Skip to content

بانگِ درا 129: شبنم اور ستارے

فہرست

تعارف

نظم ”شبنم اور ستارے“ علامہ اقبال کی ایک پُرسوز، فلسفیانہ اور تمثیلی نظم ہے جس میں فلک کے ستاروں اور زمینی شبنم کے درمیان مکالمے کے ذریعے دنیا کی بے ثباتی اور غمِ کائنات کا نوحہ بیان کیا گیا ہے۔

آسمان کے ستارے شبنم سے زمین کی حسین وادیوں اور انسانوں کی بستی کا احوال پوچھتے ہیں، مگر شبنم اُن کے اس خوش فہم تصور کو جھٹک کر بتاتی ہے کہ چمنستانِ جہاں دراصل آہ و فغاں کی بستی ہے۔ یہاں کلی صرف مرجھانے کے لیے کھلتی ہے، گلاب کے سائے تلے کانٹے اگتے ہیں، اور اس فانی دنیا کے محل کی بنیاد محض ہوا پر رکھی گئی ہے جہاں فضا کا سارا صفحہ فریاد کی تصویر بنا ہوا ہے۔

تاروں اور شبنم کے مکالمے میں دنیا کی بے اعتباری اور تلخ حقائق کی تصویر کشی پر ڈاکٹر شفیق احمد لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں تاروں کے حوالے سے اس دنیا کے ”دِلکش“ حالات پوچھے گئے ہیں، جس پر شبنم نے اُن کی اُمید کے خلاف اس دنیا کا وہ حال سنایا ہے جو مایوسیوں اور محرومیوں سے پُر ہے۔

ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

اک رات یہ کہنے لگے شبنم سے ستارے
ہر صبح نئے تجھ کو میّسر ہیں نظارے

معانیالفاظ
رات کی نمی (شب نم)شبنم
حاصلمیسّر

تشریح:

ایک رات کا ذکر ہے کہ ستاروں نے شبنم سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے شبنم! تُو ہر روز دُنیا میں جاتی ہے اور نئے نئے نظارے دیکھتی ہے (چونکہ شبنم صبح کے وقت گِرتی ہے، پھر پھول بھی نئے کھِلتے ہیں، اس لیے ایسا کہا ہے)۔

شعر 2

کیا جانیے، تُو کتنے جہاں دیکھ چُکی ہے
جو بن کے مِٹے، اُن کے نشاں دیکھ چُکی ہے

معانیالفاظ
کیا معلومکیا جانیے
جو وجود پا کر فنا ہو گئےجو بن کے مِٹے

تشریح:

خدا معلوم تُو نے اب تک کتنے جہانوں کا نظارہ کیا ہے اور پھر ایسے جہاں بھی کہ جو آباد ہوئے اور پھر ناگوار حالات کے نتیجے میں صفحۂ ہستی سے مِٹ گئے۔

شعر 3

زُہرہ نے سُنی ہے یہ خبر ایک مَلک سے
انسانوں کی بستی ہے بہت دُور فلَک سے

معانیالفاظ
ایک سیّارے کا نام، رقاصۂ فلکزہرہ
فرشتہمَلَک
آسمانفَلَک

تشریح:

اے شبنم! زہرہ نے کسی فرشتے سے یہ خبر سنی ہے کہ انسان جس دنیا میں آباد ہیں، وہ آسمان سے کافی فاصلے پر واقع ہے۔

زہرہ: ایک انتہائی دِلکش اور خوبصورت سیّارہ جو غروبِ آفتاب کے وقت مغربی افق پر نظر آتا ہے۔ مغربی افق سے غروب ہونے کے چند ماہ بعد یہ صبح کے وقت مشرقی افق پر دِکھائی دیتا ہے۔ اسے ناہید اور رقاصۂ فلک بھی کہتے ہیں۔

شعر 4

کہہ ہم سے بھی اُس کشورِ دلکش کا فسانہ
گاتا ہے قمر جس کی محبت کا ترانہ

معانیالفاظ
مُلک، ولایتکِشوَر
بہت پیارا مُلک، بہت پیاری دُنیاکِشوَرِ دِلکش
کہانی، قصّہ، داستان، سرگزشت، حال، رودادفسانہ
چاندقمر

تشریح:

تُو انسانوں کی اس دِلکش سلطنت (کشورِ دِلکش) کے بارے میں بہت کچھ جانتی ہے۔ اس لیے ذرا ہمیں بھی اُس دِل لبھانے والی دنیا کی داستان سُنا۔ وہی دنیا کہ جس کی محبت کے نغمے چاند گاتا رہتا ہے اور دن رات اس کا طواف کرتا ہے (رات کو چاند طلوع ہوتا ہے تو اُس کی روشنی دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ گویا چاند دنیا ک کی دِلکشی کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے)۔

بند نمبر 2

شعر 5

اے تارو نہ پُوچھو چمَنِستانِ جہاں کی
گُلشن نہیں، اک بستی ہے وہ آہ و فغاں کی

معانیالفاظ
باغچمنستان
دُنیا کا باغچمنستانِ جہاں
باغگُلشَن
رونا، فریاد کرناآہ و فغاں

تشریح:

(اب شبنم ان کی بات کا جواب دیتی ہے) اے ستارو! تم مجھ سے دنیا کے باغ (چمنستانِ جہاں) کے حالات نہ ہی پوچھو تو بہتر ہے۔ اس لیے کہ یہ دنیا ایک باغ نہیں، بلکہ آہ و فغاں کی ایک بستی ہے، یہ آہوں اور سِسکیوں، رنج و الم کا گھر ہے۔

شعر 6

آتی ہے صبا واں سے پلٹ جانے کی خاطر
بے چاری کلی کھِلتی ہے مُرجھانے کی خاطر

معانیالفاظ
صبح کی خوشگوَار ہواصبا
وہاںواں
واپس چلے جانا، لوٹ جاناپلٹ جانا
پژمُردہ ہونامُرجھانا

تشریح:

وہاں صبح کی ہوا (صبا) آتی ہے تو صرف اس لیے کہ واپس پلٹ جائے، یعنی کچھ دیر چلی اور پھر ختم۔ اسی طرح بیچاری کلی کھِل کر پھول بنتی ہے تو وہ پھول بھی بہت جلد ہی مر جھا جاتا ہے۔ گویا دنیا میں سکون و اطمینان اور ہمیشگی کسی بھی شے کو حاصل نہیں، ہر شے پر موت اور فنا طاری ہے۔

؏ ایک صورت پر نہیں رہتا کسی شے کو قرار
(بانگِ درا: گورستانِ شاہی)

گویا دنیا میں خوشی و مسرّت بہت عارضی ہے۔ انسان جلد ہی دُکھوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

؎ غم بھی گذشتنی ہے، خوشی بھی گذشتنی
کر غم کو اختیار کہ گزرے تو غم نہ ہو

؎ گئے ہیں رنج و غم اے داغؔ! بعدِ مرگ ساتھ اپنے
اگر نکلے تو یہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے

؎ اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کِدھر جائیں گے؟

شعر 7

کیا تم سے کہوں کیا چمن افروز کلی ہے
ننھّا سا کوئی شُعلۂ بے سوز کلی ہے

معانیالفاظ
باغ کی زینت کو بڑھانے والیچمن افروز
چھوٹا ساننھا
ایسی آگ جس میں تپِش نہ ہوشعلۂ بے سوز

تشریح:

اے ستارو! اس کلی کا احوال تم سے کیا کہوں کہ وہ کس طرح باغ کی آرائش کا سامان بنتی ہے۔ بس یوں سمجھو کہ وہ ایک ایسی چھوٹی سی چنگاری ہے جو سوز و گداز سے محروم ہے ( یعنی شعلۂ بے سوز ہے۔ کلی کے سُرخ رنگ کو شعلہ کہا ہے)۔

شعر 8

گُل نالۂ بُلبل کی صدا سُن نہیں سکتا
دامن سے مرے موتیوں کو چُن نہیں سکتا

معانیالفاظ
پھولگُل
فریادنالہ
آوازصدا
جھولیدامن
اِکٹھے کرناچُننا

تشریح:

بلبل کی بدقسمتی دیکھو کہ وہ پھول کے عشق میں مبتلا ہو کر دِن رات اس کے پاس بیٹھی آہ و فغاں میں مصروف رہتی ہے، جبکہ پھول سننے کی صلاحیت ہی سے محروم ہے۔ پھول کی مجبوری دیکھو کہ میں (شبنم) موتی بن بن کر اس کے دامن میں گِرتی ہوں، لیکن وہ میرے اِن موتیوں کو سمیٹنے کی قوت ہی نہیں رکھتا (مختلف استعاروں میں انسان کی خوشی و غمی اور بے بسی و بے کسی کی عکاسی کی ہے)۔

شعر 9

ہیں مُرغِ نواریز گرفتار، غضب ہے
اُگتے ہیں تہِ سایۂ گُل خار، غضب ہے

معانیالفاظ
گانے والے خوش آواز پرندےمُرغِ نَوَا ریز
پکڑے ہوئے، قیدیگرفتار
دُکھ کی بات ہےغضب ہے
پھول کے سائے کے نیچےتہِ سایۂ گُل
کانٹاخار

تشریح:

انسانوں کا سِتم دیکھو کہ باغ میں جس قدر خوش آواز طائر (پرِندے) پائے جاتے ہیں، سب کو گرفتار کر کے پنجرے میں قید کر دیتے ہیں، گویا ان بے چاروں کی خوبی، ان کے حق میں بلائے جان بن گئی ہے۔ پھر فطرت کا ستم یہ ہے کہ جہاں پھول ہے، وہیں کانٹا ہے۔ جہاں پھول توڑا، کانٹا بھی ہاتھ میں چبھ گیا۔

شعر 10

رہتی ہے سدا نرگسِ بیمار کی تَر آنکھ
دل طالبِ نظّارہ ہے، محرومِ نظر آنکھ

معانیالفاظ
نرگس کے پھول کو محبوب کی نشیلی اور شرمیلی آنکھ سے تشبیہ دی جاتی ہے، اور یہی کیفیت کسی بیمار کی انکھ کی ہوتی ہے۔ مراد ہے نرگس کا پھولنرگسِ بیمار
نظّارے کا خواہشمندطالبِ نظّارہ
نگاہ سے عاریمحرومِ نظر

تشریح:

نرگس کی آنکھ ہمیشہ تر رہتی ہے یعنی اس میں آنسو بھرے رہتے ہیں۔ اسے یہ دُکھ ہے کہ اس کا دِل نظارے کا طلبگار ہے، جبکہ آنکھ دیکھنے کی صلاحیت ہی سے محروم ہے۔

نرگسِ بیمار: شعراء نرگس کے پھول کو آنکھ سے تشبیہ دیتے ہیں اور نرگسِ بیمار کہنے کی وجہ یہ ہے کہ شاعروں کی معشوقہ چونکہ ہر وقت نشہ میں مخمور رہتی ہے اور اس حالت میں آنکھ پورے طور پر نہیں کھُلتی اور یہی کیفیت مریض (بیمار) کی ہوتی ہے کہ ضعف کی وجہ سے آنکھ بھی نیم وا رہتی ہے، اس لیے نرگس کو حُسنِ تعلیل کی بنا پر نرگسِ بیمار کہنے لگے۔

شعر 11

دل سوختۂ گرمیِ فریاد ہے شمشاد
زندانی ہے اور نام کو آزاد ہے شمشاد

معانیالفاظ
شکایت کی تپش سے اپنے دِل کو جلانے والادِل سوختۂ گرمیِ فریاد
سرو کی قسم کا ایک درختشمشاد
قیدیزندانی

تشریح:

شمشاد کے درخت کا حال ملاحظہ کرو۔ کہنے کو تو وہ آزاد ہے لیکن اصل میں قیدی (زندانی) ہے؛ اس وجہ سے وہ فریاد کرتا ہے اور فریاد کی گرمی سے اس کا دِل جل گیا ہے۔

شمشاد کو آزاد اس لیے کہتے ہیں کہ وہ سدا بہار اور خزاں کی قید سے آزاد ہے۔ اقبالؔ نے تخیّل کی بدولت ”آزادی“ کو ”قید“ کی ضد تصور کر کے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ شمشاد کو کہتے تو آزاد ہیں، لیکن در اصل وہ پابند (قیدی) ہے یعنی حرکت نہیں کر سکتا۔

شعر 12

تارے شررِ آہ ہیں انساں کی زباں میں
میں گریۂ گردُوں ہوں گُلستاں کی زباں میں

معانیالفاظ
آہ کی چنگاریشررِ آہ
آسمان کے آنسو، شبنمگریۂ گردُوں
باغگُلِستاں

تشریح:

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دنیا کے لوگ اس قدر گرفتارِ رنج و الم ہیں کہ وہ تاروں کو بھی کسی مصیبت کے مارے ہوئے کی آہوں کے شرارے سمجھتے ہیں اور مجھے (شبنم کو) یہ سمجھتے ہیں کہ میں آسمان کے آنسوؤں کا مجموعہ ہوں یعنی آسمان رات بھر جس قدر روتا ہے، صبح کو سب آنسو، شبنم کی شکل میں، دنیا پر نازل ہو جاتے ہیں۔

شعر 13

نادانی ہے یہ گِردِ زمیں طوف قمر کا
سمجھا ہے کہ درماں ہے وہاں داغ جگر کا

معانیالفاظ
زمین کے اردگردگردِ زمیں
(کسی شے کے اردگرد) چکّر لگانے کا عملطوف
چاندقمر
علاج، مداوادرماں
دِل کا زخم، مراد چاند میں سیاہ داغداغِ جگر

تشریح:

یہ جو چاند زمین کے گِرد طواف کرتا ہے، اور سمجھتا ہے کہ یہ طواف اُس کے داغِ جگر کا علاج ہے تو یہ اس کی نادانی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ اس قسم کے ناگوار حالات کی حامل یہ دنیا اس کے درد کا مداوا نہیں کر سکتی، کیونکہ دنیا کے لوگ تو خود داغِ جگر میں مبتلا ہیں، وہ دوسرے کا مداوا کیا کریں گے (چاند میں جو داغ سا ہوتا ہے، اُسے داغِ جگر کہا ہے)

؎ یہ داغ سا جو تیرے سینے میں ہے نمایاں
عاشق ہے تو کسی کا؟ یہ داغِ آرزو ہے؟

(بانگِ درا: چاند)

شعر 14

بنیاد ہے کاشانۂ عالم کی ہوا پر
فریاد کی تصویر ہے قرطاسِ فضا پر

معانیالفاظ
دُنیا کا گھر، یعنی دُنیاکاشانۂ عالم
مضبوط نہ ہو،ا ناپُختہ ہونابنیاد ہوا پر ہونا
نالہ و فغاں، آہ و زاریفریاد
کاغذ، صفحہقرطاس
لفظی معنی فضا کا کاغذ۔ مراد پھیلاؤقرطاسِ فضا

تشریح:

حقیقت تو یہ ہے کہ یہ محل (کاشانہ) جس کا نام دنیا ہے، اس کی بنیاد محض ہوا پر قائم ہے، یعنی دُنیا کا نظام لائقِ اعتماد نہیں ہے؛ مراد ہے دنیا کی بے ثباتی سے۔ یوں سمجھیے کہ دنیا فضا کے کاغذ (قرطاسِ فضا) پر فریاد کی ایک تصویر ہے۔

قرطاسِ فضا: سے مراد یہ ہے کہ قدرت نے یہ دنیا نہیں بنائی بلکہ فضا میں آہ و فریاد کی تصویر کھینچ دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا سراسر مصیبت کا گھر ہے۔ سچ کہا ہے کسی نے:-

؎ دُنیا جسے کہتے ہیں بلا خانہ ہے
پامال ہے جو عاقل و فرزانہ ہے

تبصرہ

یہ کلام کائنات کے حُسن کے پسِ پردہ چھپے درد اور فنائیت کی عمیق شاعرانہ تصویر کشی ہے۔ علامہ اقبال نے شبنم کے مکالمے سے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ دُور سے دلکش نظر آنے والی مادی دنیا درحقیقت رنج و الم اور ناپائیداری کا مسکن ہے؛ جہاں ہر خندہ کے پیچھے ایک آنسو اور ہر بہار کے تعاقب میں خزاں کا اندیشہ چھپا رہتا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *