Skip to content

ضربِ کلیم 74: آگاہی

تعارف

نظم ”آگاہی“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک نہایت نایاب اور حکیمانہ کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے مادی و فلکیاتی علم کے مقابلے میں خود شناسی اور خودی کے اصل شعور کا فرق بیان کیا ہے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

نظر سپہر پہ رکھتا ہے جو ستارہ شناس
نہیں ہے اپنی خودی کے مقام سے آگاہ

معانیالفاظ
آسمانسپہر
ماہرِ فلکیات، علم ہیئت کا ماہرسِتارہ شناس
مرتبہمقام
آشنا، واقف، باخبرآگاہ

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ:-

میں نے اہلِ نجوم کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی نظریں آسمان پر جما کر ستاروں سے قسمت کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ وہ اتنی دُور نظریں دوڑاتے ہیں لیکن نزدیک ترین وجود یعنی اپنے وجود کو نہیں دیکھتے اور اُس کی معرفت حاصل کر کے اپنی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے ۔ کاش وہ اس حقیقت کو پا لیتے کہ انسان اپنی قسمت کا آپ مالک ہے اور اپنے اعمال ہی سے اپنی دُنیا میں ردّ و بدل کرتا ہے۔ بقول اقبالؔ:

؎ تُو اپنی سرنوِشت اب اپنے قلم سے لِکھ
خالی رکھی ہے خامۂ حق نے تری جبیں

(ضربِ کلیم)

واضح ہو کہ اِنسان کی خودی کائنات کی ہر شے پر غلبہ پانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اقبالؔ نے اسی مقام کو ”سُلطانی“ سے تعبیر فرمایا ہے۔

؎ خودی کو جب نظر آتی ہے قاہری اپنی
یہی مقام ہے کہتے ہیں جس کو سُلطانی
(ضربِ کلیم: سُلطانی)

شعر 2

خودی کو جس نے فلک سے بلند تر دیکھا
وہی ہے مملکتِ صبح و شام سے آگاہ

معانیالفاظ
آسمانفلک
زیادہ اونچابلند تر
دِن اور رات (وقت) کی سلطنت / حکومتمملکتِ صبح و شام
آشنا، واقف، باخبرآگاہ

تشریح:

جس شخص نے اس زندہ حقیقت کو پا لیا کہ اپنی معرفت حاصل کرنا آسمان اور ستاروں کا علم حاصل کرنے سے زیادہ ارفع و اعلی بات ہے، وہی شخص (اپنی خودی کی تربیت کر کے) صبح و شام (”سلسلۂ روز و شب“ / زمانہ) کی سلطنت سے واقف ہو سکتا ہے اور زمانے پر غالب آ سکتا ہے۔ یعنی ایک صاحبِ خودی ہی کو علم ہوتا ہے کہ زندگی کیا ہے، زندگی کا گرد و پیش کیا ہے، کائنات کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ زمانے کی حقیقت کیا ہے۔ واضح ہو کہ زمانے کی حقیقت سے (بقول علامہ اقبال) صرف وہی آگاہ ہو سکتا ہے جو صاحبِ خودی ہو۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی ”مسجدِ قرطبہ“ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:-

علامہ اقبال نے ایک مرتبہ دورانِ گفتگو مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ زمانہ کی حقیقت کو سمجھنا یا سمجھانا بڑا مشکل کام ہے؛ کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی خودی سے واقف نہ ہو، زمانہ کی حقیقت سے واقف نہیں ہو سکتا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل
شعر 3

وہی نگاہ کے ناخُوب و خُوب سے محرم
وہی ہے دل کے حلال و حرام سے آگاہ

معانیالفاظ
نظرنگاہ
جو اچھا نہ ہو، بُرانا خُوب
واقف، کسی راز سے آگاہی رکھنے والامحرم

تشریح:

ٹھیک وہی انسان جس نے اپنی خودی کی معرفت حاصل کر لی ہے، اِس حقیقت سے واقف ہو سکتا ہے کہ انسان کے لیے کون سی چیز مفید اور جائز اور کون سی چیز مضر اور ناجائز ہے۔ جب تک ایک شخص کو اِن باتوں سے آگاہی حاصل نہ ہو، وہ صحیح معنوں میں اِنسان کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک صاحبِ خودی شخص اس حقیقت سے کیسے آشنا ہوتا ہے کہ انسان کے لیے کون سی چیز مفید اور جائز اور کون سی چیز مضر اور ناجائز ہے۔ جواب یہ ہے کہ قرآنِ پاک کی بدولت۔ واضح ہو کہ قرآنی تعلیمات پر عمل سے ہی انسان کی خودی پروان چڑھتی ہے۔ ایک صاحبِ خودی شخص بظاہر تو قرآن پڑھتا ہوا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں وہ خود قرآن ہوتا ہے، کیونکہ وہ قرآن کو صرف پڑھتا ہی نہیں بلکہ اُس کے حرف حرف پر عمل کرکے اُس کا آئینہ دار ہو جاتا ہے اور یوں قرآنِ تعلیمات کی بدولت وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ حلال اور حرام میں تمیز کر سکے۔ بقول اقبالؔ:-

؎ یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قُرآن!

(ضربِ کلیم: مردِ مُسلمان)

تبصرہ

یہ کلام علم کے ظاہری خول سے نکل کر باطنی شعور اور اخلاقی کسوٹی کو اپنانے کی دعوت ہے۔ اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ ستاروں اور افلاک پر نظر رکھنے والا ستارہ شناس جب تک اپنی خودی کے مقام سے بے خبر ہے، حقیقی آگاہی سے محروم ہے۔ جس نے خودی کو فلک سے بلند تر دیکھ لیا، وہی خیر و شر اور حلال و حرام کی سچی تمیز رکھتا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *