Skip to content

بالِ جبریل 134: جاوید کے نام

تعارف

نظم ”جاوید کے نام“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کی ایک فکری اور بصیرت افروز نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید کے توسط سے نئی نسل کو خودی، بلند کرداری اور پاکیزہ اخلاق کی تلقین فرمائی ہے۔ یہ کلام محض روایتی پند و نصائح نہیں بلکہ نوجوانوں کی اخلاقی و فکری تربیت کا ایک جامع منشور ہے۔

اقبالؔ اس نظم میں واضح کرتے ہیں کہ انسانی ارتقا اور قوموں کے وقار کا راز ”خودی“ کے باطنی سوز میں پوشیدہ ہے۔ وہ نوجوانوں کو پست عناصر (زاغ) کی صحبت سے بچنے، شاہین جیسی بلند پروازی اپنانے، دورِ جدید کے بے حیا ماحول میں اپنی جوانی کو بے داغ رکھنے اور فرسودہ خانقاہی جمود سے نکل کر آزاد اور شگفتہ فکر پیدا کرنے کا پیغام دیتے ہیں۔

جاوید سے خطاب کے پس منظر اور مختلف مجموعہ ہائے کلام میں نوجوانوں کے لیے علامہ کے کلام پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں علامہ اقبال نے اپنے فرزند جاوید کو حقائق و معارف سے بھی آگاہ کیا ہے اور نصائح (نصیحتیں) بھی کی ہیں اور دعائیں بھی دی ہیں۔ چونکہ مرحوم کو اپنے چھوٹے بیٹے سے نسبتاً زیادہ محبت تھی اِس لیے اُس کی ولادت کے بعد جس قدر کتابیں ان کے قلم سے نکلیں یعنی جاوید نامہ، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز؛ ان چاروں کتابوں میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔

زبورِعجم جاوید کی ولادت سے ایک سال پہلے شائع ہوئی تھی۔ اس لیے وہ اس کے نام یا ذکر سے خالی ہے۔ جاوید نامہ پہلی تصنیف ہے جو جاوید کے زندگی میں شائع ہوئی۔ جاوید نامہ کے بعد بالِ جبریل شائع ہوئی اور اس میں اقبالؔ نے دو نظمیں اپنے بیٹے کے نام لکھی ہیں۔

ضربِ کلیم میں جاوید سے خطاب کرکے تین نظمیں لکھی ہیں۔ ان نظموں میں بھی جاوید کے پردہ میں قوم کے نوجوانوں سے خطاب کیا گیا ہے۔

ارمغانِ حجاز میں دو رباعیوں میں جاوید کا تذکرہ ہے اور ایک رباعی میں سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے اس کے لیے دعا کی ہے۔ اس کا دوسرا شعر اس جگہ درج کرتا ہوں:-

؎ ہمیں یک آرزو دام کہ جاوید
زعشق تو بگیرد رنگ و بوئے

ترجمہ: اب میری صرف یہی ایک آرزو ہے؛ کہ جاوید کو آپ ﷺ کے عشق کی چاشنی نصیب ہو۔
(ارمغانِ حجاز: حضورِ رسالت)

اس رباعی سے ناظرین کو یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اقبالؔ اپنے پیارے بیٹے کو عشقِ رسول ﷺ سے سرشار دیکھنا چاہتے تھے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بالِ جبریل

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ
خودی کے سوز سے روشن ہیں اُمتوں کے چراغ

معانیالفاظ
ساز و سامانساز
ہمیشہ کی زندگیعُمرِ جاوداں
نشانسُراغ
تپش، جوش و خروش، ولولہ، سوز و گُدازسوز
مُراد قوموں کی ترقی اور عروجاُمّتوں کے چراغ

تشریح:

اِس شعر میں سازِ خودی اور سوزِ خودی، یہ دو ترکیبیں بہت غور کے لائق ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ اقبالؔ نے اِن دو لفظوں کو اپنی تصانیف میں بکثرت استعمال کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ لفظ کثیر المعانی ہیں۔

سازؔ کے معنی ہیں ساز و سامان، اسبابِ خانہ جنگی، اسلحہ، سامانِ جنگ، آلات و موسیقی مطابقت موافقت ہم ؔآہنگی، ضیافت، زادِ راہ، عقل و خِرد۔

سوزؔ کے معنی ہیں جلن، آگ، حرارت، گرمی، محبت، عشق، جوش و خروش، ولولہ، سوز و گداز، تاثیر یا کیفیات، مرثیہ۔

سوزؔ و سازؔ کے معنی ہیں عشق و محبت کی کیفیات۔

یہاں خودی کے ساز سے مراد ہے خودی کی ایسی تربیت کہ وہ مرتبۂ کمال تک پہنچ جائے۔ کہتے ہیں کہ اے جاوید! اگر تُو حیاتِ ابدی (ہمیشہ قائم رہنے والی زندگی) کا آرزو مند ہے تو خودی کی صحیح (اسلامی طریق پر) تربیت کر۔ اقبالؔ کا مسلک یہ ہے کہ خودی اگر پختہ ہوجائے تو ابدی زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔

؏ خودی چون پختہ گردد لازوال است
ترجمہ: خودی جب پختہ ہوجائے تو ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
(زبورِ عجم: گلشن راز جدید: سوال ہشتم)

؎ ہو اگر خود نگر و خود گر و خودگیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تُو موت سے بھی مر نہ سکے

(ضربِ کلیم: حیاتِ جاوید)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ خودی کے ساز سے خودی کی پختگی مراد ہے اور خودی کے سوز سے اس کی وہ کیفیت مراد ہے جو عشق کے بعد اس پر طاری ہوتی ہے۔ جب تک خودی میں رنگِ عشق پیدا نہ ہو تو کوئی فرد دنیا میں ترقی نہیں کرسکتا اور اُمت افراد ہی کے مجموعہ کا دوسرا نام ہے یعنی اگر کوئی قوم ترقی کی آرزومند ہو تو لازمی ہے کہ اُمت کے افراد میں عشق کا جذبہ کار فرما ہو یعنی ہر فرد کفن بردوش میدان میں آجائے۔ خودی ہی افراد کو جاودانی بناتی ہے اور خودی ہی قوموں کو اوج و عروج تک پہنچاتی ہے۔

شعر 2

یہ ایک بات کہ آدم ہے صاحبِ مقصود
ہزار گُونہ فروغ و ہزار گُونہ فراغ!

معانیالفاظ
ارادہ کیا ہوا، غرض، مُدعا (مقصد)مقصود
آدمی ایک اہم مقصد لے کر آیا ہے، ایسا شخص جس نے ارادہ کیا ہو، جس کا کوئی مقصد ہوصاحبِ مقصود
ہزاروں قسم کی رونق و روشنی، ترقی (فروغ: روشنی، نور)ہزار گُونہ فروغ
سکون اور اطمینان، آرامفراغ

تشریح:

یہ بات کہ انسان اس دنیا میں ایک عظیم مقصد لے کر آیا ہے، ہزار قسم کی ترقیوں اور ہزار قسم کے سکون و اطمینان کا سامان کرتی ہے (یعنی عظیم مقصد اس کے پیشِ نظر ہو اور اس کے حصول کے لیے وہ جہد و عمل کرتا ر ہے تو بلند مرتبگی و عظمت اور دائمی زندگی اس کا مقدر بن جاتی ہے)

انسان کی قدر و قیمت اس کے لباس یا دولت یا ساز و سامان یا منصب پر موقوف نہیں۔ دنیا میں ہزاروں آدمی بڑے بڑے جاگیردار، دولت مند اور عہدہ دار گزرے ہیں، لیکن انہیں کوئی نہیں جانتا، اِس لیے کہ ان کے سامنے کوئی مقصد نہ تھا۔ اس کے برعکس انسان خواہ کتنی ہی غربت یا مفلسی یا گمنامی کی حالت میں زندگی بسر کردے— نہ اس کے پاس کوٹھی ہو نہ سکوٹر ہو— نہ ٹیلیفون ہو، نہ عہدہ ہو، نہ جاگیر ہو— لیکن اگر وہ اس حقیقتِ کبریٰ کو مدِ نظر رکھے کہ میں ”صاحبِ مقصود“ یعنی مجھ کو اللہ تعالی نے اس لیے پیدا کیا ہے کہ میں اپنی خودی کی تربیت کرکے خلافتِ الٰہیہ کیا مستحق بن جاؤں، تو یہ تصور اس کو فروغ (ترقی) بھی عطا کرسکتا ہے اور فراغ (طمانیت) بھی۔ میرے پاس اگرچہ کوئی ساز و سامان نہیں، نہ جاگیر حاصل ہے، نہ دولت، نہ عہدہ لیکن میرے سامنے ایک مقصد ہے اور اسی نے مجھے تمام سامانوں سے بے نیاز کر رکھا ہے۔ اے میرے پیارے بیٹے! تجھے بھی کوئی نصب العین تجویز کرلینا چاہیے اور تیری طرح ہر مسلمان نونہال کے لیے شایان یہی ہے۔

شعر 3

ہوئی نہ زاغ میں پیدا بلند پروازی
خراب کر گئی شاہیں بچے کو صُحبتِ زاغ

معانیالفاظ
کوّازاغ
اُونچی اُڑانبلند پروازی
بِگاڑناخراب کرنا
شاہین کا بچّہ۔ مُراد مُسلِمشاہیں بچہ
کوّے کی صحبتصُحبتِ زاغ

تشریح:

اے جاوید! بدکاروں اور کمینہ خصلت لوگوں کی صحبت سے ہمیشہ اجتناب کرنا کیونکہ جن لوگوں کی سرشت میں خباثت ہوتی ہے وہ کبھی نیکی اور پاکیزگی اختیار نہیں کرسکتے۔ چنانچہ اس کی مثال درکار ہو تو زاغ (کوا) اور شاہین کے بچہ کی صحبت پر غور کرسکتے ہو۔ اگر کسی شاہین بچہ کو زاغوں کی صحبت میں رکھا جائے تو کسی زاغؔ میں شاہین کی سی بلند پروازی تو پیدا نہیں ہوسکتی۔ یاں یہ ضرور ہوگا کہ اس شاہین بچہ میں کوّے کی دو ایک بری عادتیں ضرور پیدا ہوجائیں۔

؎ وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی

(بالِ جبریل)

شعر 4

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

معانیالفاظ
شرمحیا
بُرائیوں سے پاکبے داغ

تشریح:

اے فرزند! مغربی طرزِ تعلیم اور عریانی پسند ادب کی عام اشاعت اور مغربی تہذیب کے فروغ کی بدولت دنیا والوں کی آنکھ میں حیا باقی نہیں رہی ہے بلکہ بے حیائی اور عریانی عام ہوگئی ہے اور رسول اکرم ﷺ کے ارشاد کے مطابق حیا ایمان کا ایک جزو ہے۔ اس لیے میں اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تجھے ان ”کج کلاہوں“ اور ”کافر نگاہوں“ کی دستبرد سے محفوظ رکھے (یعنی تیری جوانی کو برائی کے ہر دامن سے پاک رکھے، تُو نیک اور صالح جوان بنے— اور یہی دعا مِلت کے ہر نونہال کے لیے ہے)۔

نوٹ: میں (پروفیسر یوسف سلیم چشتی) نے یہ دونوں لفظ (”کج کلاہاں“ اور ”کافر نگاہاں“) علامہ اقبال کی اِس رباعی سے مستعار لیے ہیں، جس میں اُنہوں نے نوجوان قوم کے حق میں دعا کی ہے۔

یکے بنگر فرنگی کج کلاہاں
تو گوئی آفتاب مانندِ ماہاں
جوانِ سادۂ من گرم خون است
نگہدارش ازیں کافر نگاہاں

ترجمہ: ذرا کج کلاہ فرنگی حسینوں کو دیکھیں؛
گویا چندے آفتاب چندے ماہتاب ہیں۔
میرا سادہ دِل نوجوان گرم خون ہے؛
اِن کافر نگاہوں سے اس کی حفاظت فرمائیے۔
(ارمغانِ حجاز: حضورِ رسالت)

شعر 5

ٹھہَر سکا نہ کسی خانقاہ میں اقبالؔ
کہ ہے ظریف و خوش اندیشہ و شگُفتہ دماغ

معانیالفاظ
زندہ دِل، خوش طبع، زیرکظریف
اچھی سعچ رکھنے والا، خوش فکرخوش اندیشہ
تر و تازہ طبیعت والا، صاحبِ ذوقشگُفتہ دِماغ

تشریح:

آج کل خودی کی تربیت خانقاہوں میں نہیں ہوسکتی کیونکہ ان میں (مراد ہے خانقاہوں میں) ذہنی قوتوں کی تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہے اور ذہنی تربیت تکمیلِ خودی کے لیے شرطِ اولیں ہے۔

اقبالؔ کہتے ہیں کہ میں چونکہ بفضلِ خدا ظریف و زیرک ذہن و طباع اور دولتِ فکر کا مالک ہوں، اس لیے خانقاہی رنگ سے محفوظ رہا۔

؎ یہ معاملے ہیں نازک، جو تری رضا ہو تُو کر
کہ مجھے تو خوش نہ آیا یہ طریقِ خانقاہی

(بالِ جبریل)

تبصرہ

یہ کلام نئی نسل کے لیے فکری بلندی اور پاکیزہ جوانی کی ضمانت ہے۔ علامہ اقبال نے اِس مختصر نظم میں حیات کے بنیادی رموز سمیٹ دیے ہیں: خودی کی حفاظت، پست عناصر کی صحبت سے گریز، دورِ جدید کی اخلاقی آلودگی کے مقابلے میں عِفت و حیا کی پاسداری، اور روایتی بے عمل مسلکوں کے مقابلے میں زندہ اور شگفتہ فکری بیداری۔ اقبالؔ نے واضح کیا کہ ایک باوقار نوجوان کی اصل پہچان اُس کا بے داغ کردار اور بلند پروازی ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *