فہرست
تعارف
نظم ”ایک حاجی مدینے کے راستے میں“ علامہ اقبال کی ایک جذباتی، پرکیف اور عاشقانہ تمثیل ہے جس میں صحرائے عرب میں قافلہ لٹ جانے کے بعد ایک عاشقِ رسول کی والہانہ کیفیت اور عقل و عشق کا تصادم پیش کیا گیا ہے۔
صحرائی ڈاکوؤں کے حملے میں قافلے کے لٹنے اور ساتھیوں کے مکہ واپس پلٹ جانے کے بعد تنہا حاجی عشق کے اضطراب میں مدینے کی جانب قدم بڑھاتا ہے۔ وہ بخاری نوجوان کی شہادت کو یاد کرتا ہے جس نے رہزن کے خنجر کو ہلالِ عید جانا؛ اور ”عقلِ زیاں اندیش“ کے خوف کو جھٹک کر کہتا ہے کہ روضۂ اطہر کی زیارت کیے بغیر واپس جانا عاشقی کے شایانِ شان نہیں، کیونکہ عشق کا اصل مزا ہی جان لیوا خطرات کو گلے لگانے میں ہے۔
دیارِ حبیب ﷺ میں حاضر ہونے والے حاجی کے دلی تاثرات اور عقیدت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-
اِس جذباتی نظم میں علامہ اقبال نے اُس حاجی کے قلبی تاثرات قلمبند کیے ہیں جس کا قافلہ مدینے کے راستے میں لُٹ گیا۔ کچھ لوگ رہزنوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ باقی ماندہ مایوسی اور بے دِلی کے عالم میں مکہ مکرمہ واپس چلے گئے۔ اب وہ حاجی اپنے دِل سے گفتگو کرتا ہے۔
پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا
حجازِ مقدس کے قدیم سفر کی صعوبتوں اور تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا غلام رسول مہر تحریر کرتے ہیں:-
سلطان عبدالعزیز ابن سعود مرحوم کے حجاز آنے سے بیشتر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے راستے مدتِ دراز تک غیر محفوظ رہے۔ ہر سال بدُّو حاجیوں کے قافلوں پر حملے کرتے تھے۔ لُوٹ مار اور خون ریزی ہوتی تھی۔ اِکّا دُکّا حاجی کے لیے تو آنا جانا ناممکن تھا۔ جو لوگ قافلوں سے چند قدم بھی اِدھر اُدھر ہو جاتے تھے، شاذ ہی بچتے تھے۔ اس وجہ سے حج و زیارت کا سفر لوگوں کے لیے جاں بازی کا امتحان بن گیا تھا۔ اس دور میں اقبالؔ کو غالباً یہ احساس ہوا کہ خطرات مسلمانوں کے جذبۂ زیارت میں افسردگی پیدا نہ کردیں۔ ممکن ہے، کوئی خاص واقعہ بھی اُنہوں نے کسی سے سُن لیا ہو، جس کا ذکر بخاری نوجوان کے رنگ میں کیا گیا ہے۔ بہر حال اس نظم کا مقصود یہ ہے کہ خطرات کتنی ہی نازک صورت اختیار کر جائیں، لیکن مسلمان کو عشقِ رسول ﷺ کے کیف و سرور میں جان سے بے پروا ہو ہر وہاں پہنچنا چاہیے۔ یہ نظم اعتبارِ مضمون میں اقبالؔ کی عام تعلیم کے عین مطابق ہے، یعنی عشق کو عقل پر ترجیح دینا۔ راحت و آسائش کے بجائے خطرات و مصائب کی زندگی پسند کرنا۔
مولانا غلام رسول مہر، مطالبِ بانگِ درا
تشریح
قافلہ لُوٹا گیا صحرا میں اور منزل ہے دُور
اس بیاباں یعنی بحرِ خشک کا ساحل ہے دُور
میرا قافلہ بیاباں (ریگستان، یہاں اس سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا درمیانی ریگستان مراد ہے) ہی میں راہزنوں نے لُوٹ لیا جبکہ منزل (مدینۂ منورہ) ابھی دُور ہے۔ اس بیاباں یعنی خشک سمندر کا ساحل ابھی دُور ہے (یعنی مدینہ منورہ ابھی بہت فاصلے پر ہے)۔
ہم سفر میرے شکارِ دشنۂ رہزن ہوئے
بچ گئے جو، ہو کے بے دل سُوئے بیت اللہ پھرے
میرے ہمسفر لُٹیروں کے خنجروں کا نشانہ بن گئے (ڈاکوؤں/ لٹیروں نے انہیں لُوٹ کر قتل کر دیا) اور جو ان کے ہاتھوں سے بچ گئے وہ بڑے غمزدہ ہو کر خانہ کعبہ کی طرف (سُوئے بیت اللہ) لوٹ گئے۔ ایک تو ہمسفروں کی تباہی کے دُکھ اور دوسرے خوف و ہیبت کے باعث مدینہ شریف کی طرف بڑھنے کی بجائے مکہ معظمہ واپس چل دیے (حاجی حج سے فارغ ہو کر روضۂ رسولِ اکرم ﷺ کی طرف جاتے ہیں)۔
اُس بخاری نوجواں نے کس خوشی سے جان دی!
موت کے زہراب میں پائی ہے اُس نے زندگی
ترکستان کے شہر بخارا کے رہنے والے اس نوجوان نے کس خوشی سے اپنی جان قربان کر دی، اُس نے موت کے زہراب (ایسا پانی جس میں زہر ملا ہوا ہو) سے حیاتِ جاوید (ہمیشہ رہنے والی زندگی) پا لی۔ وہ ڈاکوؤں کے ہاتھوں مارے جانے کے باعث شہید کہلایا، جو ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ خوشی سے جان اس لیے دی کہ وہ خدا کی راہ پر گامزن تھا اور اس راہ میں مارا جانا شہادت ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں۔
خنجرِ رہزن اُسے گویا ہلالِ عید تھا
’ہائے یثرِب‘ دل میں، لب پر نعرۂ توحید تھا
اس نوجوان کے لیے لُٹیرے کا خنجر (دِشنۂ راہزن) ایک طرح سے ہلالِ عید (عید کا چاند، جسے دیکھ کر مسلمان خوش ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں) تھا، ہلال (چاند) کی شکل خنجر کی طرح ہوتی ہے۔ اُس کے دِل میں ”ہائے یثرب“ اور ہونٹون پر نعرۂ توحید تھا۔ چونکہ وہ اللہ کی راہ پر چل رہا تھا اور زیارتِ روضۂ رسولِ اکرم ﷺ پیشِ نظر تھی (اُس کی یہ آرزو پوری نے ہونے کے باعث ”ہائے یثرب“ اُس کے دِل میں تھا) اس لیے اس نے بے خوف ہو کر جان دی، اگرچہ زیارت کی آرزو پوری نہ ہونے کا اُسے افسوس ہوا۔
خوف کہتا ہے کہ یثرِب کی طرف تنہا نہ چل
شوق کہتا ہے کہ تُو مسلم ہے، بے باکانہ چل
اس قسم کی صورتِ حال میں جان و مال کا خوف کہتا ہے کہ مدینہ شریف کی طرف تنہا نہیں جانا چاہیے، جبکہ شوق اور جذبۂ عشقِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے کہ تُو مسلمان ہے اس لیے بے خوف (بیباکانہ) ہو کر منزل کی طرف رواں رہنا چاہیے۔ ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسلمان صرف اللہ سے ڈرتا ہے، کسی بھی باطل قوت کا وہ معمولی سا بھی خوف دِل میں نہیں رکھتا۔
بے زیارت سُوئے بیت اللہ پھر جاؤں گا کیا
عاشقوں کو روزِ محشر منہ نہ دِکھلاؤں گا کیا
میں اگر روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کیے بغیر واپس لوٹ جاؤن گا تو قیامت کے دِن (روزِ محشر) عاشقانِ رسول ﷺ کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہوں گا۔
خوفِ جاں رکھتا نہیں کچھ دشت پیمائے حجاز
ہجرتِ مدفونِ یثرِبؐ میں یہی مخفی ہے راز
حجاز کے صحرا کا رستہ طے کرنے والے کو جان و مال کا قطعاً خوف نہیں ہوتا، چنانچہ مدفونِ یثرب ﷺ (لفظی معنی وہ ذاتِ پاک جو مدینہ منورہ میں دفن ہے، مراد ہے رسول اکرم ﷺ سے) کی ہجرت میں یہی راز پوشیدہ ہے۔ بے شمار کافر حضور اکرم ﷺ کے دشمن تھے، لیکن جب حضور ﷺ ہجرت پر مجبور ہوئے تو وہ بے خوف ہو کر مدینہ کی طرف چل پڑے اور تاحیات وہیں مقیم رہے اور وہیں آپ ﷺ مدفون ہیں۔
گو سلامت محملِ شامی کی ہمراہی میں ہے
عشق کی لذّت مگر خطروں کی جاں کاہی میں ہے
اگرچہ محملِ شامی کی ہمراہی (اس کے ساتھ چلنے میں) سراسر سلامتی و حفاظت ہے لیکن عشق کی لذت خطروں کی مصیبتیں برداشت کرنے میں ہے۔
عشقِ حقیقی کے جذبے سے سرشار مسلمان ہر طرح کے خطروں سے نہ صرف بے خوف رہتا ہے بلکہ اُن سے ایک خاص سرور حاصل کرتا ہے۔ غالباً اس لیے کہ وہ اسے قدرت کی طرف سے اپنی آزمائش سمجھتا ہے اور آزمائش پر پورا اُترنے کے لیے وہ ہر طرح کا خطرہ بخوشی مول لے لیتا ہے یا مول لینے کو تیار رہتا ہے۔
آہ! یہ عقلِ زیاں اندیش کیا چالاک ہے
اور تاثّر آدمی کا کس قدر بے باک ہے
افسوس! کہ یہ زیاں اندیش عقل (نقصان کی فکر کرنے والی عقل) بڑی چالاک ہے جبکہ آدمی/انسان کا جذبۂ عشق ہر طرح کے خوف و ہراس سے پورے طور پر بے نیاز و بے فِکر ہے۔ عقل انسان کو مختلف طریقوں اور بہانوں سے ڈراتی اور اسے آگے بڑھنے سے روکتی ہے، اُسے نفع و نقصان سے آگاہ کرتی ہے، اس کے برعکس عشق انسان کو محبوب کی راہ میں خوشی خوشی جان دینے پر آمادہ کرتا ہے کہ اس سے اس کی بقا کا سامان ہوتا ہے۔ سچے عاشق کی زندگی کا مقصد محبوبِ حقیقی تک رسائی ہے، جس کی خاطر وہ ہر طرح کے خطرے بخوشی قبول کرتا ہے
؏ کُچھ کام نہیں بنتا بے جرأتِ رِندانہ
(بالِ جبریل)
اقبالؔ رموزِ بیخودی میں فرماتے ہیں کہ:-
؎ عقل را سرمایہ از بیم و شک است
عشق را عزم و یقین لاینفک است
ترجمہ: عقل کا سارا سرمایہ خوف اور شک و شبہ ہے۔ اِس کے برعکس عشق سے عزم اور یقین جدا ہو ہی نہیں سکتے۔
(رموزِ بیخودی: در معنی حریتِ اسلامیہ و سرِ حادثۂ کربلا)
تبصرہ
یہ کلام ”عقلِ زیاں اندیش“ اور ”عشقِ بے باک“ کی ازلی کشمکش کا لافانی مرقع ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کِیا ہے کہ عقل ہمیشہ مصلحت اور سلامتی کے راستے ڈھونڈتی ہے جبکہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ خطرات کی وادیوں میں بے خوف کُود پڑتا ہے؛ صحرائے حجاز میں لٹے پٹے مسافر کا اکیلے عازمِ مدینہ ہونا اِس حقیقت کا ثبوت ہے کہ سچے عاشق کے لیے محبوب کے آستانے کا شوق زندگی کے خوف پر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔







