Skip to content

بانگِ درا 47: بچہ اور شمع

فہرست

تعارف

نظم ”بچہ اور شمع“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کے پہلے دور کی ایک نہایت دلکش اور تمثیلی فلسفیانہ نظم ہے۔ اِس میں علامہ اقبال نے ایک معصوم بچے کے شمع کی لو کو حیرت سے دیکھنے کے عمل سے انسانی روح کے ازلی وطن اور نورِ مطلق کی یاد کا فلسفہ اخذ کِیا ہے۔

نظم کی اشاعتِ اول اور بچہ و شمع کے استعارے پر مولانا غلام رسول مہر اور ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی تحریر کرتے ہیں:-

یہ نظم 1905ء کے ”مخزن“ میں شائع ہوئی تھی اور بہ ظاہر اِس میں کوئی رد و بدل نہ ہوا۔ نظم کی اشاعت سے بیشتر علامہ اقبال ولایت جا چُکے تھے۔ اِس نظم میں اقبالؔ نے بچہ اور شمع کے حوالے سے یا استعارے میں یہ کہنا چاہا ہے کہ روحِ انسانی حُسنِ مطلق اور نورِ حقیقی کی تلاش اور اُس کے حصول میں بڑی بے قراری اور حیرانی کے ساتھ مصروف رہتی ہے۔ اُس کی یہ بے قراری و سرگردانی ایک فطری امر ہے۔

مولانا غلام رسول مہر اور ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی، شرح بانگِ درا
سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

کیسی حیرانی ہے یہ اے طفلکِ پروانہ خُو!
شمع کے شعلوں کو گھڑیوں دیکھتا رہتا ہے تو

معانیالفاظ
چھوٹا سا بچہطِفلک
پتنگے جیسی عادت والاپروانہ خُو
جمع گھڑی، دیر تکگھڑیوں

تشریح:

اقبالؔ ایک معصوم بچے سے سوالیہ انداز میں مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ اے پروانے جیسی فطرت رکھنے والے بچے! یہ کیسی حیرانی ہے کہ تم شمع کے شعلوں کو دیر تک ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے رہتے ہو۔ علامہ اِس حیرت کو محض بچوں کی سادہ تجسس نہیں سمجھتے بلکہ اسے اُس بچے کی باطنی کشش اور فطری میلان کی علامت قرار دیتے ہیں، جو روشنی اور حُسن کی طرف خود بخود کھِنچا چلا جاتا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے پروانہ شمع کی طرف مائل ہوتا ہے۔

شعر 2

یہ مری آغوش میں بیٹھے ہوئے جُنبش ہے کیا
روشنی سے کیا بغَل گیری ہے تیرا مدّعا؟

معانیالفاظ
ہلنا جُلنا، حرکتجُنبِش
گلے ملنا، ہم آغوشیبغل گِیری
مقصدمُدّعا

تشریح:

اے بچے! میری آغوش میں بیٹھے ہوئے تیرے اندر یہ کیسی جُنبِش اور بے چینی ہے، یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تُو شمع سے ہم آغوش ہونے کا خواہاں ہو۔

شعر 3

اس نظارے سے ترا ننھّا سا دل حیران ہے
یہ کسی دیکھی ہُوئی شے کی مگر پہچان ہے

معانیالفاظ
چیزشے
شایدمگر

تشریح:

شمع کا نظارہ تیرے لیے حیرانی کا سبب بنا ہوا ہے اور تُو اِس سے یوں حیرت زدہ ہو کر رہ گیا ہے جیسے پہلے یہ نظارہ تیرا دیکھا ہوا ہے اور اب اسے از سرِ نو شناخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تُو بار بار شمع کی طرف لپَک رہا ہے۔

بند نمبر 2

شعر 4

شمع اک شعلہ ہے لیکن تُو سراپا نور ہے
آہ! اس محفل میں یہ عُریاں ہے تُو مستور ہے

معانیالفاظ
مکمل روشنیسراپا نور
برہنہ، ننگا، ظاہرعُریاں
چھُپا ہوا، پوشیدہمستُور

تشریح:

اے ننھے بچے! شمع تو محض ایک شعلہ کی حیثیت رکھتی ہے جب کہ تُو سر تا پا نور ہے۔ فرق محض اس قدر ہے کہ شمع کی روشنی تو صاف نظر آ سکتی ہے جب کہ تجھ میں نور کی جو ضو (روشنی) موجود ہے وہ چھُپی ہوئی ہے اور ہرکس و ناکس اُس کا نظارہ نہیں کر سکتا۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو تجھ میں اُس محبوبِ حقیقی کا جلوہ پوشیدہ ہے جسے دیکھنے کے لیے ظاہری آنکھ نہیں‘ بصیرت کی ضرورت ہے۔

شعر 5

دستِ قُدرت نے اسے کیا جانے کیوں عُریاں کیا!
تُجھ کو خاکِ تِیرہ کے فانوس میں پنہاں کیا

معانیالفاظ
ہاتھدست
برہنہ، ننگا، ظاہرعُریاں
سیاہ مٹی کا شمع دان، مراد جسمِ خاکیخاکِ تیرہ کا فانوس
چھُپا ہوا، پوشیدہپِنہاں

تشریح:

یہ شعر انسانی وجود کی پیچیدگی اور روحانی حقیقت کی تہہ داری کو بیان کرتا ہے۔

علامہ سوال اُٹھاتے ہیں کہ خدا نے شمع کی روشنی کو تو کھُلا اور عیاں چھوڑا، لیکن انسان کے اندر موجود نور (روح یا باطنی حقیقت) کو سیاہ مٹی کے فانوس یعنی جسم میں کیوں چھُپا دیا؟ شمع کی لَو ہر کسی کو نظر آتی ہے لیکن انسان کا اصل نور، اُس کی روحانی عظمت اور باطنی جوہر، محض ظاہری جسم کے پیچھے پوشیدہ ہے۔

یہاں اِس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کِیا گیا ہے کہ انسان کی اصل قدر و قیمت اُس کے ظاہر میں نہیں بلکہ اُس کے باطن میں ہے، جسے صرف بصیرت اور گہری نگاہ سے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تضاد قدرت کی حکمت کا اظہار ہے کہ جسمانی خول کے اندر روحانی جوہر محفوظ ہے، جو صرف اُن کے لیے قابلِ دریافت ہے جو سطحی نظر سے آگے دیکھ سکتے ہیں۔

شعر 6

نور تیرا چھُپ گیا زیرِ نقابِ آگہی
ہے غبارِ دیدۂ بینا حجابِ آگہی

معانیالفاظ
آگہی کا پردہ، جاننے کا نقابنقابِ آگہی
گرد خاکغبار
دیکھنے والی آنکھدیدۂ بینا
پردہحجاب
علم کا پردہ، جاننے کا نقابحجابِ آگہی

تشریح:

یہ شعر انسانی شعور اور معرفت کے ایک گہرے تضاد کو بیان کرتا ہے۔

فرماتے ہیں کہ انسان کا اصل نور (روحانی حقیقت) خود اس کی اپنی آگہی اور شعور کے پردے میں چھُپ گیا ہے، اور یہی آگاہی اور ادراک کی صلاحیت اُلٹا ایک رکاوٹ بن گئی ہے۔ جس طرح گرد و غبار آنکھ میں پڑ جائے تو انسان دیکھنے سے قاصر ہو جاتا ہے، اُسی طرح ہمارا ظاہری علم، احساس، اور فطری ادراک ہماری باطنی بصیرت کے لیے پردہ بن گیا ہے۔

یہ شعور جو ہمیں دُنیا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، وہی ہمیں اپنی اصل روحانی حقیقت سے غافل کر دیتا ہے۔ اقبالؔ یہاں بتانا چاہتے ہیں کہ حقیقی معرفت اور خدا شناسی کے لیے محض ظاہری علم اور سطحی شعور کافی نہیں، بلکہ گہری باطنی بصیرت کی ضرورت ہے جو اس پردے کو چاک کر کے اندر چھپے نور تک رسائی حاصل کر سکے۔ اِس کی مثال کُچھ یوں ہے:-

فرض کریں آپ کے سامنے ایک صاف شیشہ ہے اور اُس کے پیچھے خوبصورت منظر ہے۔ اگر شیشہ بالکل صاف ہو تو آپ منظر دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر شیشے پر گرد پڑ جائے یا شیشہ خود چمکنے لگے تو آپ کی نظر شیشے پر ہی رُک جاتی ہے اور پیچھے کا اصل منظر نظر نہیں آتا۔ بالکل ایسے ہی انسان کی ”آگہی“ یعنی اُس کا اپنا شعور، علم، احساسات، خیالات، یہ سب اتنے غالب ہو جاتے ہیں کہ انسان صرف اُنہی میں الجھا رہتا ہے۔ وہ سوچتا رہتا ہے کہ ”میں کیا ہوں، میں کیا جانتا ہوں، میرا علم، میری سمجھ“، یہ سب چیزیں ایک پردہ بن جاتی ہیں اور اِس پردے کی وجہ سے وہ اپنے اندر چھپا ہوا اصل نور (روحانی حقیقت) نہیں دیکھ پاتا، بالکل جیسے گرد آلود شیشے کی وجہ سے پیچھے کا منظر نظر نہیں آتا۔

شعر 7

زندگانی جس کو کہتے ہیں فراموشی ہے یہ
خواب ہے، غفلت ہے، سرمستی ہے، بے ہوشی ہے یہ

معانیالفاظ
بھول جانے کی حالتفراموشی
بہت نشے کی حالتسرمستی

تشریح:

جسے ہم عام طور پر زندگی سمجھتے ہیں، وہ دراصل زندگی نہیں بلکہ ایک گہری فراموشی اور غفلت کی حالت ہے۔ انسان دنیاوی معاملات، مادی خواہشات، اور روزمرہ کی مصروفیات میں اس قدر غرق ہو جاتا ہے کہ گویا خواب میں ہو، بے ہوش ہو، یا نشے کی سرمستی میں چل رہا ہو۔ اِس حالت میں وہ اپنی اصل حقیقت، اپنے مقصدِ تخلیق، اور اللہ کی معرفت سے مکمل طور پر غافل ہو جاتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:-

یہ ظاہری زندگی جسے لوگ ”جینا“ سمجھتے ہیں، اقبالؔ کی نظر میں روحانی موت کے مترادف ہے کیونکہ اس میں حقیقی شعور، بیداری اور خود آگاہی نہیں ہے۔ حقیقی زندگی صرف اُسی وقت شروع ہوتی ہے جب انسان اُس غفلت کی نیند سے بیدار ہو کر اپنے باطن کے نور کو پہچانے اور اپنے خالق سے رشتہ اُستوار کرے۔

بند نمبر 3

شعر 8

محفلِ قُدرت ہے اک دریائے بے پایانِ حُسن
آنکھ اگر دیکھے تو ہر قطرے میں ہے طوفانِ حُسن

معانیالفاظ
بزمِ ہستی، دُنیامحفلِ قدرت
بے کنارہ / غیر محدود دریادریائے بے پایاں
خوبصورتی کا سیلاب آناطوفانِ حُسن

تشریح:

یہ کائنات حسن و جمال کا ایک لامتناہی سمندر ہے جس میں ہر طرف خوبصورتی بکھری پڑی ہے۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ اگر انسان کے پاس دیکھنے والی آنکھ (بصیرت) ہو، تو وہ اِس کائنات کے ہر چھوٹے سے چھوٹے ذرّے، حتی کہ پانی کی ایک معمولی بوند میں بھی حُسن کا ایک طوفان دیکھ سکتا ہے۔

لیکن یہ خوبصورتی صرف انہی کو نظر آتی ہے جن کی نظر محض سطحی نہیں بلکہ گہرائی میں اُترنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ عام انسان اِس بے پایاں حسن کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی اندھا ہے کیونکہ وہ مادیت اور دنیاوی مصروفیات میں اِس قدر کھویا ہوا ہے کہ اُسے قدرت کے اس عظیم جمال کا احساس ہی نہیں ہوتا۔

ِاس موضوع پر ڈاکٹر خواجہ حمید یزدانی شرح بانگِ درا میں ذیل اشعار کا حوالہ دیتے ہیں:-

؎ برگِ درختانِ سبز پیشِ خداوندِ ہوش
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار

ترجمہ: سبز درختوں کا ایک ایک پتا ایک صاحبِ فہم و بصیرت کے لیے اس کردگار کی معرفت کی ایک ایک کتاب ہے۔
(سعدیؔ)

؎ گر چشم دل کشادہ شود اے شرف ترا
ہر ذرۂ جہاں شود آئینہ دارِ دوست

ترجمہ: اے شرفؔ! اگر تیرے دل کی آنکھ کھُلی ہو تو تجھے دنیا کے ہر ذرے میں اُس محبوبِ حقیقی کا جلوہ نظر آئے گا۔
(بو علی قلندرؔ)

؎ ہر گیاہے کہ از زمیں روید
”وحدہ لا شریک لا“ گوید

ترجمہ: زمین سے جو بھی گھاس اُگتی ہے‘ وہ اُس خالق کی توحید کا نعرہ لگاتی ہے۔
(فغانیؔ)

؎ بے نشان است کزونام و نشاں چیزے نیست
بہ خدا‘ غیرِ خدا در دو جہاں چیزے نیست

ترجمہ: وہ ذات ایک ایسی بے نشان ذات ہے‘ پردے میں ہے‘ کہ اُس کے بارے میں نام و نشان کی بات کرنا کوئی چیز نہیں۔ خدا کی قسم! دونوں جہانوں میں خدا کے سِوا اور کوئی نہیں ہے۔
(جامیؔ)

؎ جس راز سے انسان کو کئی فلسفے سوجھے
دیکھا تو پھول کی پتی پہ وہی رقم تھا

(احمد ندیم قاسمیؔ)

شعر 9

حُسن، کوہستاں کی ہیبت ناک خاموشی میں ہے
مِہر کی ضوگستری، شب کی سِیہ پوشی میں ہے

معانیالفاظ
پہاڑی، پہاڑ سے متعلقکوہستان
خوفناکہیبت ناک
سورجمہر
روشنی پھیلانا، نور پاشیضوگستری
راتشب
کالا لباس، مراد تاریکیسِیہ پوشی

تشریح:

حُسن صرف خوشنما اور دلکش چیزوں میں نہیں بلکہ کائنات کی ہر کیفیت میں موجود ہے، یہاں تک کہ اُن چیزوں میں بھی جو بظاہر خوفناک یا تاریک نظر آتی ہیں۔ پہاڑوں کی ہیبت ناک خاموشی میں بھی ایک عجیب حُسن پوشیدہ ہے، سورج کی چمک دمک اور روشنی کی پھیلاؤ میں بھی خوبصورتی ہے، اور یہاں تک کہ رات کی سیاہی اور اندھیرے میں بھی ایک خاص جمال چھپا ہوا ہے۔

اللہ کا حُسن ہر شکل، ہر رنگ اور ہر حالت میں جلوہ گر ہے، چاہے وہ روشنی ہو یا تاریکی، خاموشی ہو یا شور، سکون ہو یا ہیبت۔ لیکن یہ حُسن صرف اسی شخص کو نظر آتا ہے جو سطحی نظر سے آگے بڑھ کر کائنات کی ہر چیز میں خالق کے جلوے تلاش کرتا ہے۔ یہ بصیرت کا کمال ہے کہ انسان تضادات میں بھی وحدت اور خوفناک چیزوں میں بھی جمال دیکھ سکے۔

شعر 10

آسمانِ صبح کی آئینہ پوشی میں ہے یہ
شام کی ظُلمت، شفَق کی گُل فرو شی میں ہے یہ

معانیالفاظ
آئینے کی طرح صاف شفاف لِباسآئینہ پوشی
تاریکیظلمت
غروبِ آفتاب کے وقت آسمان پر پھیلنے والی سُرخیشفق
پھول بیچنا، پھول بکھیرناگُل فروشی

تشریح:

صبح کے لمحات میں جب آسمان نور اور روشنی کے ساتھ نظر آتا ہے تو یہ بھی حسن کا ایک منظر ہے، اسی طرح شفق کا نظارہ اور شام کے لمحات میں وارد ہونے والی تاریکی کو بھی حُسن سے تعبیر کیا جا سکتا ہے

شعر 11

عظمتِ دیرینہ کے مِٹتے ہُوئے آثار میں
طفلکِ ناآشنا کی کوششِ گُفتار میں

معانیالفاظ
پرانی شان و شوکتعظمتِ دیرینہ
ختم ہوتی ہوئی نشانیاں/یادگاریںمِٹتے ہوئے آثار
معصوم بچہطِفلکِ ناآشنا
بولنے کی کوششکوششِ گُفتار

تشریح:

حُسن تو ماضی کی عظمتوں کے اُن آثار میں بھی موجود ہے جو اب مِٹتے جا رہے ہیں اور بچہ جب بولنے کی سعی کرتا ہے، اُسے بھی حُسن حسن کے منظر سے تعبیر کِیا جا سکتا ہے۔

شعر 12

ساکنانِ صحنِ گُلشن کی ہم آوازی میں ہے
ننھّے ننھّے طائروں کی آشیاں سازی میں ہے

معانیالفاظ
باغ کے صحن میں رہنے والے۔ مراد پرندےساکنانِ صحنِ گلشن
پرندہطائر
گھونسلا بناناآشیاں سازی

تشریح:

باغوں میں جب یَک آواز ہو کر پرندے چہچہاتے اور گاتے ہیں اور یہی ننھے ننھے پرندے جس طرح اپنے گھونسلے بناتے ہیں، اُس عمل میں بھی حُسن موجود ہے۔

شعر 13

چشمۂ کُہسار میں، دریا کی آزادی میں حُسن
شہر میں، صحرا میں، ویرانے میں، آبادی میں حُسن

معنیلفظ
پہاڑوں سے نکلنے والا چشمہ / سوتا / جھرناچشمۂ کہسار

تشریح:

حُسن تو پہاڑوں سے برآمد ہونے والے چشموں اور تیز رو دریاؤں کے علاوہ شہروں‘ صحراؤں‘ ویرانوں اور پھر آبادی میں غرض ہر جگہ حُسن ہی حُسن بِکھرا ہوا ہے۔ ”دریا کی آزادی“ اس لیے کہا کہ اُسے کوئی روکنا چاہے تو روک نہیں سکتا اور جب جوش میں آتا ہے تو کناروں سے اُچھل کر باہر نکل آتا ہے۔ اِس کا عام منظر ایسا ہی ہے جس میں آزادی سب سے نمایاں ہوتی ہے۔

شعر 14

رُوح کو لیکن کسی گُم گشتہ شے کی ہے ہوس
ورنہ اس صحرا میں کیوں نالاں ہے یہ مثلِ جرس!

معانیالفاظ
کھوئی ہوئی چیزگُم گشتہ سے
شدید خواہشہوَس
رونے والی، فریادینالاں
گھنٹی کی طرح / مانندمثلِ جرس

تشریح:

اگرچہ یہ کائنات حُسن و جمال سے بھری پڑی ہے اور ہر طرف خوبصورتی بکھری ہوئی ہے، لیکن انسانی روح پھر بھی بے چین اور بے قرار رہتی ہے۔ اسے کسی گُم شُدہ چیز کی تلاش ہے، کسی ایسے حسن کی آرزو ہے جو ان تمام مناظر سے بالاتر ہے۔ یہ روح دنیا کے صحرا میں اونٹ کی گھنٹی کی طرح مسلسل آہ و فریاد کرتی رہتی ہے۔ کیونکہ وہ اصل، ابدی اور مطلق حسن یعنی اللہ کی تلاش میں ہے۔

دُنیا کی تمام خوبصورتیاں اس کے لیے کافی نہیں کیونکہ یہ سب محدود اور فانی ہیں، جبکہ روح کا تعلق اس لامحدود اور لافانی حسن سے ہے جس سے وہ الگ ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر نعمت اور ہر خوبصورتی کے باوجود انسان کے دل میں ایک خلا، ایک بے چینی اور ایک نہ ختم ہونے والی تڑپ موجود رہتی ہے جو صرف اپنے خالق کی معرفت اور قُربت سے ہی پُر ہو سکتی ہے۔

شعر 15

حُسن کے اس عام جلوے میں بھی یہ بے تاب ہے
زندگی اس کی مثالِ ماہیِ بے آب ہے

معانیالفاظ
ہر جگہ نظر آناعام جلوہ
بے چین، بے قراربے تاب
پانی سے باہر کی مچھلی جو تڑپتی ہے۔ مراد بے چینی اور بے قراریماہیِ بے آب

تشریح:

انسانی روح کے ارد گرد اللہ کے حُسن کے جلوے ہر جگہ بکھرے ہوئے ہیں، کائنات کا ذرہ ذرہ اُس کی نشانی ہے، لیکن پھر بھی روح بے چین اور بے قرار ہے کیونکہ یہ بالواسطہ جلوے اسے مطمئن نہیں کر سکتے۔ اقبالؔ کہتے ہیں کہ روح کی حالت اس مچھلی کی طرح ہے جسے پانی سے باہر نکال دیا گیا ہو۔ جس طرح مچھلی کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے اور اس کے بغیر وہ تڑپتی رہتی ہے، اسی طرح انسانی روح کا اصل تعلق اللہ کی ذات سے ہے اور اس سے جدائی میں وہ ہمیشہ بے قرار رہتی ہے۔

دُنیا کی تمام خوبصورتیاں محض اشارے اور نشانیاں ہیں، لیکن روح اصل، محبوبِ حقیقی کو بالمشافہ دیکھنا چاہتی ہے، اُس کی قربت چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دُنیا کی ہر نعمت کے باوجود انسان کے اندر ایک مسلسل تڑپ اور بے چینی موجود رہتی ہے جو صرف اللہ کے قُرب اور وصال سے ہی ختم ہو سکتی ہے۔

نوٹ: علامہ اقبالؔ نے اسی خیال کو نظم ”تصویر و مصوّر“ میں بھی پیش کیا ہے، جہاں وہ مصور (خالق) سے تصویر (مخلوق) کی نسبت اور اُس کے دیدار کی تڑپ کو بیان کرتے ہیں۔ یوں روح کی یہ بے قراری محض ایک شاعرانہ کیفیت نہیں، بلکہ ایک بنیادی حقیقت ہے۔

تبصرہ

یہ نظم روح کے ماورائی نژاد اور اُس کی باطنی تڑپ کا ایک خوبصورت فلسفیانہ بیان ہے۔ اقبالؔ نے ایک بچے کے فطری تجسس کے ذریعے یہ حقیقت واضح کی ہے کہ انسان کا اصل وطن یہ مادی جہاں نہیں ہے۔ دُنیا کی تمام تر رعنائیاں مل کر بھی انسان کی باطنی تشنگی کو نہیں بُجھا سکتیں کیونکہ اُس کی روح اپنے ازلی سرچشمے کی طلب گار ہے۔

بچہ اور شمع کے تمثیلی پردے میں جذبۂ جستجو کے اظہار پر پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

اِس دِلکش اور بلیغ نظم میں علامہ اقبال نے بچہ اور شمع کے پردہ میں اپنی جستجو اور تلاش کے جذبات کا اظہار کِیا ہے۔ خلاصہ یا بنیادی تصور اس نظم کا یہ ہے کہ روحِ انسانی حُسنِ مطلق کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ یہ کائنات سراپا حُسن و جمال ہے‘ ہر شے میں حُسن موجود ہے اور حُسن و جمال کسی ایسی ذات کا پرتو ہے جو منبعِ حُسن ہے یعنی حُسنِ مطلق ہے۔ پس انسانی روح فطری طور پر اُسی حُسنِ مطلق کو حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ تصور اقبال کے نظامِ افکار میں بنیادی مرتبہ رکھتا ہے اور اس نکتہ کو انہوں نے اپنی تمام تصانیف میں مختلف طریقوں سے بیان کِیا ہے۔ مثلاً زبورِ عجم میں لِکھتے ہیں:-

؎ گرفتم اینکہ جہاں خاک و ما کفِ خاکیم
بہ ذرہ ذرہ ما درد جستجو ز کجاست؟

ترجمہ: مانا کہ یہ جہاں خاک ہے اور ہم بھی مُٹھی بھر خاک ہیں؛ مگر ہماری خاک کے ذرے ذرے میں یہ تلاشِ حق کا درد کہاں سے پیدا ہو گیا؟
(زبورِ عجم: دُعا)

پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *