Skip to content

ارمغانِ حجاز 6: دوزخی کی مناجات

تعارف

نظم ”دوزخی کی مناجات“ علامہ اقبال کے آخری مجموعۂ کلام ”ارمغانِ حجاز“ کی ایک بے باک، چونکا دینے والی اور کاٹ دار تمثیلی نظم ہے۔ یہ کلام کسی روایتی گنہگار کی مغفرت کی دعا نہیں، بلکہ ایک دوزخی کی زبانی مغربی استعمار، سرمایہ دارانہ جبر اور سیاسی غلامی پر تاریخ کا تلخ ترین طنز ہے۔

کلام میں دوزخی خدا کے حضور نظامِ ملوکیت (شاہی استبداد) کا کچا چٹھا کھولتا ہے، جہاں مزدور و محنت کش (فرہاد) کا خون چوس کر اشرافیہ (پرویز) اپنے محلات تعمیر کرتی ہے، اور جدید علم، حکمت، سیاست اور تجارت سب سامراجی لوٹ مار کے آلہ کار ہیں۔ نظم کا معرکہ آرا نکتہ وہ آخری شعر ہے جس میں دوزخی جہنم کی دہکتی آگ میں کھڑے ہو کر خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ کم از کم وہ ”سوداگرِ یورپ“ (برطانوی و مغربی سامراج) کی ذلت آمیز غلامی سے تو آزاد ہے!

نظم کے مرکزی خیال پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس تمثیلی نظم میں علامہ اقبال نے ایک دوزخی کی زبان سے اِس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ یورپین اقوام کی رقابتِ باہمی نے انسانوں کی زندگی تلخ کردی ہے۔ بلکہ ”دوزخی“ کی رائے میں یہ دنیا دوزخ سے بھی بدتر ہوگئی ہے؛ اُس کے مطابق دوزخ کی زندگی اِس دنیا کی زندگی سے بہتر ہے۔ یہی وہ مرکزی خیال ہے جسے اقبالؔ ہمارے ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ارمغانِ حجاز
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

اس دیرِ کُہن میں ہیں غرض مند پُجاری
رنجیدہ بُتوں سے ہوں تو کرتے ہیں خدا یاد

معانیالفاظ
پُرانا مندِر، دُنیادیرِ کُہن
مطلبی، اپنے مطلب کو پیشِ نظر رکھنے والےغرض مند
پُوجنے والےپُجاری
ناراض، تکلیف اُٹھانے والےرنجیدہ

تشریح:

ایک دوزخی خدا سے دعا کرتا ہے کہ اے خدا! اس پرانی دُنیا (دیرِ کہن) میں جس قدر انسان آباد ہیں، سب غرض مند ہیں۔ یہ لوگ دراصل تیرے بجائے بُتوں کی پوجا کرتے ہیں اور تجھے صرف اُس وقت یاد کرتے ہیں جب اپنے بُتوں سے رنجیدہ یا ناراض ہوجاتے ہیں۔

لفظ بُت کے دو معنی ہیں: (1) خواہشِ نفس (2) آقا یا حکمران

اِنسان خدا کو اُسی وقت یاد کرتا ہے جب اُس کی خواہش پوری نہیں ہوتی یا آقا سے توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ اِسی مضمون کو مومنؔ نے یوں ادا کیا ہے:-

؏ جب دیا رنج بُتوں نے تو خدا یاد آیا

شعر 2

پوجا بھی ہے بے سُود، نمازیں بھی ہیں بے سُود
قسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ و فریاد

معانیالفاظ
ہندوؤں کی عبادتپُوجا
بے فائدہ، بے کاربے سُود
چیخ و پُکار کرنا، رونانالہ و فریاد

تشریح:

چونکہ دُنیا والوں نے تجھے چھوڑ دیا اور اپنی خواہشات یا حکمرانوں کو اپنا معبود بنالیا۔ اس لیے اب نہ ہندوؤں کی پوجا پاٹ سے اِن کو کوئے نفع حاصل ہوسکتا ہے اور نہ مسلمانوں کی نماز سے اِن کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔چونکہ بنی آدم کی حماقت اور جہالت کی بدولت طاقتور اقوام اُن پر غلبہ حاصل کرچکی ہیں؛ اِس لیے اب پوجا اور نمازیں بے سود ہو کر رہ گئی ہیں۔ عوام دِن، رات نمازیں پڑھتے ہیں لیکن غلامی کی زنجیریں روز بروز سخت ہوتی جاتی ہیں۔ کیا خوب کہا ہے:-

؏ قسمت ہے غریبوں کی وہی نالہ و فریاد

شعر 3

ہیں گرچہ بلندی میں عمارات فلک بوس
ہر شہر حقیقت میں ہے ویرانۂ آباد

معانیالفاظ
عمارت کی جمععمارات
آسمان کا بوسہ لینے والی، آسمان کو چُومنے والی یعنی بہت اُونچیفلک بوس
اصلیّتحقیقت
دیکھنے میں آباد لیکن اصل میں ویرانویرانۂ آباد

تشریح:

اگرچہ حکمرانوں نے مفتوحہ (مفتوحہ: یعنی جنہیں فتح کیا جاچکا ہو) ممالک کے بڑے بڑے شہروں میں نہایت عالیشان (فلک بوس، آسمانوں کو چھونے والی) عمارتیں تعمیر کردی ہیں اور شہروں کو باغوں، کلبوں، کالجوں، بنکوں، سینماؤں، رقص گاہوں اور ہوٹلوں کی بدولت رشکِ جنت بنادیا ہے۔ لیکن اے خدا! سچ تو یہ ہے کہ ہر شہر درحقیقت ایک ویرانہ ہے جو نادانوں یا ظاہر بینوں کو آزاد نظر آتا ہے۔ کیونکہ ہر شہر میں ہزاروں مریض ہر روز دوا، علاج اور تیمارداری کے فقدان سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ ہزاروں عورتیں ہر روز روٹی کے لیے عصمت فروشی کرتی ہیں۔ ہزاروں مرد مفلسی سے تنگ آکر خودکشی کرتے ہیں یا ضمیر فروشی کرکے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔ ہزاروں بچے تعلیم و تربیت سے محروم گلی کوچوں میں آوارہ پھرتے ہیں۔ ہزاروں خاندان اسبابِ معیشت سے محروم ہیں اور قسم قسم کے مسائب کا شکار ہیں

شعر 4

تیشے کی کوئی گردشِ تقدیر تو دیکھے
سیراب ہے پرویز، جِگر تَشنہ ہے فرہاد

معانیالفاظ
پتھر توڑنے کا اوزار، ہتھوڑاتیشہ
تقدیر / قسمت کا چکّرگردشِ تقدیر
تر و تازہ، پانی دیا گیا۔ مُراد کامیابسیراب
مُراد خسرو پرویز: قدیم ایرانی بادشاہ اور شیریں کا شوہرپرویز
جس کا جگر پیاسا ہوجگر تَشنہ
شیریں کا عاشق، جس نے اُس کی خاطر پہاڑ کھود ڈالافرہاد

تشریح:

اے خدا! مزدوری و کاشتکاری (تیشہ کی گردش) کی تقدیر (بدقسمتی) کا تجھ سے کیا حال بیان کروں! حکمران طبقہ (پرویز) ابتداء سے مزدوروں اور کاشتکاروں کا خون چوستا چلا آرہا ہے اور مزدور (فرہاد) قدیم الایّام سے سرمایہ دار کے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنا ہوا ہے۔

شعر 5

یہ عِلم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت
جو کچھ ہے، وہ ہے فکرِ مُلوکانہ کی ایجاد

معانیالفاظ
ملوکیّت، بادشاہوں کی سی سوچفکرِ مُلوکانہ
نئی پیدا کردہ چیز، نئی چیز تخلیق کرناایجاد

تشریح:

اے خدا! اِس میں شک نہیں کہ انگریزوں اور دوسری انگریز اقوام نے مفتوحہ ممالک میں سکول، کالج، ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور مختلف اقسام کے تحقیقی ادارے قائم کردیے ہیں لیکن یہ تمام درسگاہیں، یہ تمام تجارتی کارخانے— سب اِسی نظامِ ملوکیت کی تائید اور تقویت کے لیے وقف ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ بندوں کو تیری اطاعت کے بجائے انسانوں کی غلامی کا درس دیا جائے اور غلام بنا کر اُن کو انسانیت کے ابتدائی حقوق سے بھی محروم کردیا جائے۔

شعر 6

اللہ! ترا شکر کہ یہ خطّۂ پُر سوز
سوداگرِ یورپ کی غلامی سے ہے آزاد!

معانیالفاظ
آگ سے تپتی ہوئی جگہ، جلا دینے والا خِطہخطۂ پُرسوز
یورپ کے تاجر۔ برطانیہ کے انگریزوں نے سوداگری یعنی تجارت کے بہانے برِصغیر پر قبضہ کیاسوداگرِ یورپ

تشریح:

اے خداوند! اندریں حالات میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ خطہ پرسوز، یہ جہنّم— جس میں قیامت سے شعلے بھڑک رہے ہیں— یہ دوزخ جس میں کھولتا ہوا پانی پینے کو ملتا ہے— یہ سوداگرِ یورپ کی غلامی سے آزاد ہے۔ اِس خطہ (دوزخ) میں ہزاروں مصائب سہی لیکن تیرا شکر ہے کہ کم از کم ہم دوزخی انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہیں۔

بنیادی تصوّر

غلامی کی زندگی کو جہنم کی آگ سے بھی بدتر عذاب ثابت کرنے کے بنیادی فلسفے پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی تحریر کرتے ہیں:-

اِس نظم کا بنیادی تصوّر یہ ہے کہ غلامی کی زندگی، دوزخ کی زندگی سے بھی بد تر ہے۔ کاش مسلمانانِ عالم اس نکتہ کو سمجھ سکیں اور یورپ کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لیے کوئی منظم جدوجہد کرسکیں۔ کاش سلطان ابنِ سعودیہ پر یہ حقیقت منکشف ہوجائے کہ غلامی کی زنجیروں کو توڑنا، قبور کے توڑنے سے ہزار گُنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ یورپ اور امریکہ کی غلامی قبر پرستی سے بھی بدتر ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ارمغانِ حجاز

تبصرہ

یہ نظم علامہ اقبال کی وہ تاریخی چارج شیٹ ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ انسان کے لیے سیاسی اور ذہنی غلامی کا عذاب جہنم کی آگ سے بھی بدتر ہے۔ اقبالؔ نے ایک جلتے ہوئے دوزخی کے شکرانے کے پیرائے میں اُمت اور دنیا کی محکوم اقوام کو یہ جھنجھوڑ دینے والا سبق دیا ہے کہ غیر اللہ اور سامراج کی غلامی دراصل روح کی بدترین موت ہے، جبکہ آزادی، خواہ وہ کتنی ہی کٹھن آزمائشوں بھری کیوں نہ ہو، انسان کا سب سے قیمتی اور غیر متزلزل سرمایہ ہے۔ دوزخی کا یہ اعتراف کہ جہنم کا دہکتا ہوا خطہ بھی سوداگرِ یورپ کی ذلت آمیز غلامی سے بدرجہا بہتر ہے، استعماری لوٹ مار کے منہ پر تاریخ کا سب سے کاٹ دار طمانچہ ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *