فہرست
تعارف
نظم ”ابر“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کے ابتدائی دور کا ایک نہایت دلکش اور سحر انگیز فطری منظر نامہ ہے۔ علامہ اقبال نے 1904ء میں ایبٹ آباد کے پُرفضا قیام کے دوران کوہِ سربن کے دامن میں کالی گھٹاؤں کے دِل آویز نظارے سے متاثر ہو کر یہ نظم اُس مقام پر بیٹھ کر کہی تھی جہاں آج میونسپل کمیٹی کا باغ ہے۔
اقبالؔ کی ابتدائی دور کی شاعری کے متعلق ڈاکٹر روبینہ یاسمین اور ڈاکٹر رانی بیگم اپنی تحقیق میں لکھتی ہیں:-
اقبالؔ اپنی ذہنی تحریک کی بدولت خارجی محرکات سے زیادہ تخیل کی کار فرمائی دکھاتے ہیں۔ اپنے ابتدائی دور کی شاعری میں اقبالؔ کو فطری مناظر و مظاہر سے گہرا لگاؤ نظر آتا ہے اور یہاں اُن کا رویہ ایک فطرت دوست شاعر کا سا ہے جہاں فطری مناظر حقیقی شکل میں موجود ہیں، جو مغربی شعرا کے اثر کا نتیجہ بھی معلوم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر روبینہ یاسمین، ڈاکٹر رانی بیگم، اقبالؔ کی شاعری کے ارتقاء میں فطرت کی آمیزش
علامہ کی اسی دور کی شاعری میں ابرِ کوہسار، گُلِ رنگین، ایک آرزو اور موجِ دریا جیسی اور کئی نظمیں ملتی ہیں۔
تشریح
اُٹھی پھر آج وہ پُورب سے کالی کالی گھٹا
سیاہ پوش ہُوا پھر پہاڑ سربن کا

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مشرق | پُورب |
| بادلوں کا حجوم | گھٹا |
| کالا لباس پہننے ولا | سیاہ پوش |
| ایبٹ آباد کے مشرق میں واقع ایک پہاڑ کا نام | سربن |
تشریح:
آج پھر مشرق کی طرف سے کالے کالے بادل آئے جن کی وجہ سے یوں لگتا ہے کہ سربن نے کالا لباس پہن لیا ہے۔
سربن کی چوٹی، جو ایبٹ آباد کے خوبصورت پہاڑوں میں سے ایک ہے، اس باغ کے بالکل مخالف نظر آتی ہے۔ قدرتی نظاروں سے مالامال نگکی گاؤں بھی کوہِ سربن ہی پر واقع ہے۔ اسی پہاڑ کے دامن میں سلہڈ کا قصبہ اور ایبٹ آباد کا شہر آباد ہے۔ کوہِ سربن میں واقع راجہ رسالو کی غار اپنے تاریخی پس منظر کی وجہ سے مشہور ہے۔

نہاں ہُوا جو رخِ مہر زیرِ دامنِ ابر
ہوائے سرد بھی آئی سوارِ توسنِ ابر

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| چھُپا ہوا | نہاں |
| سورج کا چہرہ | رُخِ مہر |
| ابر کے دامن کے نیچے | زیرِ دامنِ ابر |
| گھوڑا | توسن |
تشریح:
سورج کا چہرہ بادل کے دامن کے نیچے چھُپ گیا ہے۔ سورج کے بادلوں کے پیچھے جانے سے ٹھنڈی ہوا بادل کے گھوڑے پر سوار ہو کر آتی ہے۔ یعنی بادل اور ہوا دونوں کا ظہور ہوتا ہے۔
گرج کا شور نہیں ہے، خموش ہے یہ گھٹا
عجیب مے کدۂ بے خروش ہے یہ گھٹا

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| شراب خانہ | مے کدہ |
| شور و ہنگامے کے بغیر | بے خروش |
تشریح:
یہ بادل بالکل خاموش ہیں، اس لیے انہیں ایسا شراب خانہ کہا جا سکتا ہے جو بے ہنگامہ ہوں۔
گھٹا کو خاموش شراب خانے سے تعبیر کیے جانے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں:-
- شراب نوشوں کی رائے میں کالی گھٹا دعوتِ مے نوشی دیتی ہے، اس لیے گھٹا کو خاموش مے خانے سے تعبیر کرنے میں بڑا لطف پیدا ہوتا ہے۔
- شراب خانے میں میخواروں کا شور ہوتا ہے لیکن یہ گھٹا، یہ حسین منظر، جو اپنے دیکھنے والوں کو (بالکل شراب کی طرح) مست و محو کر دیتی ہے، خاموش چلی آرہی ہے۔
چمن میں حُکمِ نشاطِ مدام لائی ہے
قبائے گُل میں گُہر ٹانکنے کو آئی ہے

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| مسرت، خوشی | نشاط |
| ہمیشہ رہنے والی | مدام |
| پھول کا لباس | قبائے گُل |
| موتی، قیمتی پتھر | گہر |
تشریح:
کالے بادلوں کی یہ گھٹا باغ میں اُس مسرّت، خوشی اور شادمانی کو لے کر آئی ہیں جو ہمیشہ رہنے والی ہے، کبھی ختم نہ ہوگی۔
اس کی وجہ سے پھول کے لباس میں موتی ٹانک دیے جائیں گے۔ یہاں بارش کے لیے ’گہر‘ کو استعارہ لیا گیا ہے، کیوںکہ پھولوں پر پڑے بارش کے قطرے بالکل موتیوں کی طرح لگتے ہیں۔
جو پھُول مہر کی گرمی سے سو چلے تھے، اُٹھے
زمیں کی گود میں جو پڑ کے سو رہے تھے، اُٹھے

| معنی | لفظ |
|---|---|
| سورج | مہر |
تشریح:
جو پھول سورج کی گرمی سے مُرجھا چلے تھے، وہ بارش کی وجہ سے نئے سرے سے تر و تازہ ہو گئے۔
جن پودوں کی ٹہنیاں مُرجھانے کی وجہ سے زمین کو لگنے لگی تھیں اور یوں لگتا تھا جیسے زمین کی گود میں سو رہی ہیں، وہ پھر سے جاگ اُٹھے۔
ہوا کے زور سے اُبھرا، بڑھا، اُڑا بادل
اُٹھی وہ اور گھٹا، لو! برس پڑا بادل

تشریح:
ہوا کی وجہ سے یہ بادل تیزی سے آسمان میں بڑھنے اور اُڑنے لگا۔ ابھی ابھی اور بادل آئے اور بارش برسنے لگی۔
دوسرے مصرعے کی صوتیاتی خوبی یہ ہے کہ الف کی تکرار (اُبھرا، بڑھا، اُڑا) سے بادل کے اُبھرنے کی کیفیّت سامنے آنی لگتی ہے۔
عجیب خیمہ ہے کُہسار کے نہالوں کا
یہیں قیام ہو وادی میں پھِرنے والوں کا

| معانی | الفاظ |
|---|---|
| پہاڑ | کہسار |
| درخت، پودا | نہال |
تشریح:
بارش کے اس منظر میں پہاڑ پر موجود درخت ایک عجیب منظر پیش کر رہے ہیں اور وہ منظر یہ ہے کہ اُن درختوں کی ٹہنیوں نے آپس میں مِل کر خیمے کی سی شکل اختیار کر لی ہے۔ وادی میں سیر کرنے والوں کو اسی خیمے کے نیچے ٹھہر جانا چاہیے تاکہ وہ ابر سے محفوظ رہ سکیں۔
علامہ اقبال کہنا چاہتے ہیں کہ ابر برسنے کو ہے۔ بوندا باندی سے محفوظ ہونے کے لیے وہ جگہ بہت موزوں ہے جہاں پر درختوں کے جھُند نے خیمہ بنا رکھا ہے۔
تبصرہ
یہ کلام علامہ اقبال کے ابتدائی دور کی فطرت نگاری اور مصورانہ شاعری کا شاندار نمونہ ہے۔ علامہ نے کوہِ سربن کے افق پر گرج چمک کے بغیر خاموشی سے برسنے والے بادل کو ایک ”مے کدۂ بے خروش“ سے تعبیر کِیا ہے۔ اشعار میں مناظرِ قدرت کی تازگی اور بارش کی حیات بخش کیفیت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کِیا گیا ہے۔
حوالہ جات
- [۱] شرح بانگِ درا از پروفیسر یوسف سلیم چشتی
- [۲] شرح بانگِ درا از ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی
- [۳] مطالبِ بانگِ درا از مولانا غلام رسول مہر
- [۴] آوازِ اقبال – بانگِ درا مع مطالب از نریش کمار شادؔ
- [۵] شرح بانگِ درا ا ڈاکٹر شفیق احمد
- [۶] تحقیق: اقبالؔ کی شاعری کے ارتقاء میں فطرت کی آمیزش، از ڈاکٹر روبینہ یاسمین، ڈاکٹر رانی بیگم






