر 49

شجر ہے فرقہ آرائی، تعصّب ہے ثمر اس کا
یہ وہ پھل ہے کہ جنّت سے نِکلواتا ہے آدم کو

معانیالفاظ
درختشجر
فرقہ پرستی، گروہ بندیفرقہ آرائی
بے جا حمایت، رعایتِ بے جا، طرف داری، حقیقت ظاہر ہو جانے کے بعد بھی حق بات سے انکارتعصّب
پھلثمر

تشریح:

اگر فرقہ بندی کو ایک درخت تصور کیا جائے تو تعصب یعنی فرقہ واری نفرت اس درخت کا لازمی پھل، یعنی لازمی نتیجہ اور حاصل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ہم فرقہ وارانہ مباحث میں الجھیں گے تو لازمی طور پر ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگیں گے۔

باہمی اخوت و محبت کے مقابلے میں نفرت وہ چیز ہے جو بالآخر انسان کو جنت سے نکال کر جہنم رسید کرنے کا سبب بنتی ہے۔ یعنی انسان کے اچھے حالات بدترین حالات میں بدل جاتے ہیں اور انسان ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتا ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے زمان میں اِسی تعصب کے باعث لاکھوں لوگ لقمہ اجل بن گئے، لاکھوں بچے یتیم ہوگئے اور ہزاروں گھر اُجڑ گئے۔ یہ حالات اقبال کے نقطۂ نظر کی تائید کرتے ہیں۔ آج بھی ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ فرقہ واریت، علاقائی و قومی تعصبات اور ذات و برادری کے جھگڑوں کے باعث پیدا ہونے والی منافرت (نفرت کرنا) ہے۔

شعر 50

نہ اُٹھّا جذبۂ خورشید سے اک برگِ گُل تک بھی
یہ رفعت کی تمنّا ہے کہ لے اُڑتی ہے شبنم کو

معانیالفاظ
سورج کا جذبہجذبۂ خورشید
پھول کی پتّیبرگِ گُل
بلندی کی آرزورفعت کی تمنّا

تشریح:

جب تک تمہارے دِل میں بلندی آرزو پیدا نہ ہوگی، تم بلندی حاصل نہ کرسکو گے چنانچہ دیکھ لو برگِ گل (پھول کی پتی) میں بلندی کی تمنا نہیں ہے، اس لیے وہ خورشید (سورج) کی طاقتِ جذب سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ اِس کے مقابلہ میں شبنم اوپر جانا چاہتی ہے، اس لیے جذبٰ خورشید سے فائدہ حاصل کر لیتی ہے اور اوپر چلی جاتی ہے۔

شعر 51

پھرا کرتے نہیں مجروحِ اُلفت فکرِ درماں میں
یہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کو

معانیالفاظ
محبت کے زخمیمجرُورحِ اُلفت
علاج کی فکرفکرِ درماں
دوا، دارُومرہم

تشریح:

جو لوگ شیوۂ محبت اختیار کرلیتے ہیں وہ اس راہ میں دکھ بھی اٹھاتے ہیں لیکن وہ کسی سے اپنے دکھ کا مداوا (علاج) طلب نہیں کرتے۔کیونکہ محبت اگر زخم لگاتی ہے تو مرہم بھی خود مہیا کرتی ہے یعنی اگر اہلِ محبت کو دوسروں کے ساتھ ہمدردی کرنے کے سلسلہ میں کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو یہ احساس کہ ہم نے دوسروں کو فائدہ پہنچایا، اُن کی تکلیف کا مداوا (ازالہ) کردیتا ہے۔

شعر 52

محبّت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے
ذرا سے بیج سے پیدا ریاضِ طُور ہوتا ہے

معانیالفاظ
محبت کی چنگاریمحبّت کا شرر
طُور کا باغ، جہاں حضرت موسیؑ کو اللہ تعالی کا جلوہ نظر آیاریاضِ طُور

تشریح:

محبت وہ چیز ہے جو بظاہر چنگاری کی طرح معمولی اور حقیر ہے، لیکن یہی چنگاری ساری دنیا کو منور کردیتی ہے۔ محبت ایک ایسا بیج ہے کہ جو دل کی سرزمین میں کاشت کردیا جائے تو اس سے کوہِ طور کے عظیم باغات پیدا ہوجاتے ہیں، جہاں حضرت موسیؑ کو اللہ تعالی سے ملاقات نصیب ہوئی تھی۔ اقبالؔ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محبت کی وجہ سے انسانی دل انوارِ باری تعالی کی تجلّی گاہ بن جاتا ہے۔

بند نمبر 7

شعر 53

دوا ہر دُکھ کی ہے مجروحِ تیغِ آرزو رہنا
علاجِ زخم ہے آزادِ احسانِ رفو رہنا

معانیالفاظ
زخمی، غم خوردہمجروح
آرزو کی تلوارتیغِ آرزو
(زخم) سِلوانے کا احسان نہ لیناآزادِ احسانِ رفُو

تشریح:

عشق و محبت سے دنیا کی ہر تکلیف اور ہر دکھ کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اگر تم اپنی تکالیف کا علاج چاہتے ہو تو تمھیں چاہیے کہ اپنے لیے مقاصد کی تخلیق کرو اور پھر ان کے حصول کے لیے جدوجہد میں لگ جاؤ۔ زخم کا علاج یہ نہیں ہے کہ اسے سی لیا جائے بلکہ حقیقی علاج یہ ہے اِس کو سلوانے کا احسان ہی نہ اٹھایاجائے۔ انسانی جسم کے زخم سلوانے اور رفو کروانے سے ٹھیک ہوجاتے ہیں ، لیکن وہ زخم کہ جو محبت کی وجہ سے دِل پر لگتے ہیں، ٹھیک نہیں ہوتے۔

شعر 54

شرابِ بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری
شکستِ رنگ سے سیکھا ہے مَیں نے بن کے بُو رہنا

معانیالفاظ
بے خودی کی شرابشرابِ بے خودی
آسمان تکتا فلک
اُڑانپرواز
رنگ کا اُڑنا، رنگ کا پھیکا پڑ جانا، رنگ کا ٹوٹناشِکستِ رنگ

تشریح:

بے خودی کی شراب پی کر، یعنی رنگ و نسل اور فرقہ وارانہ تعصبات و منافرت سے پاک ہو کر میں نے مراتب و مناصب کے اعتبار سے آسمان کی بلندیوں تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ مَیں نے یہ گُر پھولوں سے سیکھا ہے، جن کا رنگ، جو بظاہر انھیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتا ہے، اُڑ جاتا ہے لیکن اُن کی خوشبو، جس کی بظاہر کوئی شناخت نہیں ہوتی، آخر وقت تک قائم رہتی ہے۔ اس چیز نے مجھے یہ بتایا ہے کہ ظاہری امتیازات ختم ہوجاتے ہیں، اِس لیے کہ وہ پائیدار نہیں ہوتے، اِس کے بدلے میں وہ جذبے جو پوری نوعِ انسانیت کے لیے ہوں، انمِٹ (نہ مٹنے والے) ہوتے ہیں۔

شعر 55

تھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میں
عبادت چشمِ شاعر کی ہے ہر دم باوضو رہنا

معانیالفاظ
رُکےتھمے
رونے والی آنکھدیدۂ گریاں
ماتم کرنا، نوحہ پڑھنانوحہ خوانی
شاعر کی آنکھچشمِ شاعر

تشریح:

شاعر کی آنکھ، جو قوم و وطن کے دکھ درد پر آنسو بہاتی ہے، اپنا رونا ختم نہیں کرسکتی۔ اِس لیے کہ پُر نم رہنا اس کے نزدیک عبادت ہوتا ہے۔ پُر لطف بات یہ ہے کہ شاعر نے عبادت اور وضو ایک ساتھ لا کر عبارت میں دلکشی پیدا کردی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ قوم کے مصائب پر رونے والی آنکھ دراصل عبادت کرتی ہے اور جس طرح انسان کے لیے عبادت کرنا اور اپنے معبود کی بندگی بجالانا فرض ہے، اسی طرح چشمِ شاعر کے لیے رونا اور قوم کے دکھوں میں شامل ہوکر آنسو بہانا فرض ہے۔

قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم
منزلِ صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
محفلِ نظمِ حکومت، چہرۂ زیبائے قوم
شاعر رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم
مبتلائے درد کوئی عُضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ

(بانگِ درا: شاعر)

شعر 56

بنائیں کیا سمجھ کر شاخِ گُل پر آشیاں اپنا
چمن میں آہ! کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہنا

معانیالفاظ
پھول کی شاخشاخِ گُل
ٹھکانہ، مکان، گھرآشیاں
باغ، مراد ہے وطنچمن
افسوسآہ
بے عزتبے آبرُو

تشریح:

اگر ہندوستان کو اپنا وطن قرار دیں اور اِس میں اپنا گھر بنائیں تو کس بھروسے اور اُمید پر۔ اس لیے کہ اس وطن میں رہنے کا کیا فائدہ، جہاں انسان ذلیل و خوار اور بے آبرو ہو کر رہ رہے ہیں۔ تذلیل و بے آبروئی اس لیے کہ اول اہلِ ہند غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے، دوم یہ کہ انھیں اپنی غلامی کا احساس تک نہیں تھا، وہ (اہلِ ہند) اپنی اسی تذلیل پر قناعت کر کے بیٹھے تھے۔

شعر 57

جو تُو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبّت میں
غلامی ہے اسیرِ امتیازِ ما و تُو رہنا

معانیالفاظ
چھُپی ہوئیپوشیدہ
قید، گرفتاراسیر
میں اور تُو کا امتیاز، ایک دوسرے میں فرق قائم کرناامتیازِ ما و تُو

تشریح:

اگر تُو غور کرے تو تجھے معلوم ہوگا کہ آزادی محبت میں مضمر (پوشیدہ) ہے اور تفریق و تفرقہ میں مبتلا رہنے کا دوسرا نام غلامی ہے۔ اِس شعر کی معنویت یہ ہے کہ اگر اہلِ ہند باہمی محبت و اخوت کے جذبے سے کام لیں اوت تفرقہ بازی چھوڑ دیں تو وہ آزادی حاصل کرسکتے ہیں، بصورتِ دیگر آپس کے جھگڑے انھیں ہمیشہ غلام بنے رہنے پر مجبور کیے رکھیں گے۔

شعر 58

یہ استغنا ہے، پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کو
تجھے بھی چاہیے مثلِ حبابِ آبجو رہنا

معانیالفاظ
بے نیازی، بے پروائیاستغنا
اُلٹا، اوندھانگُوں
پیالہساغر
ندی کے بُلبلہ کی صورتمثلِ حبابِ آبجُو

تشریح:

اے اہلِ ہند! تمھیں بھی بلبلے کی طرح شانِ بے نیازی اور بے پروائی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اگر تم اپنی ذاتی اغراض اور فرقہ وارانہ مفادات کو پسِ پشت ڈال کر ایک قوم اور جماعت کی حیثیت سے کوشش میں لگ جاؤ تو تمھاری کوشش اور جدو جہد ضرور رنگ لائے گی۔ لیکن اگر تم نے بلبلے کے برعکس اپنے اپنے ساغر پھیلا کر بھیک مانگنی شروع کردی تو نتیجہ تمھارے حق میں اچھا نہ نکلے گا۔

شعر 59

نہ رہ اپنوں سے بے پروا، اسی میں خیر ہے تیری
اگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو! رہنا

معانیالفاظ
خیال نہ کرنے والا، بے فکربے پروا
سلامتی، خیریّتخیر
مقصود، مطلوبمنظور
غیروں کی عادت والابیگانہ خُو

تشریح:

اقبالؔ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ دوسروں کے سامنے بے نیازی کا رویہ اختیار کرنے کے باوجود اہلِ وطن کو ایک دوسرے سے بے نیاز اور بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔ دراصل یہ بے پروائی اور بے نیازی دوسروں کو حقیر سمجھنے کے سبب سے ہوتی ہے اور یوں آپس میں نفرت بڑھتی ہے۔ اقبال اہلِ ہند سے کہتے ہیں کہ اگر تم زیادہ عرصہ تک اس دنیا میں رہنا چاہتے ہو اور بحیثیت قوم تاریخِ عالم میں اپنے نقوش ثبت کرنے کے خواہاں ہو تو آپس میں بے نیازی اور بے پروائی کا رویہ اختیار مت کرو۔ اس لیے کہ تمھارے لیے نیک اور باسعادت راستہ یہی ہے۔

شعر 60

شرابِ رُوح پرور ہے محبت نوعِ انساں کی
سِکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنا

معانیالفاظ
روح کو تازگی بخشنے والی شرابشرابِ رُوح پروَر
انسانوں کے ساتھ محبّت سے پیش آنامحبّت نوعِ اِنساں کی
پیالہ اور صراحی کے بغیربے جام و سبُو

تشریح:

تفریق و تفرقہ اور امتیازات کے بغیر تمام انسانوں کی محبت ایسی شراب ہے کہ جو ہماری روح کی پرورش کرتی ہے اور روح کی قوتوں کو جِلا بخشتی ہے۔ محبت میں ایسا سرور ہے جس کے باعث میں ساغر و مینا کا احسان اٹھائے بغیر سرمست و سرشار رہتا ہوں ۔ عام شراب کے لیے تو جام و وساغر ضروری ہیں لیکن انسانوں کی شرابِ محبت پینے کے لیے انسان کو ان ظاہری وسیلوں کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

شعر 61

محبّت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نے
کِیا ہے اپنے بختِ خُفتہ کو بیدار قوموں نے

معانیالفاظ
اصلاح، تندرستی، صحت یابیشفا
باہم لڑنے جھگڑنے والی قومیںبیمار قومیں
سویا ہوا نصیبا، سوئی ہوئی قسمتبختِ خُفتہ
(مقدّر) جگانابیدار کرنا

تشریح:

دنیا میں جس قدر کمزور اور نحیف قومیں تھیں، انھوں نے محبت ہی کے باعژ اپنی کمزوریوں اور بیماریوں سے نجات حاصل کی۔ محبت کی وجہ سے نہ صرف ان قوموں کے امراض دُور ہوگئے بلکہ ان کے سوئے ہوئے نصیب بھی جاگ پڑے۔ اقبالؔ کے اس دعوے کی تائید کے لیے یوں تو بہت سی قوموں کی تاریخ کو بطور مثال و ثبوت پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اِس سلسلے کی نمایاں ترین مثال صحرا نشیں عربوں کی ہے۔ یہ لوگ جب تک پانی پینے پلانے اور گھوڑے آگے بڑھانے جیسے معمولی مسائل پر لڑتے رہے، اُس وقت تک قابلِ توجہ بھی نہ تھے لیکن جب ان میں اصولِ مواخات قائم ہوا اور انھوں نے باہمی محبت و اخوت اختیار کی تو تاجِ سرِ دارا ان کے قدموں میں آگیا۔

بند نمبر 8

شعر 62

بیابانِ محبّت دشتِ غربت بھی، وطن بھی ہے
یہ ویرانہ قفس بھی، آشیانہ بھی، چمن بھی ہے

معانیالفاظ
محبّت کا صحرا، محبّت کا ویرانہبیابانِ محبّت
پردیس کا جنگل، صحرادشتِ غُربت
غیر آباد جگہم ویرانہویرانہ
پنجرہقفس
ٹھکانہ، رہنے کی جگہآشیانہ
باغچمن

تشریح:

اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا میں سب کچھ محبت ہی ہے اور سارا کاروبارِ حیات اسی کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہی محبت وطن کی حیثیت بھی رکھتی ہے یعنی انسان کے لیے سکھ و اطمینان و راحت کا سبب بنتی ہے۔

اگر محبت کو ویرانہ کہا جائے تو بھی ٹھیک ہے، لیکن یہی محبت قفس، آشیانے اور چمن کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ محبت کی وجہ سے انسان وطن میں بھی ذلیل و خوار ہوسکتا ہے اور دشتِ غربت یعنی پردیس میں بھی عزت افزائی کا مستحق قرار پاسکتا ہے۔ محبت کی وجہ سے وہ اپنے چمن کو چھوڑ کر نکل سکتا ہے اور محبت ہی کے باعث قفس (پنجرے) کو اپنے چمن اور آشیاں کا بدل تصور کرسکتا ہے۔ اِس ضمن میں بہت سے لوگوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں جنھوں نے اپنے مقصد سے محبت کی بنا پر وطن چھوڑا، پردیس میں ہنسی خوشی زندگی گزاری۔ قید کاٹی اور گھر بار، عزیز و اقارب اور وطن سے دور رہے۔

شعر 63

محبّت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے، صحرا بھی
جرَس بھی، کارواں بھی، راہبر بھی، راہزن بھی ہے

معانیالفاظ
گھنٹیجرَس
قافلہکارواں
راستہ دِکھانے والا، رہنماراہبر
راستہ لُوٹنے والا، چور، ڈاکُوراہزن

تشریح:

محبت وہ شے ہے جو انسان کی منزل بھی بن سکتی ہے اور اس کے بھٹکنے کے لیے صحرا بھی قرار پاسکتی ہے۔ محبت وہ گھنٹی بھی ہے جو اپنی آواز سے اہلِ قافلہ کو سفر کے لیے تیار کرتی ہے۔ یہی محبت قافلہ بھی ہے اور وہ شخص بھی جو قافلے کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ محبت ہی وہ انسان ہے جو قافلے کو لوٹ لیتا ہے۔ یعنی محبت ہر بھیس اور ہر پردے میں ظاہر ہوسکتی ہے۔

شعر 64

مرَض کہتے ہیں سب اس کو، یہ ہے لیکن مرَض ایسا
چھُپا جس میں علاجِ گردشِ چرخِ کُہن بھی ہے

معانیالفاظ
بیماری، لَت، روگمرض
پرانے اسمان کی گردِش کا علاج، ایسا علاج جو زمانے پرانے اندازوں میں انقلاب پیدا کر دےعلاجِ گردشِ چرخِ کُہن

تشریح:

عام لوگ محبت کو مرض قرار دیتے ہیں لیکن یہ مرض ایسا ہے کہ قوم کے تمام امراض کا مداوا کردیتا ہے، ان کی خرابیوں کو دُور کردیتا ہے۔ اس کی بدولت گردشِ چرخ کہن یعنی تمام مصیبتوں کا ازالہ ہوجاتا ہے کہ جو تقدیر کی وجہ سے انسان کو مقدر ہوجاتی ہیں۔

شعر 65

جَلانا دل کا ہے گویا سراپا نُور ہو جانا
یہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمعِ انجمن بھی ہے

معانیالفاظ
مکمل طور پر روشنی بن جاناسراپا نور ہو جانا
عشق کی حرارت سے جل رہا ہوسوزاں ہو
محفل کی رونقشمعِ انجُمن

تشریح:

اگر کوئی شخص محبت کی آگ میں اپنے دل کو جلائے گا تو اس کا دل سراپا نور ہوجائے گا۔ جس شخص کا دل محبت کی آگ میں جل جاتا ہے تو وہ شمعِ انجمن بن جاتا ہے یعنی یہ دنیا پروانوں کی طرح اس پر نثار ہونے کو تیار رہتی ہے۔

شعر 66

وہی اک حُسن ہے، لیکن نظر آتا ہے ہر شے میں
یہ شیریں بھی ہے گویا، بیستوُں بھی، کوہکن بھی ہے

معانیالفاظ
محبوبِ حقیقی (خدا) کا حُسنحُسن
فرہاد کی محبوبہشیریں
ایران کا وہ پہاڑ جسے فرہاد نے شیریں کی خواہش پر نہر کے لیے کھودا تھابیستُوں
پہاڑ کھودنے والا، مراد ہے فرہاد سےکوہکن

تشریح:

محبت ایسا حُسن ہے جو ہر شے میں نظر آتا ہے اور دنیا کی ہر چیز میں اس کے جلوے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بظاہر شیریں، فرہاد اور کوہِ بے ستوں میں بڑآ فرق ہے لیکن درحقیقت یہ سب محبت ہی کے مختلف روپ ہیں۔ مراد یہ ہوسکتی ہے کہ وہ محبوبِ حقیقی تو واحد ہے۔ اس کے جلوے کائنات کی ہر مخلوق اور ہر شے میں نمایاں ہیں، تو جب سب مخلوق اسی ایک ذات کی ہے تو پھر ہم باہم مل جل کر اور محبت سے کیوں نہ رہیں۔

شعر 67

اُجاڑا ہے تمیزِ ملّت و آئِیں نے قوموں کو
مرے اہلِ وطن کے دل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے؟

معانیالفاظ
برباد کیا ہےاُجاڑا ہے
مِلّت او مذہب کا فرقتمیزِ مِلّت و آئیں
وطن والے، مراد ہے برِ صغیر / ہندوستان میں رہنے والااہلِ وطن
وطن کی حفاظت کا خیال، وطن کی فکرفکرِ وطن

تشریح:

یاد رکھو! جن قوموں کے افراد نے آپس میں نفرت کا بازار گرم کیا، وہ صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوگئیں۔ میرے اہلِ وطن بھی اسی طرح افتراق اور نفاق کا شکار ہیں۔ کیا اُن کے دلوں میں وطن کے لیے بھی محبت کا کوئی جذبہ موجود ہے؟ کیا یہ وطن کے بارے میں بھی سوچتے ہیں اور اس کے اچھے برے سے بھی ان کا کوئی تعلق ہے؟ اِس شعر میں شاعر نے استفہامِ انکاری کی صورت پیدا کی ہےیعنی سوال اس انداز میں پوچھا ہے کہ خود سوال ہی میں جواب پوشیدہ ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اہلِ ہند کو اپنے وطن کی کوئی فکر نہیں۔ ہوتی تو یہ گروہ در گروہ بٹے ہوئے نہ ہوتے۔

شعر 68

سکُوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ
زباں بھی ہے ہمارے مُنہ میں اور تابِ سخن بھی ہے

معانیالفاظ
خاموشی سکھانے والاسکُوت آموز
درد بھری داستان کا طُول / لمبائی / طویل ہونا (یعنی لمبی داستان)طُولِ داستانِ درد
بات کرنے کی طاقتتابِ سُخن

تشریح:

میری داستان بہت طویل ہے اور اِس کی یہی طوالت مجھے خاموش رہنے پر مجبور کررہی ہے ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ میں بھی زبان رکھتا ہوں اور مجھ میں بات کرنے کاحوصلہ بھی ہے۔ یعنی صرف بات کی طوالت آڑے آرہی ہے ورنہ میں وہ تمام وسائل رکھتا ہوں، جو اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے ضروری خیال کیے جاتے ہیں۔

شعر 69

”نمیگردید کوتہ رشتۂ معنی رہا کردم
حکایت بود بے پایاں، بخاموشی ادا کردم“

معانیالفاظ
نہیں ہوتا تھانمی گردید
مختصرکُوتہ
داستان کا سلسلہرشتۂ معنی
اس لیے اُسے چھوڑ دیا / رہا کر دیارہا کردم
داستان، قصہحکایت
بے انتہا تھی، بہت طویل تھی، لا متناہی تھیبُود بے پایاں
خاموشی کے ساتھ ادا کر دیابخاموشی ادا کرم

تشریح:

میری داستانِ درد چونکہ بہت طویل تھی۔ اس قدر طویل کہ اس کی کوئی انتہا ہی نظر نہیں آتی، اس لیے میں نے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھی۔

نوٹ: یہ شعر مشہور فارسی شاعر ”نظیریؔ“ کا ہے۔

تبصرہ

نظم ”تصویرِ درد“ اقبالؔ کے فکری اِرتقا کا اہم ترین سنگِ میل ہے۔ اِس کلام میں دردمندی، قومی یگانگت اور انسانیت کا وہ تڑپتا ہوا پیام ہے جو تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اقبالؔ نے وطن کے باسیوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے آپس کی نفرتیں نہ مِٹائیں تو آنے والا دور اُن کے نام و نشان تک کو مِٹا دے گا۔

؏ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *