Skip to content

بانگِ درا 106: چاند

تعارف

نظم ”چاند“ علامہ اقبال کی وہ شاہکار نظم ہے جس میں چاند کے حُسن اور اس کے داغ کے مشاہدے سے وحدت الوجود اور تجلیِ الٰہی کی وحدت کا فلسفہ کھولا گیا ہے۔

چاند زمین کا طواف کرتا ہے اور اُس کے سینے پر نمایاں داغ کسی ازلی آرزو کی علامت ہے؛ اقبالؔ نتیجہ نکالتے ہیں کہ چاند کا رخسار ہو یا انسان کا تڑپتا ہوا دل، دونوں میں ایک ہی ازلی محبوب کا جلوہ جلوہ گر ہے۔

چاند کی علامت میں حسنِ ازل کے مخفی جلوؤں اور رمزیہ شاعری کے کمال کی تشریح کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

یہ نظم علامہ اقبال کی رمزیہ شاعری کی بہترین مثال ہے۔ اِس نظم کا بنیادی تصور یہ ہے کہ اُس کا جلوہ ہر شے میں پوشیدہ ہے۔ لُطف کی بات یہ ہے کہ اقبالؔ نے اس نظم میں خدا کا لفظ کہیں استعمال نہیں کیا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حُسنِ ازل کی عالمگیر موجودگی اور چاند کی اضطرابی تلاش کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

اِس فلسفیانہ نظم کا لُبِّ لُباب یہ ہے کہ ذاتِ باری تعالی ہر جگہ موجود ہے۔ شاعر نے اپنے تصوّر میں یہ فرض کیا ہے کہ چاند حُسنِ ازل یا ذاتِ باری کی تلاش میں سرگرداں ہے اور اُس نے چاند کو بتایا ہے کہ وہ تو ہر ایک چیز میں موجود ہے۔ شاعر نے خدا کا لفظ استعمال نہیں کیا لیکن اندازِ بیان سے واضح ہے کہ ضمیرِ غائب کا مرجع وہی ذاتِ پاک ہے۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بانگِ درا

نظم کی اشاعت اور اضافی اشعار کے حوالے سے ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی لکھتے ہیں:-

یہ نظم رسالہ مخزن لاہور کے شمارہ 1904ء میں چھپی تھی، جس میں چار شعر زیادہ تھے۔ یہ اشعار اب ”باقیاتِ اقبالؔ“ میں درج ہیں۔

ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

اے چاند! حُسن تیرا فطرت کی آبرو ہے
طوفِ حریمِ خاکی تیری قدیم خو ہے

معانیالفاظ
عزتآبرُو
چکّر لگانا، طواف کرناطوف
مٹی کا بنا ہوا گھر۔ مراد زمینحریمِ خاکی
پُرانی عادتقدیم خُو

تشریح:

اے چاند! فطرت نے تجھ سے زیادہ حسین کوئی شے پیدا نہیں کی۔ تیرا حُسن مناظرِ فطرت کی عزت بڑھاتا اور وقار قائم کرتا ہے۔ اس دنیا کے اِرد گِرد چکر لگانا (گردِش کرنا) ابتدا ہی سے تیری عادت چلی آتی ہے۔ چاند کو دیکھ کر ایک صاحبِ بصیرت بے حد حیران ہوتا ہے کہ قدرت نے کس طرح، در اصل، اپنے حُسن و جمال کا اظہار کیا ہے۔

شعر 2

یہ داغ سا جو تیرے سینے میں ہے نمایاں
عاشق ہے تُو کسی کا، یہ داغِ آرزو ہے؟

معانیالفاظ
چاند میں موجود ایک سیاہ داغداغ
چونکہ محبوب کی آرزو میں دِل جلتا رہتا ہے جس کی وجہ سے دِل پر آرزو کا داغ بن جاتا ہےداغِ آرزو

تشریح:

تیرے سینے میں یہ جو داغ سا نمایاں ہے، تُو کیا کسی کا عاشق ہے اور کیا تیرا یہ داغ تیری آرزو کا داغ ہے؟

عموماً کہا جاتا ہے کہ عاشق کے دِل/سینے میں محبت کا داغ ہوتا ہے۔ چاند میں بھی ایک داغ سا ہوتا ہے جسے علامہ نے عشق کا داغ قرار دیا ہے اور کسی سے مراد محبوبِ حقیقی ہے۔ گویا چاند اپنے محبوب کی تلاش میں ہے۔

شعر 3

میں مضطرب زمیں پر، بے تاب تُو فلَک پر
تُجھ کو بھی جُستجو ہے، مجھ کو بھی جُستجو ہے

معانیالفاظ
بے قرارمضطرب
بے چینبے تاب
تلاشجُستجو

تشریح:

میں زمین پر بے قرار (مضطرب) ہوں، تُو آسمان پر بے تاب ہے۔ تجھے بھی کسی (محبوب) کی تلاش و آرزو ہے، اسی وجہ سے تُو بے قرار گردِش کر رہا ہے اور میں بھی اسی تلاش و آرزو کے باعث بے چین رہتا ہوں کہ اس محبوبِ حقیقی تک، کہ جو پردوں میں چھپا ہوا ہے، میری رسائی ہو۔

شعر 4

انساں ہے شمع جس کی، محفل وہی ہے تیری؟
میں جس طرف رواں ہوں، منزل وہی ہے تیری؟

معانیالفاظ
چراغ۔ مُراد انسانشمع
مجلس، اللہ کی معرفت کی جگہمحفل
چلنارواں

تشریح:

انسان جس محفل کی شمع ہے، وہی محفل تیری بھی محفل ہے اور جس منزل کی طرف میں چل رہا ہوں، تُو بھی اسی منزل کی طرف رواں دواں ہے یا تیری منزل بھی وہی ہے۔۔ یعنی ہم دونوں عاشق ہیں اور ہمارا محبوب ایک ہی ہے اور دونوں کی منزلِ مقصود بھی ایک ہی ہے۔ دونوں خدا ہی کے طالب ہیں۔

بند نمبر 2

شعر 5

تُو ڈھُونڈتا ہے جس کو تاروں کی خامشی میں
پوشیدہ ہے وہ شاید غوغائے زندگی میں

معانیالفاظ
خاموشیخامشی
چھُپا ہواپوشیدہ
زندگی کا ہنگامہ / شور و غُل / چہل پہلغوغائے زندگی

تشریح:

اے چاند! جس (محبوبِ حقیقی) کو تُو ستاروں کی خاموشی میں تلاش کر رہا ہے، وہ شاید زندگی کے ہنگاموں میں چھپا ہوا ہے (یعنی محبوبِ حقیقی کا جلوہ اس کائنات میں موجودات کی رونق اور چہل پہل میں پوشیدہ ہے، جو قدرت کے آئنیے کی جلوہ دار ہے)

شعر 6

اِستادہ سرْو میں ہے، سبزے میں سو رہا ہے
بُلبل میں نغمہ زن ہے، خاموش ہے کلی میں

معانیالفاظ
کھڑااِستادہ
ایک لمبا درخت جو سیدھا کھڑا ہوتا ہےسرو
سبزہ زمین پر لیٹا ہوا ہوتا ہے جیسے سو رہا ہوسبزے میں سو رہا ہے
نغمے / گیت گانے والانغمہ زن

تشریح:

وہ سرْو کے درخت اور سبزہ میں سو رہا ہے۔ وہ بلبل میں نغمہ زن ہے اور کلی میں خاموش ہے۔ صاحبِ بصیرت سرٗو جیسے سیدھے کھڑے اور طویل درخت کو، سبزہ کو زمین پر، بلبل کو دِلکش آواز میں چہچہاتے اور کلی کو (جو چپکے سے پھول بن جاتی ہے) دیکھ کر اس خالقِ کائنات کی قدرت کا قائل ہو جاتا ہے اور یہ سب مناظر اس کے لیے معرفتِ حق کا باعث بنتے ہیں۔

شعر 7

آ میں تجھے دِکھاؤں رُخسارِ روشن اُس کا!
نہروں کے آئنے میں، شبنم کی آرسی میں

معانیالفاظ
چمک دار چہرہ / گالرُخسارِ روشن
آرسیشبنم
منہ دیکھنے کا شیشہ، شیشے کی نگینے والی انگُوٹھیآرسی

تشریح:

(اے چاند) تُو میرے پاس آ، کہ میں تجھے اس حُسن (محبوبِ حقیقی) کو جلووں سے روشناس کراؤں۔ دیکھ تو سہی! یہ جلوہ ندیوں کے شفاف پانی میں بھی موجود ہے اور شبنم کے قطروں میں بھی نمایاں ہے۔ (یہ سب مناظرِ قدرت معرفتِ حق ہی کے آئینہ دار ہیں)

شعر 8

صحرا و دشت و در میں، کُہسار میں وہی ہے
انساں کے دل میں، تیرے رُخسار میں وہی ہے

معانیالفاظ
ریگستانصحرا
جنگل اور بیاباندشت و در
گالرُخسار

تشریح:

(حقیقت یہ ہے کہ) کیا صحرا اور وادیاں اور کیا پہاڑ وغیرہ، سب میں وہی ذات جلوہ فرما ہے اور یہ کہ انسان کے دِل میں بھی اور تیرے (چاند کے) رُخسار (چہرے) میں وہی سمایا ہوا ہے۔ کائنات کے تمام مناظر میں اسی ذات کا جلوہ کار فرما ہے۔ انسان کا دِل بظاہر گوشت کا لوتھڑا ہے لیکن وہ کیسے کیسے جذبے اور ولولے پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے، یہ امر بھی اس ذاتِ حق کی معرفت کا آئینہ دار ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ مجھ میں بھی وہی ہے اور تجھ میں بھی وہی ہے۔ یہ ساری کائنات اس کی ہستی پر گواہی دے رہی ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ ہوتا۔

اِس نظم میں بنیادی تصور حُسن (ذاتِ حق) ہے جسے اقبالؔ نے بڑے خوبصورت انداز میں چاند کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

تبصرہ

یہ کلام کائنات کے تمام مظاہر میں ایک ہی قادرِ مطلق کے حُسن اور جلوے کو دیکھنے کی صوفیانہ بصیرت کا آئینہ دار ہے۔ چاند، تارے، صحرا، کہسار اور انسان کا دل سب اُسی ایک ذاتِ واحد کی کاریگری کے مظہر ہیں۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *