Skip to content

ضربِ کلیم 79: دین و تعلیم

تعارف

نظم ”دین و تعلیم“ علامہ اقبال کے مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ (حصہ تعلیم و تربیت) کا ایک دوٹوک، بصیرت افروز اور فکری تازیانہ ہے جس میں مروجہ خانقاہی پیشوائیت کے بے اخلاص دعووں اور نوآبادیاتی مغربی نظامِ تعلیم کے تخریبی مقاصد کو بیک وقت بے نقاب کیا گیا ہے۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ اگر دل میں سچا اخلاص نہ ہو تو پیرانِ حرم کا خود کو صاحبِ نظر ظاہر کرنا محض لاف و گزاف اور کھوکھلا دعویٰ ہے۔ دوسری جانب وہ متنبہ کرتے ہیں کہ اہلِ کلیسا کا رائج کردہ تعلیمی ڈھانچہ دین اور اخلاقی مروت کو ختم کرنے کی گہری سازش ہے۔ جو قوم اپنی خودی کی حفاظت اور پاسداری نہ کرے، محکومی اور مظلومی اس کا مقدر بن جاتی ہے؛ اور قدرت کا اٹل قانون یہ ہے کہ وہ افراد کی انفرادی خطاؤں سے تو چشم پوشی کر لیتی ہے، مگر قوموں کے اجتماعی گناہ اور بے حسی کو کبھی معاف نہیں کرتی۔

علامہ اقبال کی ژرف نگاہی کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں علامہ اقبال نے دین اور تعلیم سے متعلق بعض حقائق بیان کیے ہیں اور اِس میں شک نہیں کہ اِن پر غور کرنے سے حکیمِ مشرق کی ژرف نگاہی (گہری نظر، باریک بینی) کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

مجھ کو معلوم ہیں پِیرانِ حرم کے انداز
ہو نہ اخلاص تو دعوائے نظر لاف و گزاف

معانیالفاظ
کعبے کے پیر یعنی عُلماء و فُقہاءپیرانِ حرم
بے ہودہ سرائی، ڈینگ مارنا، شیخی کی باتیںلاف و گِزاف

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ مَیں موجودہ دور کے پیشہ وَر اور دین فروش عُلماء و فُقہاء کے کردار سے بخوبی واقف ہوں۔ یوں تو وہ اپنے خلوص کا اور معاملات پر صحیح نظر رکھنے کا بڑا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کا یہ دعویٰ فضول اور شیخی کی باتوں (لاف زنی) کے سِوا کُچھ نہیں۔ اُن کے پاس کتابی علم تو بہت ہے لیکن (اِلّا ماشاء اللہ) نظر یعنی روحانی طاقت سے محروم ہیں، کیونکہ یہ دولت تو صرف اور صرف اخلاص یعنی عشقِ رسول اللہ ﷺ سے حاصل ہو سکتی ہے۔

؎ یہی شیخِ حرم ہے جو چُرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیمِ بُوذرؓ و دَلقِ اَویسؓ و چادرِ زہراؓ!

(ارمغانِ حجاز)

شعر 2

اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مُروّت کے خلاف

معانیالفاظ
کلیسا والے، مُراد انگریزاہلِ کلیسا
اخلاق، پاس اور لحاظ، حُسنِ اخلاقمـُروّت

تشریح:

مغربی نظامِ تعلیم کی حقیقت بیان کرتے ہوئے علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اہلِ کلیسا نے مدرسوں میں ایسا تعلیمی نظام رائج کیا ہے اور ایسی کتابیں نصاب میں داخل کی ہیں کہ جن کو پڑھ کر مسلمان طالب علم اپنے دینِ اسلام سے بھی بے گانہ ہو جائیں اور اسلام حُسنِ اخلاق کی جو تعلیم دیتا ہے اُس سے بھی محروم ہو جائیں۔

برِ صغیر میں تعلیمی نظام نافذ کرتے ہوئے انگریز مدبّروں نے یہ بات ذہن میں رکھی تھی کہ اِس کے ذریعے اگر مسلمان عیسائی نہیں ہوگا تو کم از کم مسلمان بھی نہیں رہے گا اور ایک صدی کا علمی تجربہ ہمیں یہ بتا رہا ہے کہ اُن کی یہ بات سچ تھی اور آج کا تعلیم یافتہ نوجوان اپنے دین اور حُسنِ اخلاق؛ دونوں سے بے بہرہ ہے۔ گویا نصاریٰ کا یہ قائم کردہ نظامِ تعلیم اور اُنہی کا مقرر کردہ نصابِ تعلیم، یہ در اصل تعلیم نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کو دین اور آدمیّت دونوں سے برگشتہ کرنے کی ایک سازِش ہے اور افسوس کہ مسلمان اِس سازش کا شکار ہو گئے یعنی وہ زہر کو تریاق سمجھ رہے ہیں۔

برِصغیر میں رائج نظامِ تعلیم سے متعلق علامہ اقبال کا مؤقف ”ضربِ کلیم“ کی نظم ”ہندی مکتب“ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

شعر 3

اُس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سے انصاف

معنیلفظ
غلامیمحکومی

تشریح:

جو قوم اپنی افرادی اور اجتماعی خودی کے فطری تقاضوں کی تکمیل کا انتظام نہیں کرتی، یعنی اپنی خودی کی تربیّت نہیں کرتی، وہ کبھی اِس دُنیا میں سر بُلندی اور حکومت نہیں کر سکتی بلکہ وہ ہمیشہ دوسری طاقتوَر اقوام کی غلام رہے گی۔ کیونکہ:-

؎ سُنا ہے میں نے غلامی سے اُمّتوں کی نجات
خودی کی پروَرِش و لذّتِ نمُود میں ہے

(ضربِ کلیم: فلسطینی عرب سے)

واضح ہو کہ علامہ اقبال کی فکر (فکرِ اقبالؔ) میں غلامی ایک سخت قسم کی موت ہے جو اقوام کو مرگِ دوام (ہمیشہ قائم رہنے والی موت) میں مُبتلا کر دیتی ہے۔ اِس نُکتۂ نظر کا اظہار اُنہوں نے اپنی نظم ”عالمِ برزخ“ میں بڑی شدت سے کِیا ہے۔

علامہ نے یہی حقیقت ایک اور جگہ کُچھ یوں بیان فرمائی ہے:-

؎ موت ہے اِک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام!

(ارمغانِ حجاز)

شعر 4

فِطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملّت کے گُناہوں کو معاف

معنیلفظ
نظر انداز کرنا، چشم پوشی کرنا، دھیان نہ دینااغماض

تشریح:

اِس شعر میں علامہ نے عمرانیات اور تمدّن کا ایک زبردست نُکتہ بیان کیا ہے۔ کاش مسلمان اِس پر کماحقہ غور کر لیں۔

فرماتے ہیں کہ فطرت کے قوانین، یا اُس کے طریقِ کار پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ افراد کے قصور کو کبھی کبھی معاف کر دیتی ہے لیکن مِلّت کا قصور معاف نہیں کرتی۔ یعنی فرض کرو ایک حکمران قوم ہے اور اُس کے بعض افراد کبھی کبھی گناہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو فطرت اُن کے گناہوں سے اغماض یا چشم پوشی کر لیتی ہے۔ لیکن اگر پوری قوم گناہ میں مُبتلا ہو جائے (گناہ سے مُراد اللہ تعالی کے احکام کی نافرمانی یا قوانینِ فطرت کی خلاف ورزی ہے) تو فطرت اُس قوم کو کبھی معاف نہیں کرتی۔ چنانچہ اِس قول کی صداقت تاریخِ عالم پر نظر ڈالنے سے بخوبی واضح ہوسکتی ہے۔

علامہ اقبال ”تقدیر“ کے متعلق فرماتے ہیں:-

؎ ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اُس کی
بُرّاں صفتِ تیغِ دو پیکر نظر اُس کی
(ضربِ کلیم: تقدیر)

تبصرہ

یہ کلام نوآبادیاتی نظامِ تعلیم کی غلام ساز فطرت اور مذہبی رہنماؤں کے کھوکھلے پن پر کاری ضرب ہے۔ اقبالؔ یہ تاریخی قانون واضح کرتے ہیں کہ قوموں کی غلامی محض بیرونی عسکری غلبے سے نہیں آتی، بلکہ جب تعلیم دین و مروت کی جڑیں کاٹ دے اور ملت اپنی اجتماعی خودی سے غافل ہو جائے تو فطرت کا عادلانہ قانون اُسے زوال اور محکومی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *