Skip to content

بانگِ درا 159: دریوزۂ خلافت

تعارف

نظم ”دریوزۂ خلافت“ علامہ اقبال کے دورِ ثالث کی ایک غیرت مندانہ اور تاریخی نظم ہے، جو پہلی جنگِ عظیم کے بعد سقوطِ سلطنتِ عثمانیہ کے المیے پر برطانوی حکومت سے خلافت کی بحالی کی اپیلیں کرنے والے وفد کی روانگی کے پس منظر میں لکھی گئی۔

اقبالؔ برصغیر کے مسلمانوں کی خوش فہمی اور سیاسی بھیک پر شدید تازیانہ لگاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے تو جائے مگر احکامِ الٰہی اور ایمانی غیرت کا سودا نہ کیا جائے۔ وہ تاریخی شعور کو جھنجھوڑتے ہیں کہ جس اقتدار کو مسلمان اپنے خون سے نہ خریدیں وہ ان کے لیے سراسر ننگ و عار ہے؛ اور شیخ سعدی کے اس فارسی مصرعے سے بات کا حق ادا کر دیتے ہیں کہ ’ہڈی کا ٹوٹ جانا اتنی شرم کی بات نہیں جتنا دوسروں کے در سے مومیائی (مرہم) کی بھیک مانگنا ہے“۔

مسئلۂ خلافت، سقوطِ سلطنتِ عثمانیہ اور تحریکِ خلافت کے تاریخی پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس نظم کا عنوان ہے دریوزۂ خلافت یعنی ”خلافت کی بھیک“، اس لیے جب تک مسئلۂ خلافت کی مختصر تاریخ نہ لکھی جائے، یہ نظم سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ واضح ہو کہ پہلی جنگِ عظیم میں ترکوں کو عربوں کی غدّاری کی بدولت شکستِ فاش نصیب ہوئی، چنانچہ 3 نومبر 1918ء کو انہوں نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دئیے اور مسلمانانِ عالم کے سب سے بڑے دشمن یعنی انگریزوں کی دِلی مراد پوری ہو گئی۔ چنانچہ انگلستان کے وزیرِاعظم نے جب جنرل ایلنبی (General Allenby) فاتح فلسطین کے سینے پر تمغا لگایا تو اُس کی فتح کو ہلال پر صلیب کی فتح قرار دیا اور کہا کہ سلطان صلاح الدین کے ہاتھوں جو شکست ہمیں نصیب ہوئی تھی، اُس کا انتقام اب ہم نے لیا ہے۔

انگریزوں نے ہندوستانی مسلمان کے ساتھ جو جھوٹے وعدے کیے تھے اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ خواہ کچھ بھی ہو، ترکی کی سالمیت بر قرار رکھی جائے گی یعنی اس کے حصے نہیں کیے جائیں گے۔ لیکن جب دشمنانانِ اسلام کو اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل ہو گئی تو انہوں نے شرافت اور انسانیت، ہر چیز کو بالائے طاق رکھ کر ترکی کے خاتمے کا فیصلہ کر دیا اور 1919ء سے اس پر عمل در آمد شروع ہو گیا۔ جب ہندی مسلمانوں نے یہ دیکھا کہ سلطنت ترکی صفحۂ ہستی سے نیست و نابود ہونے والی ہے، تو مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ پشاور سے لے کر مدراس تک اور کراچی سے لے کر ڈھاکہ تک، سارے ہندوستان میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ مسلمانوں نے سارے ملک میں جلسے منعقد کر کے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور اُن میں انگریزوں کو ترکوں کی سابقہ ”حماقتوں“ کا واسطہ دیا (تاکہ انگریز ترکی کی سالمیت برقرار رکھنے پر آمادہ ہو جائیں)، مثلاً:-

ا۔ 1799ء میں سلطنتِ ترکی نے سلطان ٹیپو کی امداد کرنے کی بجائے سلطنتِ برطانیہ کی امداد کی تھی یعنی سلطان شہیدؒ کو بھی غلامی قبول کر لینے کا مشورہ دیا تھا۔
ب- 1855ء میں کریمیا (روس) کی جنگ میں ترک اور انگریز دونوں دوش بدوش لڑے تھے۔
ج- 1857ء میں ترکوں نے انگریزوں کو اجازت دی تھی کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کا بسرعتِ تمام قلع قمع کرنے کے لیے اپنی فوجیں مصر کے راستے ہندوستان پہنچا سکتے ہیں۔

ان جلسوں کے بعد دسمبر 1919ء میں خلافت کانفرنس کا اجلاس منعقد ہوا اور اس میں یہ طے پایا گیا کہ جنوری 1920ء میں انگلستان کو ایک وفد روانہ کیا جائے جو حکومتِ برطانیہ سے درخواست کرے کہ خلافت کا خاتمہ نہ کیا جائے، چنانچہ یہ وفد آٹھ مہینے انگلستان رہ کر پچیس ہزار روپیہ ضائع کرکے بے نیل و مرام واپس آیا تھا۔

علامہ اقبالؔ کی نگاہِ دوربیں نے پہلے ہی محسوس کر لیا تھا کہ حکومتِ برطانیہ، جو خود زوالِ خلافت کی سب سے زیادہ آرزو مند ہے اور اس تمام فتنہ کی بانی ہے، وہ بھلا کب ارکانِ وفد کی باتوں پر غور کرے گی۔ اس لیے انہوں نے یہ بلیغ نظم سپردِ قلم کی۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

نظم کے محرکات بتاتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر تحریر کرتے ہیں:-

نظم ”دریوزۂ خلافت“ اس موقع پر لکھی گئی جب مولانا محمد علی مرحوم ایک وفد لے کر خلافت کا مسئلہ انگلستان کے وزیرِ اعظم لائیڈ جارج کے سامنے پیش کرنے کے لیے لے گئے تھے۔

مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا

تحریکِ خلافت کے سیاسی نتائج اور اقبالؔ کے دور اندیشانہ موقف پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرار زیدی رقم طراز ہیں:-

گذشتہ نظم ”اسیری“ میں تحریکِ خلافت کے ضمن میں اقبالؔ نے جو گول مول رویہ اختیار کیا ہے، اس کی توجیح زیرِ تشریح نظم سے ہو جاتی ہے۔ اقبالؔ تحریکِ خلافت کے حق میں نہیں تھے۔ اُن کا نظریہ تھا کہ اقتدار کوئی بھیک میں نہیں دیتا بلکہ قوتِ بازو سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کی واضح مثال پہلی عالمی جنگ میں ترکی پر انگریزوں کا تسلّط اور ہندوستانی مسلمانوں سے اُن کی بدعہدی تاریخی شواہد کے طور پر علامہ کے سامنے تھیں۔

اسرار زیدی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

اگر مُلک ہاتھوں سے جاتا ہے، جائے
تُو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی

معانیالفاظ
قبضے سے نکل جاناہاتھوں سے جانا
شریعتِ اسلامی، خدا کے احکاماحکامِ حق
اِنحراف، سرتابی، نافرمانیبے وفائی

تشریح:

علامہ اقبال مسلمانوں اور بالخصوص خلافت کمیٹی کے ارکان کو مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ:-

اگر مُلک (ترکی) ختم ہوتا ہے تو بلا سے ہو جائے، لیکن شریعتِ اسلامیہ سے بے وفائی مت کرو، اگر تم ترکی کی سالمیت برقرار رکھنے کی گزارش لے کر دشمنانِ مِلّت کے سامنے دستِ سوال دراز کرو گے تو گویا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرو گے۔ واضح رہے کہ اسلام ہمیں غیرت و خود داری کا درس دیتا ہے اور غیرت کا تقاضا ہے کہ دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے جائیں۔ بقول اقبالؔ:-

؏ دوسرا نام اسی دِین کا ہے ’فقرِ غیور‘!
(ضربِ کلیم: اسلام)

واضح رہے کہ فکرِ اقبالؔ میں قوّت و شوکت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:-

؎ ”وہ نبوّت ہے مسلماں کے لیے برگِ حِشیش
جس نبوّت میں نہیں قُوّت و شوکت کا پیام“

(ضربِ کلیم: نبوت)

اسی طرح اپنی ذاتی بیاض (ڈائری) میں رقم طراز ہیں:-

Power is more divine than truth. God is power. Be ye, then, like your father who is in heaven.

ترجمہ: قوت میں صداقت سے زیادہ الوہیت ہے۔ خدا قوی ہے۔ تُو ابھی اپنے اُس خدا کی طرح ہوجا جو آسمانوں میں ہے۔

—Muhammad Iqbal, Stray Reflections (Urdu translation: Mian Sajid Ali)

تحریکِ خلافت: پہلی جنگِ عظیم میں ترکی نے برطانیہ کے خلاف جرمنی کا ساتھ دیا۔ ترکی کی جنگ میں شمولیت سے ہندوستان کے مسلمان پریشان ہوئے کہ اگر انگریز کامیاب ہو گیا تو ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے لیے وزیر اعظم برطانیہ لائیڈ جارج سے وعدہ لیا کہ جنگ کے دوران میں مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ کی بے حرمتی نہیں ہو گی اور جنگ کے بعد مسلمانوں کی خلافت محفوظ رہے گی۔ جرمنی کو شکست اور برطانیہ کو فتح ہوئی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے اپنی فوجیں بصرہ اور جدہ میں داخل کر دیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزوں کو وعدے یاد دلانے کے لیے اور خلافت کے تحفظ کے لیے ایک تحریک شروع کی جسے ”تحریکِ خلافت“ کا نام دیا گیا۔

بمبئی میں مرکزی خلافت کمیٹی کے رضاکار ترک فوج کے طرز کی وردی پہنے ہوئے ہیں، سیکرٹری مرکزی خلافت کمیٹی جناب احمد حاجی صدیق کھتری بھی (مرکز میں، گلدستہ تھامے ہوئے) اُن کے مابین موجود ہیں (پس منظر میں ترکی کا جھنڈا بھی دیکھا جا سکتا ہے)۔
شعر 2

نہیں تجھ کو تاریخ سے آگہی کیا
خلافت کی کرنے لگا تُو گدائی

معانیالفاظ
آگاہی، واقفیّت، جانناآگہی
بھیک مانگناگدائی

تشریح:

اقبالؔ سوال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم جو خلافت کو برقرار رکھنے کی گزارش لے کر انگریزوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے چلے ہو، کیا تم تاریخ سے آگاہی نہیں رکھتے؟ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے یہ بات بخوبی جانتے جانتے ہیں کہ حکومت یا سلطنت بھیک کا ٹُکڑا نہیں ہے جو کوئی کسی کی جھولی میں ڈال دے، حکومت و سلطنت اپنے زورِ بازو سے حاصل ہو سکتی ہے نہ کہ دُوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے۔

ترکی کے ضمن میں علامہ اقبال کی پیش بینانہ بصیرت کے درست ثابت ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرار زیدی لکھتے ہیں:-

بعد میں حالات و واقعات نے ثابت کر دیا کہ ترکی کے ضمن میں اقبالؔ کی سوچ صد فی صد درست تھی اور ہندوستانی مسلمانوں کی جانب سے چلائی ہوئی تحریکِ خلافت بے جواز تھی۔ بعد میں ترک جرنیلوں نے ہی انگریزوں سے لڑ کر اپنے وطن کو آزاد کرایا تھا۔

اسرار زیدی، شرح بانگِ درا
شعر 3

خریدیں نہ جس کو ہم اپنے لہو سے
مُسلماں کو ہے ننگ وہ پادشائی

معانیالفاظ
باعثِ رُسوائی، باعثِ شرمننگ
بادشاہی، حکومتپادشائی

تشریح:

جس بادشاہت اور حکومت کو مسلمان اپنے لہو سے نہ خریدیں یعنی جسے جان کی بازی لگا کر حاصل نہ کریں، وہ بادشاہت اور حکومت مسلمانوں کے لیے باعثِ ننگ (شرم و ندامت) ہوتی ہے۔ یعنی وہ پادشاہی سراسر باعثِ ذلّت ہے جو اپنے زورِ بازو سے حاصل نہ کی جائے بلکہ کسی کی مہربانی سے حاصل ہو جائے، یقیناً ایسی حکومت غلامی کی دِلفریب شکل ہوگی۔

شعر 4

”مرا از شکستن چُناں عار ناید
کہ از دیگراں خواستن مومیائی“

معانیالفاظ
مجھے، میرے لیےمرا
سےاز
ٹوٹنےشِکستن
اِس قدرچُناں
شرم، ذِلتعار
نہیں آتیناید
دوسروںدیگراں
مانگنا، طلب / درخواست کرناخواستن
ہڈی کو جوڑنے کی ایک مجرّب دوامومیائی

تشریح:

اِس شعر کا ترجمہ ہے کہ ”مجھے اپنے جسم کی ہڈی ٹوٹ جانے سے اِس قدر صدمہ نہیں پہنچتا، جس قدر اِس کے علاج کے لیے غیروں سے مومیائی مانگنے میں شرم آتی ہے“۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ بلاشبہ ملک (ترکی) کا ہاتھوں سے جانا میرے لیے بہت صدمے کی بات ہے، لیکن میری غیرت اس بات کو گوارا نہیں کرتی کہ میں ملک کی سالمیت برقرار رکھنے کے لیے دشمنوں کے آگے ہاتھ پھیلاؤں اور احکامِ حق کی خلاف ورزی کروں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہمارا دین ہمیں غیرت و حمیت کا درس دیتا ہے، یہ تاریخ کا سبق اور غیرت و حمیت کا تقاضا ہے کہ اپنا حق اپنے زورِ بازو سے حاصل کیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ تمام نسلی و جغرافیائی امتیازات کو بھلا کر متحد ہو جائے، مسلمانوں کو قوّی بنانے والی صرف اور صرف ایک ہی قوّت ہے اور وہ ہے توحید۔ بقول علامہ:-

؎ بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے

(بانگِ درا: وطنیّت)

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ:-

؎ حقا کہ با عقوبتِ دوزخ برابر است
رفتن بہ پائے مردیِ ہمسایہ در بہشت

ترجمہ: سچ تو یہ ہے کہ کسی پڑوسی (یا دوسرے شخص) کے احسان اور سفارش کے ذریعے جنت میں جانا بھی دوزخ کے عذاب کے برابر ہے۔

تبصرہ

یہ کلام سیاسی خودداری اور قوتِ بازو کے قرآنی فلسفے کا دوٹوک منشور ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کِیا ہے کہ خلافت یا سیاسی اقتدار کوئی ایسی شے نہیں جو استعماری فاتحین کی چوکھٹ پر گڑگڑا کر یا بھیک مانگ کر حاصل کی جا سکے؛ جب تک قوم اپنے خون اور اجتماعی طاقت سے اپنے وجود کا لوہا نہیں منواتی، سامراج کے رحم و کرم پر جینا مستقل غلامی کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *