Skip to content

ضربِ کلیم 69: موت

تعارف

نظم ”موت“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا وہ مختصر مگر عمیق فلسفیانہ کلام ہے جس میں علامہ اقبال نے موت کے روایتی خوف کو رد کرتے ہوئے حیات، خودی اور بقائے دوام کا قرآنی نظریہ پیش کیا ہے۔

اقبالؔ فرماتے ہیں کہ اگر انسان کا باطن اور دل زندہ ہو تو موت کے بعد قبر کی تاریکی میں بھی اس کا اضطراب اور شعورِ حیات قائم رہتا ہے۔ چاند اور تارے تو محض ایک دو سانس کے فانی شرارے ہیں، مگر خودی کی شراب کا نشہ ابد تک باقی رہنے والا ہے۔ وہ انسان کو یہ تسلی بخش حقیقت یاد دلاتے ہیں کہ ملک الموت کا ہاتھ انسان کے فانی اور خاکی بدن کو تو چھُو سکتا ہے، مگر اُس کے حقیقی وجود کے لازوال مرکز یعنی خودی تک اُس کی رسائی ناممکن ہے۔

موت کی اصل حقیقت اور خودی کی دائمی بقا کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس نظم میں اقبالؔ نے یہ بتایا ہے کہ موت، جس سے لوگ اِس قدر خوفزدہ ہیں، دراصل زندگی کی اعلٰی منازل میں سے ایک منزل کا نام ہے۔ چنانچہ ایک مرتبہ اقبالؔ نے دورانِ گفتگو مجھ سے یہ فرمایا تھا کہ ”موت بھی زندگی ہی کی ایک شان ہے“۔ موت کا مطلب یہ ہے کہ نفس کا تعلق جسم سے منقطع ہو جاتا ہے، نہ یہ کہ نفس پر فنائے کُلّی طاری ہو جائے، یا وہ نیست و نابود ہو جائے۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم

زندگی کو خودی کے عمل اور آزمائش کی فرصت قرار دیتے ہوئے علامہ اپنے خطبات میں فرماتے ہیں:-

Life offers a scope for ego-activity, and death is the first test of the synthetic activity of the ego.

ترجمہ: زندگی وہ فرصت ہے جس میں خودی کو عمل کے بے شمار مواقع میسّر آتے ہیں اور موت اُس کا پہلا امتحان ہے؛ یہ دیکھنے کے لیے کہ اُسے اپنے اعمال کی شیرازہ بندی میں کس حد تک کامیابی ہوئی۔

—Muhammad Iqbal, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, Lecture 4 (Urdu translation: Syed Nazir Niazi)
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

لحد میں بھی یہی غیب و حضور رہتا ہے
اگر ہو زندہ تو دِل ناصُبور رہتا ہے

معانیالفاظ
قبرلحد
غائب اور موجود ہونا، غیب اور سامنے، حضور کا دیدار، محبوب سے دُوریغیب و حضور
صبر نہ کرنے والاناصبور

تشریح:

اگر کسی شخص نے دُنیاوی زندگی میں اپنے دِل کو زندہ کر لیا ہو، یعنی اپنی خودی کو، اطاعتِ اِلہی کی بدولت، مرتبۂ کمال تک پہنچا دیا ہو، تو اُس کا دِل لحد (قبر) میں بھی زندہ رہتا ہے، بلکہ مزید روحانی ترقی کے لیے بیتاب (ناصبُور) رہتا ہے۔

بقائے دوام کے حصول پر روشنی ڈالتے ہوئے علامہ محمد اقبال تحریر کرتے ہیں:-

Personal immortality, then, is not ours as of right; it is to be achieved by personal effort. Man is only a candidate for it. The most depressing error of Materialism is the supposition that finite consciousness exhausts its object. Philosophy and science are only one way of approaching that object. There are other ways of approach open to us; and death, if present action has sufficiently fortified the ego against the shock that physical dissolution brings, is only a kind of passage to what the Qur’an describes as Barzakh.

ترجمہ: بقائے دوام (ہمیشہ کی زندگی) انسان کا حق نہیں۔ اُس کے حصول کے دار و مدار ہماری مسلسل جد و جہد پر ہے، یعنی ہم اس کے امیدوار ہیں۔ خودی نے اپنے عمل اور سعی کی بدولت اگر اسی زندگی میں اتنا اِستحکام پیدا کر لیا کہ موت کے صدمے سے محفوظ رہے، تو اِس صورت میں موت کو بھی ایک راستہ ہی تصوّر کیا جائے گا، وہ راستہ جسے قرآن پاک نے برزخ کہا ہے۔

—Muhammad Iqbal, The Reconstruction of Religious Thought in Islam, Lecture 4 (Urdu translation: Syed Nazir Niazi)
شعر 2

مہ و ستارہ، مثالِ شرارہ یک دو نفَس
میٔ خودی کا اَبد تک سُرور رہتا ہے

معانیالفاظ
چاند اور ستارہمہ و ستارہ
چنگاری کی مانندمثالِ شرارہ
ایک دو سانس / پل، مراد بالکل عارضییَک دو نَفَس
خودی کی شراب، خودی میں ڈوبے رہنامئے خودی
انتہائے زمانہ، جس کی انتہا کی خبر نہ ہوابد
دل و دماغ کی شگفتگی یا سکون بخش کیفیت، خوشی، فرحت، انبساط، کیف، سرشاریسُرور

تشریح:

چاند، ستارے، اجرامِ فلکی، نباتات، حیوانات، اِن کی زندگی تو چنگاری کی مانند مختصر ہوتی ہے لیکن انسانی خودی اگر پُختہ یعنی مستحکم ہو جائے تو پھر ابدی (ہمیشہ قائم رہنے والی) ہو جاتی ہے اور خودی کو یہ استحکام عشقِ الہی سے نصیب ہو سکتا ہے۔ بقول اقبالؔ:-

؏ عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اُس پر حرام
(بالِ جبریل: مسجدِ قرطبہ)

موت کا فرشتہ تیرے جسم کوچھوتا تو ضرور ہے، یعنی نفس کو جسم سے جُدا کر دیتا ہے (اور یہی مفہوم ہے آیت کل نفس ذائقۃ الموت کا یعنی ہر نفس موت کا ذائقہ ضرور چکھے گا)، لیکن تیرے وجود کے مرکز یعنی خودی پر موت یعنی فنا طاری نہیں کرتا۔ سو اگر تیری خودی میں پُختگی ہو، تو موت کا فرشتہ بے شک تیرے جسم کو چھُو لے، یعنی تیری جسمانی موت واقع ہو جائے، تو اُس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ وہ (فرشتہ) تیرے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے یعنی پُختگیٔ خودی کی بدولت تجھے حیاتِ جاوید (ابدی زندگی) حاصل ہو جاتی ہے۔

؎ حیات و موت نہیں التفات کے لائق
فقط خودی ہے خودی کی نگاہ کا مقصود

(ضربِ کلیم: مقصود)

شعر 3

فرشتہ موت کا چھُوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دُور رہتا ہے!

معانیالفاظ
جسمبدن
مراد خودی، جس تک موت کے فرشتے کا ہاتھ نہیں پہنچتاوجود کا مرکز
مدار، درمیانی حصّہمرکز

تشریح:

پس مومن اگر اس حقیقت سے آگاہ ہو جائے تو وہ موت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے، تبسّم کے ساتھ اُس کا استقبال کرے گا، کیونکہ اُسے یقین ہے کہ موت میری خودی کو فنا نہیں کر سکتی۔ اِسی مطلب کو اقبالؔ نے یوں بیان کیا ہے:-

؎ نشانِ مردِ حق دیگر چہ گویم
چو مرگ آید تبسم بر لبِ اوست

ترجمہ: ایسے مردِ حق کی پہچان میں اِس سے زیادہ اور کیا بیان کروں؛ کہ جب موت آتی ہے تو اُس کے لبوں پر مُسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے۔
(ارمغانِ حجاز (فارسی): حضورِ عالمِ انسانیت)

تبصرہ

یہ کلام موت کی مابعد الطبیعیاتی حقیقت اور خودی کے استحکام کا لافانی درس ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک موت زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ ارتقائے حیات کی ایک کڑی اور خودی کے ثبات کا کڑا امتحان ہے۔ جو انسان عشقِ حقیقی اور عملِ صالح کے ذریعے اپنی خودی کو پُختہ کر لے، اُس کے لیے موت فنا کے بجائے ایک نئے اور برتر عالم میں داخلے کا دروازہ بن جاتی ہے جہاں جسمانی شکست و ریخت روح کے اصل جوہر کو زک (نقصان) نہیں پہنچا سکتی۔

اتباعِ رسول ﷺ کے فیضان سے خودی کو مستحکم اور موت سے بے نیاز کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی رقم طراز ہیں:-

اے مخاطب! اگر تُو نے اتباعِ رسول ﷺ کی بدولت اپنی خودی کو مستحکم (زندہ) کر لیا ہے، تو پھر موت تیرے لیے زندگی کا خاتمہ نہیں بلکہ تیری زندگی ہی کا ایک پہلو ہے۔ یعنی موت کی حقیقت اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے کہ وہ بھی تیری زندگی کی ارتقائی منازل میں سے ایک منزل ہے۔ وہ ایک دروازہ ہے جس میں سے گزر کر تُو زندگی کی اعلیٰ اور ارفع حالت میں داخل ہوگا۔

اب سوال یہ ہے کہ انسان کو موت سے سابقہ کیوں پڑتا ہے؟ یعنی موت کا فلسفہ کیا ہے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ:-

  • اِنسان بقائے دوام (ہمیشہ کی زندگی) کا طالب ہے اور اُس کا حصول عاشقی پر موقوف ہے۔
  • اس لیے طالب، یعنی مسلمان طریقِ عاشقی اختیار کرتا ہے۔
  • عشقِ حقیقی کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ عاشق کا امتحان لیتا ہے۔ یعنی یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ عاشق میں شانِ ثباتِ (ہمیشگی کی صفت) پیدا ہوئی ہے یا نہیں۔
  • انسان کی نظر میں کوئی چیز موت سے زیادہ ہیبت ناک نہیں ہے۔ اس لیے عشق اِسی ہیبت ناک شے سے خودی کے ثبات کا امتحان کرتا ہے۔ یعنی وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ عاشق کی خودی اِس قدر طاقتور ہو گئی ہے یا نہیں کہ موت کا صدمہ برداشت کر سکے؟ اگر پُختہ ہو گئی ہے تو یقیناً تصادم کے بعد ہوش میں آ جائے گی۔

نوٹ: جب تک کوئی امیدوار بی-اے کے امتحان میں کامیاب نہ ہو، یونیورسٹی اسے گریجوایٹ کی سند نہیں دے سکتی۔ اسی طرح جب تک کوئی مسلمان عاشقی کے امتحان میں کامیاب نہ ہو، بارگاہِ خداوندی سے اُسے ایمان کی سند نہیں مِل سکتی۔ اسی لیے اللہ تعانی نے قرآن پاک میں واضح طور پر یہ اعلان فرمایا ہے:-

اَلَّـذِىْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۚ

ترجمہ: جس نے پیدا کیا موت اور زندگی کو، تاکہ تمہارا امتحان لے سکے کہ تم میں کون کون اعمالِ صالحہ بجا لاتا ہے۔
(القرآن: سورۃ الملک: آیت نمبر 2)

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ارمغانِ حجاز

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *