فہرست
تعارف
نظم ”دین و سیاست“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا وہ تاریخی اور فکر انگیز کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے عیسائی دنیا کے نظامِ رہبانیت سے جنم لینے والے سیکولرازم کی تاریخی جڑوں اور دین و سیاست کی تفریق کے تباہ کن نتائج کا محاکمہ کیا ہے۔
اقبالؔ واضح کرتے ہیں کہ کلیسا کی بنیاد چونکہ رہبانیت اور ترکِ دنیا پر تھی، اس لیے اس عاجزانہ فقیری میں حکمرانی کی وُسعت نہ سما سکی اور سلطنت و پاپائیت کے مابین ازلی تنازع پیدا ہوا۔ جب سیاست نے مذہب کی پابندی کا ’طوق‘ اُتار پھینکا تو دین سے خالی ہونے کے بعد حکمرانی اور وزارت محض اندھی ہوَس کا شکار ہو گئی۔ علامہ اِس دوئی کو جدید تہذیب کا اندھا پن قرار دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبیِ آخر الزماں ﷺ نے دین اور سیاست کی اِس تفریق کو مٹا دیا۔ اسلام دین اور حکومت، دونوں کا جامع ہے، چنانچہ آپ ﷺ بشیر بھی ہیں اور نذیر بھی، یعنی رسول بھی ہیں اور صاحبِ امر بھی۔ بشیری سے مُراد دین ہے اور نذیری سے مُراد سیاست۔ اسی طرح آپ ﷺ نے درویشی و جہانبانی (جنیدی و اردشیری) کو ایک ہی لڑی میں پرو کر انسانیت کو تحفظ بخشا۔
دین اور سیاست کی تفریق کے تباہ کن مغربی نتائج اور اسلام کے ہمہ گیر نظامِ حیات پر مولانا غلام رسول مہر تحریر کرتے ہیں:-
مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بالِ جبریل
تشریح
کلیِسا کی بُنیاد رُہبانیت تھی
سماتی کہاں اس فقیری میں مِیری
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مسیحی کلیسا، عیسائیت | کلیسا |
| ترکِ دُنیا کا مسلک | رہبانیّت |
| جگہ پانا، گھر کرنا | سمانا |
| سرداری، بادشاہی، حکمرانی | میری |
تشریح:
اقبالؔ نے اس نظم میں یہ وضاحت کی ہے کہ اسلام نے سیاست اور دین کو مربوط کیا ہے، جبکہ عیسائیت نے مذہب اور سیاست کے مابین جو ربط ہونا چاہیے، اُس کو ختم کر دیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ خامی تھی کہ کلیسا نے اپنے عقائد کی بُنیاد ترکِ دُنیا (رہبانیّت) پر رکھی۔ مقصود یہ تھا کہ دُنیاداری اور مذہب کے جملہ معاملات کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔ اس صورتِ حال میں حکومت (سیاست) کی، کہ جو سراسر دُنیا داری ہے، کس طرح گنجائش نکل سکتی تھی اور دین و سیاست کی یکجائی کے امکانات کا عمل دخل کس طرح سے ہو سکتا تھا؟
واضح رہے کہ رومی کلیسا نے پوپ سے لے کر چھوٹے پادری تک، سب کے لیے تجرد (ترکِ دُنیا) لازمی قرار دیا ہے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی خادمِ دینِ عیسوی بننا چاہے تو وہ شادی نہیں کر سکتا، کیونکہ اُن کے مطابق یہ کام دُنیا داروں کا ہے نہ کہ دینداروں کا۔ پادریوں کے علاوہ راہبوں اور راہبات کے لیے بھی یہ تجرد (کنوارہ پن) لازمی ہے۔ راہب کے معنی ہی تارک الدُّنیا اور تارک الذاتِ دُنیوی۔
اقبالؔ کی تعبیر کا استدلال یہ ہے کہ جو شخص گھر بار، نکاح اور معاشرتی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جائے، وہ مملکت کا نظم کیسے چلائے گا؟ اس طرح دین کے نام پر دنیا کے بنیادی تعلقات ہی کٹ گئے، اور سیاست دین کے دائرے سے باہر جا پڑی۔
یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کلیسا تو تاریخ میں بڑی سیاسی طاقت کا مالک رہا، پھر دین اور سیاست جدا کیسے ہوئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کلیسا کو اگرچہ سیاسی اقتدار حاصل رہا، مگر وہ دین کے اپنے اصولوں سے نہیں بلکہ دنیوی طریقوں سے چلایا گیا۔ عیسائیت کے پاس ریاست چلانے کا اپنا الہامی قانونی نظام نہیں تھا، اس لیے رومی قانون اور بادشاہوں کے طریقے مستعار لیے گئے۔ ایک طرف دنیا کو کمتر اور ترکِ دنیا کو اعلیٰ ٹھہرایا گیا، اور دوسری طرف اسی دنیا کا اقتدار بھی سنبھالا گیا۔ ”جو قیصر کا ہے قیصر کو دو اور جو خدا کا ہے خدا کو“ کے قول کو بھی عام طور پر روحانی اور دنیوی اختیار کی تقسیم کے طور پر سمجھا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دین اور سیاست کا ربط اصلاً قائم نہ ہو سکا، صدیوں تک پوپ اور بادشاہوں کے درمیان اختیار کی کشمکش چلتی رہی، اور آخرکار اسی کشمکش اور کلیسا کے اقتدار کے غلط استعمال کے ردِعمل میں یورپ میں دونوں (دین اور سیاست) جُدا ہو گئے۔
نوٹ: قرآنِ مجید کی رو سے جناب مسیح علیہ السلام نے اپنی اُمّت کو رہبانیّت (ترکِ دُنیا) کی تعلیم نہیں دی تھی، بلکہ یہ طریقہ اُن کے بعد ان کے پیروکاروں نے خود دین میں داخل کر دیا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہوا ہے کہ:-
وَّرَهْبَانِيَّةً ِۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْـهِـمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّـٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِـهَا ۖ
ترجمہ: اُنہوں نے رہبانیت خود ہی ایجاد کر لی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔ ہمارا مطالبہ تو بس اللہ کی رضا کی طلب تھی، مگر انہوں نے اس رہبانیت کو بھی ویسا نہ نبھایا جیسا اس کا حق تھا۔
(القرآن:سورۃ الحدید: 27)
”کلیسا“ یونانی زبان کے مشہور لفظ ایکلیزیا (Ecclesia) کا معرب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلیسا بھی مستعمل ہے۔ کلیسا کے لغوی معنی ہیں مجلسِ عوام۔ مسیحی ادبیات میں اِس سے مراد ہے عبادت گاہ یا مذہبی تنظیم یا ادارہ برائے تبلیغ و اشاعتِ مذہبِ عیسوی۔ نیز پادریوں کی وہ جماعت جو اِس ادارہ کا انتظام کرے اور مذہب کے اصولوں کی حفاظت کرے اور مذہبی رسوم و روایات کو زندہ رکھے۔ اقبالؔ نے اس نظم میں کلیسا کو نصاریٰ کی مذہبی تعلیم کے معنی میں بیان کیا ہے۔”پیرِ کلیسا“ سے پوپ یا بابائے روم مراد ہے؛ جو رومن کیتھولک (Roman Catholic) فرقہ کے عیسائیوں کا مذہبی پیشوا اور اُن کے عقیدہ کے مطابق یسوع مسیح کا سچا جانشین ہے، جو دوسروں کے گناہ معاف کر سکتا ہے اور خود گناہ سے محفوظ ہے۔
خصومت تھی سُلطانی و راہبی میں
کہ وہ سربلندی ہے یہ سربزیری
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| دشمنی، مخالفت | خصومت |
| سر اُونچا رکھنا | سر بلندی |
| فظی معنی سر نیچے رکھنا، سر جھُکائے رکھنے کی حالت، انتہائی پستی، عاجزی | سربزیری |
تشریح:
سُلطانی و بادشاہت اور رہبانیّت (ترکِ دُنیا) کے مابین تو ازل ہی سے شدید اختلافات چلے آ رہے ہیں، اس لیے کہ حاکمیّت کا تصوّر تو انسان کی بلند مرتبت اور سربلندی کا حامل ہے۔ جب کہ ترکِ دُنیا کا معاملہ انسان کو پستی کی طرف دیکھنے والا اور غیر فطری ہے۔ سُلطانی حکومت کا نام ہے اور راہبی عاجزی اور مسکینی، بلکہ یہ غلامی کی دوسری شکل ہے۔
سربزیری: یعنی ترکِ دُنیا کر کے گِرجوں میں سر جھُکائے بیٹھے رہنا۔
سیاست نے مذہب سے پِیچھا چھُٹرایا
چلی کچھ نہ پِیرِ کلیسا کی پیری
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| خود کو بچایا، خود کو کسی چیز سے نجات دِلائی | پیچھا چھُڑایا |
| گرجے کا راہب، مذہبی رہنما، پوپ، پاپائے روم | پیرِ کلیسا |
| مذہبی رہنمائی کا کام آنا، بس چلنا | پیری چلنا |
تشریح:
اِس باہمی دُشمنی کے نتیجے میں سیاست مذہب سے الگ ہو گئی۔ پادری یا پوپ (عیسائیوں کے مذہبی رہنما) نے اِس سلسلے میں بڑی کوشش کی کہ ایسا نہ ہو، لیکن اُس کا کوئی بس نہیں چل سکا اور یوں پادریوں کی اجارہ داری بھی ایک طرح سے ختم ہو کر رہ گئی۔ واضح ہو کہ سولہویں صدی عیسوی میں میکاولی نے سیاست کو مذہب کی گرِفت سے آزاد کر دیا تھا۔ اگرچہ پوپ نے اس نظریہ کی بہت مخالفت کی لیکن رفتہ رفتہ تمام یورپین حکومتیں اِس کے اثر سے آزاد ہو گئیں۔ چنانچہ انگلستان میں شاہ ہنری ہشتم نے پوپ کے خلاف عَلمِ بغاوت بلند کیا تھا۔
ہُوئی دِین و دولت میں جس دم جُدائی
ہوَس کی امیریِ، ہوَس کی وزیری
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| حرس، لالچ | ہَوَس |
| امیر ہونا، حکمرانی | امیری |
| وزیر ہونا، حکمرانی | وزیری |
تشریح:
کہنا یہ ہے کہ جب دین و سیاست کے مابین جو رشتہ تھا وہ ٹوٹ گیا تو سربراہانِ مملکت اور اُن کے وزیر و مشیر بے شک برسرِ اقتدار تو رہے تاہم محض حرص و ہوَس کے بندے بن کر رہ گئے۔ گویا وہ دین سے علیحدگی کے سبب ہر طرح کی اخلاقی پابندیوں سے آزاد ہو گئے اور نفسِ امارہ کے پیرو ہو گئے۔ اسی بات کو اقبالؔ نے ”ہوَس کی امیری“ سے تعبیر کیا ہے۔
دُوئی ملک و دِیں کے لیے نامرادی
دوئی چشمِ تہذیب کی نابصیری
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| دو ہونا، دو کو ماننا | دُوئی |
| نامراد رہنا، ناکامی، مایوسی، محرومی | نامُرادی |
| تہذیب کی آنکھ | چشمِ تہذیب |
| بصیرت سے خالی ہونا، اندھی آنکھ، نابینا ہونا | نابصیری |
تشریح:
دین اور سیاست یا مذہب اور حکومت کے ایک دوسرے سے بے تعلق ہو جانے کے باعث نامُرادی ان دونوں کا مقدّر بن گئی ۔ اِس دو رُخ اور متضاد رویّے کے سبب تہذیب اور کلچر بے بصر (اندھے) ہو کر رہ گئے، اور دونوں میں نیکی اور بدی کا تصوّر بے معنی ہو کر رہ گیا۔ یوں آج کی تہذیب نیک و بد میں تمیز سے بے نیاز ہو گئی۔ اقبالؔ کی رائے میں ”دوئی“ یعنی دین اور سیاست میں تفریق پیدا کرنا دونوں کے لیے مضر ہے چنانچہ اُنہوں نے اس اثر افریں طریق پر بیان کیا ہے:-
؏ جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
(بالِ جبریل)
لفظ ”دوئی“ کو اقبالؔ نے اس شعر میں اس کے فلسفیانہ مفہوم کے لحاظ سے استعمال کیا ہےاور اس سے ثنویتِ مانی (Manichaean Dualism) مراد لی جاتی ہے۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ تیسرین صدی عیسوی میں ایران میں ایک شخص پیدا ہوا جس کا نام مانی تھا۔ اُس نے مسیحیت اور بعض قدیم مذاہب کے امتزاج سے ایک نیا مذہب پیدا کیا تھا جس کی بنیادی تعلیم یہ تھی کہ کائنات میں دو متضاد طاقتیں کارفرما ہیں؛ خیر و شر یا نور و ظلمت۔ چونکہ مانی نے بھی مسیحیت کی طرح ترکِ دنیا کی تعلیم دی تھی اس لیے ایران، عراق، شام، فلسطین اور ایشائے کوچک کے بہت سے عیسائی اس کے پیرو ہو گئے اور اِن کی وساطت سے دوئی کا یہ عقیدہ کلیسا کے بنیادی عقائد میں داخل ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یورپ میں زندگی کے ہر شعبہ میں تفریق پیدا ہو گئی۔ مثلاً روح جُدا ہے، مادہ جُدا ہے۔ اسی طرح دین جُدا ہے، دنیا جُدا ہے۔ نیز مذہب جُدا ہے، سیاست جُدا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ آدمیوں کے بھی دو طبقے ہو گئے؛ دُنیا دار اور دین دار اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جُدا ہیں۔
یہ اعجاز ہے ایک صحرا نشیں کا
بشیری ہے آئینہ دارِ نذیری!
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| معجزہ | اعجاز |
| لفظی معنی صحرا میں رہنے والا، مراد ہے نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ پاک سے | صحرا نشیں |
| بشارت دینا، لوگوں کو حق راہ پر چلا کر ثواب کی خوشخبری سُنانا | بشیری |
| ظاہر کرنے والا | آئینہ دار |
| لفظی معنی ڈرانا، عذابِ قیامت سے ڈرانا | نذیری |
تشریح:
متذکرہ انتشار کا یہ ردِ عمل تھا کہ پیغمبرِ انقلاب حضور سرورِ کائنات ﷺ نے مبعوث ہونے کے ساتھ جہاں دعوتِ اسلام دی، وہاں معاشرے میں بھی انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے دین اور سیاست کو یکجا کر دیا اور دینی احکام کو ہی حکمرانی کا منشور قرار دیا۔ اس کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ حاکمِ وقت پر لازم ہے کہ وہ فرمانِ الہی کی ہر قیمت پر تعمیل کرے اور دوسروں کو بھی ان کی مکمل اطاعت پر آمادہ کرے۔ اس کا منطقی نتیجہ اس صورت میں نمودار ہوا کہ حاکم اور عام لوگ فطرے طور پر ایک احتسابی عمل کے زیرِ اہتمام زندگی بسر کرنے لگے اور یوں خودبخود بُرائی سے دُور ہوتے چلے گئے۔
اقبالؔ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے دین اور سیاست کی تفریق کو مِٹایا۔ اسلام دین اور حکومت، دونوں کا جامع ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ بشیر بھی ہیں اور نذیر بھی ہیں یعنی رسول بھی ہیں اور صاحبِ امر بھی۔ بشیری سے مُراد ہے دین اور نذیری سے مُراد ہے سیاست۔ یعنی آپ ﷺ دین اور سیاست، دونوں کے جامع ہیں۔
اسی میں حفاظت ہے انسانیت کی
کہ ہوں ایک جُنیّدی و اردشیری
| معانی | الفاظ |
|---|---|
| اشارہ ہے حضرت جنید بغدادیؒ کی طرف۔ مراد ہے بہت بڑی صوفی کی صفت، دین داری، درویشی، فقر | جُنّیدی |
| اشارہ ہے ایران کے ساسانی خاندان کے بانی اردشیر کی طرف۔ مراد شہنشاہی ہے یعنی سیاست، بادشاہت | اردشیری |
تشریح:
اقبالؔ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے احکامِ خداوندی کی روشنی میں یہ بات واضح فرما دی کہ بنی آدم کی فلاح و بہبود اسی میں مضمر ہے کہ دیندار اور دُنیادار یعنی صوفی اور سیاستدان، درویش اور بادشاہ کے امتیاز کو مِٹا دیا جائے اور جو ہمارا بادشاہ ہو وہی ہمارا دینی پیشوا بھی ہو۔ مثلاً فاروقِ اعظمؓ، کہ آپؓ بیک وقت فرماں روا بھی تھے اور رسول اللہ ﷺ کے جانشین بھی تھے۔
”جنیدی“: منسوب بحضرت جنید بغدادیؒ، یہاں اس سے مُراد ہے طبقۂ زہاد یا صوفیہ یا عُلمائے دین۔
”اردشیری“: منسوب بہ شہر اردشیر۔ اردشیر نام ہے بہمن بن اسفندیار کا، اور شیرویہ بن پرویز کے بیٹے کا؛ یہاں اِس سے مُراد ہے اربابِ سیاست۔
تبصرہ
یہ نظم سیکولر (Secular) سیاست اور مذہبی پیشوائیت دونوں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتی ہے۔ علامہ اقبال نے ثابت کیا ہے کہ دین اور ریاست کو جُدا کرنا انسانیت کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے جس نے سیاست کو اخلاقی محاسبے سے محروم کر کے درندگی میں تبدیل کر دیا۔ انسانی تہذیب کی حقیقی بقا اور وقار اسی میں ہے کہ حضرت جنید بغدادیؒ کا تقدس اور اردشیر کی شہنشاہی باہم مدغم ہو کر عدلِ فاروقی کا نمونہ پیش کریں۔
حوالہ جات
- شرح بالِ جبریل از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- شرح بالِ جبریل از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- شرح بالِ جبریل از اسرار زیدی
- شرح بالِ جبریل از پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی






