فہرست
تعارف
ظم ”فقر و راہبی“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کی ایک فکر انگیز تقابلی نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے عیسائیت کی رہبانیت (ترکِ دنیا) اور اسلام کے جہادی و تخلیقی فقر کے بنیادی فرق کو واضح کیا ہے۔ اقبالؔ کے نزدیک فقر گوشہ نشینی یا فرار کا نام نہیں بلکہ حوادثِ زمانہ سے نبرد آزما ہونے کا نام ہے۔
اِس کلام میں علامہ بتاتے ہیں کہ راہب کی سکون پرستی کے برعکس مردِ مومن کا سفینہ ہمیشہ تلاطم خیز موجوں میں محوِ سفر رہتا ہے۔ سچا فقر ”روح“ اور ”بدن“ دونوں کے باہمی ربط سے خودی کی پوشیدہ قوتوں کو اجاگر کرتا ہے اور کائنات کے حقائق کو پرکھنے والا ”صیرفی“ ہے۔ جب سے مسلمانوں نے اس انقلابی فقر کو گنوایا ہے، اُن کے ہاتھ سے حضرت سلمان فارسیؓ کی درویشی اور حضرت سلیمانؑ کی جہاں بانی دونوں رخصت ہو گئیں۔
تشریح
کچھ اور چیز ہے شاید تری مسلمانی
تری نگاہ میں ہے ایک، فقر و رُہبانی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| لغوی معنےٰ تنگ دست، لیکن اصطلاح میں وہ جو مسلمان کو محبوبِ حقیقی سے مِلا کر دُنیا کی ہر شے سے بے نیاز کر دیتا ہے | فقر |
| دُنیا کو ترک کرنا | رُہبانی |
تشریح:
اے مخاطب! اگر تُو فقر اور رپبانیّت (ترکِ دُنیا) کو ایک ہی بات سمجھتا ہے اور عیسائیوں کے پادریوں اور ہندوؤں کے جوگیوں یوگیوں کی طرح مسلمان فقیر کو بھی یہی سمجھتا ہے کہ وہ تارک الدنیا (دُنیا ترک کرنے والا) ہے، تو پھر تُو مسلماں نہیں ہے، بلکہ کسی اور مذہب کا پیرو ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے فقر اور رہبانیّت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
رہبانیّت یعنی ترکِ دُنیا کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سلسلہ ابتدائی دور کے عیسائیوں نے شروع کِیا اور اللہ نے قرآن مجید میں صاف صاف واضح کر دیا کہ ترکِ دُنیا عیسائیوں کی اپنی نکالی ہوئی بات ہے لہذا اسے اسلامی فقر اور درویشی کا ہم معنی قرار دینا سراسر غلط اور اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔
وَّرَهْبَانِيَّةً ِۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْـهِـمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّـٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِـهَا ۖ
ترجمہ: اُنہوں نے رہبانیت خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ ہمارا مطالبہ تو بس اللہ کی رضا کی طلب تھی، مگر اُنہوں نے اس رہبانیت کو بھی ویسا نہ نبھایا جیسا اس کا حق تھا۔
(القرآن:سورۃ الحدید: 27)
سکُوں پرستیِ راہب سے فقر ہے بیزار
فقیر کا ہے سفینہ ہمیشہ طوفانی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| سکون سے محبت، آرام طلبی | سکُوں پرستی |
| مراد درویش، خدا مست | فقیر |
| کشتی | سفینہ |
| جو طوفان میں پھنسا ہوا ہو | طوفانی |
تشریح:
سچا درویش ہندوؤں اور عیسائیوں کے درویشوں کی طرح آرام طلب، گوشہ گیر اور تارک الدنیا نہیں ہوتا بلکہ اس کی زندگی کی کشتی ہمیشہ طوفانوں سے کھیلی رہتی ہے۔ وہ ہمیشہ باطل سے ٹکراتا ہے، قوم کو بناتا ہے۔ افراد کو سلجھاتا ہے۔ دنیا پرست اور نفس پرست بھی نہیں ہوتا، وہ اس دنیا کا باشندہ ہوتا ہے جو آخرت کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنتی (چنانچہ سلطان ٹیپو شہیدؒ جب تک زندہ رہا، کافروں سے مسلسل لڑتا رہا، یعنی اپنی اسلامی خودی کا جلوہ دُنیا کو دِکھاتا رہا)۔
پسند رُوح و بدن کی ہے وا نمود اس کو
کہ ہے نہایتِ مومن خودی کی عُریانی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| جسم | بدن |
| دِکھانا، ظاہر کرنا — مراد نمائش | وا نُمُود |
| مومن کی انتہا | نہایتِ مومن |
| ننگا پن | عُریانی |
تشریح:
غیر مسلم درویش بدن کو مارتے ہیں۔ مسلمان درویش بدن کو بھی قائم رکھتا ہے اور روح کی پرورش بھی کرتا ہے۔ وہ غیر مسلم درویشوں کی طرح بدن کی جائز ضروریات نہیں بھولتا۔ خودی بے نقاب صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب بدن اور روح دونوں کی ساتھ ساتھ پرورش ہو۔ چنانچہ فقیر (راہبوں کے اصولِ حیات کے خلاف) ہمیشہ اپنی روح اور اپنے بدن کی میدانِ جنگ میں نمائش کرتا رہتا ہے یعنی وہ راہبوں کی طرح جنگلوں میں خلوت کی زندگی بسر نہیں کرتا۔ فقیر روح و بدن کی نمود پر مجبور ہے۔ بقول اقبالؔ:-
؎ یہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار
(بالِ جبریل: ساقی نامہ)
نوٹ: تہذیبِ مغرب کا طغرائے امتیاز یہ ہے کہ وہ انسان کے جسم کو عُریانی پر مائل کرتی ہے اور تہذیبِ اسلام یعنی فقر کی خصوصیّت یہ ہے کہ وہ انسان کی روح کو عریانی کی طرف راغب کرتی ہے۔ عریانی کا مفہوم یہ ہے کہ فقر، خودی کے محاسن کی نمائش کرتا ہے، جس طرح کفر، جسم کے محاسن کی نمائش کرتا ہے۔
الغرض مومن کے روحانی کمالات کی انتہا یہ ہے کہ اُس کی خودی پوری قوت کے ساتھ منظرِ عام پر آجائے اور وہ منظرِ عام عموماً میدانِ جہاد ہی ہوتا ہے۔
وجود صیرفیِ کائنات ہے اُس کا
اُسے خبر ہے، یہ باقی ہے اور وہ فانی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| ہستی | وجود |
| کائنات کے کھرے کھوٹے کو پرکھنے والا | صیر فیِ کائنات |
| دائم، ہمیشہ رہنے والا، غیر فانی، فانی کی ضد | باقی |
| مٹنے اور نابود ہونے والا، فنا ہو جانے والا | فانی |
تشریح:
مسلمان فقیر کائنات کا ”صیر فی“ ہوتا ہے۔ جس طرح صرّاف (سونا، چاندی، روپیہ پیسہ پرکھنے والا) سونے کو کسوٹی پر لگا کر بتا دیتا ہے کہ یہ کھوٹا ہے یا کھرا ہے، اسی طرح مسلمان فقیر کائنات اور اس کی پر شے کو جانتا ہے کہ یہ کھوٹی ہے، یہ کھری ہے، یہ حق ہے، یہ باطل ہے، یہ باقی رہنے والی ہے، یہ فنا ہو جانے والی ہے۔ جب کہ غیر مسلم درویش اِس بارے میں اندھا ہے۔ اُس نے جب کائنات ہی ترک کر دی تو اِس کے کھوٹے کھرے کو کیا سمجھے گا۔ اُسے فانی و باقی کی کیا خبر ہو گی۔
؎ قُدرت کے مقاصد کا عیار اِس کے ارادے
دُنیا میں بھی میزان، قیامت میں بھی میزان
(ضربِ کلیم: مردِ مُسلمان)
اُسی سے پوچھ کہ پیشِ نگاہ ہے جو کچھ
جہاں ہے یا کہ فقط رنگ و بو کی طُغیانی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| نظر کے سامنے | پیشِ نگاہ |
| صرف، محض، تنہا، بس | فقط |
| رنگ اور خوشبو کا طوفان۔ مراد اس فانی دُنیا کی عارضی خوبصورتی کی کثرت | رنگ و بو کی طُغیانی |
تشریح:
بہتر یہی ہے کہ اپنے اطمینانِ قلب کی خاطر تُو کسی مردِ مومن سے یہ دریافت کر لے کہ جو کُچھ تُو نظارہ کر رہا ہے آیا اسے ثبات ہے یا یہ محض ایک رنگ و بو کا طوفان ہے جو چڑھ کر اُتر جائے گا۔ یعنی حسن و جمال، دولت، محلات، باغات، خطابات اور جاگیریں یہ سب محض فانی اور عارضی چیزیں ہیں، بلکہ فریبِ نظر ہیں۔ ان میں سے کسی کو ثبات نہیں۔ درویش کی نظروں میں دنیا کی کسی شے کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔ اصل حقیقت اُس کی اپنی ہے، اُس کے خدا کی ہے۔ وہ سب کو ٹھُکرا کر صرف خدا کی رضا پوری کرنے میں لگ جاتا ہے اور اپنے فکر و عمل سے ایسی دنیا بناتا ہے، جو دنیا ہوتے ہوئے دین بن جاتی ہے۔
یہ فقر مردِ مسلماں نے کھو دیا جب سے
رہی نہ دولتِ سلمانی و سلیمانی

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| حضرت سلمان فارسیؓ کی دولت — مراد درویشی کی دولت | دولتِ سلمانی |
| حضرت سلیمان علیہ السلام کی دولت، بادشاہی، حکمرانی، شان و شوکت، سلطنت | دولتِ سلیمانی |
تشریح:
جب سے مسلمانوں میں وہ فقر غائب ہوا جس کی خصوصیات مذکورہ بالا اشعار میں بیان کی گئی ہیں اور مسلمانوں نے غیر مسلموں کا سا فقر اور پیشہ ور فقر بلکہ گدائی اختیار کر لی، اُس وقت سے مسلمان دنیا میں بالکل ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔ اُن میں نہ تو سلمانی شان رہی ہے اور نہ سلیمانی شکوہ رہا یعنی نہ تزکیہ، تقویٰ، پرہیزگاری اور درویشانہ صفات رہیں اور نہ دنیاوی جاہ و جلال، جہاں بانی اور حکمرانی باقی رہی۔
”دولتِ سلمانی“ سے مراد ہے حضرت سلمان فارسیؓ کی سی پاکیزہ اسلامی سیرت یعنی تقویٰ اور ”دولتِ سلیمانی“ سے مراد ہے حضرت سلیمان علیہ السلام کی سی سلطنت اور حکومت۔
تبصرہ
یہ نظم رہبانیت کے جمود کے مقابلے میں قرآنی فقر کے متحرک فلسفے کا جامع بیان ہے۔ اقبالؔ نے واضح کِیا ہے کہ دُنیا سے منہ موڑ لینا بزدلی ہے، جبکہ سچا فقر دنیاوی ذمہ داریوں کے درمیان رہ کر باطن کو پاکیزہ رکھنا ہے۔ مومن جب اس فقر کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ روحانی وقار (دولتِ سلمانی) اور سیاسی اقتدار (دولتِ سلیمانی) دونوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
حوالہ جات
- شرح ضربِ کلیم از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح ضربِ کلیم از اسرار زیدی
- شرح ضربِ کلیم از عارف بٹالوی
- مطالبِ ضربِ کلیم از مولانا غلام رسول مہر







