Skip to content

بالِ جبریل 152: فلسفہ و مذہب

تعارف

نظم ”فلسفہ و مذہب“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا ایک نہایت عمیق، فکری اور خود کلامی پر مبنی کلام ہے جس میں شاعر نے کائنات کے اسرار، انسانی وجود کی اجنبیت اور حقیقت کی تلاش میں ایک متلاشیِ حق کی باطنی حیرت اور تذبذب کو مجسم کیا ہے۔

اقبالؔ اِس کلام میں کسی واعظ کی طرح فیصلہ سنانے کے بجائے خود ایک متجسس مسافر کے روپ میں کائنات کے مظاہر (شام و سحر اور سپہرِ بریں) کو دیکھ کر اپنی نارسائی اور غریب الدیاری کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ عقل و استدلال کی علامت بو علی سینا کو اپنے آغاز (مبدأ) پر حیراں، اور عشق و مذہب کے ترجمان مولانا روم کو اپنے انجام (معاد) کی فکر میں محو دکھا کر انسان کے ازلی سوالات کو بے نقاب کرتے ہیں۔ آخر میں غالبؔ کے مصرعے کے ذریعے یہ حقیقت آشکار کرتے ہیں کہ جب تک کسی صاحبِ نظر اور کامل راہبر کی رہنمائی میسر نہ ہو، انسان ہر فکری راہرو کے ساتھ چند قدم چل کر بھی منزل کے تعین میں سرگرداں رہتا ہے۔

فلسفہ اور مذہب کے مابین فرق اور حدِ فاصل پر روشنی ڈالتے ہوئے اسرار زیدی لکھتے ہیں:-

فلسفہ و مذہب کے مابین کیا فرق ہے؟! اپنے مقاصد کے اعتبار سے یہ تقابلی سطح پر تضادات (اِختلافات) کے شکار ہیں۔ ان کے مقاصد میں کیا فرق ہے؟ اس کا تجزیہ کیا جائے تو جاننے میں بالعموم زیادہ قباحت محسوس نہ ہوگی کہ فلسفہ اصولی طور پر اشیاء کی تخلیق اور اُن کے وجود کی غرض و غایت کے بارے میں تعقل (عقل کے ذریعے سمجھنا) اور استدلال (بحث) کے حوالے سے جاننے کا علم ہے، جب کہ یقین اور ایمان ایک طرح سے مذہب کے اجزائے ترکیبی ہیں۔ اقبالؔ نے اپنی اِس نظم میں جس خوبی کے ساتھ فلسفہ اور مذہب کے مابین جو حدِ فاصل ہے اُس کا تجزیہ کیا ہے، وہ انتہائی فکر انگیز ہے۔ اُن کے نزدیک بو علی سینا فلسفیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور مولانا روم مذہب کے ترجمان ہیں۔ زیرِ تشریح نظم کے چوتھے شعر میں اُنہوں نے اِس جانب اشارہ کیا ہے۔ اِس پس منظر کے حوالے سے یہ عجیب بات دیکھنے میں آتی ہے کہ اجتماعی سطح پر اِن اشعار میں ایک تذبذب کی کیفیت موجود ہے اور اُن کا شاعر ایک سوالیہ نشان کی صورت میں دو راہے پر کھڑا ہے۔

اسرار زیدی، شرح بالِ جبریل
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

یہ آفتاب کیا، یہ سِپہرِ بریں ہے کیا!
سمجھا نہیں تسلسلِ شام و سحَر کو مَیں

معانیالفاظ
سورجآفتاب
سِپہر (فارسی): آسمان، بریں (فارسی): بُلند ـــ سِپہرِ بریں سے مُراد ہے بُلند آسمانسِپہرِ بریں
رات اور دِن کا لگاتار سِلسِلہتسلسلِ شام و سحر

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ فلسفہ اشیاء کی حقیقت معلوم کرنے میں لگا رہتا ہے اور اِس کی بحثیں زیادہ تر اِس قسم کی ہوتی ہیں کہ یہ انسان و حیوان، یہ نباتات و جمادات، یہ آفتاب و ماہتاب (سورج اور چاند)، یہ اجرامِ فلکی اور یہ کرۂ ارض پر پھیلا ہوا آسمان (سپہرِ بریں)، یہ سب کہاں سے آئے اور کیونکر پیدا ہوئے؟ دِن اور رات کا تسلسل (سلسلہ) کیسے قائم ہوا؟ زمان و مکان کی حقیقت کیا ہے؟ کائنات کا یہ نظام ایک ایسے ماضی (ازل) سے چلا آرہا ہے جس کا ہمیں کوئی اندازہ نہیں اور اب تک اِس کی حقیقت سمجھ میں نہیں آئی۔

شعر 2

اپنے وطن میں ہُوں کہ غریبُ الدّیار ہُوں
ڈرتا ہوں دیکھ دیکھ کے اس دشت و دَر کو مَیں

معانیالفاظ
پردیسی، مسافر، اجنبیغریبُ الدّیار
جنگل اور صحرادشت و دَر

تشریح:

یہ دُنیا میرا وطن ہے یا یہاں پر میری حیثیت ایک مسافر کی سی ہے؟ میں اپنے دیس میں ہوں یا پردیس میں؟ یہ دُور دُور تک پھیلے ہوئے صحرا اور وادیاں دیکھ کر دِل میں خوف سا پیدا ہوتا ہے۔ اِنسان جہاں کا مستقل باشندہ ہو، وہاں کی ہر چیز سے وہ مانوس ہوتا ہے، لہذا خوف نہیں کھاتا، لیکن جہاں عارضی طور پر آباد ہو، وہاں کی ہر شے اجنبیّت کے باعث اُس کے دِل پر ایک طرح کا ڈر طاری کردیتی ہے، یہی ڈر اِنسان کے دِل میں ایک فلسفی کے نکتہ نگاہ سے یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ دُنیا اس کا اصلی وطن نہیں، بلکہ اُس کی حیثیت یہاں ایک مُسافر کی سی ہے۔

واضح ہو کہ یہ سب سوالات فلسفہ سے متعلق ہیں اور کوئی فلسفی آج تک کسی سوال کا تسلّی بخش جواب نہیں دے سکا۔ اسی لیے اکبر الہ آبادی نے کہا ہے:-

؎ انکشافِ رازِ ہستی عقل کی حد میں نہیں
فلسفی یاں کیا کرے اور سارا عالم کیا کرے

افلاطون نے کیسی پتہ کی بات کہی کہ فلسفہ کی اِبتداء بھی حیرت پر ہوتی ہے اور اِنتہاء بھی حیرت پر ہوتی ہے۔

شعر 3

کھُلتا نہیں مرے سفَرِ زندگی کا راز
لاؤں کہاں سے بندۂ صاحب نظر کو میں

معانیالفاظ
زندگی کا سفرسفرِ زندگی
گہری بصیرت رکھنے والابندۂ صاحب نظر

تشریح:

ہرچند کہ میرا سفر جاری ہے اور زندگی کی جو مسافت ہے اُسے طے کر رہا ہوں لیکن اس کے اغراض و مقاصد سے بے بہرہ ہوں۔ میں نے اِس حوالے سے بہت سوچا، بہت غور کیا، لیکن کوئی دِل لگتی بات ذہن میں نہ آئی۔ دُکھ تو یہ ہے کہ کوئی ایسا صاحبِ فکر رہنما بھی نہیں مِلتا جو حقائق سے روشناس کرا سکے اور یہ باور کرا سکے کہ زندگانی کا بنیادی مقصد کیا ہے اور میرے وجود کی غرض و غایت کیا ہے؟ (یہی وہ مرحلہ ہے جہاں فلسفیوں کی سوچ ایک سوالیہ نشان میں ڈھل جاتی ہے) آخر مَیں ایسا صاحبِ نظر کہاں سے لاؤں جو واقفِ راز ہو۔

یعنی یہ مُسلّم ہے کہ میں اِس کائنات میں موجود ہوں، لیکن سوال یہ ہے کہ:-

؏ میرے ہنگامہ ہائے نو بہ نو کی اِنتہاء کیا ہے
(ارمغانِ حجاز)

یعنی میری اِس حیاتِ ارضی کا کیا مقصد ہے؟ یہ تو معلوم نہیں ہوسکتا کہ میں کہاں سے آیا ہوں؟ اور کب آیا ہوں؟ لیکن کیا یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ کیوں آیا ہوں یعنی میرے سفرِ زندگی کا راز کیا ہے؟

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی اِس شعر کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ فلسفی کو بھی عقل و فِکر کی تمام صلاحیتیں صَرف کر چُکنے کے بعد احساس ہونے لگتا ہے کہ صاحبِ نظر کے بغیر حقیقت کا پتا نہیں لگ سکتا۔

شعر 4

حیراں ہے بُوعلی کہ میں آیا کہاں سے ہُوں
رومی یہ سوچتا ہے کہ جاؤں کِدھر کو مَیں

معانیالفاظ
مراد بُو علی سینا ـــ مشہور فلسفی، ریاضی دان اور طبیب ـــ جن کی متعدد کتابوں کا یورپی زناموں میں ترجمہ ہو چُکا ہے ـــ یہاں لفظ بو علی کو عقل کی علامت کو طور پر استعمال کیا گیا ہےبُو علی
مراد مولانا جلال الدین رومی ـــ فارسی زبان کے ناموَر صوفی اور شاعر ـــ جو عشقِ حقیقی کی علامت ہیںرومی

تشریح:

فلسفہ اور مذہب کے اِن دو بنیادی سوالوں کو اقبالؔ نے ابنِ سینا اور مرشدِ رومی کی زبان سے یوں ادا کیا ہے:-

بو علی سینا (یعنی فلسفی) حیران ہیں کہ میں (انسان) کہاں سے آیا ہوں اور میرے وجود کی غرض و غایت کیا ہے؟ اور جو شخص خود حیران ہو، وہ دوسروں کی راہنمائی کیسے کرے گا؟ دوسری طرف مولانا مولانا رومی جیسے عشّاق ہیں، جن کے غور و فکر اور سوچ بچار کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ مجھے (انسان کو) کس طرف جانا چاہیے یعنی میری منزلِ مقصود کون سی ہے؟ فلسفی تو حیرانی کا شکار ہونے کے باعث کسی رہنمائی کے قابل نہیں ہے بلکہ رومی جیسی شخصیت زندگی کے اصل مقصد کے بارے میں غور و فکر کرتی ہے۔

اقبالؔ کے اِس معرکۃ الآراء شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ بو علی حیران کھڑے ہیں لیکن رومی حیران نہیں بلکہ سوچ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ رومی حیران کیوں نہیں ہیں؟ اس لیے کہ وہ اِس حقیقت سے آگاہ ہو چُکے ہیں کہ عقلِ انسانی انکشافِ حقائق کی اہلیّت نہیں رکھتی۔ چنانچہ وہ خود کو اِس تکلیف میں مُبتلا کر کے دردِ سر مول نہیں لیتے، وہ جانتے ہیں کہ عقل کا سرمایہ ظن و تخمین (اندازے لگانا) کے علاوہ اور کُچھ بھی نہیں ہے۔ اقبالؔ کے الفاظ میں کہیں تو:-

؏ راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبوں کارِ حیات
(ضربِ کلیم: وحی)

مولانا رومی بخوبی واقف ہیں کہ عقل حریمِ ناز میں ہار نہیں پاسکتی، اِس لیے اُنہوں نے عقل کی بجائے عشق کو اپنا راہنما بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ:-

؎ بو علی اندر غبارِ ناقہ گُم
دستِ رومی پردۂ محمل گرفت

ترجمہ: بو علی ناقے کے اُڑائے ہوئے غبار میں گُم (ہو کے) رہ گیا، جبکہ رومی کے ہاتھ میں محمل کا پردہ آگیا۔
(پیامِ مشرق : افکار: حکمت و شعر)

اقبالؔ نے اِسی حقیقت کو اِس شعر میں یوں پیش کیا ہے:-

؎ خِرد مندوں سے کیا پُوچھُوں کہ میری اِبتداء کیا ہے
کہ میں اِس فکر میں رہتا ہوں میری اِنتہاء کیا ہے

(بالِ جبریل)

مطلب یہ کہ مقصد انسان کی توجہ اس طرف مبذول کرتا ہے کہ مقصدِ حیات کیا ہے؟ انسانی جد و جہد کی اِنتہاء کیا ہے؟ اِس کی وجہ یہ ہے کہ رازِ حیات معلوم کرنا اِنسان کے بس کی بات نہیں لیکن مقصدِ حیات معلوم ہوسکتا ہے اور یہ عِلم مفید بھی ہے۔

اقبالؔ کے نزدیک مشہور فلسفی اور حکیم بو علی سینا فلسفیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور مولانا روم مذہبی گروہ کے ترجمان ہیں۔ یہ دونوں شخصیتیں اقبالؔ کی اصطلاح میں کبھی کبھی عقل اور عشق کا جامہ بھی پہن لیتی ہیں۔

شعر 5

”جاتا ہوں تھوڑی دُور ہر اک راہرو کے ساتھ
پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو مَیں“

معانیالفاظ
راستہ چلنے والا، راہیراہرو
راستہ دِکھانے والا، رہنماراہبر

تشریح:

اِس نظم میں شامل یہ شعر مرزا غالبؔ کا ہے اور اقبالؔ نے اپنی مخصوص سوچ کے باوجود تھوڑے اجتہاد کے ساتھ اسی شعر سے رہنمائی حاصل کی ہے۔ ساتھ ہی اس کے ذریعے وہ ایک منطقی (Logical) نتیجے پر بھی اِس طرح پہنچتے ہیں کہ میرے دِل میں منزل کا شوق تو بہت ہے، اِس لیے جو راہرو (راستہ چلنے والا) سامنے آتا ہے، اُس کے ساتھ تھوڑی سی مسافت ضرور طے کرلیتا ہوں، تاہم جلد ہی یہ محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک گُم کردہ راہ میں ہوں۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ ابھی تک میں ایسے حقیقی رہنما کی شناخت کا اہل ثابت نہیں ہو سکا جو منزل تک پہنچانے کی واقعی صلاحیت رکھتا ہو۔

اقبالؔ نے غالب کے اِس شعر کو بڑی عمدگی کے ساتھ چسپاں کر دیا ہے بلکہ اصطلاحی انداز میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اقبالؔ نے غالبؔ کے اِس شعر پر تضمین کی ہے:-

بالِ جبریل میں پہلا مصرعہ یوں ہے:-

؏ جاتا ہوں تھوڑی دُور ہر اِک راہ رو کے ساتھ

لیکن دیوانِ غالبؔ میں یہ مصرع یوں ہے:-

؏ چلتا ہوں تھوڑی دُور ہر اِک تیز رو کے ساتھ

نوٹ: تضمین کا لغوی معنی ہیں شامل کرنا، ملانا، جگہ دینا۔ اصطلاحِ شعراء میں کسی مشہور مضمون یا شعر کو اپنے شعر میں داخل کرنا، چسپاں کرنا، شعر پر مصرع لگانا۔ شاعر جب کسی دوسرے شاعر کے کلام، شعر یا کسی مصرعے سے متاثر ہوتا ہے تو اس پر کچھ اضافہ کر کے اپنا لیتا ہے۔ شعری تخلیق کا یہ عمل تضمین کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

تبصرہ

یہ نظم فلسفہ اور مذہب کے روایتی تقابل سے کہیں بڑھ کر انسان کے وجودی اضطراب (Existential Bewilderment) کا آئینہ دار ہے۔ اقبالؔ نے بو علی سینا کے ذریعے فلسفے کی اس حد کو واضح کیا ہے جو آغازِ آفرینش کی گُتھیوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے، جبکہ مولانا روم کے ذریعے مذہب اور تصوف کی اس تڑپ کو پیش کیا ہے جو ابدی منزل اور انجام کی تلاش میں سرگرداں رہتی ہے۔ کلام کا حسن یہ ہے کہ شاعر خود کو دونوں کے سنگم پر کھڑا دکھاتا ہے، جہاں عقل کی موشگافیاں ہوں یا قلبی جذبات، جب تک بصیرت افروز رہنمائی نہ ملے، مسافر کی پیاس تشنہ ہی رہتی ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *