Skip to content

ضربِ کلیم 14: ذکر و فکر

تعارف

نظم ”ذکر و فکر“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کی ایک گہری اور حکیمانہ فلسفیانہ نظم ہے۔ اس میں علامہ اقبال نے انسانی روح کے دو بنیادی پہلوؤں یعنی عقلِ استدلالی (فکر) اور روحانی مشاہدے (ذکر) کے الگ الگ دائرہ کار اور باہمی تعلق کو کھول کر بیان کِیا ہے۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

یہ ہیں سب ایک ہی سالِک کی جُستجو کے مقام
وہ جس کی شان میں آیا ہے ’عَلَّم الاسما‘

معانیالفاظ
راستہ چلنے والا، یعنی اللہ تک رسائی حاصل کرنے والاسالِک
تلاشجستجو
پڑاؤ ڈالنے کی جگہ، ٹھہرنے کی جگہمقام
اشارہ ہے سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر 31 کی طرفعلم الاسما

تشریح:

علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ ذکر اور فکر دونوں ایک ہی مسافر (سالِک) کی تلاش کے مختلف مقامات ہیں۔ یہ سالک کون ہے؟ انسان۔ انسان ہی وہ مخلوق جس کی شان میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا:-

ترجمہ: اور اللہ نے آدم کو تمام (چیزوں کے) نام سکھا دیے۔
(القرآن: سورۃ البقرۃ: 31)

بعض نے ”اسماء“ کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ آدم کو اشیاء کے حقائق و خواص کا علم دے دِیا گیا۔ بہرحال انسان کی معنوی تکمیل کا وہ عظیم الشان واقعہ ہے جس کی وجہ سے وہ اشرف المخلوقات قرار پایا۔ خود اقبالؔ پیامِ مشرق میں فرماتے ہیں:-

؎ علمِ اشیا ”علم الاسماستی“
ہم عصا و ھم یدِ بیضاستی

ترجمہ: علمِ اشیاء ہی علمِ اسماء کی تفسیر ہے؛ یہی عصا ہے اور یہی یدِ بیضا۔

شعر 2

مقامِ ذکر، کمالاتِ رومیؔ و عطّارؔ
مقامِ فکر، مقالاتِ بوعلیؔ سِینا

معانیالفاظ
اللہ تعالی کا ذکر کرنا، اللہ تعالی کو یاد کرنا، یاد دَہانیذکر
کمال کی جمع۔ کسی ہنر یا فن میں ماہر ہوناکمالات
فلسفیانہ سوچ بچارفکر
مقالہ کی جمع۔ تحریریں، مراد حکمت اور فلسفے کی باتیںمقالات

تشریح:

علامہ اقبال اس شعر میں ”ذکر“ اور ”فکر“ کے دو الگ مقامات کی عملی مثالیں پیش کرتے ہیں۔

مقامِ ذکر یعنی روحانی مشاہدے اور قلبی کیفیات کی منزل— اِس کا کامل نمونہ مولانا رومی اور شیخ فریدالدین عطار کے کمالات میں نظر آتا ہے۔ یہ دونوں بزرگ ذکرِ الٰہی اور روحانی ریاضت میں ایسے درجۂ کمال تک پہنچے کہ انہوں نے مشاہدۂ حق کا مقام حاصل کر لیا۔

دوسری طرف مقامِ فکر ہے، یعنی عقلی غور و فکر اور فلسفیانہ تحقیق کا راستہ۔ اس کی اعلیٰ مثال بو علی سینا کے مقالات اور فلسفیانہ تصانیف ہیں جو فکری بلندی کے شاہکار ہیں۔

اقبالؔ یہاں یہ واضح کر رہے ہیں کہ جو شخص ذکر کی راہ اختیار کرتا ہے، وہ رومی اور عطار جیسا روحانی مقام حاصل کر سکتا ہے اور جو فکر و تدبر کی طرف متوجہ ہوتا ہے، وہ بو علی سینا جیسا عالی مرتبہ حکیم بن سکتا ہے۔ البتہ اقبالؔ کا اشارہ یہ بھی ہے کہ اہلِ فکر کو حقیقت تک تو رسائی حاصل ہو جاتی ہے، لیکن وہ دیدار اور مشاہدے سے محروم رہتے ہیں – عقل حقیقت کو سمجھ سکتی ہے لیکن دِل حقیقت کا مشاہدہ کرتا ہے۔

شعر 3

مقامِ فکر ہے پیمائشِ زمان و مکاں
مقامِ ذکر ہے سُبحانَ ربیّ الاعلیٰ

معانیالفاظ
ناپپیمائش
زمان: زمانہ، مکان: جگہ، زمان و مکان: time and spaceزمان و مکاں
پاک ہے میرا پروردِگار جو بلند ترہےسبحان ربی الاعلی

تشریح:

اقبالؔ اس شعر میں فکر اور ذکر کی حدود اور کمالات واضح کرتے ہیں۔

فکر کا مقام زمان و مکان کی پیمائش ہے، یعنی اہلِ فکر اس مادی جہان اور عالمِ شش جہات کے متعلق غور و خوض کرتے رہتے ہیں، وقت اور فضا کی حقیقت تلاش کرتے ہیں، اور فلسفیانہ مسائل حل کرتے ہیں لیکن اُن کی رسائی اِس مادی دنیا (material world) کی حدود تک محدود رہتی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ کائنات کی پیمائش کر سکتے ہیں، لیکن اس جہان کے پیچھے یا آگے کیا ہے، ”؏ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“ کا راز اُن پر نہیں کھلتا۔

دوسری طرف ذکر کا مقام ”سبحان ربی الاعلیٰ“ ہے یعنی جب انسان اپنی خودی کو خدا سے روشناس کرتا ہے اور ذکرِ الٰہی میں مصروف ہوتا ہے، تو وہ اُس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اُس کا ایک ہی نعرہ ہوتا ہے کہ میرا رب سب سے بلند اور تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے۔ اہلِ ذکر صفات کے بت کدے کو توڑتے ہوئے دیدارِ ذات کی منزل تک پہنچ جاتے ہیں اور اس جہانِ مادہ کے پسِ پردہ جو حقیقت ہے، اسے پا لیتے ہیں۔

گویا فکر مادیات کی تلاش میں محو رہنا ہے جبکہ ذکر صرف اس ذاتِ پاک سے خود کو وابستہ کرنا اور باقی ہر شے کو پروردگار کے تابع کر دینا ہے۔ خلاصہ یہ کہ ذکر اور فکر انسان کی دو بنیادی قوتوں کا نام ہے، اور اسلام ایسا دین ہے جو اِن دونوں کا جامع ہے۔

تبصرہ

یہ نظم عقل اور وجدان کے قرآنی توازن کا خوبصورت مرقع ہے۔ اقبالؔ کے نزدیک مادی کائنات کو سمجھنے کے لیے فکر ناگزیر ہے مگر وہ انسان کو ابدی حقیقتوں تک اکیلے نہیں پہنچا سکتی۔ دِل کو روحانی سکون اور معرفتِ حق صرف اُسی وقت حاصل ہوتی ہے جب فکر کی روشنی ذکر کے باطنی سوز اور تسبیح سے منور ہو جائے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *