Skip to content

بانگِ درا 4: مرزا غالب

فہرست

تعارف

نظم ”مرزا غالب“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کا وہ شاندار کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے اردو سُخن کے بے تاج بادشاہ مرزا اسد اللہ خاں غالب کے تخیلاتی اعجاز اور فکری رفعت کو والہانہ خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

اقبالؔ غالب کی ہستی کو انسانی فکر کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہیں جس نے دکھا دیا کہ تخیل کا پرندہ کس اوجِ کمال تک پرواز کر سکتا ہے۔ وہ غالب کا موازنہ جرمن نابغۂ روزگار گوئٹے سے کرتے ہیں کہ جس طرح ویمر کے چمن میں گوئٹے محوِ خواب ہے اسی طرح اجڑی ہوئی دلی کی مٹی میں غالب جیسا آبدار موتی دفن ہے، جس کے دم سے دِلی کا غنچہ شیراز کے گُل پر نازاں ہوا اور جس کے اعجاز نے اردو کے بِکھرے گیسو سنوارے۔

واضح ہو کہ غالبؔ کا شمار اُن تہذیبی شخصیات میں ہوتا ہے جن کو عوام میں مقبولیت حاصل ہے اور بے پناہ محبت کا مرکز ہیں۔ غالبؔ بلاشُبہ عوام کے مجموعی ذوق اور حافظے کا حصہ ہیں، مگر اُن کی فکر کو مکمل پذیرائی حاصل نہ ہوئی۔

مرزا اسد اللہ خان غالب، 1868ء میں

مرزا غالب کے سوانحی کوائف اور نظم کی اشاعت کا احوال بیان کرتے ہوئے پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

مرزا اسد للہ خاں متخلص بہ اسدؔ و غالبؔ 1796ء میں بمقام آگرہ پیدا ہوئے۔ آپ کا لقب میرزا نوشہ تھا اور خطاب الدولہ دبیر الملک، نظامِ جنگ بادشاہِ دہلی سے عطا ہوا تھا۔ 15 فروری 1869ء میں بہ عمر 73 سال دہلی میں فوت ہوئے اور وہیں دفن ہیں۔

یہ نظم سب سے پہلے ستمبر 1901ء کے ”مخزن“ میں شائع ہوئی تھی۔ بانگِ درا کی اشاعت کے وقت نظرِ ثانی کے دوران بعض ترمیمات کی گئیں۔ اِس نظم میں علامہ محمد اقبال

نے مرزا غالبؔ کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور ضمنی طور پر اُن کے محاسنِ کلام پر تبصرہ فرمایا ہے۔ اقبالؔ معنوی رنگ میں غالبؔ سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بانگِ درا

سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا
ہے پرِ مرغِ تخیّل کی رسائی تا کجا

معانیالفاظ
غور، تدبّرفکر
سوچ کے پرندے کے پرپرِ مُرغِ تخیّل
پہنچرسائی
کہاں تکتا کُجا

تشریح:

انسان کی فکر پر تیرے وجود کی وجہ سے یہ ظاہر ہوا کہ سوچ اور تخیّل کی پہنچ کہاں تک ہو سکتی ہے۔

تبصرہ:

لفظ ”فکر“ یہاں فارسی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے، یعنی سوچ، وِژن (Vision)، آئیڈیالوجی (Ideology) کے معنوں میں۔ فکر پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی تبصرہ فرماتے ہیں کہ ”فلسفے کی اصطلاح میں فکر پہلے سے حاصل کردہ علم سے نئے نتائج اخذ کرنے کا نام ہے“۔

اسی طرح لفظ ”تخیّل“ کو منطق (Logic) کی اصطلاح میں ایسے بیان کِیا ہے کہ وہ چیزیں جو حواسِ خمسہ (Five Senses) کے ذریعے ہمارے ذہن میں جا کر جمع ہوتی جاتی ہیں، اُس کیفیت کو تخیّل کہا جاتا ہے۔

بند کے پہلے شعر میں علامہ اقبال، غالبؔ کی فکر کو سراہتے ہیں۔ اقبالؔ کے ہاں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ کسی بھی شخصیت کو ایک اور زاویے سے پرکھ کر اُس کا مرتبہ ظاہر کرتے ہیں اور پھر اُس مرتبے سے ایک نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔

غالبؔ کی عظمت کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی نوع انسان یہ جان پایا کہ اُس کی فکر کس بلندی اور انتہا کو پہنچ سکتی ہے۔

شعر 2

تھا سراپا روح تُو، بزمِ سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا، محفل سے پنہاں بھی رہا

معانیالفاظ
شاعری کی محفلبزمِ سُخن
جسمپیکر
محفل کی زینت، رونقزیبِ محفل
چھُپا ہواپنہاں

تشریح:

تُو سر تا پا وہ روح تھا جس کا جسم شاعری تھا، تُو محفل کی زینت بھی رہا مگر اُس سے چھپا بھی رہا۔

تبصرہ:

شعر کے دونوں مصرعوں کو بڑی خوبصورتی سے آپس میں جوڑا جا سکتا ہے۔ اقبالؔ نے یہاں ”صنعتِ لف و نشر غیر مرتب“ کے استعمال سے شعر کی خوبصورتی اور معنی میں اضافہ کیا ہے۔ ”لف“ کے معنی لپیٹنا اور ”نشر“ کے معنی پھیلانا ہیں۔ اصطلاح میں اس صنعت سے مراد یہ ہے کہ شاعر پہلے مصرعے میں دو یا زیادہ چیزوں کو اجمالاً بیان کرے (لف) اور پھر دوسرے مصرعے میں ان کے متعلقات یا خصوصیات کو الگ الگ کھول کر بیان کرے (نشر)۔ اگر نشر میں چیزوں کی ترتیب وہی رہے جو لف میں تھی تو اسے ”لف و نشر مرتب“ کہتے ہیں، اور اگر ترتیب بدل جائے، یعنی پہلی چیز کا ذکر بعد میں اور بعد والی کا پہلے آئے، تو اسے ”لف و نشر غیر مرتب“ کہا جاتا ہے۔ اس صنعت سے شعر میں ایک خوبصورت توازن اور ربط پیدا ہوتا ہے، اور قاری کو دونوں مصرعوں کا تعلق دریافت کرنے میں لطف آتا ہے۔

”بزمِ سُخن“ یعنی شاعری، جو غالبؔ کا جسم تھا، وہ محفل کا حُسن بنا رہا اور اُس کوکچھ نا کُچھ پذیرائی ملتی رہی، جبکہ جو اُس کے فکر کی روح تھی وہ سب سے مخفی رہی اور اُن کا کلام اس سطح پر جا کر سمجھا نہ جا سکا، جس کا وہ حقدار تھا۔

ایک مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ غالبؔ کو اپنی زندگی میں پہچانا گیا اور بڑے شعرا میں اُن کا شمار ہوا، لیکن اُن کی معاشی اور خانگی زندگی کے پہلو اتنے خوبصورت نہ تھے کہ زیبِ محفل بن سکتے۔

بڑے آدمی کے علمیے بھی بڑے ہوتے ہیں، لہٰذا اُس کے شعور و لا شعور میں سے جن چیزوں کا گُزر ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ سب بیان کی شکل اختیار کرے، اور اگر کر لے، تو ہر کوئی اُس تک پہنچ پائے۔ اس لیے بھی اُس کا مکمل ظہور ممکن نہیں ہوتا۔

غالبؔ ہی کے الفاظ میں:-

؎ ہیں کواکب کُچھ نظر آتے ہیں کُچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کُھلا

جو بات اقبالؔ نے غالبؔ کے لیے یہاں لکھ دی، اِسی طرح کی بات مولانا صدر الدین قونوی (جو ابن العربی کے شاگرد اور منہ بولے بیٹے تھے) نے مولانا رومی کی وفات پر فرمائی۔ فرماتے ہیں:-

”غریب آمد و غریب رفت“
ترجمہ: یہ شخص جیسا انجان آیا تھا، ویسا ہی انجان چلا گیا۔

شعر 3

دید تیری آنکھ کو اُس حُسن کی منظور ہے
بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے

معانیالفاظ
نظارہدید
زندگی کی حرارتسوزِ زندگی
چھُپا ہوامستُور

تشریح:

تیری نگاہ کو اُس منظر کا حُسن قبول ہے جس میں زندگی کی حرارت چھُپی ہوئی ہو۔

تبصرہ:

اب اقبالؔ، غالبؔ کی بصیرت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور یہاں اقبالؔ کی نورِ ازلی سے وابستگی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ وہی جمالِ ازلی ہے جس کا ظہور کائنات کے ہر ذرّے میں ہوتا ہے اور انسان اس کی تلاش میں قدرت میں حُسن ڈھونڈ لیتا ہے۔ غالبؔ بھی اُسی حُسنِ مستُور کو بے نقاب کرنے کی جستجو میں رہے اور یہ اُن کی فکر کا کمال ہے کہ اُس حُسن کو تلاش کر پائے۔

بند نمبر 2

شعر 4

محفلِ ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار
جس طرح ندّی کے نغموں سے سکُوتِ کوہسار

معانیالفاظ
وجود، دنیا کی محفلمحفلِ ہستی
سِتار کی طرح کا سازبربط
خاموشیسکوُت
پہاڑکوہسار

تشریح:

دُنیا کی محفل تیری شاعری کی موسیقی سے مالا مال ہے، بالکل اسی طرح جیسے پہاڑوں کا سکُوت اور خاموشی ندی کے نغموں سے دِلکش ہو جاتے ہیں۔

تبصرہ:

یہاں اقبالؔ اندازِ فکر یعنی شاعری کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں اور اس شاعری کا موازنہ فنِ موسیقی سے کرتے ہیں، یعنی غالبؔ کی شاعری کی صوتی صفات کو سراہتے ہیں۔

”بربط“ کی تشبیہ سے شعر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے، یعنی وہ دنیا جو سکونت پزیر تھی، پہاڑوں کی مانند ویران اور خاموش تھی، اُس میں تیری شاعری بربط بن کر آئی اور وہی کام کیا جو ندی کا جل ترنگ پہاڑوں کی ویرانی دور کرنے کے لیے کرتا ہے۔

سازِ بربط
شعر 5

تیرے فردوسِ تخیّل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشتِ فکر سے اُگتے ہیں عالم سبزہ وار

معانیالفاظ
تخیّل کی بنائی ہوئی جنتفردوسِ تخیّل
فکر کی کھیتیکِشتِ فکر
سبزہ کی طرحسبزہ وار

تشریح:

تیرے تخیّل کی جنت سے قدرت میں بہار ہے۔ تیری فکر کی کھیتی سے کئی سرسبز دنیائیں وجود میں آئی ہیں۔

تبصرہ:

اقبالؔ، غالبؔ کے تخیل اور سوچ کو جنت کا علیٰ ترین مقام بتاتے ہیں، جس کو قدرت میں بہار کا مرتبہ حاصل ہے۔

غالبؔ کی ”کشتِ فکر“ کا ذکر بھی بہت معنی خیز ہے۔ جہاں غالبؔ کی زبان، شاعری اور فکر نے اتنے کمالات کیے، وہیں، اُن کے شاگردوں میں اُردو کے بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ اُن میں ایک نام مولانا الطاف حسین حالی کا بھی ہے، جن کا شمار اُردو نثر نگاری کے پانچ ستونوں میں ہوتا ہے۔ خود اقبالؔ نے فکر و فن کی سطح پر جن لوگوں سے روشنی حاصل کی ہے، اُن میں غالبؔ بھی شامل ہیں۔ غالبؔ کے یہ شاگرد اپنے آپ میں ادب اور فکر کی ایک سر سبز و شاداب دُنیا ہیں اور اِس کا سہرا غالبؔ کے سر جاتا ہے۔

شعر 6

زندگی مُضمرَ ہے تیری شوخیِ تحریر میں
تابِ گویائی سے جُنبش ہے لبِ تصویر میں

معانیالفاظ
چھُپی ہوئیمُضمَر
بولنے کی طاقتتابِ گویائی
ہلکی سی حرکتجُنبش

تشریح:

تیری تحریر کی شوخی زندگی کو اپنے اندر چھُپائے ہوئے ہے۔ تُو نے ہونٹ کی جو تصویر کھینچی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ وہ بولنے کے لیے حرکت کر رہے ہیں۔

تبصرہ:

یہاں اقبالؔ دیوانِ غالبؔ کے پہلے شعر کی طرف اشارہ کر رہے ہیں:-

؎ نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا

مندرجہ بالا شعر میں غالبؔ اپنی شاعری پرسوالیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے اُس کو ”شوخیِ تحریر“ کہتے ہیں۔ اقبالؔ اِس شعر میں زندگی کو اُس شوخیِ تحریر میں چھُپا ہوا قرار دیتے ہیں اور غالبؔ سے کہتے ہیں کہ کاغذی پیرہن یعنی لفظوں سے تُو نے جو لب کی تصویر بنائی ہے، وہ یوں زندہ لگتی ہے، گویا اُس کے ہونٹ ہل رہے ہوں اور وہ ابھی بولنے لگے۔ یہاں غالبؔ کی حقیقت کے قریب منظر کشی کو اقبالؔ خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

اقبالؔ، غالبؔ کے کلام کی حرارت، حرکت، بلند مقصدیّت اور زندگی سے بھرپور شاعری کے دِلدادہ ہیں اور یہی بات غالبؔ اور اقبالؔ کے کلام کو جوڑتی ہے۔

بند نمبر 3

شعر 7

نُطق کو سَو ناز ہیں تیرے لبِ اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریّا رفعتِ پرواز پر

معانیالفاظ
بولنے کی طاقت، گویائینُطق
معجزہ دِکھانے والے لبلبِ اعجاز
آسمان پر چند ستاروں کا جھرمٹ۔ سب سے نمایاں روشنی اسی جھرمٹ کی ہوتی ہے۔ انھیں اردو میں سات سہیلیوں کا جھمکا بھی کہتے ہیں۔ثریّا
اُڑان کی بلندیرِفعتِ پرواز

تشریح:

قوّتِ گویائی کو خود تیرے حیرت انگیز اندازِ بیان پر فخر ہے اور آسمان کی بلندیوں پر موجود ثریّا بھی تیرے بیان کی اُڑان پر حیرت میں گُم ہے۔

تبصرہ:

اِس شعر میں ”نطق“ سے مراد اردو زبان بھی ہو سکتی ہے۔ جو چار چاند غالبؔ نے اپنے لبِ اعجاز (حیرت انگیز شاعری) سے اردو پر لگائے ہیں، اُس سے اُردو زبان اور اُس کے بولنے والے، دونوں نازاں ہیں۔ اِس مصرعے میں اقبالؔ نے غالبؔ کے اندازِ بیان کو سراہا ہے۔

دوسرے مصرعے میں غالبؔ کے بیان اور موضوع کی بلندی کو خراجِ تحسین یوں پیش کیا کہ ثریّا، جو بلندی کا استعارہ ہے، وہ بھی غالبؔ کے بیان کی پرواز پر حیرت میں مبتلا ہے۔

ثریّا (ستاروں کا جھُرمٹ)
شعر 8

شاہدِ مضموں تصّدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلّی گُلِ شیراز پر

معانیالفاظ
مشاہدہ کرنے والا، محبوب اور عاشقشاہد
قربان، فِداتصدّق
ہنس رہا ہےخندہ زن ہے
دِلّی کا ادھ کھِلا پھول، مُراد ہے مرزا غالب سےغُنچۂ دِلّی
شیراز کا پھول، مراد ہے خواجہ حافظؔ یا شیخ سعدیؔ سے، جو فارسی کے ناموَر شعرا تھے۔گُلِ شیراز

تشریح:

مضمون کا مشاہدہ کرنے والا تیرے انداز پر قربان جا رہا ہے اور دِلّی کی یہ کلی، شیراز کے پھول پر ہنس رہی ہے۔

تبصرہ:

پچھلے شعر کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے، اقبالؔ ایک مرتبہ پھر غالبؔ کے اندازِ بیاں کی تعریف فرماتے ہیں۔

لفظ ”شاہد“ کا استعمال قابلِ ذکر ہے۔ اس میں ’مشاہدہ کرنے والا‘، کسی شے کا ’محبوب‘ اور ’عاشق‘ ہونے کے معنی شامل ہیں۔ کئی مضامین ایسے ہیں جن کو بیشتر شعرا اور مفکرین نے چھُوا، مگر غالبؔ نے اُن کو ایسے بیان کیا کہ ان مضامین پر گہری نظر رکھنے والا بھی جھوم اُٹھتا ہے۔

”غنچۂِ دلی“ سے مُراد غالبؔ ہیں۔ ”گُلِ شیراز“ سے مُراد ایران کے شہر شیراز کے دو بڑے شعرا ہو سکتے ہیں۔ ایک شیخ سعدیؔ اور دوسرے حافظؔ شیرازی، البتہ زیادہ تر مشارح یہ اشارہ حافظؔ شیرازی کی طرف ہی سمجھتے ہیں۔

فارسی کے عظیم شعرا سے تقابل کا ایک مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ غالبؔ کا فارسی کلام پیشِ نظر ہے، جس کو خود غالبؔ نے اپنے اردو کلام پر ترجیح دی ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جس کے لیے تعریفی نظم لکھی جا رہی ہے، اُس کو تو کَلی کہا ہے، وہ کلی جو شیراز کے مکمل طور پر کِھلے ہوئے پھول پر مسکرا رہی ہے۔ یعنی دِلّی کا یہ غنچہ شعر اور محبت کے شہر شیراز کی میراث کو آگے بڑھانے کو کِھلا ہے۔ اِس بات سے ایک پیغام یہ بھی ملتا ہے جو اقبالؔ نوجوانوں تک منتقل کر رہے ہیں، کہ غالبؔ کی میراث کو ابھی آگے بڑھانے والا کوئی نہیں، جس کی مزید وضاحت اگلے شعر میں ہوگی۔

شعر 9

آہ! تُو اُجڑی ہوئی دِلّی میں آرامیدہ ہے
گُلشنِ ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے

معانیالفاظ
جنگِ آزادی 1857ء کے بعد دِلّی تباہ و برباد ہو گئی تھی، اس لیے اُجڑی ہوئی کہا ہے۔اُجڑی ہوئی دِلّی
آرام کرنے والا، مدفونآرامیدہ
ویمر (Weimar) کا باغ، ویمر جرمنی کا ایک شہر ہے جہاں مشہور شاعر گوئٹے دفن ہے۔گُلشنِ ویمر
ہم آواز، ایک جیسی فکر رکھنے والاہم نوَا
سویا ہوا، مدفونخوابیدہ

تشریح:

آہ! تُو (غالبؔ) اُجڑی ہوئی دلّی میں آرام فرما یعنی دفن ہے، جبکہ ویمر (Weimar) کے گلشن میں تیرا ہم آواز (یعنی گوئٹے) سو رہا (دفن) ہے۔

تبصرہ:

دلّی کی جس محرومی کی طرف لفظ ”غنچہ“ سے اشارہ کیا تھا، وہ بات اب کھُل کر ”اُجڑی ہوئی دلّی“ میں آ گئی۔ اِس سے مراد دلّی کی زمین کا مفکروں، فنکاروں اور بڑے لوگوں کو پیدا نہ کر پانا ہے۔

یہاں اردو شاعری میں شہر کے لیے لکھے جانے والے مرثیے کی روایت کو بھی اقبالؔ نے برقرار رکھا۔ غالبؔ کے شاگرد مولانا الطاف حسین حالی کا شعر ملاحظہ ہو:-

؎ تذکرہ دہلی مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ
نہ سُنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز

جرمنی کے شہر ویمر میں دفن گوئٹےؔ کو بھی اقبالؔ نے اس شعر میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ گوئٹے جرمن شاعر ہے جس نے اپنی زندگی میں کثرت سے ادب لکھا ہے، فاسٹ (Faust) اُس کا سب سے مشہور و مقبول ڈرامہ ہے۔ دلچسپی رکھنے والے ”فاسٹ“ ڈرامے کا انگریزی ترجمہ اِس لنک سے حاصل کر سکتے ہیں۔

گوئٹےؔ

واضح ہو کہ علامہ اقبال نے اپنی تصنیف ”پیامِ مشرق“ گوئٹےؔ کے ”مغربی دیوان (West-östlicher Diwan)“ کے جواب میں لکھی تھی۔

گوئٹے کے ”مغربی دیوان“ کے بارے میں جرمنی کا اسرائیلی شاعر ہائنا لِکھتا ہے:-

”یہ ایک گُلدستۂ عقیدت ہے جو مغرب نے مشرق کو بھیجا ہے۔ اِس دیوان سے اِس امر کی شہادت مِلتی ہے کہ مغرب اپنی کمزور اور سرد روحانیّت سے بیزار ہو کر مشرق کے سینے سے حرارت کا متلاشی ہے۔“

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح پیامِ مشرق


گوئٹے کے ”مغربی دیوان“ کا سروَرق

علامہ اقبال کی تصنیف ”پیامِ مشرق“ کا سروَرق

نظم ”غالبؔ“ کے اِس بند میں ایک بات قابلِ غور ہے۔ پچھلے شعر میں شہرِ شیراز کا ذکر اور حافظ کی طرف اشارہ مشرق کے شعرا سے غالبؔ کا موازنہ ہے، جبکہ یہاں گوئٹےؔ سے تقابل مغرب کی سر زمین میں پیدا کردہ دانشوروں کا ذکر کر جاتا ہے۔ اِس بات سے غالبؔ ہی کے قدوقامت میں اضافہ کیا گیا ہے۔

بند نمبر 4

شعر 10

لُطفِ گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیّل کا نہ جب تک فکرِ کامل ہم نشیں

معانیالفاظ
بولنے کی چاشنی یا خوبصورتی، فصیح و بلیغ شاعریلُطفِ گویائی
برابریہمسَری
کامل سوچ، پُختہ سوچفکرِ کامل
ساتھی، دوست، ساتھ بیٹھنے والاہم نشِیں

تشریح:

بولنے کی چاشنی (شاعری) میں تیری برابری ممکن نہیں جب تک کہ تخیّل اور فکر دونوں ساتھ نہ ہوں۔

تبصرہ:

یہاں اقبالؔ نے غالبؔ کا اندازِ فکر اور فن کی سطح پر جو لطف اور مزہ غالبؔ کی شاعری پیدا کرتی ہے، اُس کو غالبؔ کے تخیل اور فکر کی مدح سے جوڑ دیا ہے۔ یعنی جب تک کہ کوئی شاعر تیرے تخیّل کی بلندی پر نہیں پہنچتا، تب تک اُس کے لیے ایسا کلام تخلیق کرنا ممکن نہیں جو تیری برابری کا ہو۔

تخیّل کی بلندی پر پہنچنے کا راستہ بھی اقبالؔ نے بتا دیا اور وہ ہے، فکر کا مکمل ہونا۔ یہاں فکر اور تخیّل فلسفیانہ اصطلاح کے طور پر آئے ہیں، جن کا ذکر پہلے شعر کے تبصرے میں کیا گیا ہے۔

شعر 11

ہائے! اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں
آہ! اے نظّارہ آموزِ نگاہِ نکتہ بیں

معانیالفاظ
نظارہ دیکھنے والا، دیکھنے کا طریقہ بتانے والانظّارہ آموز
باریک بینی سے دیکھنے والی آنکھ، بھید تلاش کرنے والی نظرنگاہِ نُکتہ بیں

تشریح:

ہائے کہ اب ہندوستان کی سر زمیں بنجر ہو گئی ہے۔ آہ اے نظارہ دیکھنے والی باریک بیں دانشمند کی آنکھ (مراد شاعر، مرزا غالبؔ)

تبصرہ:

وہ دلّی کی خاک جس نے ماضی میں غالبؔ جیسے بڑے ناموں کو پیدا کیا، جب اقبالؔ، غالبؔ کے فکر و فن کی طرف دیکھتے ہیں تو لا محالہ اُن کی نظر سرزمینِ ہندوستان کے حال کی طرف جاتی ہے، جو اب ویسے شعرا اور مفکّر پیدا نہیں کر رہی۔

؎ نہ اُٹھّا پھر کوئی رومیؔ عجم کے لالہ‌ زاروں سے
وہی آب و گِلِ ایراں، وہی تبریز ہے ساقی

(بالِ جبریل)

بڑے لوگوں کی یاد میں اکثر ایسا خیال پیدا ہوتا ہے۔ اقبالؔ کے ہاں ماضی کے چمکتے ستاروں کو دیکھنے کا مقصد اور اُس کا حال کے ساتھ تقابل کرنا، آہ و زاری نہیں بلکہ حیاتِ نو کی تلاش ہے۔ یہی حیاتِ نو، شمع و پروانے کی صورت میں اگلے شعر میں آئے گی۔

شعر 12

گیسوئے اُردو ابھی منّت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل‌ سوزیِ پروانہ ہے

معانیالفاظ
گیسو یعنی بال، گیسوئے اُردو سے مراد ہے اُردو زبان کی زُلفیںگیسوئے اُردو
زیرِ احسانمنّت پذیر
کندھا، کنگھاشانہ
دیوانہ، عاشق، مشتاقسودائی
ہمدردی، دِل جلانا، محنت و کاوِشدِل سوزی

تشریح:

اردو کے بال ابھی کنگھے کے محتاج ہیں۔ یہ وہ شمع ہے جسے پروانے کا عشق اور ہمدردی درکار ہے۔

تبصرہ:

اِس شعر میں اقبالؔ نے دو خوبصورت استعاروں کا استعمال کیا ہے۔ زبانِ اردو ابھی مکمل طور پر اپنے کمال کو نہیں پہنچی، ابھی اُس کو اور سجنے سنورنے کی ضرورت ہے۔

لفظ ”شانہ“ کے عام فہم معنی ہیں کندھا، مگر یہاں یہ کنگھے کے معنوں میں آیا ہے۔ یہ شانہ اردو زبان میں لکھنے والوں کی طرف اشارہ ہے۔ کسی بھی زبان میں لکھا گیا ادب اُس کو بہتر سے بہتر بناتا ہے۔

اردو وہ ”شمع“ ہے جو ایسے پروانوں کی منتظر ہے جو عشق، دیوانگی اور ہمدردی میں اس کی طرف کھِچے چلے آئیں۔

یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ زبان صرف وہی زندہ رہ سکتی ہے (اور ترقی کر سکتی ہے) جس کے بولنے والے ہوں اور جس میں ادب لکھا جائے۔ جس قدر زبان کا استعمال بڑھے گا، اور جتنا بہتر اور جتنا متنوع ادب، اس میں پیدا کیا جائے گا، اس قدر اس کا مقام بلند تر ہوتا جائے گا۔ اس کے برعکس اگر زبان کی طرف پروانے نہ کھِچے چلے جائیں (تعلیمی و معاشی کشش نہ ہونے کی بنا پر) تو وہ مرنے لگتی ہے، ایسا ہی کچھ اردو زبان کے ساتھ کیا گیا ہے۔

غالبؔ کے لیے لکھی جانے والی تعریفی نظم میں، ہندوستان کی سرزمین سے پیدا کردہ لوگوں کے ذکر کے ساتھ اردو کا ذکر، اقبالؔ کا غالبؔ کی شخصیت کو مکمل خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔

یہ شعر اُن خدمات کا اعتراف کرتا ہے جو غالبؔ نے اردو زبان کے لیے سر انجام دیں۔ اس زبان میں اعلیٰ درجے کی شاعری کے علاوہ زبان میں جِدّت لانے کا کارنامہ بھی غالبؔ کے سر جاتا ہے۔ اِس کا اندازہ غالبؔ کے خطوط میں استعمال کردہ زبان، اور اُس دور میں لکھی باقی تصانیف کے تقابل سے با آسانی کیا جاسکتا ہے۔

بند نمبر 5

شعر 13

اے جہان آباد! اے گہوارۂ عِلم و ہُنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در

معانیالفاظ
دِلّی کا پُرانا نامجہان آباد
پرورِش گاہگہوارہ
خاموش فریاد، خاموش گریہ و زارینالۂ خاموش
در و دیوار، چھت اور دروازے، مُراد ہے عمارات سےبام و در

تشریح:

اے جہان آباد، تُو علم و ہنر کی پرورش گاہ تھا جبکہ اب تیری عمارتیں خاموش آہ و زاری میں مبتلا ہیں۔

تبصرہ:

دہلی کو اسکے پرانے نام ”جہان آباد“ سے مخاطب کر کے اقبالؔ نے اُس کے درخشاں (روشن) ماضی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اُس دِلّی کی طرف جو کبھی برِصغیر کا بغداد یا غرناطہ ہوا کرتی تھی۔

سولہویں صدی میں جب شاہ جہاں نے مغلیہ سلطنت کا دار الخلافہ آگرہ سے دلّی منتقل کیا تو نہ صرف اردو زبان اور مغلیہ سلطنت کا عروج تھا، بلکہ ہندوستان میں ہر قسم کے علم و ہنر کی نشوونما ہو رہی تھی۔ اس لیے اس لفظ کے استعمال سے ایک مکمل دور کی طرف اشارہ ہے۔

اب مگر دہلی کے کوچہ و بازار اُس شان و شوکت کی داستاں نہیں سناتے، بلکہ خاموش آہ و زاری میں مصروف ہیں۔

اقبالؔ نے اُس دہلی کو یاد کیا ہے جس کی چمک میں غالبؔ جیسی شخصیات کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ غالبؔ کے لیے لکھی تعریفی نظم میں دہلی کو وہی خراجِ عقیدت پیش کیا ہے جو مقام و محبت غالبؔ نے اپنے کلام میں دہلی کے لیے ظاہر کیا۔

شعر 14

ذرّے ذرّے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر

معانیالفاظ
سوئے ہوئےخوابیدہ
سورج اور چاندشمس و قمر
چھُپے ہوئےپوشیدہ
موتیگہر

تشریح:

تیرے (دہلی کے) ہر ذرّے میں بڑے بڑے ستارے دفن ہیں، تیری زمین میں لاکھوں قیمتی موتی چھُپے ہوئے ہیں۔

تبصرہ:

شمس و قمر سے اقبالؔ نے دہلی کے تمام عالم، فاضل، مصوّر، شعرا، ادیب، فلسفی و صوفیا مراد لے لیے ہیں، جو دہلی کی خاک میں دفن ہیں، جن میں امیر خسرو اور نظام الدین اولیاء جیسے نام شامل ہیں۔ تمام دانشمندانِ دہلی کا ذکر کرنے کے بعد اقبالؔ نے غالبؔ کی حیثیت کو اُجاگر کیا ہے۔

شعر 15

دفن تجھ میں کوئی فخرِ روزگار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟

معانیالفاظ
زمانے کا فخر، زمانے کے لیے مایہ ناز ہستیفخرِ روزگار
چھُپا ہواپنہاں
چمک دارآبدار

تشریح:

کیا تجھ میں ایسا بھی کوئی دفن ہے جس پر زمانہ فخر کرے؟ کیا ایسا چمکدار موتی بھی ان میں سے کوئی ہے؟

تبصرہ:

دہلی کا سب سے چمکتا گہر بتا کر، مشرق و مغرب، ماضی و حال کے مفکّروں سے غالبؔ کا موازنہ کر کے، اندازِ سُخن، تخیّل اور فکر کی بلندی کی پذیرائی کرنے کے بعد اقبالؔ یہاں بات کو اختتام پزیر کرتے ہوئے، غالبؔ کو دلی پر لگا ایک چمکدار اور قابلِ فخر تمغا سمجھتے ہیں۔

اِس شعر میں اقبالؔ اِستفہامِ انکاری کا استعمال کرتے ہیں، یعنی تمام تر دلائل کے بعد، اِس سوال کو Rhetorical Question کے طور پر کِیا گیا ہے اور اِس کا جواب نفی میں ہے۔

تبصرہ

یہ کلام مرزا غالب کے فکری اور لسانی اعجاز پر اقبالؔ کی گہری تنقیدی بصیرت کا مظہر ہے۔ وہ غالب کو محض ایک روایتی سُخنور نہیں بلکہ بزمِ سخن کا وہ پیکرِ روح قرار دیتے ہیں جس کی فکر نے مشرق کو ویمر اور شیراز کے ادبی مراتب سے ہم پلہ کر دیا۔ دِلی کے اُجڑے ہوئے مرقد پر یہ دردمندانہ خراج اس نابغۂ روزگار کے لازوال موتی ہونے کی ابدی گواہی ہے۔

غالب کی خدمت میں خراجِ تحسین اور اقبالؔ کے فکری استفادے پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں:-

اِس نظم میں، جسے ہم مرثیہ بھی کہتے ہیں۔ اقبالؔ نے ہندوستان کے سب سے بڑے فارسی شاعر کی خدمت میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کا مزار، بستی نظام الدین (دِلّی) میں چونسٹھ کھمبا کی دیوار سے ملحق ہے۔ اقبالؔ نے چونکہ غالبؔ کے اندازِ بیاں سے بہت استعفادہ کیا ہے اور اُن کے کلام سے معنوی رنگ میں فیض بھی حاصل کیا ہے، اس لیے اُنہوں نے بڑے خلوص کے ساتھ اِس نظم میں غالبؔ کے کمالات کو واضح کیا ہے اور اس کی ایک خؤبی یہ ہے کہ اس میں ضمنی طور پر انہوں نے غالبؔ کی شاعری پر تبصرہ بھی کر دیا ہے، اور اِس میں کیا شک ہے کہ محاسنِ کلام غالبؔ کو اقبالؔ سے بڑھ کر کون سمجھ سکتا ہے؟ جیسا کہ میں (شرح بانگِ درا کے) مقدمہ میں لِکھ چُکا ہوں، بانگِ درا کی غزلوں اور نظموں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اقبالؔ کی ابتدائی شاعری پر غالبؔ کا اثر صاف نمایاں ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *