Skip to content

بانگِ درا 149: فردوس میں ایک مُکالمہ

فہرست

تعارف

نظم ”فردوس میں ایک مُکالمہ“ میں اقبالؔ جنت کے اندر شیخ سعدی شیرازی اور مولانا الطاف حسین حالی کے مابین برِصغیر کے مسلمانوں کے احوال پر ایک خوبصورت تمثیلی مکالمہ قلمبند کرتے ہیں۔

شیخ سعدی شیرازیؒ کے اشعار کی تضمین اور اس تمثیلی مکالمے کے پس منظر پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس بغایت مؤثر نظم میں علامہ اقبال نے کمالِ خوبی کے ساتھ شیخ سعدیؒ کے مشہور شعر پر تضمین کی ہے۔ اُنھوں نے اپنے جذباتِ ملی کے اظہار کے لیے جن دو بزرگوں کو منتخب کیا ہے، یہ دونوں ہماری مِلّی تاریخ میں اس اعتبار سے بہت بلند مقام رکھتے ہیں۔ وہ کون سا تعلیم یافتہ مسلمان ہے جس نے حالیؔ کی مسدّس اور سعدیؔ کی گلستان نہیں پڑھی؟

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

تضمین کی لغوی و اصطلاحی تعریف اور شعری خوبیوں کی وضاحت کرتے ہوئے نعمتِ کائنات میں درج ہے:-

نوٹ: تضمین کے لغوی معنی ہیں شامل کرنا، ملانا، جگہ دینا۔ اصطلاحِ شعراء میں کسی مشہور مضمون یا شعر کو اپنے شعر میں داخل کرنا، چسپاں کرنا، شعر پر مصرع لگانا۔ شاعر جب کسی دوسرے شاعر کے کلام، شعر یا کسی مصرعے سے متاثر ہوتا ہے تو اس پر کچھ اضافہ کرکے اپنا لیتا ہے۔ شعری تخلیق کا یہ عمل تضمین کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

نعمتِ کائنات
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

ہاتِف نے کہا مجھ سے کہ فردوس میں اک روز
حالیؔ سے مخاطب ہوئے یوں سعدیِؔ شیراز

معانیالفاظ
لغوی معنی پکارنے والا، غیب سے آواز دینے والا فرشتہ، مراد ہے وہ فرشتہ جو بعض اوقات انسان کو مخفی امور پر مطلع کردیتا ہےہاتف
جنّت الفردوسفردوس
بات کرتے وقت دوسرے کو متوجّہ کرنامخاطب ہونا

تشریح:

ہاتف نے مجھے خبر دی کہ ایک روز جنت میں سعدیِ شیرازی، مولانا الطاف حسین حالی سے یوں مخاطب ہوئے۔

شعر 2

اے آنکہ ز نورِ گُہرِ نظمِ فلک تاب
دامن بہ چراغِ مہ و اخترزدہ ای باز!

تشریح:

سعدیؔ (حالیؔ سے): اے کہ وہ شاعر! کہ تُو نے اپنی آسمان کو چمکا دینے والی نظموں (شاعری) کے موتیوں سے چاند تاروں کے چراغ گُل کر دیے ہیں / بُجھا دیے ہیں۔

شعر 3

کچھ کیفیتِ مسلمِ ہندی تو بیاں کر
واماندۂ منزل ہے کہ مصروفِ تگ و تاز

معانیالفاظ
حالت، حالکیفیّت
ہندوستان کا مسلمانمُسلمِ ہندی
بتا، سُنابیاں کر
منزل سے تھک کر دُور بیٹھ جانے والا، پیچھے رہ جانے والاواماندۂ منزل
بھاگ دوڑ، دوڑ و دھوپتگ و تاز

تشریح:

ذرا مجھے ہندی مسلمانوں کی حالت و کیفیت تو بتا، کہ اُن پر تیری نظموں کا کیا اثر مرتب ہوا؟ آیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں یا اپنی ترقی کے لیے کچھ کوشش کر رہے ہیں؟

شعر 4

مذہب کی حرارت بھی ہے کچھ اس کی رگوں میں؟
تھی جس کی فلک سوز کبھی گرمیِ آواز

معانیالفاظ
دینِ اسلام کی تعلیمات پرعمل کرنے کا جوش اور جذبہمذہب کی حرارت
آسمان جلا ڈالنے والیفلک سوز
صدا کی حرارت۔ مراد ہے نعرۂ تکبیر سےگرمیِ آواز

تشریح:

جس قوم کے نعرۂ تکبیر سے کسی زمانہ میں بحر و بر میں لرزہ پڑ جاتا تھا، اب اُس قوم کے مذہبی جوش کا کیا عالم ہے؟

شعر 5

باتوں سے ہُوا شیخ کی حالیؔ متاَثّر
رو رو کے لگا کہنے کہ ”اے صاحبِ اعجاز

معنیلفظ
معجزہ دِکھانے والا، ایسا شاعر جس کا کلام معجزے سے کم نہ ہوصاحبِ اعجاز

تشریح:

سعدیؔ کا سوال سُن کر حالی پر رِقّت طاری ہوگئی، اور وہ رو رو کر سعدیؔ سے کہنے لگے کہ اے صاحبِ اعجاز!

صاحبِ اعجاز: اقبالؔ نے سعدیؔ کو ”صاحبِ اعجاز“ اس لیے کہا کہ اُن کی ”گلستان“ بلاشبہ فارسی میں لاجواب کتاب ہے۔

شعر 6

جب پیرِ فلک نے وَرق ایّام کا اُلٹا
آئی یہ صدا، پاؤ گے تعلیم سے اعزاز

معانیالفاظ
بوڑھا آسمان، قدیم آسمانپیرِ فلک
زمانے میں انقلاب پیدا کر دیاورق ایّام کا اٗلٹا
آوازصدا
مرتبہ، شان و شوکت، عزّتاعزاز

تشریح:

حالیؔ (سعدیؔ سے): جب بوڑھے آسمان نے زمانے کی کتاب کا ورق اُلٹا اور مادی قوتیں برسرِ اقتدار آگئیں یعنی جب انگریزوں نے ہندوستان فتح کر لیا تو اُنہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اگر تُم عزت اور رُتبہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اسلامی علوم ترک کر کے انگریزی تعلیم حاصل کرو۔

شعر 7

آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل
دنیا تو ملی، طائرِ دیں کر گیا پرواز

معانیالفاظ
مذہبی خیال، ایمانعقیدہ
مقصد کی جمع۔ ارداے، نصب العینمقاصد
زلزلہ پیدا ہو جانا، بنیادیں ہِل جاناتزلزل
دین سے محبت ختم ہو گئی، دین کا پرندہ اُڑ گیاطائرِ دیں کر گیا پرواز

تشریح:

مسلمانوں نے اس مشورے پر عمل کیا۔ یورپی تعلیم کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں میں ”ڈپٹی کلکٹر“ تو پیدا ہونے لگے ہیں لیکن عقیدوں میں ضعف (ناپُختگی) نمودار ہوگیا۔ اُنہیں دنیاوی و مادی فائدے تو بہت پہنچے ہیں لیکن دین سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

شعر 8

دِیں ہو تو مقاصد میں بھی پیدا ہو بلندی
فطرت ہے جوانوں کی زمیں گیر زمیں تاز

معانیالفاظ
مقصد کی جمع۔ ارداے، نصب العینمقاصد
زمیں فتح کرنے والی، مراد بہت پستزمیں گیز
زمیں پر دوڑنے والی، زمیں پر چلنے والیزمیں تاز

تشریح:

جس چیز سے مسلمانوں کے ارادوں میں بلندی پیدا ہو سکتی تھی، وہ تو دین ہی تھا۔ چونکہ دین رخصت ہو گیا ہے، اس لیے اب قوم کے نوجوانوں کی فطرت بالکل پست ہو گئی ہے۔

شعر 9

مذہب سے ہم آہنگیِ افراد ہے باقی
دِیں زخمہ ہے، جمعیّتِ مِلّت ہے اگر ساز

معانیالفاظ
لوگوں کا اِتفاق، موافقتہم آہنگیِ افراد
مضراب، ساز کو بجانے والازخمہ
قوم کا اِتّحادجمعیّتِ مِلّت

تشریح:

قوم کے اندر، مذہب ہی سے ہم آہنگی اور اتحاد پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر دین سلامت نہ رہے تو مِلت کا وجود بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔ اگر مِلّت کی جمعیت کو ساز سے تشبیہ دی جائے تو دین اُس ساز کے لیے زخمہ (وہ آلہ جس سے ساز بجایا جاتا ہے) کا کام کرتا ہے۔ واضح رہے کہ جس طرح زخمہ کے بغیر ساز میں سے سُر پیدا نہیں ہو سکتا، بلکل اُسی طرح دین کے بغیر قوم میں اتحاد باقی نہیں رہ سکتا۔

شعر 10

بنیاد لرَز جائے جو دیوارِ چمن کی
ظاہر ہے کہ انجامِ گُلستاں کا ہے آغاز

معانیالفاظ
ہِل جانالرز جانا
باغ کی دیوار۔ مُراد نوجوانانِ اُمّتِ مُسلمہدیوارِ چمن
اخیر، اِختتامانجام

تشریح:

اگر چمن کی دیوار ہِل جائے تو ظاہر ہے کہ باغ کی ویرانی کا آغاز ہوگیا ہے۔ دیوار مسلم نوجوانوں کا اور گلستان ملتِ اسلامیہ کا استعارہ ہے۔ جب ملت کے نوجوان مذہب سے بیگانہ ہو جائیں گے تو ظاہر ہے، مِلت کو وجود جلد ختم ہوجائے گا۔

شعر 11

پانی نہ مِلا زمزمِ ملّت سے جو اس کو
پیدا ہیں نئی پَود میں الحاد کے انداز

معانیالفاظ
قومی روایات یا شعائرِ اسلامیزمزمِ مِلّت
نئی نسلنئی پود
کفر، بے دینیالحاد

تشریح:

چونکہ نئی مسلم نسل کو زم زم سے پانی نہیں مِلا (انہیں دینِ اسلام سے کوئی رغبت نہیں رہی) اس لیے اُس میں کفر و الحاد کے انداز پیدا ہوگئے ہیں۔

شعر 12

یہ ذکر حضورِ شہِ یثرِبؐ میں نہ کرنا
سمجھیں نہ کہیں ہند کے مسلم مجھے غمّاز

معانیالفاظ
باتذکر
حضور اکرم ﷺ کی خدمت میںحضورِ شہِ یثرب ﷺ
چُغل خور، چُغلی کھانے والاغمّاز

تشریح:

شیخ صاحب! حقیقت آپ کے رو برو رکھ دی ہے۔ لیکن خدا کے لیے آپ (سعدیؔ) حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں اس بات کا تذکرہ نہ کیجیے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہند کے مسلمان مجھے چغل خور (غمّاز) سمجھ لیں۔

شعر 13

”خُرما نتواں یافت ازاں خار کہ کشتیم
دیبا نتواں بافت ازاں پشم کہ رشتیم“

تشریح:

آخر میں آپ (سعدیؔ) ہی کے شعر کے حوالے سے کہتا ہوں:-

ترجمہ: جو کانٹے ہم نے بوئے ہیں اُن سے کھجوریں کیسے حاصل ہو سکتی ہیں؟ اور جو اون ہم نے تیار کی ہے اُس سے مخمل کا تھان کیسے تیار ہوسکتا ہے؟

یعنی جب ہم کافروں کا مقرر کردی نصابِ تعلیم پڑھ رہے ہیں تو ہمارے اندر مسلمانوں کا رنگ (اسلام کا جذبہ) کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟

تبصرہ

یہ ظریفانہ مگر عبرت ناک تمثیلی نظم دوٹوک طور پر واضح کرتی ہے کہ عمل اور محنت کے بغیر قوموں کی تقدیر میں کوئی معجزاتی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ کانٹے بو کر کھجوروں کی اُمید رکھنا اور کھُردرے اون سے ریشم بننے کی توقع کرنا عقل اور فطرت کے قوانین کے خلاف ہے؛ جیسا بوؤ گے ویسا ہی کاٹو گے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *