Skip to content

بانگِ درا 43: نیا شِوالہ

تعارف

نظم ”نیا شِوالہ“ مجموعۂ کلام ”بانگِ درا“ کے ابتدائی دور کی وہ تاریخی نظم ہے جس میں علامہ اقبال نے برصغیر کے روایتی مذہبی تعصبات، منافرت اور فرقہ وارانہ دیواروں کو گرا کر باہمی محبت اور الفت کا نیا معبد قائم کرنے کا نغمہ چھیڑا ہے۔

اقبالؔ برہمن اور واعظ دونوں کی تنگ نظری کو جھنجھوڑتے ہیں کہ تیرے صنم کدوں کے بے حس بت پرانے ہو چکے ہیں جنہوں نے اپنوں ہی سے بیر رکھنا سکھایا۔ وہ دعوت دیتے ہیں کہ آؤ ہم غیریت اور دوئی کے تمام تفرقات مٹا کر خاکِ وطن کے ہر ذرے کو متبرک جانیں اور مل کر اِس اجڑی ہوئی دل کی بستی میں پریت اور امن کا ایک ایسا نیا شِوالہ تعمیر کریں جس کا کلس آسمان کی بلندیوں کو چھُو لے۔

نظم کے دور اور اِس کے مقام کی نشاندہی کرتے ہوئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:-

”یہ نظم اقبالؔ کے دورِ وطن پرستی کا بہترین نمونہ ہے۔ شاعر نے وطن کی عظمت کا نقش دِلوں پر قائم کرنے کے لیے اپنی تمام شاعرانہ قوّتوں کو صرف کر دیا ہے۔ اکثر ناقدینِ اقبالؔ کا خیال ہے کہ ہندو مسلم اتحاد پر یہ اقبالؔ کی بہترین نظم ہے۔“[۱]

[۱] پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح بانگِ درا، صفحہ: ۱۳۸-۱۳۹

نظم کی اشاعتِ اول، اشعار کی تعداد اور ہندو مسلم اتحاد کے موضوع پر پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی رقم طراز ہیں:-

”یہ نظم پہلی بار مارچ ١٩٠۵ءکے مخزّن میں شائع ہوئی تھی۔ اُس وقت اِس میں اُنّیس اشعار تھے۔ نظرثانی میں دس اشعار قلمزَد کر دیے گئے۔ ایک شعر پہلے بند سے خارج کیا گیا اور نو اشعار دوسرے بند سے۔ یہ نظم بھی شاعر کے عہدِ وطن پرستی کی یادگار ہے۔ اِس میں متّحدہ قومیّت کا درس دیا گیا ہے۔ علامہ اقبال مغفور چاہتے تھے کہ ہندوستان کے سب لوگ مذہبی اِختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک قوم میں مدغم ہوجائیں۔ نہ کوئی ہندو رہے نہ مسلمان نہ سِکھ، بلکہ سب کے سب ہندوستانی ہوں۔ اِس مفہوم کو ایک نہایت دِلکش اور اچھُوتے پیرایہ میں ادا کیا گیا ہے۔“

[۸] پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی، شرح بانگِ درا، صفحہ: ۱۵۱

بند نمبر ۱

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے

اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے

تنگ آ کے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانے

پتھر کی مُورتوں میں سمجھا ہے تُو خدا ہے
خاکِ وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

معانیالفاظ
ہندو مذہبی رہنمابرہمن
بُت خانہصنم کدہ
دُشمنی، عداوت، کینہ، مخالفت، نفرتبیر
لڑائی، جھگڑا، فسادجنگ و جَدَل
وعظ یا نصیحت کرنے والا، مراد مسلمانوں کے مذہبی رہنماواعِظ
بُت خانہ و کعبہدَیر و حرم
مُجَسمہ، صورتمُورَت
وطن کی مٹّی / سرزمینخاکِ وطن
کوئی ایسی زمینی چیز جس کو مقدّس بنا کر خدا کا درجہ دے دیا جائے، خدا کا اوتاردیوتا

تبصرہ:

اِس بند میں ظاہر ہوتا ہے کہ علامہ اقبال پر وہی مغربی وطنیّت کے تصور کا رنگ غالب ہے، جس میں وہ مذہب اور ریاست کو جُدا جُدا دیکھتے ہیں۔ جیسے مغربی ممالک نے چرچ اور سٹیٹ (Church and State) کو الگ رکھ کر ترقی کی، وہی حل ہندوستان کے لیے دیکھتے ہیں۔ وہ ہندو اور مسلمان کی مذہبی اِنتہا پسندی سے بیزار نظرآتے ہیں۔ یہ اپنی مذہبی انتہا پسندی ہی کی وجہ سے نا اتفاقی کا شکار ہیں۔

اِس صورتِ حال سے نجات کا جو راستہ اقبالؔ دیکھتے ہیں وہ ایک الحاد کی بنیاد پر قائم کردہ وطن ہے جس میں ہندو اور مسلم، دونوں اقوام اِکٹھے رہیں۔ اُن دونوں کا ایک ہی قبلہ ہو، اور وہ اپنے وطن کی خاک کو اپنا دیوتا بنا لیں۔ یعنی جو مذہب کی وجہ سے مُتّحد نہیں ہو سکتے، اس خاکِ وطن کی خاطر ہو جائیں۔ مگر خاکِ وطن کے اس دیوتا کو ارتقاءِ فکر کے بعد اقبالؔ نے خود توڑ دیا:-

؎ اِن تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اِس کا ہے، وہ مذہب کا کفن ہے

(بانگِ درا: وطنیّت)

کیونکہ علامہ اقبال یہ پہچان گئے تھے کہ مذہب کو ترک کرنے میں دونوں اقوام میں سے کسی کا فائدہ نہیں۔

بند نمبر 2

آ، غیریّت کے پردے اِک بار پھر اُٹھا دیں
بِچھڑوں کو پھر ملا دیں نقش دوئی مٹا دیں

سُونی پڑی ہوئی ہے مُدّت سے دِل کی بستی
آ، اِک نیا شِوالہ اِس دیس میں بنا دیں

دُنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ
دامانِ آسماں سے اِس کا کلس ملا دیں

ہر صبح اٹھ کے گائیں منتر وہ میٹھے میٹھے
سارے پجاریوں کو مے پِیت کی پلا دیں

شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پرِیت میں ہے

معانیالفاظ
غیر ہونا، پرایا ہوناغیریّت
رُکاوٹیں ہٹانا / ختم کرناپردے اُٹھانا
دو ہونے کا نشان، مراد ہندو اور مسلمانوں کو الگ الگ سمجھنا، جُدائی اور بیگانگی کا نقشنقشِ دوئی
اُداس / ویران / بے رونقسُونی
مہا دیو کا مندر، ایک بڑے دیوتا کا عبادت خانہشِوالا
ہندوؤں کی مقدّس عبادت گاہتیرتھ
آسمان کا دامن / پلُّودامانِ آسماں
مسجد کے گنبد / مینار کا سب سے اوپری حصہکَلَس
دیوتاؤں کی تعریف میں کہے گئے کلماتمنتر
شرابمے
پیار، محبّتپیت
طاقت، زور، قوّتشکتی
امن، سکون، آرام، سُکھ، تسلّیشانتی
پُجاری، مذہبی لوگ، دُنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے، نیکو کاربھَگَت
زمین، دُنیادھرتی
باسی کی جمع۔ باشندے، رہنے والےباسیوں
نجات / چھُٹکارا، رہائی، آزادی، مغفرت۔ ہندو مذہب میں کسی گناہ جرم یا قصور سے آزاد ہوجانے، چھُوٹ جانے، بخشے جانے یا برائیوں سے چھٹکارا مل جانے کی حالتمُکتی
پیار و محبّت، اُلفت، بھائی چارہپرِیت

تشریح:

مفاہمت کا وہی ذائقہ اِس بند میں ہمیں ملتا ہے جس کو پانے کے لیے شہنشاہ اکبر نے دینِ الہی بنا دیا۔ ایک نیا شِوالہ، ایک ایسا گوشۂ عافیّت مُلک کی صورت میں بنا لیں جو سب سے اونچا ہو، مندر و مسجد سے بلند تر ہو۔ جس میں صرف پیار و محبّت کے گیت سُنائے جائیں۔ اُسی سے اِس زمین کے رہنے والوں کو مُکتی ملے گی اور وہ ترقی کی جانب گامزن ہونگے۔

تبصرہ:

خلیفہ عبدالحکیم اپنی کتاب فکرِ اقبالؔ میں اُس وقت کے سیاسی و سماجی پس منظر میں اقبالؔ کے ابتدئی نظریے کی بخوبی وضاحت کرتے ہیں:-

”آزادی طلب نوجوانوں کی سمجھ میں پہلے یہ بات آئی کہ ہم بھی انگریزوں کی طرح ایک قوم بن جائیں اور تمام ملک کو اپنا وطن قرار دے کر اِس کے متعلق جذبۂ وطنیّت کو اُبھاریں۔ مذہبی اختلافات کو غیر اصل قرار دیا جائے اور وطن کی عظمت کے گیت گائے جائیں تاکہ غیر ملکی حکومت نے جو احساسِ کمتری پیدا کر دیا ہے، اُس کے خلاف ایک زبردست ردِ عمل ہو۔ پُرانے دیوتاؤں کی پوجا کو باطل قرار دے کر وطن کے بڑے بُت کی پوجا کی جائے۔ اِسی حال، اِسی جذبے کے تحت نوجوان اقبالؔ کا احساسِ قلب وطن کے ترانے گانے لگا۔“

[۶] ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم، فکرِ اقبالؔ، صفحہ: ۳۶-۳۸

ارتقاءِ فکر کے بعد البتّہ اقبالؔ کا یہ نظریہ بالکل تبدیل ہوگیا۔ ایک شعر میں ہندوؤں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:-

؎ ماندہ ایم از جادۂ تسلیم دور
تُو ز آزر من ز ابراہیم دور

ترجمہ: ہم دونوں ہی اپنے رستے کی پیروی سے دُور ہیں، تُو آزر (بُت تراشنے کی روایت) سے دُور ہے، میں ابراھیم (وحدانیّت کی روایت) سے دُور ہوں۔ (وفا داری بشرطِ استواری اصل ایمان ہے۔ غالبؔ)
(اسرارِ خودی: حکایتِ شیخ و برہمن و مکالمۂ گنگ و ہمالہ)

مفہوم:

خلیفہ عبدالحکیم علامہ اقبال کے ابتدائیہ کلام کے بارے میں فرماتے ہیں:-

”ہندوستان میں وطنیّت کے جذبہ کو جس شاعر نے پہلے گرمایا وہ اقبالِؔ با کمال تھا۔ اگر ہندوستان ایک وطن اور ایک قوم بن سکتا تو اقبالؔ کا وطنیّت کا کلام اُس کے لیے الہامی صحیفہ ہوتا۔“ [۶]

[۶] ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم، فکرِ اقبالؔ، صفحہ: ۳۶-۳۸

ہمیں یہ باور کرنا ہوگا کہ بھارت کے ۲۱ کروڑ مسلمانوں کی اب بھی یہی حقیقت ہے اور اقبالؔ کا اوّل دور کا کلام اُن کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ایک ایسا مُلک جہاں ہندوؤں اور مُسلمانوں سمیت کئی مذاہب کے لوگوں کو باہم زندگی بسر کرنی ہے، وہاں عدم برداشت کے رویّے اس کو ناممکن بنا دینگے اور مذہبی رواداری قائم کرنا لازم و ملزوم ہوگی۔ البتّہ ترکِ مذہب اِس مفاہمت کی قیمت نہیں ہونی چاہیے۔

اِس نظم کی زبان بھی قابلِ غور ہے۔ سنسکرت کے الفاظ کا استعمال اور ہندو مذہب و روایت کے استعارے بدرجۂ اُتّم نظر آتے ہیں۔ ایک موقع پر گاندھی جی نے اُردو ہندی کے تنازع کے سلسلے میں نظم ترانۂ ہندی میں استعمال کردہ زبان کے بارے میں یوں اظہارِ رائے کرتے ہیں:-

”کون ایسا ہندوستانی دل ہے جو اقبالؔ کا ‘ہندوستاں ہمارا’ سُن کر دھڑکنے نہیں لگتا۔ اقبالؔ کے اس ترانے کی زبان ہندی ہے یا ہندوستانی ہے؟ یا اردو ہے؟ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ہندوستان کی قومی زبان نہیں ہے۔“ [۷]

[۷] ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم، فکرِ اقبالؔ، صفحہ: ۳۶-۳۸

ویسی ہی زبان اس نظم میں بھی ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ یہ زبان اس نظم کے موضوع سے مطابقت رکھتی ہے۔

تبصرہ

یہ نظم مذہبی پیشوائیت کی تنگ نظری اور نفرت کی سیاست کے خلاف انسانی اخوت اور باہمی یگانگت کا شاندار اعلان ہے۔ اقبالؔ پتھر کی بے جان مُورتوں اور جھوٹے تعصبات کی نفی کر کے دِلوں کو جوڑنے اور پریت کی مے پلانے کا خواب دیکھتے ہیں۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *