Skip to content

بانگِ درا 69: حُسن و عشق

تعارف

نظم ”حُسن و عشق“ علامہ اقبال کے دورِ اوّل کا ایک دِل آویز، پرسوز اور نغمگی سے بھرپور مسبّع ہے، جس میں شاعر نے مغربی رومانوی شعراء (شیلے اور کیٹس) کے جمالیاتی انداز اور اسلامی تصوف کے آفاقی تصورِ محبت کا حسین امتزاج پیش کیا ہے۔

اقبالؔ عاشق کے وجود کا محبوب کے حسن میں مکمل طور پر جذب اور فنا ہو جانے کا نقشہ دلکش تمثیلوں سے کھینچتے ہیں: جیسے چاند کی چاندی صبح کے سورج کے طوفان میں ڈوب جائے، یا چاندنی رات میں کنول کا پھول گم ہو جائے، یا طُور کے جلووں میں کلیم کا یدِ بیضا غائب ہو جائے! وہ کہتے ہیں کہ تُو حسن کی بجلی ہے تو میں عشق کا حاصل ہوں؛ تیری زلف کی پریشانی نے میرے دل کو تڑپ بخشی ہے اور تیرے عشق نے میرے تخیل کے آئینے میں وہ نئے جوہر پیدا کیے ہیں جن سے میرے وجود کا قافلہ آسودۂ منزل ہو گیا۔

نظم کی رومانی فضا اور شیلے و کیٹس کے فلسفۂ محبت سے اس کی فکری ہم آہنگی پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

واضح ہو کہ یہ نظم خالص رومانی شاعری کی مثال ہے اور اقبالؔ نے اس میں محبت کی جو خوبیاں بیان فرمائی ہیں وہ شیلےؔ اور کیٹسؔ کے خیالات سے بہت ملتی جُلتی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ شیلےؔ کے نزدیک محبت ہی بنیادِ کائنات ہے۔ اجزائے کائنات کا ربطِ باہمی اِسی جذبۂ محبت پر موقوف ہے۔ بالفاظِ دِگر، اجزائے کائنات کی وابستگی کا دوسرا نام محبت ہے، جس کے بغیر اس کائنات کا وجود ناممکن ہے۔ محبت نہ ہو تو انسانی زندگی ہر قسم کے کیف و سرُور سے معرّا ہو جائے گی۔ جو شے انسانیت کو میکانیت سے جُدا کرتی ہے، وہ یہی محبت تو ہے۔ اگر محبت نہ ہو تو پھر انسان اور مشین میں کیا فرق ہے؟

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

نظم کی باطنی جہت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی تحریر کرتے ہیں:-

یہ نظم بظاہر رومانی جذبے کی حامل معلوم ہوتی ہے لیکن علامہ نے اس میں درحقیقت تصوّف کے اس نظریہ کی تبلیغ کی ہے کہ محبت ہی تخلیقِ عالم کی بنیادی عِلّت اور اصلِ کائنات ہے۔

ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بانگِ درا

نظم کی مسبّع ہیئت اور بنیادی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

اِس نظم کی ہیئت (ظاہری ساخت/بناوٹ) قابلِ توجہ ہے۔ مثنوی کے اشعار سے مسبّع (سات مصرعوں) جیسے بند بنائے ہیں۔ ہر بند کا ٹیپ کا مصرع (آخر میں دہرایا جانے والا خاص مصرع) باہم مقفّیٰ (ہم قافیہ) ہے۔ اِس نظم کا بنیادی تصوّر یہ ہے کہ حُسن و عشق دونوں لازم و ملزم ہیں۔ عشق سے حُسن کو رونق اور فروغ حاصل ہے اور حُسن، عشق کی گرمیٔ بازار کا موجب ہے۔

پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

یہ بند تشبیہِ مسلسل کی بہت عمدہ مثال ہے۔ تشبیہِ مسلسل (Extended / Continuous Simile) علمِ بیان کی وہ صورت ہے جس میں شاعر یا مصنف کسی ایک ہی چیز (مشبّہ) کو ایک کے بعد ایک، پے در پے کئی چیزوں (مشبّہ بہ) سے تشبیہ دے، یا تشبیہ کے مختلف پہلوؤں کو ایک تسلسل کے ساتھ آگے بڑھاتا چلا جائے۔


شعر 1

جس طرح ڈُوبتی ہے کشتیِ سیمینِ قمر
نورِ خورشید کے طوفان میں ہنگامِ سحَر

معانیالفاظ
چاند کی چاندنی جیسی سفید کشتی، مراد چاندکشتیِ سیمینِ قمر
سورج کی روشنینورِ خورشید
صبح کے وقتہنگامِ سحر

تشریح:

اے میرے محبوب! جس طرح چاند کی روشن کشتی (سیمینِ قمر) صبح کے وقت (ہنگامِ سحر) سورج کی تیز روشنی (نورِ خورشید) کے طوفان میں ڈُوب جاتی ہے۔

شعر 2

جیسے ہو جاتا ہے گُم نور کا لے کر آنچل
چاندنی رات میں مہتاب کا ہم رنگ کنول

معانیالفاظ
دوپٹا کا سِرا، پلُّو، دامن کا کنارہآنچل
چاندنی جیسے رنگ والا، سفیدمہتاب کا ہم رنگ

تشریح:

یا جیسے چاند (مہتاب) جیسا سفید رنگ رکھنے والا کنوَل کا پھول، چاندنی رات کی تیز روشنی میں میں نور کا آنچل لے کر نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے (یعنی چاند کا ہم رنگ ہونے کے باعث چاندنی میں صاف نظر نہیں آتا)۔

شعر 3

جلوۂ طُور میں جیسے یدِ بیضائے کلیم
موجۂ نگہتِ گُلزار میں غنچے کی شمیم

معانیالفاظ
کوہِ طُور کی تجلّیجلوۂ طُور
سفید / روشن ہاتھ، حضرت موسیؑ کے یدِ بیضا والے واقعہ کی طرف اشارہ ہےیدِ بیضا
کلیم اللہ: حضرت موسیؑ کا لقب، کلیم اللہ یعنی اللہ تعالی سے کلام کرنے والاکلیم
موج، لہرموجہ
باغ کی خوشبو، مہکنگہتِ گُلزار
کلی، بند پھولغُنچہ
پھول کی خوشبوشمیم

تشریح:

یا جس طرح کوہِ طُور پر نُورِ خداوندی کی ضو (روشنی) سے حضرت موسیؑ کا سفیدی مائل ہاتھ (یدِ بیضا یعنی سفید ہاتھ۔ قرآن پاک میں ہے کہ حضرت موسیؑ آستین سے ہاتھ نکالتے تھے تو وہ اللہ تعالی کے حکم سے روشن ہو جاتا تھا) ایک طرح سے ناپید ہو جاتا ہے یعنی نُورِ خداوندی کی موجودگی میں نظر نہیں آتا۔ جلوۂ طُور سے اللہ تعالی کی صفات مُراد ہیں۔

یا جیسے طلوعِ سحر کے وقت گُلستان کے پھولوں کی اجتماعی خوشبو کی لہر (موجۂ نگہتِ گُلزار) ایک چھوٹے سے پھول کی انفرادی خوشبو (شمیم) کو اپنے دامن میں لپیٹ لیتی ہے (پورے باغ میں کے مقابلے میں ایک کلی کی مہک معمولی یا بہت چھوٹی چیز ہے)۔

شعر 4

ہے ترے سیلِ محبّت میں یونہی دل میرا

معنیلفظ
محبّت کا سیلاب، محبّت کی طغیانیسیلِ محبّت

تشریح:

اسی طرح میرا دِل بھی تیری محبت کے سیلاب (سیلِ محبّت) میں خود کو گُم کر رہا ہے۔

پہلے بند کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح سورج کی روشنی کے سامنے چاند کی اور چاند کی روشنی کے سامنے کنوَل کی اور جلوۂ طُور کے سامنے یدِ بیضا کی اور باغ کی خوشبو کے سامنے کلی کی خوشبو کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اُسی طرح تیرے سیلِ محبّت (محبت کا سیلاب) کے سامنے میرے دِل کی کوئی حیققت نہیں ہے۔ یعنی تُو اس قدر حسین و جمیل ہے کہ تیری ایک نگاہ مجھے دیوانہ بنا دینے کے لیے کافی ہے۔

بند نمبر 2

شعر 5

تُو جو محفل ہے تو ہنگامۂ محفل ہوں میں
حُسن کی برق ہے تُو، عشق کا حاصل ہوں میں

معانیالفاظ
محفل کی رونقہنگامۂ محفل
بجلیبرق
فصل، پیداوار، نتیجہحاصل

تشریح:

اے میرے محبوب! اگر تُو ایک محفل ہے (تیری ذات مرکزِ عشاق ہے) تو اس محفل کی رونق (ہنگامۂ محفل) میرے دم سے ہے (اگر عاشق نہ ہو تو محبوب کی محفل سُونی ہو جائے گی)۔ اگر تجھے بجلی قرار دیا جائے تو میری حیثیت اُس کھلیان (کھیت) کی ہے جسے بجلی اپنا تختۂ مشق بناتی ہے (یعنی جس پر بجلی گِرتی ہے۔ چونکہ محبوب عاشق کے دِل کو جلاتا ہے، اس لیے اقبالؔ نے محبوب کو برق سے تشبیہ دی ہے)۔

شعر 6

تُو سحَر ہے تو مرے اشک ہیں شبنم تیری
شامِ غربت ہوں اگر مَیں تو شفَق تُو میری

معانیالفاظ
آنسواشک
بے وطنی کی شامشامِ غُربت
غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر پھیل جانے والی سُرخیشفَق

تشریح:

اگر تجھے صبح کا وقت (وقتِ سحر) سمجھ لیا جائے تو میرے آنسو تیری شبنم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر میں مسافرت اور بے سر و سامانی کے عالم (یعنی عالمِ غربت) میں آنے والی شام ہوں تو میری شفق اور رنگینی کا سامان تجھ سے ہے۔

شعر 7

مرے دل میں تری زُلفوں کی پریشانی ہے
تری تصویر سے پیدا مری حیرانی ہے

معانیالفاظ
زُلفوں کا بکھرا ہوا ہونازُلفوں کی پریشانی
ظاہرپیدا
مکمل کھو جانا، حیرتحیرانی

تشریح:

تیری منتشر (پریشان / بکھری ہوئی) زلفوں کی طرح میرا دِل بھی مضطرب و پریشان رہتا ہے اور جب بھی میں تیری تصویر دیکھتا ہوں تو حیرانی میں ڈوب جاتا ہوں (محبوب کے انتہائی حُسن کے حوالے سے بات کی ہے)۔

شعر 8

حُسن کامل ہے ترا، عشق ہے کامل مرا

معنیلفظ
مکملکامل

تشریح:

تیرا حُسن درجۂ کمال تک پہنچا ہوا ہے، میرا عشق درجۂ کمال تک پہنچا ہوا ہے۔

اِس بند میں حُسن و عشق کا لازم و ملزم ہونا ثابت کیا ہے۔ یعنی یہ ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے۔ حُسن اگر انجمن ہے تو عشق اس انجمن کی رونق ہے اور رونق کے بغیر انجمن کا ہونا، نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔ حُسن اگر بجلی ہے تو عشق وہ حاصل مہیا کرتا ہے جسے بجلی جلاتی ہے۔ حُسن اگر صبح ہے تو اُس کے ساتھ شبنم بھی ہونی چاہیے، عشق کے آنسو شبنم کی کمی کو پُورا کر دیتے ہیں۔ شام کے لیے شفق کا ہونا ضروری ہے، اگر عشق پردیس کی شام بن جائے تو حُسن اس شام کی پیشانی پر شفق بن جاتا ہے۔ عشق کا دِل پریشان ہوتا ہے۔ زُلفیں اُسی وقت تک حسین معلوم ہوتی ہیں جب تک پریشان رہتی ہیں، گویا عشق کے دِل اور حُسن کی زلفوں میں پریشانی مشترک ہے۔

مطلب یہ ہے کہ اگر تُو اپنے حُسن میں بے نظیر ہے تو میں اپنے عشق میں بے مثال ہوں۔ اگر تیرا کوئی ثانی نہیں ہے تو میرا بھی کوئی ثانی نہیں ہے۔

بند نمبر 3

شعر 9

ہے مرے باغِ سخن کے لیے تُو بادِ بہار
میرے بیتاب تخیّل کو دیا تُو نے قرار

معانیالفاظ
شاعر کا باغ یعنی شاعریباغِ سُخن
موسمِ بہار میں چلنے والی ہوابادِ بہار
بے قرار، بے چین، مضطرببیتاب
تصوّر کی طاقت، ددوچنے کی طاقت و قوّت، خیال میں لانا، سوچ یا دھیان کی کیفیت، وہ خیال جو شاعر نظم کرتا ہےتخیّل
سکون، چینقرار

تشریح:

اے محبوب! میری شاعری کے گُلستان (باغ) میں تیرا وجود موسمِ بہار کی ہوا (بادِ بہار) کی مانند ہے۔ جیسے موسمِ بہار میں نئے نئے پھول کھِلتے ہیں، بالکل اسی طرح تیری محبت میرے دِل میں بہترین شاعرانہ تخیّلات پیدا کرتی ہے۔ واضح ہو کہ عشق شعر و شاعری کے لیے سب سے بڑا محرّک ہے۔

میرے بے قرار تخیّل کو تیری محبت ہی کے طفیل ٹھہراؤ اور توازن حاصل ہوا ہے۔ میرے خیالات کسی کے ذکر میں ادا کیے جانے کے مضطرب (بے چین) تھے۔ اب جب تُو مِل گیا ہے تو میرا اضطراب جاتا رہا ہے۔ گویا تیری ذات میرے دِل کی تسکین کا موجب ہے۔

شعر 10

جب سے آباد ترا عشق ہوا سینے میں
نئے جوہر ہوئے پیدا مرے آئینے میں

معنیلفظ
خوبی، عمدگی، صفت، صلاحیتجوہر

تشریح:

جب سے تیرا عشق میرے سینے میں آباد ہوا ہے اور میرے دِل میں تیری آرزو پیدا ہوئی ہے، تب سے میرے آئینے میں نئے نئے جوہر پیدا ہورہے ہیں۔ اِس استعارے سے مُراد یہ ہے کہ تیرے عشق کی بدولت میرے خیالات میں بڑی عظمت و بلندی پیدا ہو گئی ہے اور اس دم سے میرے فن میں بھی نئی تخلیقی صلاحیتیں رونما ہونے لگی ہیں۔

شعر 11

حُسن سے عشق کی فطرت کو ہے تحریکِ کمال
تجھ سے سر سبز ہوئے میری اُمیدوں کے نہال

معانیالفاظ
مزاج، طبیعتفطرت
کمال حاصل کرنے کی رغبتتحریکِ کمال
اُمیدوں کے پودےاُمیدوں کے نہال

تشریح:

مجھے اس حقیقت سے آگاہی حاصل ہوئی ہے کہ ذاتِ محبوب (حُسن) ہی عشق کو درجۂ کمال تک پہنچاتی ہے ، اور حُسن کے بغیر عشق کی تکمیل کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ چنانچہ (اے محبوب!) میری اُمیدوں اور آرزوؤں کے پودے (نہال) تیری ہی وجہ سے سرسبز و شاداب ہوئے ہیں۔ حُسن نہ ہو تو عشق کا وجود کیونکر ہوسکتا ہے۔ جب حُسن ہو تو عشق بھی وجود میں آجاتا ہے اور بڑے بڑے کارنامے انجام دینے لگتا ہے۔ یہ گویا اُمیدوں کے درخت کا سرسبز ہونا ہے۔

شعر 12

قافلہ ہو گیا آسُودۂ منزل میرا

معنیلفظ
جسے ٹھکانے پر پہنچ کر آرام مِل جائےآسُودۂ منزل

تشریح:

چنانچہ تجھے پاتے ہی میرا قافلہ منزل تک رسائی میں کامیاب ہو گیا۔

اِس بند میں اقبالؔ نے یہ بتایا ہے کہ معشوق کی ذات، عاشق کے مخفی جوہروں (صلاحیتوں) کو اُبھارتی ہے اور اُس کو مرتبۂ کمال تک پہنچاتی ہے۔

تبصرہ

یہ کلام حُسن اور عشق کے باہمی ربط اور ان کی تخلیقی ہم آہنگی کا صوفیانہ اور فلسفیانہ شاہکار ہے۔ علامہ اقبال نے واضح کیا ہے کہ کائنات کا سارا نظام اور حُسن کی تجلی دراصل عشق کے باطنی اضطراب اور طلب سے عبارت ہے۔ حُسن جب عشق کے آئینے میں جلوہ گر ہوتا ہے تو انسان کا محدود وجود فنا کی وادیوں سے گزر کر کمال اور بقائے دوام کی منزل پا لیتا ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *