Skip to content

بانگِ درا 72: چاند اور تارے

تعارف

نظم ”چاند اور تارے“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کا ایک دلکش، فلسفیانہ اور علامتی شاہکار ہے جس میں علامہ اقبال نے رات کے آسمانی مسافروں کے مکالمے کے ذریعے کائنات کے دائمی اضطراب، حرکت اور ارتقا کا ازلی راز فاش کیا ہے۔

سحر کے خوف سے لرزاں تارے چاند سے شِکوہ کرتے ہیں کہ وہ صدیوں سے آسمان پر ایک ہی گردش اور چمکنے کی بے ثمر مشقت سے تھک چُکے ہیں۔ چاند جواب دیتا ہے کہ اِس کارخانۂ ہستی کی بقا صرف حرکت اور جنبش میں مضمر ہے، جبکہ ٹھہراؤ اور سکون موت کا پردہ ہیں۔ نیز اِس راستے میں جو قدم بڑھاتے رہتے ہیں وہ نکل جاتے ہیں اور جو ذرا بھی رکتے ہیں وہ کچل دیے جاتے ہیں، کیونکہ اس کائناتی خرام کا آغاز ”عشق“ اور اس کا انجام ”حُسن“ ہے۔

زندگی کی حقیقت اور سعی و عمل کے مفہوم پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی لکھتے ہیں:-

علامہ اقبال نے اِس نظم میں یہ نُکتہ واضح فرمایا ہے کہ زندگی محض سانس چلتی رہنے کا نام نہیں بلکہ اس سے عملِ پیہم اور سعی و کوشش مراد ہے۔ جو فرد یا قوم ان دونوں سے بیگانہ ہے، وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔

ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بانگِ درا

چاند اور تاروں کے مکالماتی انداز اور زندگی کی حقیقت پر گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

اِس نظم میں علامہ اقبال نے چاند اور ستاروں کے درمیان ایک مکالمے سے نہایت دِلکش انداز سے زندگی کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ زندگی سراپا عمل اور جد و جہد کا نام ہے۔ عملِ پیہم اور سعیِ مسلسل زندگی اور ترقی کے لوازم ہیں۔ عمل زندگی ہے اور سکون و قرار موت، لیکن عمل کی بنیاد عشق پر ہونی چاہیے (یہی وہ بنیاد ہے جس پر اقبالؔ کے فلسفۂ خودی کی عمارت قائم ہے)۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

ڈرتے ڈرتے دمِ سحر سے
تارے کہنے لگے قمر سے

معانیالفاظ
صبح کی پھونک، صبح کا وقتدمِ سحر
چاندقمر

تشریح:

طلوعِ آفتاب کا وقت قریب پہنچ رہا تھا اور سحر کی پھونک (دمِ سحر) تاروں کی روشنی کی شمع کو گُل کر دینے والی تھی۔ ستارے اسی خدشے کو دِل میں لیے ہوئے چاند (قمر) سے یوں مخاطب ہوئے:-

شعر 2

نظّارے رہے وہی فلک پر
ہم تھک بھی گئے چمک چمک کر

معانیالفاظ
وہ چیز جو دیکھی جائے، منظر جو دکھائی دےنظّارے
آسمانفلک

تشریح:

اے چاند! یہ تو بتا کہ ہم جو چمک چمک کر تھک چُکے ہیں، مگر اس کے باوجود آسمان کے نظاروں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

شعر 3

کام اپنا ہے صبح و شام چلنا
چلنا، چلنا، مدام چلنا

معنیلفظ
ہمیشہ، دائم، متواتر، مسلسل، لگاتارمُدام

تشریح:

ہمارا کام صبح و شام سفر میں رہنا ہے۔ چلنا، چلنا اور مسلسل چلتے رہنا ہے (تارے ہمیشہ گردِش میں رہتے ہیں، اس لیے ایسا کہا ہے)۔

شعر 4

بے تاب ہے اس جہاں کی ہر شے
کہتے ہیں جسے سکُوں، نہیں ہے

معنیلفظ
متحرّک، بے چین، مضطرب، بے قراربے تاب

تشریح:

اے چاند! اِتنا بتا دے کہ اِس عالمِ رنگ و بُو کی ہر شے تغیّر سے کیوں دو چار ہے؟ اِن کے اضطراب (بے چینی و بے قراری) میں کمی کیوں نہیں آتی؟ آخر کیوں انہیں سکون حاصل نہیں ہوتا؟

شعر 5

رہتے ہیں ستم کشِ سفر سب
تارے، انساں، شجر، حجر سب

معانیالفاظ
سفر کی سختیاں سہنے والے، سفر کی مصیبتیں برداشت کرنے والےستم کشِ سفر
درختشجر
پتھرحجر

تشریح:

یہاں سب سفر کی سختیاں جھیل رہے ہیں۔ تارے ہوں یا انسان، درخت ہوں یا پتھر، کوئی بھی اِن سختیوں سے بچا ہوا نہیں۔

شعر 6

ہوگا کبھی ختم یہ سفر کیا
منزل کبھی آئے گی نظر کیا

معنیلفظ
مقامِ مقصود، ٹھہرنے کی جگہ، پڑاؤ۔ کسی کام کے سلسلے کا کوئی نقطہ، مرحلہ، موقع، اہم کاممنزل

تشریح:

آخر اتنا تو ہمیں پتہ چلے کہ یہ سفر کبھی اور کسی مرحلے پر جا کر ختم بھی ہوگا اور کبھی ہم اپنی منزلِ مقصود کو بھی دیکھ سکیں گے یا نہیں۔

مراد یہ ہے کہ ستاروں کے الفاظ میں اِس کائنات کی ہر شے تغیّر پذیر ہے، کسی کو بھی سکون حاصل نہیں! سفر جاری ہے اور منزل ناپید!

بند نمبر 2

شعر 7

کہنے لگا چاند، ہم نشینو
اے مزرعِ شب کے خوشہ چینو!

معانیالفاظ
ہم نشین، ساتھیو، دوستوہم نشینو
رات کی کھیتی، مُراد راتمزرعِ شب
پھل / داننے چُننے والے، خوشے چُننے والےخوشہ چین

تشریح:

اب علامہ اقبال چاند کی زبان سے ستاروں کے سوال کا جواب دیتے ہیں:-

چاند، جو بڑی خاموشی سے اُن ستاروں کی باتیں سُن رہا تھا، یوں گویا ہوا کہ اے ہم نشینو! اے رات کی فصل سے خوشے چُننے والو! میری بات غور سے سنو!

شعر 8

جُنبش سے ہے زندگی جہاں کی
یہ رسم قدیم ہے یہاں کی

معانیالفاظ
حرکتجُنبش
دستور، قاعدہ، طور طریقہرسم
پرانیقدیم

تشریح:

حرکت و گردِش ہی کی بدولت اس کائنات کی زندگی کا کاروبار چل رہا ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیں بلکہ یہ انداز اور طور طریقہ تو ازل سے چلا آ رہا ہے۔

شعر 9

ہے دوڑتا اشہبِ زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازیانہ

معانیالفاظ
زمانے / وقت کا گھوڑااشہبِ زمانہ
خواہش، آرزوطلب
چابک، کوڑاتازیانہ

تشریح:

زمانے کا گھوڑا (اشہب) طلب و خواہش کا کوڑا کھا کھا کر ہی دوڑتا ہے۔ گویا اعلیٰ مقصد اور اس کے حصول کے لیے مسلسل جہد و عمل میں مصروف رہنا ہی حقیقی زندگی ہے، اس کے بغیر زندگی کی کوئی حیثیت و حقیقت نہیں۔

؎ جس میں نہ ہو انقلاب، موت ہے وہ زندگی
روحِ اُمم کی حیات، کشمکشِ انقلاب!

(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

شعر 10

اس رہ میں مقام بے محل ہے
پوشیدہ قرار میں اجل ہے

معانیالفاظ
بے موقع، غیر مناسببے محل
ٹھہرناقرار
موتاجل

تشریح:

اِس راستے میں ٹھہرنے یا منزل / پڑاؤ کا سوچنا بھی ایک بے موقع بات ہے، اس لیے کہ قرار میں موت پوشیدہ ہے۔ جوکوئی انسان اپنی زندگی کو حقیقی اور با مقصد زندگی بنانے کے لیے جہد و عمل نہیں کرتا اور جمود ہی کا شکار رہتا ہے یا سکون و قرار ہی کو زندگی سمجھتا ہے، وہ در حقیقت ایک چلتی پھرتی لاش کے سِوا اور کُچھ نہیں ہے۔

؎ سکُوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیّر کو ہے زمانے میں

(بانگِ درا: ستارہ)

شعر 11

چلنے والے نِکل گئے ہیں
جو ٹھہرے ذرا، کُچل گئے ہیں

معانیالفاظ
حرکت میں رہنے والےچلنے والے
پِس جانا، مسلے جاناکُچل جانا

تشریح:

مسلسل جہد و عمل کرنے والے آگے بڑے گئے ہیں، وہ صاحبِ بقا بن گئے ہیں۔ اِس کے برعکس رُکنے والے یعنی سعی و عمل سے بیگانہ انسان کُچلے گئے ہیں، اُن کا وجود بے حقیقت و حیثیت ہو کر رہ گیا۔

واضح ہو کہ علامہ اقبال کے کلام میں عمل پر بہت زور دیا گیا ہے۔

شعر 12

انجام ہے اس خرام کا حُسن
آغاز ہے عشق، انتہا حُسن

معانیالفاظ
نتیجہانجام
ٹہلنا، چلنا، رفتار، حرکتخرام
شروعاتآغاز
اخیر، انجامانتہا

تشریح:

اِس خرام (جہد و عملِ پیہم) کا انجام حُسن ہے۔ اِس کا آغاز تو عشق ہے اور انتہا حُسن ہے۔

عشق سے مُراد ہے تلاش و جستجو اور جد و جہد کا سچّا ذوق؛ حُسن سے مراد ہے درجۂ کمال حاصل کر لینا۔ اس نظم میں حرکت اور جد و جہد کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسی تعلیم کے لیے اقبالؔ نے اپنی زندگی وقف کی۔ یہاں اس دعوت کی ابتدائی جھلک ملتی ہے، جس کے جلووں سے اقبالؔ کا سارا کلام لبریز ہے۔

جد و جہد کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے اندر کمال (حُسن) پیدا ہوتا ہے۔ پس جو شخص مرتبۂ کمال (حُسن) پیدا کرنا چاہتا ہے، اُسے لازم ہے کہ اپنے نصب العین سے عشق اختیار کرے۔ عشق انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔

چنانچہ حرکت اور روانی ہی ہر شے کو سنوارتی ہے۔ اسی عمل کو حُسن سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ کائنات کی جملہ اشیاء عشق کی بدولت حرکت میں رہتی ہیں اور آخر میں سنوَر کر حُسن کا رُوپ دھار لیتی ہیں۔

تبصرہ

یہ نظم جمُود اور تعطل کے خلاف مسلسل عمل اور کائناتی جدوجہد کا ابدی فلسفہ ہے۔ اقبالؔ چاند کی زبانی یہ قانون واضح کرتے ہیں کہ زندگی کسی منزل پر رکنے کا نام نہیں بلکہ طلب کے تازیانے سے مسلسل دوڑتے رہنے کی لگن ہے ”قرار“ میں موت پوشیدہ ہے اور جو قافلے سستانے کے لیے ٹھہر جاتے ہیں وہ وقت کے پہیوں تلے کُچل دیے جاتے ہیں، کیونکہ حیات کا سارا ”حُسن“ اس مسلسل رواں دواں خرام (حرکت) میں ہے۔

نظم کے رمزیہ انداز اور فلسفۂ عمل کی تفہیم پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

بظاہر یہ بہت آسان نظم ہے لیکن اس میں علامہ اقبال نے رمز و کنایہ کے پردے میں اپنا فلسفہ بیان کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی سراپا عمل ہے اور جد و جہد کا نام ہے۔ عملِ پیہم اور سعیِ مسلسل، یہ زندگی اور ترقی کے لوازم ہیں۔

عمل، زندگی ہے اور سکون، موت ہے یعنی جو قومیں مصروفِ عمل ہیں وہ ترقی کرتی ہیں اور جو قومیں بے عمل ہیں وہ فنا ہو جاتی ہیں۔ جب کوئی قوم جد و جہد اور عمل سے بیگانہ ہو جاتی ہے تو وہ دوسری قوم کی غلام ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بے عملی سے اجتماعی احساس فنا ہو جاتا ہے اور جب یہ جوہر فنا ہو جاتا ہے تو ہر فرد مِلّت کی بقا سے غافل ہو کر اپنی انفرادی بقا کے لیے کوشش کرتا ہے اور وہ اس حقیقت سے بیگانہ ہو جاتا ہے کہ:-

؏ فرد قائم ربطِ مِلّت سے ہے، تنہا کُچھ نہیں
(بانگِ درا: شمع اور شاعر)

اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر فرد اپنی جگہ فنا ہو جاتا ہے یعنی قوم کی ہستی کا چراغ گُل ہو جاتا ہے۔ ہندی مسلمانوں کی گذشتہ تاریخ اس تلخ حقیقت پر شاہد ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے جہاد اور عملِ صالح کو کامیابی کی شرط قرار دیا ہے۔ چونکہ اقبال کا فلسفہ جس کو فلسفۂ خودی یا فلسفۂ عمل یا فلسفۂ فقر کہتے ہیں، سراسر قرآن حکیم سے ماخوذ ہے۔ اِس لیے اُن کے یہاں بانگِ درا سے ارمغانِ حجاز تک، ہر کتاب میں جہاد اور عمل ہی کا پیغام نظر آتا ہے۔ اِس نظم کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی حرکت (عمل) پر موقوف ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *