Skip to content

ضربِ کلیم 13: شکر و شکایت

تعارف

نظم ”شکر و شکایت“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک انتہائی دردمندانہ، جری اور دلسوز قطعہ ہے جس میں علامہ اقبال نے بارگاہِ رب العزت میں اپنے شاعرانہ فیضان پر شکر اور اپنے ہم وطنوں کی غلامانہ ذہنیت پر دلگداز شکایت پیش کی ہے۔

اس نظم میں علامہ عاجزی کے ساتھ شکر بجا لاتے ہیں کہ اُن کی فکر کا رشتہ عالمِ لاہوت سے جڑا ہے اور اُن کے کلام کے ولولے نے لاہور سے لے کر بخارا و سمرقند تک دلوں کو نئی تڑپ بخشی ہے۔ مگر کلام کے آخری مصرعے میں وہ تڑپ کر فریاد کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ! تُو نے مجھے ایک ایسے بدقسمت خطے (ہندوستان) میں پیدا فرمایا جس کے باسی صدیوں کی محکومی کے بعد اب خود غلامی پر راضی ہو چُکے ہیں۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شُکر ہے تیرا
رکھتا ہوں نہاں خانۂ لاہُوت سے پیوند

معانیالفاظ
بے خبر انسان، نا سمجھ انسانبندۂ ناداں
لاہُوت کا چھُپا ہوا گھر۔ یہاں مُراد عالمِ بالا یا اوپر کی دُنیا کے بھید، فرشتوں کا جہاںنہاں خانۂ لاہُوت
تعلق، رِشتہ، جوڑپیوند

تشریح:

اِس نظم میں علامہ اقبال نے اللہ کی بارگاہ میں اپنے دردِ دِل کا اظہار کیا ہے، فرماتے ہیں کہ:-

اے مولا! اگرچہ میں ایک بندۂ ناداں ہوں، لیکن تیرا شُکر ادا کرتا ہوں کہ تُو نے اپنی محبّت مجھے عطا فرمائی ہے اور میری روح کو عالمِ بالا کے اُس چھُپے ہوئے پاکیزہ جہان سے وابستہ کر دیا ہے اور اسی لیے میرے دِل میں مذہب و مِلّت کی خدمت کا جذبہ موجزن ہے۔

شعر 2

اک ولولۂ تازہ دیا مَیں نے دلوں کو
لاہور سے تا خاکِ بخارا و سمرقند

معانیالفاظ
نیا جوش و خروشولولۂ تازہ
مراد ساری اسلامی دُنیاخاکِ بخارا و سمرقند

تشریح:

یا رب! یہ بھی تیرے فضل و کرم ہی کے باعث ہے کہ میں نے اپنی جوش و ولولہ کی حامل شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو قرآن مجید کا پیغام سُنایا اور اُن کے دِلوں میں اِسلام کو دُنیا میں سربُلند کرنے کا ولولہ پیدا کر دیا۔

میری شاعری نے مسلمانوں میں بیداری کی لہر پیدا کر دی ہے اور وہ ذِلّت کی غلامانہ زندگی کی بجائے باوقار آزاد زندگی گزارنے کے لیے کوشش کرنے لگے ہیں۔

شعر 3

تاثیر ہے یہ میرے نفَس کی کہ خزاں میں
مُرغانِ سحَر خواں مری صحبت میں ہیں خورسند

معانیالفاظ
اثر کا ہوناتاثیر
روح، جان۔ مراد شاعرینفَس
مرغ کی جمع۔ پرِندہمرغان
صبح سویرے نغمہ الاپنے والے، صبح کو پڑھنے والےسحر خواں
رفاقت، ہمراہی، ساتھ، میل جول، دوستی، تعلقصحبت
خوشخورسند

تشریح:

یہ میری شاعری ہی کی تاثیر ہے کہ آج جب کہ اُمّتِ مُسلمہ مصائب میں گرفتار ہے اور مسلمانوں پر زوال کی حالت طاری ہے، یعنی اُن کی زندگی کی چمن زار پر خزاں چھائی ہوئی ہے، لیکن اس دور میں بھی میری قوم کے درد مند افراد میرے اشعار ذوق و شوق سے پڑھتے اور اُن سے مستفید ہوتے ہیں۔

چونکہ میرے اشعار مسلمانوں کو اُمید کی کِرن دِکھاتے ہیں اور اُن کی عظمتِ گذشتہ کی یاد دِلاتے ہیں، اس لیے اُن کے مطالعہ سے بہار کا لُطف آتا ہے (یہاں علامہ صاحب نے در اصل اپنے کلام کی حقیقی حیثیّت کا اظہار بڑے ہی دِل کش اور پُر تاثیر اور انداز و اسلوب میں کیا ہے)۔

شعر 4

لیکن مجھے پیدا کیا اُس دیس میں تُو نے
جس دیس کے بندے ہیں غلامی پہ رضا مند!

معانیالفاظ
مُلکدیس
لوگبندے
راضی، خوشرضا مند

تشریح:

لیکن میں بڑے رنج کے ساتھ تیری جناب میں عرض کرتا ہوں کہ جہاں تُو نے مجھے اعلی درجے کے حیات بخش جواہر سے نوازا، وہاں اِس مُلک میں پیدا کر کے میرے لیے ایک طرح سے دُکھ کا سامان کر دیا ہے۔ یہاں کے باشندے نمازیں بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، لیکن انگریز کی غلامی پر رضا مند ہیں۔ تعجّب ہے کہ وہ کلمہ تو تیرا پڑھتے ہیں لیکن اطاعت انگریز کی کرتے ہیں۔ واضح ہو کہ یہ نظم، در اصل ایک لطیف شاعرانہ اندازِ بیان ہے۔ اقبالؔ اپنی قوم سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو مسلمان کافر کی غلامی پر رضا مند ہو اور اس غلامی سے رہائی کی کوشش نہ کرے وہ مسلمان ہی نہیں، کیونکہ اللہ کا بندہ، انگریز کا بندہ کیسے ہو سکتا ہے۔

سلطان ٹیپو شہیدؒ نے اسی اصول پر عمل کیا اور حیاتِ جاوید حاصل کی اور نظام علی خان آف حیدر آباد نے انگریزوں کی حمایت کرکے ابدی لعنت خرید لی۔

؏ یا بندۂ خدا بن یا بندۂ زمانہ
(بالِ جبریل)

غلامی پر رضامندی کی مذمت اور نظم کے پیغام پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں:-

اِس نظم کا اصل مقصود آخری مصرع ہے یعنی اقبالؔ مسلمانوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ غلامی پر رضامند ہو جانا کسی بھی قوم کے لیے باعثِ عزت نہیں ہے۔ مسلمان تو اپنے دِل کو ایسے تصوّر سے بھی آلودہ نہیں کر سکتا۔ اِس مفہوم کو اِنتہائی پُر تاثیر بنانے کے لیے یہ اسلوبِ بیان اِختیار کیا گیا، جو صرف بارگاہِ حق سے فیض یافتہ شاعر ہی اِختیار کر سکتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ نہیں کہا کہ مُلک کے باشندے غلامی میں مبتلا ہو گئے کہ یہ ایک اِتّفاقی حادثہ ہے جو ہر قوم کو پیش آ سکتا ہے۔ فرمایا، غلامی پر راضی ہو گئے، یعنی صرف ظاہری حالات ہی ناسازگار نہیں بلکہ اُن کے دِلوں میں آزادی کے لیے تڑپ ہی باقی نہیں رہی۔ یہ حالت فرد یا قوم کی زندگی میں دِل اور روح کی موت ہے۔

مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ ضربِ کلیم

تبصرہ

یہ کلام ایک حساس اور خوددار مفکر کی روح کا دلدوز المیہ ہے۔ اقبالؔ کا یہ شکوہ کہ ان کی بیدار اور آتشیں نواؤں کے باوجود اُن کی قوم غلامی کی زنجیروں پر مطمئن ہو چکی ہے، دراصل غلامی کی خوگر ذہنیت پر ایک کاری ضرب اور آزادی کی غیرت بیدار کرنے کا آخری تازیانہ ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *