فہرست
تعارف
نظم ”شعاعِ آفتاب“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کی ایک دِلکش اور تمثیلی نظم ہے جس میں شاعر صبح کے وقت آسمان پر آوارہ سورج کی ایک کرن (شعاعِ آفتاب) سے اُس کے وجودی اضطراب کا احوال دریافت کرتا ہے۔
اقبالؔ کرن سے پوچھتے ہیں کہ تُو اپنے فلکی منبع کو چھوڑ کر کس مقصد کے لیے بے تاب ہے۔ شعاعِ آفتاب جواب دیتی ہے کہ میں زمین کے اندھیروں کو مِٹانے، غنچوں کو شگفتہ کرنے اور سوئے ہوئے انسانوں کو جگانے نکلی ہوں، تاکہ ظلمت کدۂ خاک کو اپنے نور سے رشکِ فلک بنا دوں۔
1918ء کے مشاعرے، نظم کی اشاعت اور نظرِ ثانی میں کی گئی ترامیم کا احوال بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق احمد اور مولانا غلام رسول مہر تحریر کرتے ہیں:-
علامہ اقبال نے یہ نظم 15 دسمبر 1918ء کو ایک مشاعرے میں پڑھی جو گورنر پنجاب سر مائیکل اوڈوائیر کے حکم پر جنگِ عظیم اوّل میں اِتّحادیوں کی فتح کے سلسلے میں منعقد ہوا تھا۔ یہ نظم پہلی مرتبہ 1919ء کو اخبار ”حق“ میں شائع ہوئی۔ نظر ثانی میں فرہنگ اقبالؔ اور باقیاتِ اقبالؔ کے مطابق اِس نظم کا صرف آخری شعر بدلا گیا، جب کہ مولانا غلام رسول مہر کے مطابق ساتویں شعر کے پہلے مصرع میں بھی جزوی ترمیم ہوئی۔ سرودِ رفتہ میں یہ مصرع اور متروک شعر دونوں کا متن درج ہے۔ مولانا غلام رسول مہر کے مطابق اِس نظم میں کی گئیں ترامیم:-
1- ساتویں شعر کے پہلے مصرع کا ابتدائی ٹکڑا بدل دیا گیا۔
2- نظم کا آخری شعر ابتدا میں یوں تھا:-؎ کُند تلواریں ہوئیں عہدِ زرہ پوشی گیا
ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگِ درا؛ مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا
جاگ اُٹھا تُو بھی کہ دورِ خود فراموشی گیا
بند نمبر 1
صبح جب میری نگہ سودائیِ نظّارہ تھی
آسماں پر اک شُعاعِ آفتاب آوارہ تھی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| کِرن | شعاع |
| سورج | آفتاب |
| نظّارے کا مُشتاق | سودائیِ نظّارہ |
| گھومنے پھرنے والا / والی | آوارہ |
تشریح:
علامہ اقطال کی یہ نظم بھی بانگِ درا کی دوسری بعض نظموں کی طرح مناظرِ فطرت کے حوالے سے تخلیق کی گئی ہے۔ اِس نظم میں آفتاب کی ایک شعاع کو اُنہوں نے اظہار کا موضوع بنایا ہے۔ نو اشعار کی یہ نظم دو حصوں پر مشتمل ہے۔
فرماتے ہیں کہ صبح کے لمحات میں جب میری نگاہیں مناظرِ فطرت کا جائزہ لینے کے لیے بے تاب ہو رہی تھیں تو میں نے آسمان پر آفتاب کی ایک کرن کو بے چینی و بے قراری کے عالم میں اِدھر اُدھر سر گرداں پایا۔
مَیں نے پُوچھا اُس کرن سے ”اے سراپا اضطراب!
تیری جانِ ناشکیبا میں ہے کیسا اضطراب

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| بہت بے چین، بے قرار | سراپا اِضطراب |
| بے صبر، بے قرار | نا شکیبا |
تشریح:
میں نے اُس سے سوال کیا کہ تُو جو سر سے پاؤں تک یعنی مکمل طور پر بے قراری ہی بے قراری ہے، تیری بے صبر جان میں یہ بے تابی اور بے چینی کیسی ہے ؟ آخر تُو اس قدر کیوں تڑپ رہی ہے اور تیری جان کو قرار کیوں نہیں آتا؟
تُو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے کہ جس کو آسماں
کر رہا ہے خرمنِ اقوام کی خاطر جواں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| قوموں کا ڈھیر۔ مراد قومیں | خرمنِ اقوام |
| واسطے، لیے | خاطِر |
تشریح:
کیا تُو کوئی چھوٹی سی بجلی ہے، جسے آسمان قوموں کے کھلیانوں کو خاکستر کر دینے کے لیے پال کر جوان کر رہا ہے؟ یعنی کیا تُو وہ بجلی تو نہیں جو اُن اقوام پر گرتی ہے جو اللہ تعالی کے قوانین پر عمل نہیں کرتیں اور بالآخر ذِلّت اور تباہی اُن کا مقدّر بن جاتی ہے۔
یہ تڑپ ہے یا ازل سے تیری خُو ہے، کیا ہے یہ
رقص ہے، آوارگی ہے، جُستجو ہے، کیا ہے یہ؟“

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| آغازِ آفرینش، اِبتدائے زمانہ، مُدّت جس کی ابتدا نہ ہو، ہمیشگی | ازل |
| عادت | خُو |
| ناچ | رقص |
| یونہی چلنا پھِرنا | آوارگی |
| تلاش | جُستجُو |
تشریح:
علامہ اقبال کِرن سے استفسار جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں ہیں کہ اے کِرن! تیرا اِدھر اُدھر گھومنا، تیری تڑپ اور بے تابی کی وجہ سے یہ یا ازل سے اللہ نے اسے تیری عادت بنا دیا ہے۔ اسے تیرا ناچ اور آوارگی کہنا چاہیے یا تجھے کسی چیز کی تلاش ہے جس کی وجہ سے تُو اِدھر اُدھر گھومتی پھرتی ہے۔
بند نمبر 2
”خُفتہ ہنگامے ہیں میری ہستیِ خاموش میں
پرورش پائی ہے مَیں نے صُبح کی آغوش میں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| سویا ہوا | خُفتہ |
| وجود، زندگی | ہستی |
| گود | آغوش |
تشریح:
(علامہ اقبال کے اس سوال پر کرن بولی کہ) میرے خاموش وجود میں کئی ہنگامے سوئے پڑے ہیں کیونکہ میں نے صبح کی گود میں پرورش پائی ہے (سورج طلوع ہونے پر دن چڑھتا ہے اور انسان کاروبار میں لگ جاتے ہیں جو گویا ہنگامے کی صورت ہیں)۔
مُضطرب ہر دَم مری تقدیر رکھتی ہے مجھے
جُستجو میں لذّتِ تنویر رکھتی ہے مجھے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| بے چین، بے تاب، بے قرار | مضطرب |
| تلاش | جُستجُو |
| روشنی کی لذّت، نور حاصل کرنے کی خواہش | لذّتِ تنویر |
تشریح:
یہ اضطراب و بے چینی میری فطرت ہی میں داخل ہے (میری قسمت ہی مجھے بے چین رکھتی ہے) اور روشنی کی لذت ہی مجھے تلاش و جستجو اور لگن میں رکھتی ہے (میں نور حاصل کرنے کی جستجو میں بے تاب رہتی ہوں)۔
برقِ آتش خُو نہیں، فطرت میں گو ناری ہوں مَیں
مہرِ عالم تاب کا پیغامِ بیداری ہوں مَیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| آگ کا مزاج رکھنے والی بجلی | برقِ آتش خُو |
| سرِشت | فطرت |
| اگرچہ | گو |
| آگ کی بنی ہوئی | ناری |
| جہان کو روشن کرنے والا سورج | مہرِ عالم تاب |
| جاگنا | بیداری |
تشریح:
یہ درست ہے کہ اپنی فطرت کے اعتبار سے میں آگ کی پیداوار ہوں، اس کے باوجود میری عادتوں میں برق جیسا رویّہ موجود نہیں ہے یعنی بجلی اور آگ کی طرح کسی شے کو جلا کر خاکستر میں تبدیل کرنے کی قائل نہیں البتّہ یہ ضرور ہے کہ سورج جو طلوع کے بعد ساری دنیا کو اپنے احاطے میں لے لیتا ہے، اس کی جانب سے کائنات کے لیے بیداری کا پیغام ہوں۔ یعنی میرا کام دوسروں کو جلانا نہیں بلکہ بیدار کرنا ہے۔
سُرمہ بن کر چشمِ انساں میں سما جاؤں گی مَیں
رات نے جو کچھ چھُپا رکھّا تھا، دِکھلاؤں گی مَیں

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| اِنسان کی آنکھ / آنکھیں | چشمِ اِنساں |
| داخل ہو جانا، جگہ پا لینا | سما جانا |
تشریح:
میں سُرمہ بن کر انسان کی آنکھوں میں سما جاؤں گی اور رات کی تاریکی نے جو کُچھ چھُپا رکھا تھا وہ دکھلا دوں گی۔ دِن چڑھنے پر ہر چیز صاف نظر آنے لگتی ہے یہ گویا انسان کی آنکھوں میں سُرمہ ڈالنا ہے جس سے نظر تیز ہو جاتی ہے۔
تیرے مستوں میں کوئی جویائے ہشیاری بھی ہے
سونے والوں میں کسی کو ذوقِ بیداری بھی ہے؟“

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ہوش کو تلاش کرنے والا، ہوش کا متلاشی | جُویائے ہشیاری |
| شوق | ذوق |
| جاگنے کا شوق | ذوقِ بیداری |
تشریح:
اِس لیے تجھ سے یہ دریافت کرتی ہوں کہ تیری بے خبر اور سوئی ہوئی قوم میں کوئی شخص ہوشیاری اور بیداری کا بھی ذوق رکھتا ہے اور کیا وہ اسرارِ کائنات کو سمجھنے اور فطرت کا مطالعہ کرنے کا آرزو مند ہے تاکہ میں اُس کی آنکھوں میں بھی سُرمہ بن کر سما جاؤں؟
یہ نظم مسلمانوں کے لیے بیداری کا پیغام ہے اور علامہ اقبال کا طریقہ یہی تھا کہ وہ جس قدرتی منظر کو دیکھتے تھے، اُس کا سماں پیش کرتے ہوئے اپنے اصل پیغام کے لیے ایک موقع پیدا کر لیتے تھے۔
تبصرہ
یہ نظم تاریکی کے خلاف نور اور غفلت کے خلاف بیداری کا شاعرانہ استعارہ ہے۔ اقبالؔ نے آفتاب کی بے چین کرن کے عزم کے ذریعے یہ درس دیا ہے کہ زندگی کا کمال اپنے منبع پر مطمئن بیٹھ رہنے میں نہیں بلکہ ظلمت کے اندھیروں میں اُتر کر دنیا کو زندگی، تازگی اور حرارت بخشنے میں ہے۔
حوالہ جات
- شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح بانگِ درا ا ڈاکٹر شفیق احمد
- شرح بانگِ درا از اسرار زیدی
- شرح بانگِ درا از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی
- مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر






