Skip to content

ضربِ کلیم 182: غلاموں کی نماز

تعارف

نظم ”غلاموں کی نماز“ مجموعۂ کلام ”ضربِ کلیم“ کا ایک نہایت عبرت انگیز، ظریفانہ اور کاٹ دار کلام ہے جو 1935ء میں لاہور کی بادشاہی مسجد میں ہلالِ احمر کے ایک آزاد ترک مجاہد کے تاثرات کے پس منظر میں تخلیق پایا۔

ترک مجاہد نے نماز کے بعد تعجب سے پوچھا کہ تمہارے امام اس قدر غیر معمولی اور طویل سجدے کیوں کرتے ہیں؟ اس پر اقبالؔ ایک ستم ظریفانہ حقیقت فاش کرتے ہیں کہ وہ سادہ مردِ آزاد یہ نہیں جانتا تھا کہ غلام کی نماز کیا ہوتی ہے! آزاد انسانوں کو تو دنیا میں تسخیر اور جہاد کے ہزاروں فرائض درپیش ہوتے ہیں، جبکہ غلام کا بدن چونکہ عمل کی تڑپ سے محروم ہے اور اس کے شب و روز پر وقت کی رفتار حرام ہو چکی ہے، اس لیے وہ سجدوں میں وقت کاٹنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتا ہے۔ اقبالؔ دعا کرتے ہیں کہ ہند کے پیشواؤں کو وہ سجدہ نصیب ہو جو قوم کے لیے زندگی کا پیغام بن سکے۔

ترکی ہلالِ احمر کے وفد کی لاہور آمد اور اِس کلام کے پس منظر کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

1935ء کے آغاز میں ترکی وفد متعلقہ ہلالِ احمر لاہور میں آیا تھا اور حضرت علامہ مرحوم سے ملاقات کے بعد اُس کے ارکان نے، مرحوم سے درخواست کی کہ شاہی مسجد کے جلسہ میں، جو نماز کے بعد منعقد ہوگا، ضرور شرکت فرمائیں۔ اختتامِ جسلہ کے بعد رئیس الوفد نے مرحوم سے، اِمام کے طولِ قرأۃ و سجدہ پر اپنے تعجب کا اظہار کیا۔ اقبالؔ چونکہ بہت ذکی الحس (حساس طبیعت والے) تھے، اس لیے اُنہوں نے نظم ”غلاموں کی نماز“ کی صورت میں اپنے تاثرات کا اظہار کر دیا۔

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح ضربِ کلیم
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

کہا مجاہدِ تُرکی نے مجھ سے بعدِ نماز
طویل سجدہ ہیں کیوں اس قدر تمھارے امام

معانیالفاظ
مراد آزاد مُلک تُرکی کا مسلمان / مومنمجاہدِ تُرکی
لمبا سجدہطویل سجدہ

تشریح:

ترکی وفد میں سے ایک ترک مجاہد نے مجھ سے بعد از نماز دریافت فرمایا کہ آپ کے ہندی امام اس قدر طویل سجدہ کیوں کرتے ہیں؟

شعر 2

وہ سادہ مردِ مجاہد، وہ مومنِ آزاد
خبر نہ تھی اُسے کیا چیز ہے نمازِ غلام

معنیلفظ
غلام کی نمازنمازِ غلام

تشریح:

وہ سادہ طبع مجاہد انسان اور آزاد مومن اس بات سے بے خبر تھا کہ غلاموں کی نماز کیا چیز ہوتی ہے۔ اُسے معلوم نہ تھا کہ غلام قوم کے افراد کی غلامانہ ذہنیّت سے نماز میں کیا فرق آجاتا ہے۔ یعنی اُنہیں اور تو کوئی قومی کام نہیں ہوتا، بس ان لمبے لمبے سجدوں ہی میں وہ اپنی نجات سمجھتے ہیں۔

شعر 3

ہزار کام ہیں مردانِ حُر کو دُنیا میں
انھی کے ذوقِ عمل سے ہیں اُمتّوں کے نظام

معانیالفاظ
آزاد لوگ، آزاد قومیںمردانِ حُر
عمل کی لذت، عمل کرنے کا جذبہذوقِ عمل

تشریح:

آزاد مردوں کو دنیا میں اور بھی ہزاروں کام ہیں اور انہی کی لذتِ عمل سے قوموں کے انتظامی سلسلے برقرار و قائم رہتے ہیں۔ آزاد قوم کے باشندوں کو اتنی فرصت ہی کہاں ہوتی ہے کہ طویل سجدوں میں پڑے رہیں، کیونکہ وہ وقت کی قدر کرتے ہیں اور عبادت سے فارغ ہو کر اپنے نصب العین کی طرف گامزن ہو جاتے ہیں۔گویا یہ مردانِ حُر (آزاد مرد) اپنی قوم کی ترقی اور بلند مرتبگی کے لیے کوشاں رہتے ہیں اور انہی کی بدولت قوم سکون و راحت اور خوشی و خوشحالی کی زندگی بسر کرتی ہے۔

بات یہ ہے کہ قوموں کے مراتب عمل اور کام کرنے کی لذت سے حاصل ہوتے ہیں۔ رزم ہو یا بزم، امن ہو یا جنگ، ہر دور میں ان کے لیے ہزار قسم کی باتیں سوچنے اور کرنے کی ہوتی ہیں، لیکن غلام ان ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے اور آقاؤں کی مرضی پر چلتا ہے۔ خود بے حس اور بے ذوقِ عمل ہوتا ہے۔

شعر 4

بدن غلام کا سوزِ عمل سے ہے محروم
کہ ہے مروُر غلاموں کے روز و شب پہ حرام

معانیالفاظ
جسمبدن
عمل کی حرارتسوزِعمل
بے نصیبمحروم
گردِش، گزرنے کا عملمرُور
دِن اور راتروز و شب

تشریح:

ان مجاہدوں کے برعکس غلاموں کے جسم میں عمل کا جوش و جذبہ ہوتا ہی نہیں ہوتا۔ ایک غلام انسان اس نصب العین سے واقف ہی نہیں ہوتا، اس لیے اُس کے سامنے عملی پروگرام ہی نہیں ہوتا، چنانچہ وہ عملی زندگی میں کوئی حرارت نہیں رکھتا۔ بے عمل ہونے کی وجہ سے غلاموں کے شب و روز گردِش (مرُور) سے محروم ہوتے ہیں۔

؎ آزاد کی اِک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سَیر ہیں محکوم کے اوقات

(ضربِ کلیم: ہندی مکتب)

گویا ان کے دِن رات ایک جیسے ہی رہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ زمانے کی گردش ان کے حالات پر کوئی اثر نہیں ڈالتی اور نہ ہی اُن کی تقدیر بدلتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ تقدیر ہمارے عمل پر موقوف ہے۔ بقول اقبالؔ:-

؎ ’ہر لحظہ ہے قوموں کے عمل پر نظر اُس کی
بُرّاں صفَتِ تیغِ دو پیکر نظر اس کی!‘

(ضربِ کلیم: تقدیر)

شعر 5

طویل سجدہ اگر ہیں تو کیا تعجُّب ہے
ورائے سجدہ غریبوں کو اَور کیا ہے کام

معانیالفاظ
حیرت، اچنبھا، حیرانی، انوکھا پنتعجُّب
سجدے کے علاوہورائے سجدہ

تشریح:

اگر ہندوستان کے امام طویل سجدہ کرتے ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ سجدوں کے علاوہ (ورائے سجدہ) اور ان غریبوں کو کام بھی کیا ہے۔ نہ قواعدِ پریڈ سے کوئی تعلق ہے، نہ اپنے گھوڑے کی نگہداشت سے کوئی علاقہ ہے، نہ اپنے ہتھیاروں کی صفائی کی ضرورت ہے، نہ رات کو سرحدوں کی حفاظت کا کام ہے، نہ جسمانی ورزش کی ضرورت ہے اور نہ ہی مسلمانوں کے گھروں پر جا کر اُنہیں جہاد کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے۔ غلامی کی ”نعمت“ نے مسلمانوں کو ان تمام ”زحمتوں“ سے بری الذمہ کر دیا ہے۔ یوں بھی اگر دیکھا جائے تو غلام قومیں ہمیشہ اپنے آقاؤں کے سامنے جھکی رہتی ہیں اور اُن کی محتاج ہوتی ہیں۔

شعر 6

خدا نصیب کرے ہِند کے اماموں کو
وہ سجدہ جس میں ہے مِلّت کی زندگی کا پیام!

معانیالفاظ
قسمت میں کرے، توفیق عطا فرمائےنصیب کرے
نماز پڑھانے والا، امامت کرنے والا، رہنماامام
مسلمان قوممِلّت
پیغامپیام

تشریح:

اللہ تعالی سے میری دُعا ہے کہ ہندوستان کے پیش اماموں کو نماز میں ایسے سجدے کرنے کی توفیق ہو جن میں مِلّت کی زندگی کا پیغام مضمر ہو (یعنی ایسے سجدے جو مِلّت کی سربلندی اور عظمت کا باعث بن جائیں) اور جب وہ سبحان ربی الاعلی کہہ کر سب سے اعلیٰ رب کی پاکی بیان کریں تو قوم کو واقعی درس دیں کہ سب سے اعلی اور ارفع جس کی غلامی کا شرف حاصل کرنا چاہیے وہ اللہ تعالی کی ذاتِ پاک ہے نہ کہ دنیا کے عوام اور اقوام۔

تبصرہ

یہ نظم عبادات کے نام پر سیاسی بے عملی اور محکومی کو چھُپانے کے رجحان پر سخت ترین چوٹ ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کِیا ہے کہ جو نماز انسان میں باطل کو للکارنے کی ہمت اور عمل کا ولولہ پیدا نہ کرے وہ مردانِ حُر کی عبادت نہیں بلکہ بے عمل غلاموں کی پناہ گاہ ہے۔ مومن کا سجدہ کائنات میں انقلاب برپا کرتا ہے، نہ کہ اپنے فرائض سے فرار کا ذریعہ بنتا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *