فہرست
تعارف
نظم ”تقدیر“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا وہ مختصر مگر فکر انگیز کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے دنیا میں نااہلوں کے عارضی اقتدار اور قوموں کے عروج و زوال کے ابدی قانون کا فلسفیانہ جائزہ لیا ہے۔
اقبالؔ انسانی مشاہدے کا ایک تلخ تضاد سامنے لاتے ہیں کہ بظاہر دنیا میں نااہل کو جاہ و جلال مِل جاتا ہے اور جوہرِ قابل رسوا دکھائی دیتا ہے، اور بادی النظر (پہلی نگاہ) میں تقدیر کسی انسانی منطق کی پابند نظر نہیں آتی۔ لیکن اس ظاہری الجھن کے پردے میں تاریخِ امم کی وہ اٹل سچائی چھپی ہے کہ مشیتِ ایزدی ہر لمحہ اقوام کے مجموعی عمل پر دو دھاری تلوار کی طرح نظر رکھے ہوئے ہے اور نااہلوں کی ڈھیل کسی بھی لمحے اُن کے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔
؎ عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی، جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہے
(بانگِ درا: طلوعِ اسلام)
اپنی ذاتی بیاض (ڈائری) میں لِکھتے ہیں:-
The fate of the world has been principally decided by minorities. The history of Europe bears ample testimony to the truth of this proposition. It seems to me that there is a psychological reason why minorities should have been a powerful factor in the history of mankind. Character is the invisible force which determines the destinies of nations, and an intense character is not possible in a majority. It is a force; the more it is distributed the weaker it becomes.
ترجمہ: دُنیا کے مقدر کا فیصلہ اصولی طور پر اقلیتوں ہی سے ہوا ہے۔ یورپ کی تاریخ اس دعوے کی صداقت پر کافی شہادت بہم پہنچاتی ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس امر کی ایک سیاسی وجہ ہے کہ بنی نوع انسان کی تخلیق میں اقلیّتیں کیونکر ایک طاقتور عنصر بنی ہیں۔ کردار ہی وہ غیر مرئی طاقت ہے جو اقوام کے مقدر (تقدیر) کا تعین کرتا ہے اور ایک مؤثر کردار محض اکثریت میں ہی ممکن نہیں۔ یہ تو ایک قوت ہے، جتنا ہی اسے تقسیم کیا جائے، اُسی قدر یہ کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔
—Muhammad Iqbal, Stray Reflections (Urdu translation: Mian Sajid Ali)
تشریح
نااہل کو حاصل ہے کبھی قُوّت و جبروت
ہے خوار زمانے میں کبھی جوہرِ ذاتی
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| وہ (شخص) جو کوئی کام کرنے کی اہلیّت نہ رکھتا ہو، ناقابل، ناموزوں، نامناسب (کسی کام کے لیے) | نا اہل |
| طاقت | قوّت |
| عظمت، بڑائی، جلال، بزرگی | جبرُوت |
| ذلیل، رُسوا، بے عزت | خوار |
| ذاتی قابلیّت اور صلاحیت | جوہرِ ذاتی |
تشریح:
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایسے انسان جو نالائق، نا فہم، ناعقل ہوتے ہیں اور جو کوئی ذاتی صلاحیت نہیں رکھتے وہ طاقت، عظمت اور ہیبت کے مالک بن جاتے ہیں اور حکومت کے عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ لوگ، جنہیں اللہ نے ذاتی صلاحیتیں عطا فرمائی ہوئی ہوتی ہیں، وہ زمانے میں ذلیل اور خوار دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تقدیر کے متعلق ایک عام نقطۂ نظر ہے جو علامہ نے اس شعر میں پیش کیا ہے۔ بقول حافظ شیرازیؔ:-
؎ اسپِ تازی مجروح شدہ است بزیرِ پالاں
طوقِ زریں ہمہ در گردنِ خرمی بینم
ترجمہ: بہترین عربی گھوڑا تو پالان کے نیچے زخمی حالت میں کراہ رہا ہے، جبکہ مجھے گدھوں کی گردنوں میں سونے کے ہار نظر آرہے ہیں۔
اِس فارسی شعر کا مفہوم یہ ہے کہ باصلاحیت افراد تو انتہائی نامساعد حالات سے دوچار ہیں جبکہ احمق، نالائق اور مسخرے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
شاید کوئی منطق ہو نہاں اس کے عمل میں
تقدیر نہیں تابعِ منطق نظر آتی
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| وہ علم جس میں عقلی دلیلوں سے مسئلوں پر غور کیا جائے، Logic | منطق |
| پوشیدہ، چھُپا ہوا | نہاں |
| پیرو، پیچھے چلنے والی، زیرِ فرمان | تابع |
| منطق (Logic) کی پیروی کرنے والی | تابعِ منطق |
تشریح:
اور یہ بھی صحیح ہے کہ تقدیر، منطق (Logic) کے طابع نظر نہیں آتی۔ یعنی بعض اوقات ہماری عقل کا تقاضا کچھ ہوتا ہے اور دنیا میں جو کچھ رونما ہوتا ہے وہ اس کے بالکل خلاف ہوتا ہے۔ نااہل کے کامیاب اور اہل کے ناکام ہونے کے پیچھے شاید کوئی علمِ معقول یا دلیل کی بات پوشیدہ ہو، لیکن میرے خیال میں تقدیر جو ہے وہ منطق (علمِ معقول) کے زیرِ فرمان نہیں ہے۔ اس کا معاملہ کچھ اور ہی ہے۔
ہاں، ایک حقیقت ہے کہ معلوم ہے سب کو
تاریخِ اُمَم جس کو نہیں ہم سے چھُپاتی
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| صحیح بات، اصل بات | حقیقت |
| اُمّت کی جمع، قومیں | اُمم |
| اُمّتوں یعنی قوموں کی تاریخ، تاریخی حالات | تاریخِ اُمم |
تشریح:
اقبالؔ نے دوسرے شعر میں یہ بات بیان کی ہے کہ شاید اہل اور نا اہل کی تقدیر میں کوئی منطق چھپی ہوئی ہو، لیکن اس تیسرے شعر میں یہ فرماتے ہیں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے جو سب کو معلوم ہے اور یہ حقیقت قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ سے صاف ظاہر ہے۔ وہ حقیقت کیا ہے؟ اگلے شعر میں ملاحظہ فرمائیں۔
’ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اس کی
بُرّاں صفَتِ تیغِ دو پیکر نظر اس کی!‘
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ہر لمحہ، ہر پل | ہر لحظہ |
| کاٹنے والی | بُرّاں |
| مانند | صِفت |
| تلوار | تیغ |
| دو دھاری، جو دو طرف سے کاٹ کرے | دو پیکر |
| دو دھاری تلوار کی مانند کاٹنے والی | صِفتِ تیغِ دو پیکر |
تشریح:
اور وہ حقیقت یہ ہے کہ قوموں کے عمل پر ہر لمحہ تقدیر کی نظر رہتی ہے اور اِس کی نظر دو دھاری تلوار کی طرح کاٹ دار ہے، جو اہلِ عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے اور بے عملوں کو ناکامی کا منہ دکھاتی ہے۔ گویا تقدیر قوموں کے جہد و عمل کے مطابق اُن سے سلوک کرتی ہے۔ جو قومیں جدوجہد میں سرگرم رہتی ہیں، تقدیر اُنہیں عظمت و سربلندی سے نوازتی ہے، جو قومیں اِس صِفت سے عاری ہیں، وہ آخر ایک دِن فنا ہو جاتی ہیں۔ اقبالؔ کے نزدیک تقدیر کا وہ مفہوم جو عوام کے ذہن میں ہے کہ نااہل پھلتے پھولتے ہیں اور اہل خوار نظر آتے ہیں، بالکل غلط ہے۔ تقدیر بندوں کے اپنے اعمال کے نتیجے میں بنتی ہے۔
مختصراً یہ کہ قومیں اپنے اجتماعی اعمال کے لحاظ سے عروج حاصل کرتی ہیں یا زوال پذیر ہوتی ہیں۔ کوئی منطق قوموں کو ذلتِ غلامی سے نکال کر عزتِ آزادی عطا نہیں کرتی اور نہ ہی عزت چھین کر ذِلّت دیتی ہے، یہ پست و بالا مقامات صرف عمل کے پیکرِ نتائج ہوتے ہیں۔
تبصرہ
یہ نظم تقدیر کے نام پر بے عملی اور جبر پرستی کی روایتی خام خیالی کو پاش پاش کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ انفرادی سطح پر ناانصافی دکھائی دے، مگر اقوام کی تاریخ مکافاتِ عمل کے غیر متبدل قانون کے تابع ہے؛ فطرت افراد کے گناہ تو معاف کر سکتی ہے مگر قوموں کے اجتماعی گناہوں اور بے عملی کو کبھی معاف نہیں کرتی، اور تاریخ کا حتمی فیصلہ ہمیشہ مسلسل عمل اور پختہ کردار کے حق میں ہی صادر ہوتا ہے۔
قوانینِ فطرت کی پاسداری کرنے والی اقوام کی تاریخی کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-
تاریخ سے ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو قومیں فطرت کے قوانین کی پابندی کرتی ہیں، وہ ترقی کرتی ہیں اور جو قومیں نافرمانی کرتی ہیں، وہ مِٹ جاتی ہیں۔ یعنی فطرت، افراد کے گناہوں کو تو کبھی کبھی معاف بھی کر دیتی ہے، لیکن مِلّت کے گناہوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ اسی خیال کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے:-
؎ فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں مِلّت کے گناہوں کو معاف
(ضربِ کلیم: دین و تعلیم)اِس کی مثال کو یوں سمجھو کہ یہ تو ممکن ہے کہ ”بچہ سقہ“ چند روز کے لیے نیرنگیٔ روزگار کی بدولت، تختِ کابل پر جلوہ گر ہو جائے۔ لیکن یہ ممکن نہیں کہ بچہ سقہ کے ٹائپ کے حکمرانوں کا طویل سلسلہ شروع ہو جائے۔ یا ایک قوم مسلسل بد اعمالیوں میں مبتلا رہے اور صفحۂ ہستی سے معدوم نہ ہو جائے۔ چنانچہ عاد اور ثمود کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں اور ان شاء اللہ اب انگریزوں کی باری ہے۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
حوالہ جات
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ضربِ کلیم از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی
- شرح ضربِ کلیم از عارف بٹالوی







