Skip to content

بانگِ درا 152: مذہب

تعارف

نظم ”مذہب“ علامہ اقبال کے دورِ ثالث کی وہ معرکہ آرا اور بنیادی فکری نظم ہے جس میں اُنہوں نے مغربی وطنی قومیت اور اسلامی بین الاقوامیت کے درمیان جوہری اور اصولی فرق کو بے نقاب کیا ہے۔

اقبالؔ ملتِ اسلامیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنا قیاس اقوامِ مغرب پر نہ کرے، کیونکہ ”قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ“ کی ترکیب اپنی ماہیت میں یکسر منفرد ہے۔ مغربی قوموں کے شیرازے کا انحصار مٹی، جغرافیے، نسل اور زبان پر ہے، جبکہ مسلمانوں کی جمعیت اور اجتماعی وحدت صرف اور صرف قوتِ مذہب اور کلمۂ توحید کے رشتے سے قائم ہے۔ شاعر خبردار کرتا ہے کہ اگر دین کا دامن ہاتھ سے چھُوٹ گیا تو مسلمانوں کا تنظیمی اتحاد باقی نہیں رہے گا، اور اگر جمعیت ختم ہو گئی تو ملت کا وجود صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا۔

نظم کے مرکزی خیال پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر شفیق احمد لِکھتے ہیں:-

اقبالؔ نے اِس مختصر سی نظم میں یہ اہم نُکتہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسلمان صرف اُسی وقت ترقّی کر سکتے ہیں جب تک وہ اسلام سے اپنے تعلق کو مضبوط و مستحکم بنائے رکھیں گے۔

ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگِ درا

مغربی وطنیت کے برعکس اسلامی قومیت کی بنیاد کلمۂ توحید پر استوار ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی رقم طراز ہیں:-

اِس نظم میں اقبالؔ نے واضح کِیا ہے کہ دنیا والوں کی قومیّت ”وطن“ سے بنتی ہے، مگر مسلمانوں کی قومیّت رشتۂ اسلام سے بنتی ہے۔

ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رُسولِ ہاشمی

معانیالفاظ
قوم۔ مراد ہے مُسلم اُمّت سےمِلّت
سمجھنا، خیال کرنا، اندازہ لگاناقیاس کرنا
یورپ کی قومیںاقوامِ مغرب
خاصیّت کی، سب سے الگخاص
بناوٹ، ساختترکیب
حضور اکرم ﷺ کے پردادا کا نام ”ہاشم“ تھا، اسی لیے آپ ﷺ ہاشمی کہلاتے ہیں۔رسولِ ہاشمی ﷺ

تشریح:

اے مسلمان! تجھے اپنی مِلّت اور اس کی تعلیمات کا تقابل اقوامِ مغرب سے نہیں کرنا چاہیے، یعنی تم قومیّت کا اصول مغرب سے مت سیکھو۔ اِس لیے کہ اپنی ترتیب و تنظیم کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ کی اُمّت دنیا بھر کی دوسری قوموں سے قطعی مختلف واقع ہوئی ہے۔ اس لیے تمہیں اہلِ مغرب کی روِش پر نہیں چلنا چاہیے، بلکہ اسلامی تعلیمات کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔ بقول علامہ:-

؎ چین و عرب ہمارا، ہندوستاں ہمارا
مسلِم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا

(بانگِ درا: ترانۂ مِلّی)

شعر 2

اُن کی جمعیّت کا ہے مُلک و نسَب پر انحصار
قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تری

معانیالفاظ
جماعت کی صورت، گروہجمعیّت
دار و مداراِنحصار
نسل، خانداننسَب
مضبوط، پکّامستحکم

تشریح:

مغربی اقوام کی جمعیّت اور اتّحاد کا دار و مدار اُن کے خطۂ ارض اور نسل و خون کی نسبتوں پر ہوتا ہے۔ یعنی مغرب میں چونکہ مذہب افراد و اقوام کی زندگی سے نِکل کر محض انفرادی (ذاتی / شخصی) نوعیّت کا معاملہ رہ گیا ہے۔ اُن کی رائے میں قوم، وطن، نسب و نسل، رنگ یا زبان سے بنتی ہے۔ لیکن اِسلام نے ان خود ساختہ امتیازات کو مِٹا کر تمہاری قومیّت کا انحصار عقیدۂ توحید (اسلام) پر رکھا ہے۔ لہذا تمھاری جمعیّت (جماعت) کا دار و مدار دین پر ہے۔ مسلمانوں کا اِتّحاد اور اُن کی جماعت صرف اور صرف مذہب کی قوّت کی وجہ سے مضبوط و پائیدار ہو سکتی ہے۔

؎ بازو ترا توحید کی قوّت سے قوی ہے
اِسلام ترا دیس ہے، تُو مصطفوی ہے

(بانگِ درا: وطنیّت)

شعر 3

دامنِ دیں ہاتھ سے چھُوٹا تو جمعیّت کہاں
اور جمعیّت ہوئی رُخصت تو مِلّت بھی گئی

معانیالفاظ
جماعت کی صورت، گروہجمعیّت
مُسلم قوم، اُمّتِ مُسلِمہمِلّت

تشریح:

اے مسلمان! یہ نکتہ ذہن نشین کر لے کہ اگر تُو نے دین کو ترک کر کے مغرب کے لوگوں کی طرح مذہب کو ذاتی اور انفرادی معاملہ تصوّر کیا، تو تیری جمعیّت (جماعت) کا اتحاد پارہ پارہ ہو جائے گا اور جمعیّت کا خاتمہ ہوا تو قوم و مِلّت کا وجود ختم ہو کر رہ جائے گا۔ بیشک دنیا کی دوسری تمام قومیں اوطان (وطن کی جمع) سے بنتی ہیں لیکن مسلمانوں کی قوم کسی وطن سے وابسطہ نہیں ہے۔ تمام دنیا کے مسلمان چین سے مراکش تک ایک قوم ہیں۔ محض اس لیے کہ اُن کی قومیّت کی بنیاد وطن نہیں بلکہ دین ہے۔

یعنی اے مسلمان! دین کی مضبوط رسّی پوری قوّت سے تھامے رکھو اور اسلام کی صراطِ مستقیم پر عزت و ہمّت سے گامزن رہو۔ تمہاری بقا اور ترقّی کا راز مذہب اور صرف مذہب میں پوشیدہ ہے۔

تبصرہ

یہ کلام اسلامی قومیت کا وہ ابدی منشور ہے جو نسلی، لسانی اور جغرافیائی بُتوں کو پاش پاش کرتا ہے۔ علامہ اقبال نے ایک منطقی (Logical) تسلسل کے ساتھ یہ سچائی واضح کی ہے کہ مسلمان کے لیے مذہب محض ایک انفرادی یا رسمی عقیدہ نہیں بلکہ اُس کے اجتماعی وجود کی ریڑھ کی ہڈی ہے؛ مغرب کی تقلید میں وطن یا نسل کو قومیت کی بنیاد بنانا درحقیقت ملت کے روحانی شیرازے کو پارہ پارہ کرنے کے مترادف ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *