فہرست
تعارف
نظم میں ”معزول شہنشاہ“ سے مراد انگلستان کا ایک بادشاہ ایڈوَرڈ ہشتم ہے جس نے دسبمر 1936ء میںے تختِ شاہی سے دستبردار ہو کر امریکہ کی مِسز والس سِمپسن سے شادی کر لی۔ برطانوی عوام، شاہی خانوَادہ اور وزیراعظم بالڈوِن کی حکومت سب ہی اس شادی کے مخالف تھے کہ ایک ایسی عورت انگلستان کی ملکہ بن جائے جس کا تعلق نہ شاہی خاندان سے ہے، جو طلاق یافتہ ہے حتی کہ برطانیہ کی شہری بھی نہیں مگر بادشاہ نے پسند کی عورت کو تخت و تاج پر ترجیح دی۔ ایڈوَرڈ ہشتم کو تخت کے ساتھ وطن بھی چھوڑنا پڑا۔
شہنشاہ ایڈورڈ ہشتم کی تخت و تاج سے دستبرداری کا باضابطہ شاہی اعلامیہ ملاحظہ فرمائیں:-
”مَیں، ایڈوَرڈ ہشتم، برطانیہ، آئرلینڈ، اور ماورائے بحار سلطنتِ برطانیہ کے ممالک کا تاجدار، نیز شہنشاہِ ہند، بذریعہ اس فرمانِ ملوکیت اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے تاج و تخت سے دستبرداری کا اعلان کرتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ اِس دستاویزِ ترکِ تاج و تخت کو فوراً مؤثر قرار دِیا جائے۔ پس اِس امر کی تصدیق کے لیے میں نے آج، 10 دسمبر 1936ء کو، گواہوں کی موجودگی میں، اپنے دستِ مبارک سے اس فرمان پر دستخط کِیے۔“
شاہ ایڈورڈ ہشتم، شاہی اعلانِ دستبرداری

تشریح
ہو مبارک اُس شہنشاہِ نِکو فرجام کو
جس کی قربانی سے اسرار ملوکیّت ہیں فاش

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| جس کا انجام بخیر ہو، اچھے انجام والا | نِکو فرجام |
| سر کی جمع۔ راز | اسرار |
| بادشاہت، شخصی حکومت، شہنشاہیّت | ملوکیّت |
تشریح:
علامہ اقبال کہتے ہیں کہ اُس بادشاہ کو مبارک ہو جس نے اپنی ذاتی محبت اور ضمیر کی آواز پر عمل کرتے ہوئے تخت و تاج کی قربانی دی۔ اِس عمل سے بادشاہت کے راز اور حقیقت آشکار ہوئی، یعنی یہ واضح ہو گیا کہ بادشاہی صرف ایک مصنوعی علامت ہے، اور اُس کی حقیقی طاقت یا حیثیت اصل میں حکومتی مشیروں اور اشرافیہ کے قبضے میں ہے۔
’شاہ‘ ہے برطانوی مندر میں اک مٹّی کا بُت
جس کو کر سکتے ہیں، جب چاہیں پُجاری پاش پاش

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مراد انگلِستان | برطانوی مندِر |
| پوجنے والے۔ مراد نظام چلانے والا | پُجاری |
| ٹکڑے ٹکڑے | پاش پاش |
تشریح:
اقبالؔ یہاں برطانوی بادشاہت کی مصنوعی اور علامتی حیثیت کو بیان کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ انگلستان میں بادشاہ ایک مٹی کے بُت کی مانند ہے جسے عوام، وزرا، مشیر اور چرچ کے لوگ بہ ظاہر عزت دیتے ہیں، لیکن دراصل اس کی کوئی حقیقی طاقت یا اختیار نہیں۔ ایڈوَرڈ ہشتم کی تخت و تاج سے دستبرداری نے یہ راز آشکار کر دیا کہ بادشاہ کی قدر و حیثیت حکومتی مشیروں اور چرچ کے اختیار میں ہے، اور وہ جب چاہیں بادشاہ کو تخت سے ہٹا سکتے ہیں۔
یہ شعر اِس بات پر بھی روشنی ڈالتا ہے کہ بادشاہ ذاتی پسند یا محبت کے فیصلے بھی آزادانہ طور نہیں کر سکتا؛ اُس کے کردار اور انتخاب حکومت اور مذہبی اداروں کے دائرۂ اختیار میں محدود ہیں۔
ہے یہ مُشک آمیز افیوں ہم غلاموں کے لیے
ساحرِ انگلیس! مارا خواجۂ دیگر تراش

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مُشک ملی ہوئی، خوشبو دار۔ مشک: ایک قیمتی‘ خوشبودار چیز جو ایک خاص قسم کے ہرن کی ناف سے نکالی جاتی ہے | مُشک آمیز |
| ایک نشہ آور چیز | افیون |
تشریح:
بادشاہ کی تخت سے دستبرداری سے انگلستان میں نظامِ بادشاہت کا یہ راز کھُل کر سامنے آ گیا ہے کہ وہاں بادشاہت کا نظام غلام قوموں کو پھانسنے اور قابو میں رکھنے کے لیے قائم کِیا گیا ہے، یہ ایک ایسی نشہ آور چیز (افیون) کی مانند ہے جس میں مُشک کی یا خوشبو کی مِلاوٹ کر دی گئی ہے تاکہ کھانے والا‘ افیون سمجھ کر چھوڑ نہ دے بلکہ کھا لے اور اِس کے نشہ سے عالمِ غنودگی میں رہے۔ مراد ہے عمل سے بیگانہ رہے۔
چنانچہ اے انگریز جادوگر! (پہلا بادشاہ تو معزول ہوگیا) لہذا ہمارے لیے اب نیا بُت تراش کر (نیا آقا لاؤ)۔ علامہ نے بھرپور طنز کے ساتھ برطانوی حکمرانوں کو انگریز جادوگر کہہ کر اپنے یعنی برِصغیر والوں کے لیے آقا کی صورت میں نیا بُت تراشنے کو کہا ہے۔ یعنی ایسا نیا بادشاہ تخت پر بٹھاؤ اور ہم غلاموں کا دِل لُبھاؤ۔
یہ طنز صرف انگریزوں پر نہیں، خود غلاموں پر بھی ہے۔ غلامی کی عادت اِس قدر پُختہ ہو چُکی ہے کہ پہلا بُت ٹوٹنے پر بھی غلام آزادی کی طرف نہیں دیکھتے، بلکہ نئے آقا کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔ گویا افیون کا نشہ ایسا رچ بس گیا ہے کہ اس کے ٹوٹنے پر بھی ہوش میں آنے کے بجائے نئی خوراک کی طلب باقی رہتی ہے۔
تبصرہ
یہ نظم برطانوی جمہوریت کے ملوکانہ فریب پر ایک گہری ضرب ہے۔ اقبالؔ نے واضح کِیا ہے کہ مغربی سامراجی نظام میں بادشاہ بھی اصل حکمرانوں اور سرمایہ داروں کے ہاتھ میں محض ایک کھلونا ہوتا ہے۔ محکوم قوموں کو اُن کے ظاہری القاب اور دبدبے کے سحر سے باہر نکل کر سامراج کے اصل ہتھکنڈوں کو پہچاننا چاہیے۔
حوالہ جات
- شرح ارمغانِ حجاز از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ارمغانِ حجاز از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح ارمغانِ حجاز از اسرار زیدی
- شرح ارمغانِ حجاز از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی







