Skip to content

بالِ جبریل 158: پنجاب کے دہقان سے

تعارف

نظم ”پنجاب کے دہقان سے“ مجموعۂ کلام ”بالِ جبریل“ کا ایک تازیانہ صفت اور بیدار کن کلام ہے، جس میں علامہ اقبال نے پنجاب کے صدیوں سے غافل اور محکوم کسان کو نسلی و قبائلی بتوں سے نکل کر ایمانی خودی کی پہچان کا درس دیا ہے۔

اقبالؔ دہقان سے پوچھتے ہیں کہ تُو ہزاروں سال سے خاک سے کیوں کھیل رہا ہے جبکہ تیری خاک کے اندر خودی کا انگارہ دب چکا ہے، اب سحر کی اذان ہو چکی ہے اس لیے جاگ اُٹھ! وہ دہقان کو جھنجھوڑتے ہیں کہ اپنی قدر پہچان، برادریوں، قومیتوں اور رسومِ کہن کی زنجیروں کو توڑ ڈال؛ کیونکہ سچا دین اور اصل فتح یہ ہے کہ دنیا میں توحید بے نقاب ہو جائے، اور وہ اپنے جسم کی مٹی میں دل کا بیج بوئے جس سے حیاتِ حقیقی کا شجر پروان چڑھے۔

پنجاب کے پسے ہوئے کسان کی حالتِ زار اور زرعی جاگیرداری کے تضادات پر اسرار زیدی تحریر کرتے ہیں:-

اِس نظم میں علامہ اقبال نے اپنے گرد و پیش کے مسائل کا جس دِل سوزی مگر حقیقت پسندی کے ساتھ جائزہ لیا ہے وہ ایک طرف تو اس امر کا غماز ہے کہ وہ عصری صورتِ حال پر گہری نظر رکھتے تھے۔ دوسرا یہ کہ شعر میں اُن کا اظہار ہمیشہ اپنے نقطۂ نظر کے حوالے سے کرتے ہیں۔ اُن کی شاعری عملاً ایک پیغام کی حیثیت رکھتی ہے۔ زیرِ تشریح نظم کے اشعار میں جہاں وہ پنجاب کے دہقان کی کیفیات اور ان کے مسائل کا ذکر کرتے ہیں، وہاں ان کو بیداری (ترقی اور سربلندی) کا پیغام بھی دیتے ہیں۔

اسرار زیدی، شرح بالِ جبریل
سماعت فرمائیے
YouTube video

تشریح

شعر 1

بتا کیا تری زندگی کا ہے راز
ہزاروں برس سے ہے تُو خاک باز

معانیالفاظ
بھیدراز
خاک چھاننے والا، مراد غربت کی زندگی بسر کرنے والاخاک باز

تشریح:

اے دہقان (دیہات یا گاؤں کا باشندہ، کسان، کاشتکار)!

ہزارہا سال سے تُو خاک چھان رہا ہے اور غذائی اجناس پیدا کر رہا ہے لیکن اتنا بتا دے کہ کیا تیری زندگی ہمیشہ اسی عمل تک محدود رہے گی؟ نہ جانے تُو اسی پر کیوں اکتفا کیے ہوئے ہے جب کہ تُو زندگی کی تمام سہولتوں سے محروم ہے۔ کیا تُو نے اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں سوچا ہے؟

شعر 2

اسی خاک میں دب گئی تیری آگ
سحَر کی اذاں ہوگئی، اب تو جاگ!

معانیالفاظ
مٹیخاک
صبح کی اذاںسحر کی اذاں

تشریح:

تجھ میں جوش و عمل کا جو جذبہ تھا، کیا وہ اس مٹی کی نذر ہو گیا ہے کہ جس کو تُو قابلِ کاشت بناتا ہے۔ اب تو مایوسیوں کا اندھیرا دُور ہو کر اُمید کی نئی کِرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ دنیا میں ایک نیا دور آ گیا ہے، ہر ملک کے عوام میں بیداری کے باعث جوش و ولولہ پیدا ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں ہر ملک کے عوام اپنے حقوق کے حصول کی خاطر بیدار ہو کر اوستحصالی قوتوں کے خلاف جد و جہد کر رہے ہیں۔ اب تیرے لیے بھی لازم ہے کہ خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر اپنے لیے عملی جد و جہد کرے۔

شعر 3

زمیں میں ہے گو خاکیوں کی برات
نہیں اس اندھیرے میں آبِ حیات

معانیالفاظ
اگرچہگو
خاکی کی جمع، مراد انسانخاکیوں
رزق، روزی، حصہبرات
وہ روایتی پانی جسے پی کر انسان ہمیشہ زندہ رہتا ہےآبِ حیات

تشریح:

اگرچہ ہر انسان اپنا حصہ (رزق) زمین ہی سے حاصل کرتا ہے، اس لیے ذراعت (کاشتکاری) بھی ضروری ہے لیکن انسان جسم کے علاوہ روح بھی تو رکھتا ہے اور روح کی غذا (آبِ حیات: وہ روایتی پانی جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ اس کا ایک قطرہ پینے کے بعد انسان امر ہو جاتا ہے، مرتا نہیں ہے) اس زمین (اندھیرے) سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ فصلیں انسان کو ہمیشہ زندہ رکھنے کی اہل نہیں ہوتیں۔ زندگی محض یہ تو نہیں کہ فصل پیدا ہو اور اس سے پیٹ بھر لیا۔ زندگی کا مقصد تو کچھ اور بھی ہے۔

شعر 4

زمانے میں جھُوٹا ہے اُس کا نِگیں
جو اپنی خودی کو پرکھتا نہیں

معانیالفاظ
نقلیجھوٹا
نگینہ، انگوتھی کا نَگ، قیمتی پتھر کا ٹُکڑانگِیں
خودی کی آزمائش کرناخودی کو پرکھنا

تشریح:

زندگی کا حقیقی مقصد یہ ہے کہ انسان اپنی خودی کو پہچانے، اس کا تحفظ کرے اور لمحہ بہ لمحہ اس کو جانچتا رہے۔ جو شخص اس عمل سے بے بہرہ ہے اس کے بارے میں بس اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ وہ حقیقیتوں کے ادراک سے محروم ہے۔ زندگی محض کھیتی باڑی اور کھانے پینے کا نام نہیں بلکہ اپنی خودی کی معرفت حاصل کر کے اپنی بقا کا سامان کرنے کا نام ہے، اور جو ایسا نہیں کرتا وہ حقیقی زندگی اور اس کے مقصد و مرتبہ سے محروم و نا آشنا ہے۔

؎ سُنا ہے مَیں نے، غلامی سے اُمتوّں کی نجات
خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!

(ضربِ کلیم: فلسطینی عرب سے)

شعر 5

بُتانِ شعوب و قبائل کو توڑ
رسُومِ کُہَن کے سلاسل کو توڑ

معانیالفاظ
بُتوں کی جمعبُتان
شیعب کی جمع۔ خاندان، قبیلے، قومیںشعوب
قبیلہ کی جمع، مراد کنبے / خاندانقبائل
پرانے رسوم و روایاترسُومِ کُہن
سلسلہ کی جمع، زنجیریںسلاسِل

تشریح:

افسوس کہ تُو بیداری کے اس عہد میں بھی نسلوں، قبیلوں اور فرقوں کے قدیم اور بے مقصد سلسلوں میں جکڑا ہوا ہے، ان کی شکست و ریخت کے بغیر تیرا منزلِ مقصود تک پہنچنا ممکن نہیں ہے۔ ملک کے دہقان کا فرض ہے کہ وہ اپنی روحانی تربیت (خودی) کی تکمیل کا بھی انتظام کرے اور ذاتوں، نسلوں اور قبیلوں کے بُت توڑ دالے، نیز تمام لایعنی (بے فائدہ) رسومات کی زنجیروں کو توڑ ڈالے یعنی اپنی زندگی سے خارج کر دے۔ پرانے طور طریقے یہی خاندانی اور ذاتوں اور قبیلوں کے چکر یا زنجیریں ہیں جنہیں توڑ کر وحدتِ مِلت کی طرف آنا چاہیے کہ اسلام میں سب انسان برابر ہیں۔

شعر 6

یہی دینِ محکم، یہی فتحِ باب
کہ دُنیا میں توحید ہو بے حجاب

معانیالفاظ
مضبوط یعنی حقیقی دیندینِ محکم
(کامیابی کا) دروازہ کھُلنافتحِ باب
بے پردہ، ظاہربے حجاب

تشریح:

یہی مضبوط و محکم اور سچا دین (دینِ محکم) نیز کامیابی کا در (فتح باب) کھلنے کا یہی حال ہے کہ دنیا میں توحیدِ خداوندی بے پردہ ہو جائے۔ فرقہ بندی، نسلی و خاندانی امتیاز وغیرہ اسلام میں جائز نہیں ہے، ان سے بچنا ضروری ہے۔ یہی وہ عمل ہے جو صحیح معنوں میں توحید کی بنیادی ضرورت ہے، یعنی دنیا کے تمام مسلمان ایک جھنڈے (اسلام) تلے جمع ہوں۔

چنانچہ اِن دو زبردست غیر اسلامی لعنتوں (فرقہ بندی اور بے مقصد رسوم) سے پاک ہونے کے بعد تُو توحید پر عامل ہو جا یعنی توحید کو اپنے عمل سے دنیا میں نمایاں کر دے۔ قول، فعل، رفتار، گفتار اور معاملات، غرض کہ زندگی کے ہر پہلو سے اسلام کا اظہار ہو۔ جب کوئی غیر مسلم تجھے دیکھے تو بے اختیار پکار اٹھے کہ یہ شخص مسلمان ہے۔ غایتِ اسلام اور طریقِ کامیابی یہ ہے کہ مسلمان دنیا میں توحیدِ الہی کے عقیدہ کا اثبات کرے اور اس طرح کہ اہلِ دنیا توحید کے شیدائی اور اسلام کے تمنّائی بن جائیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان پہلے خود موحّد (توحیدی) نظر ائیں۔

شعر 7

بخاکِ بدن دانۂ دل فشاں
کہ ایں دانہ دارد ز حاصِل نشاں

معانیالفاظ
کی خاک (مٹی) میںبخاک
جسمبدن
دِل کا بیجدانۂ دِل
بکھیر / بو دےفِشاں
کیونکہکہ
یہایں
رکھتا ہےدارد
سےز
فصل، ثمر، نتیجہحاصل
نشان، علامتنشاں

تشریح:

اے دہقانِ پنجاب! تُو اپنے بدن کی مٹی میں دِل کا دانہ بو، کیونکہ یہی بیج / دانہ ہے جو پیداوار کی نشان دہی کرتا ہے۔ دِل کے دانے اور پیداوار سے مراد دِلِ زندہ پیدا کرنا ہے جس سے انسان کی عظمت و شرف کا سامان ہوتا ہے۔ یعنی دِلِ زندہ ہی سے انسان جہد و عمل کی طرف راغب ہوتا ہے اور زبردست کارنامے سر انجام دے کر بقا حاصل کرتا ہے۔ حقیقی زندگی دِلِ زندہ ہی سے ممکن ہے۔ جب تک انسان کے دِل میں حقیقی نصب العین کے حصول کی تڑپ نہ پیدا ہو جائے اُس وقت تک وہ ناقابلِ فراموش کارنامے سر انجام نہیں دے سکتا۔ یہی تڑپ دراصل انسان کو خوابِ غفلت سے بیدار کرتی ہے۔

؎ دلِ مُردہ دل نہیں ہے، اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے اُمّتوں کے مَرضِ کُہن کا چارہ

(ضربِ کلیم)

اب رہا بونے کا طریقہ تو جس طرح زمین میں دانہ بونے کا طریقہ کسی اہلِ زمین سے سیکھتے ہو، اسی طرح جسم میں دانہ بونے کا طریقہ کسی صاحبِ دِل سے پوچھ لو۔ کیا خوب کہا ہے اقبالؔ نے:-

؎ حدیثِ دل کسی درویشِ بے گلیم سے پوچھ
خدا کرے تجھے تیرے مقام سے آگاہ

(بالِ جبریل)

تبصرہ

یہ نظم پنجاب کے دیہی معاشرے میں پھیلی برادری ازم، ذات پات کی تقسیم اور فرسودہ روایات کے خلاف ایک زوردار صدائے انقلاب ہے۔ علامہ اقبال نے دہقان کو محض روایتی معاشی محنت کش کے طور پر نہیں بلکہ ایک روحانی قوت کے روپ میں مخاطب کِیا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ جب تک کسان شعوب و قبائل کے مصنوعی بتوں کو پاش پاش کر کے اپنی خودی اور کلمۂ توحید کے آفاقی رشتے سے وابستہ نہیں ہوتا، اُس کی خاک کبھی شعلہ بن کر چمک نہیں سکتی۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *