Skip to content

ضربِ کلیم 34: وحی

تعارف

نظم ”وحی“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک نہایت عمیق، فلسفیانہ اور بنیادی فکری کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے انسانی عقل کی فطری نارسائی کے مقابلے میں وحیِ الٰہی کی ابدی رہنمائی کی ناگزیر ضرورت بیان کی ہے۔ واضح ہو کہ یہ نظم ریاض منزل، بھوپال میں لِکھی گئی۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ بے مایہ عقل تنہا انسانی کارواں کی امامت اور رہبری کے لائق نہیں، کیونکہ محض قیاس اور گمان (ظن و تخمین) کے سہارے چلنے والی زندگی بالآخر زبوں حالی کا شکار ہو جاتی ہے۔ وہ متنبہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی فکر کو وحی کا نور میسر نہ ہو، اچھے اور بُرے عمل کی گِرہ نہیں کھُل سکتی؛ کیونکہ زندگی کے ازلی اسرار کی سچی شرح صرف وہی ذات کر سکتی ہے جو خود زندگی کی خالق ہے۔

قرآنِ پاک میں اِرشاد ہے:-

ہم نے حُکم دیا ”اُتر جاؤ یہاں سے تُم سب، پھر اگر تُم کو پہنچے میری طرف سے ہدایت، تو جو چلا میری اُس ہدایت پر، نہ خوف ہوگا اُن پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
(القرآن: سورۃ البقرۃ: 38)

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

عقلِ بے مایہ امامت کی سزاوار نہیں
راہبر ہو ظن و تخمیں تو زبُوں کارِ حیات

معانیالفاظ
بے قیمت، بے قدربے مایہ
امام ہونا، رہنمائی کرناامامت
لائق، قابلسزاوار
رہنماراہبر
گمان و اندازہ، شک و شُبہظن و تخمیں
ناکارہ، بیکارزبُوں
زندگی کا کاروبارکارِ حیات

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ انسانی عقل امامت یا رہبری یا رہنمائی کی اہل نہیں ہے، کیونکہ عقل کا سرمایہ محض ظن و تخمین، یعنی قیاس، گمان یا اندازے لگانا ہے اور اگر انسان محض قیاسات پر زندگی بسر کرنے لگے، تو اُس کی بربادی یقینی ہے۔ اب اگر رہنما ہی وہم و گمان میں ہو (جو عقل کی خاصیت ہے) تو پھر زندگی کا کاروبار درہم برہم ہو جاتا ہے۔

مثلاً ہمیں ایک لق و دق صحرا کو عبور کرنا ہے۔ ہم نے قیاس کر لیا کہ اس صحرا (ریگستان) میں کہیں نہ کہیں پانی ضرور ملے گا، اس لیے پانی کا ذخیرہ ساتھ نہیں لیا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ پانی کہیں نہ ملا، لہذا ہماری بربادی و موت یقینی ہے۔ انسانی زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے کتنے ہی نظام ہیں جو عقل نے پیش کیے، اگر ایک نظام کسی مسئلہ کو حل کرتا ہے تو وہی کسی دوسرے مسئلہ کو جنم دے دیتا ہے، دوسرے مسئلہ کا حل کسی نئے مسئلہ کو جنم دے دیتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسانی مسائل و مشکلات کا حل عقل کے بس کی بات نہیں ہے۔

شعر 2

فکر بے نُور ترا، جذبِ عمل بے بنیاد
سخت مشکل ہے کہ روشن ہو شبِ تارِ حیات

معانیالفاظ
عمل کا جذبہجذبِ عمل
تار سے مراد ہے تاریک، ”شبِ تارِ حیات“ یعنی زندگی کی تاریک راتشبِ تارِ حیات

تشریح:

اے انسان! تیری سوچ اور فکر میں روشنی کی کوئی کِرن نظر نہیں آتی اور تیرے عمل کے جذبے کی کوئی حقیقت و حیثیت نہیں ہے، یعنی عمل کرنے کے لیے جو جذبہ تیرے اندر پیدا ہوتا ہے، یا جس جذبہ کی بنا پر تُو آمادۂ عمل ہوتا ہے، وہ جذبہ کسی مضبوط بنیاد پر قائم نہیں ہے۔ بعض اوقات تُو کسی عمل پر راغب ہوتا ہے، لیکن فوراً دُوسرا خیال آتا ہے اور اُس جذبہ کو فنا کر دیتا ہے اور جب عمل کا داعیہ ہی ختم ہو جائے تو عمل کس طرح ہو سکتا ہے

اِس صورتِ حال میں زندگی کی تاریک رات کیسے منوّر ہو سکتی ہے؟ یعنی زندگی کے پیچیدہ اور دُشوار مسائل کیسے حل ہو سکتے ہیں؟ گویا ضروری ہے کہ تیری قوت فکر نورِ حق سے منوّر ہو، تا کہ تیری ہر بات حقیقت کی مظہر ہوا اور تیرے پیشِ نظر عظیم مقصد ہو جس کے حصول کے لیے تُو جہد و عمل کے جذبے سے سرشار ہو تاکہ تُو صاحبِ بقا بن جائے۔

واضح ہو کہ تمام عقلائے دہر کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ فکرِ انسانی سے غلطی کا صُدُور ممکن ہے۔ اس لیے اُنہوں نے منطق (Logic) کا فن ایجاد کیا، جس کا مقصد انسان کو بوَقتِ استدلال و استنباط و استخراجِ مسائل، غلطی سے محفوظ رکھنا ہے۔ لیکن اِس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے عقل مندوں سے روزمرہ بڑی بڑی غلطیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں اور یہ بات ہر انسان کے تجربہ میں آتی رہتی ہے کہ وہ قیاس کُچھ کرتا ہے اور وقوع میں کُچھ آتا ہے، پس وحی کی ضرورت ثابت ہے۔

شعر 3

خوب و ناخُوب عمل کی ہو گِرہ وا کیونکر
گر حیات آپ نہ ہو شارحِ اسرارِ حیات!

معانیالفاظ
اچھا اور بُراخوب و ناخوب
گانٹھگِرہ
کھُلناوا ہونا
سر کی جمع؛ بھید، رازاسرار
زندگی کے رازوں کی شرح کرنے والیشارحِ اسرارِ حیات

تشریح:

اِنسان کی زندگی کا کون سا عمل اچھا ہے اور کون سا بُرا؟ یہ گُتھی کیونکر سُلجھ سکتی ہے؛ جب تک زندگی خود ہی اپنے رازوں سے پردہ نہ اُٹھائے۔

اگر حیات، خود شرحِ اسرار نہیں کرتی تو پھر فعلِ تخلیقِ انسان عبث (بے فائدہ) قرار پائے گا؛ یعنی جب کوئی صحیح راہنما نہیں تو انسان، راہِ حیات کس طرح طے کر سکتا ہے؟ تو پھر اُسے پیدا کر کے خدا نے اُس سے یہ کیوں کہا کہ صراطِ مستقیم پر چل؟ پس ثابت ہوا کہ خود حیات کا تقاضا ہے کہ اُسے ہدایت مِلے اور یہ ہدایت جو بعض کامل اور اکمل انسانوں (انبیاء اکرامؑ) کے واسطہ سے دُنیا کو مِلتی ہے، اصطلاح میں وحی کہلاتی ہے۔

وحی کا آخری سلسلہ، جو سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذاتِ بابرکات سے ہم تک پہنچا، یہ آخری سلسلہ کہ جو اپنے اندر شرحِ اسرارِ حیات سمیٹے ہوئے ہے، یہ قرآنِ پاک کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے اور قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔

تبصرہ

یہ کلام جدید عقلیت پسندی کے فکری بحران پر وحی کی برتری کا محکم استدلال ہے۔ اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ عقل محض ظن اور اٹکل کے اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے اور اچھے و برے کی تمیز کرنے سے قاصر رہتی ہے۔ چنانچہ انسانی زندگی کی شبِ تاریک کو منور کرنے اور کارِ حیات کو سنوارنے کا واحد ذریعہ وہ وحیِ الٰہی ہے جو خود زندگی کے رازوں کی شارح ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *