فہرست
تعارف
نظم ”دریوزۂ خلافت“ علامہ اقبال کے دورِ ثالث کی ایک غیرت مندانہ اور تاریخی نظم ہے، جو پہلی جنگِ عظیم کے بعد سقوطِ سلطنتِ عثمانیہ کے المیے پر برطانوی حکومت سے خلافت کی بحالی کی اپیلیں کرنے والے وفد کی روانگی کے پس منظر میں لکھی گئی۔
اقبالؔ برصغیر کے مسلمانوں کی خوش فہمی اور سیاسی بھیک پر شدید تازیانہ لگاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے تو جائے مگر احکامِ الٰہی اور ایمانی غیرت کا سودا نہ کیا جائے۔ وہ تاریخی شعور کو جھنجھوڑتے ہیں کہ جس اقتدار کو مسلمان اپنے خون سے نہ خریدیں وہ ان کے لیے سراسر ننگ و عار ہے؛ اور شیخ سعدی کے اس فارسی مصرعے سے بات کا حق ادا کر دیتے ہیں کہ ’ہڈی کا ٹوٹ جانا اتنی شرم کی بات نہیں جتنا دوسروں کے در سے مومیائی (مرہم) کی بھیک مانگنا ہے“۔
مسئلۂ خلافت، سقوطِ سلطنتِ عثمانیہ اور تحریکِ خلافت کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
نظم کے محرکات بتاتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر تحریر کرتے ہیں:-
مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا
تحریکِ خلافت کے سیاسی نتائج اور اقبالؔ کے دور اندیشانہ موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرار زیدی رقم طراز ہیں:-
اسرار زیدی، شرح بانگِ درا
تشریح
اگر مُلک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تُو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| قبضے سے نکل جانا | ہاتھوں سے جانا |
| شریعتِ اسلامی، خدا کے احکام | احکامِ حق |
| اِنحراف، سرتابی، نافرمانی | بے وفائی |
تشریح:
علامہ اقبال مسلمانوں اور بالخصوص خلافت کمیٹی کے ارکان کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ:-
اگر مُلک (ترکی) ختم ہوتا ہے تو بلا سے ہو جائے، لیکن شریعتِ اسلامیہ سے بے وفائی مت کرو، اگر تم ترکی کی سالمیت برقرار رکھنے کی گزارش لے کر دشمنانِ مِلّت کے سامنے دستِ سوال دراز کرو گے تو گویا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرو گے۔ واضح رہے کہ اسلام ہمیں غیرت و خود داری کا درس دیتا ہے اور غیرت کا تقاضا ہے کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے جائیں۔ بقول اقبالؔ:-
؏ دوسرا نام اسی دِین کا ہے ’فقرِ غیور‘!
(ضربِ کلیم: اسلام)
واضح رہے کہ فکرِ اقبالؔ میں قوّت و شوکت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:-
؎ ”وہ نبوّت ہے مسلماں کے لیے برگِ حِشیش
جس نبوّت میں نہیں قُوّت و شوکت کا پیام“
(ضربِ کلیم: نبوت)
اسی طرح اپنی ذاتی بیاض (ڈائری) میں رقم طراز ہیں:-
Power is more divine than truth. God is power. Be ye, then, like your father who is in heaven.
—Muhammad Iqbal, Stray Reflections (Urdu translation: Mian Sajid Ali)
تحریکِ خلافت: پہلی جنگِ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ ترکی کی جنگ میں شمولیت سے ہندوستان کے مسلمان پریشان ہوئے کہ اگر انگریز کامیاب ہو گیا تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے وزیر اعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران میں مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی نہیں ہو گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی۔ جرمنی کو شکست اور برطانیہ کو فتح ہوئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کر دیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کو وعدے یاد دلانے کے لیے اور خلافت کے تحفظ کے لیے ایک تحریک شروع کی جسے ”تحریکِ خلافت“ کا نام دیا گیا۔

نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا
خلافت کی کرنے لگا تُو گدائی
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| آگاہی، واقفیّت، جاننا | آگہی |
| بھیک مانگنا | گدائی |
تشریح:
اقبالؔ سوال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم جو خلافت کو برقرار رکھنے کی گزارش لے کر انگریزوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے چلے ہو، کیا تم تاریخ سے آگاہی نہیں رکھتے؟ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے یہ بات بخوبی جانتے جانتے ہیں کہ حکومت یا سلطنت بھیک کا ٹُکڑا نہیں ہے جو کوئی کسی کی جھولی میں ڈال دے، حکومت و سلطنت اپنے زورِ بازو سے حاصل ہو سکتی ہے نہ کہ دُوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے۔
ترکی کے ضمن میں علامہ اقبال کی پیش بینانہ بصیرت کے درست ثابت ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرار زیدی لکھتے ہیں:-
بعد میں حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ ترکی کے ضمن میں اقبالؔ کی سوچ صد فی صد درست تھی اور ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے چلائی ہوئی تحریکِ خلافت بے جواز تھی۔ بعد میں ترک جرنیلوں نے ہی انگریزوں سے لڑ کر اپنے وطن کو آزاد کرایا تھا۔
اسرار زیدی، شرح بانگِ درا
خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے
مُسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| باعثِ رُسوائی، باعثِ شرم | ننگ |
| بادشاہی، حکومت | پادشائی |
تشریح:
جس بادشاہت اور حکومت کو مسلمان اپنے لہو سے نہ خریدیں یعنی جسے جان کی بازی لگا کر حاصل نہ کریں، وہ بادشاہت اور حکومت مسلمانوں کے لیے باعثِ ننگ (شرم و ندامت) ہوتی ہے۔ یعنی وہ پادشاہی سراسر باعثِ ذلّت ہے جو اپنے زورِ بازو سے حاصل نہ کی جائے بلکہ کسی کی مہربانی سے حاصل ہو جائے، یقیناً ایسی حکومت غلامی کی دِلفریب شکل ہوگی۔
”مرا از شکستن چُناں عار ناید
کہ از دیگراں خواستن مومیائی“
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مجھے، میرے لیے | مرا |
| سے | از |
| ٹوٹنے | شِکستن |
| اِس قدر | چُناں |
| شرم، ذِلت | عار |
| نہیں آتی | ناید |
| دوسروں | دیگراں |
| مانگنا، طلب / درخواست کرنا | خواستن |
| ہڈی کو جوڑنے کی ایک مجرّب دوا | مومیائی |
تشریح:
اِس شعر کا ترجمہ ہے کہ ”مجھے اپنے جسم کی ہڈی ٹوٹ جانے سے اِس قدر صدمہ نہیں پہنچتا، جس قدر اِس کے علاج کے لیے غیروں سے مومیائی مانگنے میں شرم آتی ہے“۔
اقبالؔ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ ملک (ترکی) کا ہاتھوں سے جانا میرے لیے بہت صدمے کی بات ہے، لیکن میری غیرت اس بات کو گوارا نہیں کرتی کہ میں ملک کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے دشمنوں کے آگے ہاتھ پھیلاؤں اور احکامِ حق کی خلاف ورزی کروں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین ہمیں غیرت و حمیت کا درس دیتا ہے، یہ تاریخ کا سبق اور غیرت و حمیت کا تقاضا ہے کہ اپنا حق اپنے زورِ بازو سے حاصل کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ تمام نسلی و جغرافیائی امتیازات کو بھلا کر متحد ہو جائے، مسلمانوں کو قوّی بنانے والی صرف اور صرف ایک ہی قوّت ہے اور وہ ہے توحید۔ بقول علامہ:-
؎ بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے
(بانگِ درا: وطنیّت)
شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ:-
؎ حقا کہ با عقوبتِ دوزخ برابر است
رفتن بہ پائے مردیِ ہمسایہ در بہشت
ترجمہ: سچ تو یہ ہے کہ کسی پڑوسی (یا دوسرے شخص) کے احسان اور سفارش کے ذریعے جنت میں جانا بھی دوزخ کے عذاب کے برابر ہے۔
تبصرہ
یہ کلام سیاسی خودداری اور قوتِ بازو کے قرآنی فلسفے کا دوٹوک منشور ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کِیا ہے کہ خلافت یا سیاسی اقتدار کوئی ایسی شے نہیں جو استعماری فاتحین کی چوکھٹ پر گڑگڑا کر یا بھیک مانگ کر حاصل کی جا سکے؛ جب تک قوم اپنے خون اور اجتماعی طاقت سے اپنے وجود کا لوہا نہیں منواتی، سامراج کے رحم و کرم پر جینا مستقل غلامی کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔






