Skip to content

بالِ جبریل 161: تاتاری کا خواب

تعارف

نظم ”تاتاری کا خواب“ ایک خواب کی صورت میں پیش کی گئی ہے اور اُس خواب کے ردِعمل کی مظہر ہے۔ تاریخ کے مطابق، تاتاری قبائل وسطی ایشیا میں بڑے اثر و رسوخ کے حامل تھے اور کئی دہائیوں تک اپنے مضبوط قبائلی اتحاد اور جنگی قوت کی بدولت علاقے پر حکمرانی کرتے رہے۔ لیکن داخلی اختلافات، قبائلی جھگڑے، اور روحانی و سیاسی رہنماؤں کی ناکامی نے ان کی طاقت کو کمزور کر دیا۔ اِسی وجہ سے اُن کی سلطنتیں باہمی رزم و پیکار کے باعث زوال پذیر ہوئیں، اور بعد میں روس نے یکے بعد دیگرے اُنہیں مسخر کر لیا۔

پہلے بند میں ایک تاتاری کی زبان سے اُن مصائب کی تفصیل بیان کی گئی ہے جو باشندگانِ ترکستان پر روسیوں کے تسلّط کے بعد نازل ہوئے۔ اقبالؔ نے محض تاتاری قبائل کے مابین نفاق کو ہی ان کی کمزوری اور عدم استحکام کا سبب قرار نہیں دیا بلکہ اس طرح سے پوری ملتِ اسلامیہ کے بارے میں بنیادی صورتِ حال کی نشاندہی کی۔

سماعت فرمائیے
YouTube video

بند نمبر 1

شعر 1

کہیں سجّادہ و عمّامہ رہزن
کہیں ترسا بچوں کی چشمِ بے باک!

معانیالفاظ
جائے نماز، مصلا، دریسجادہ
پگڑی، دستارعمامہ
راہ مار، لُٹیرارہزن
آتش پرست، عیسائی، یہودی وغیرہترسا
وہ نو عمر خوبصورت لڑکے جو ساقی گری کا کام کرتے تھےترسا بچہ
بے خوف اور نڈر نِگاہچشمِ بیباک

تشریح:

تاتاری خواب میں کہتا ہے کہ قبائل و ملت کی رہنمائی جن علماء اور صوفیاء کی ذمہ داری تھی وہ نہ صرف خود اِس منصب کو بھول بیٹھے بلکہ اُن کو غلط راہ پر لگا رہے ہیں اور کہیں ساقی گری کرنے والے خوبصورت لڑکوں کی بیباک نگاہیں ایمان کی دولت پر ڈاکے ڈال رہی ہیں۔

ترسابچہ: یہ لفظ عموماً شراب فروشوں کے ملازموں کے لیے استعمال ہوتا رہا، جنہیں حُسن و جمال میں امتیاز کی بنا پر ساقی گری کے کام پر لگایا جاتا تھا۔ چونکہ اُس دور میں شراب فروشی کا پیشہ عموماً یہودیوں اور عیسائیوں سے متعلق ہوتا تھا، اس لیے یہ لڑکے بھی انہیں کے ہم قوم ہوتے تھے۔

شعر 2

رِدائے دِین و ملّت پارہ پارہ
قبائے ملک و دولت چاک در چاک!

معانیالفاظ
چادررِدا
ٹکڑے ٹکڑےپارہ پارہ
ایک قسم کا کھُلا لباسقبا
جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی، پُرزے پُرزےچاک در چاک

تشریح:

دین اور مِلت کی چادر ٹکڑے ٹکڑے ہو چُکی ہے، یعنی مذہبی اور قومی وحدت بکھر گئی ہے، اُن میں تفرقہ پڑ گیا ہے، وہ مختلف فرقوں اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور اُن کی اجتماعیت ختم ہو چکی ہے۔ اسی طرح ملک اور دولت کا لباس بھی بُری طرح پھٹ چکا ہے، یعنی سیاسی طاقت ختم ہو گئی، مُلک غیروں کے قبضے میں چلا گیا، دولت لُٹ گئی اور وہ معاشی طور پر بھی بالکل تباہ ہو گئے ہیں۔

شعر 3

مرا ایماں تو ہے باقی و لیکن
نہ کھا جائے کہیں شُعلے کو خاشاک!

معنیلفظ
گھاس پھونسخاشاک

تشریح:

بیشک میرا ایمان باقی ہے لیکن مجھے یہ غم کھائے جا رہا ہے کہ کہیں فِتنوں کا گھاس پھوس ایمان کے شعلے کو بُجھا کر نہ رکھ دے۔ شاید کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ گھاس پھوس شعلے کو نہیں بُجھا سکتا لیکن شعلہ معمولی ہو اور گھاس پھونس کا انبار ایک دم اُس پر ڈال دیا جائے تو شعلہ دب کر افسردہ ہو جاتا ہے۔ اس بات سے اقبالؔ کا مطلب صرف یہ ہے کہ ایمان اگرچہ باقی رہ گیا ہے، تاہم فتنوں نے جو قیامت بپا کی ہے‘ اُس میں یہ باقی رہتا نظر نہیں آتا۔

شعر 4

ہوائے تُند کی موجوں میں محصور
سمرقند و بخارا کی کفِ خاک!

معانیالفاظ
تیز، سخت، شدید، پُرزورتُند
گھِری ہوئی، پابند، قیدمحصور
مٹی کی مُٹھی، مراد لوگکفِ خاک

تشریح:

تاتاری قبائل آپس میں دست و گریباں ہیں۔ دشمن اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں اور وہ سمرقند و بخارا پر یلغار کے لیے صف آرائی پر مصروف ہیں۔ تاتاریوں کی غفلت کے باعث ملک و سلطنت دونوں خطرات میں گھِر کر رہ گئے ہیں۔ اب بھی اگر اُنہیں اِس حقیقت کا احساس نہ ہوا تو تباہی ان کا مقدر بن جائے گی۔

شعر 5

’بگرداگردِ خود چندانکہ بینم
بلا انگشتری و من نگینم‘

معانیالفاظ
چاروں طرف سےبِگرداگرد
اپنا آپخود
اس قدر کہچندانکہ
دیکھتا ہوںبینم
انگوٹھیانگشتری
نگینہنگینم

تشریح:

یہ فارسی کا شعر ہے جس میں تاتاری اپنی بے بسی اور لاچاری کا اظہار کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ”میں اپنے گرد و پیش جتنا بھی دیکھتا ہوں، ہر طرف مصیبت اور آفت نظر آتی ہے، اور میں بالکل بے بس ہوں جیسے انگوٹھی میں نگینہ“۔ یہاں انگوٹھی اور نگینے کی تشبیہ بڑی معنی خیز ہے۔ جس طرح نگینہ انگوٹھی میں جڑا ہوتا ہے اور اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا، بالکل اسی طرح تاتاری خود کو چاروں طرف سے مصائب میں گھِرا ہوا محسوس کر رہا ہے اور کوئی راستہ نہیں ملتا۔ وہ اپنی قوم کی تباہی دیکھ رہا ہے، ہر سمت مشکلات ہیں، لیکن اس کے پاس کوئی حل نظر نہیں آتا۔ یہ مایوسی اور بے چارگی کی انتہا ہے جو تاتاری کی ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے۔

بند نمبر 2

شعر 6

یکایک ہِل گئی خاکِ سمرقند
اُٹھا تیمور کی تُربت سے اک نور

معانیالفاظ
زلزلہ سا آجانا، بھونچال آناخاک ہِل جانا
مشہور مسلمان فاتح، امیر تیمورتمیور
قبرتُربت

تشریح:

خواب دیکھتے دیکھتے اچانک ایک عجیب نظارا سامنے آیا یعنی سمرقند کی سرزمین میں بھونچال سا آ گیا اور وہ لرزنے لگی۔ یَکایَک تیمور کی قبر سے نور کی ایک لہر اُٹھی۔

شعر 7

شفَق آمیز تھی اُس کی سفیدی
صدا آئی کہ “مَیں ہوں رُوحِ تیمور

معنیلفظ
سُرخی مائلشفق آمیز

تشریح:

تیمور کی قبر سے جو شعاع برآمد ہوئی ہر چند کہ اُس کا رنگ کافی حد تک سفید تھا پھر بھی اس میں یوں لگتا تھا کہ شفق کی سُرخی کی کسی حد تک آمیزش ہے۔ یہی نہیں بلکہ اُس شعاع میں سے ایک صدا برآمد ہوئی کہ ”میں روحِ تیمور ہوں! اور تاتاری قبائل میں عدم اتحاد و نفاق کے سبب ہر لمحہ پریشان اور بے چین رہتی ہوں!“

شعر 8

اگر محصُور ہیں مردانِ تاتار
نہیں اللہ کی تقدیر محصور

معنیلفظ
گھِرا ہوا، پابند، قیدمحصُور

تشریح:

اگر تاتار کے مردانِ مجاہد مصیبتوں میں گھِر گئے ہیں اور فتنوں کی سَیل نے اُنہیں نرغے میں لے لیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کی تقدیر بھی گھِر سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کائنات کا کوئی فتنہ خدا کی تقدیر پر اثر انداز نہیں ہو سکتا لیکن اس سے وہی لوگ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو خدا کے احکام پر چلیں اور اُس کے مقرر کیے ہوئے قاعدوں کے پابند رہیں۔ اگر تاتاری اِن مصیبتوں سے نجات پانا چاہتے ہیں تو اُنہیں خدا کے احکام کا پابند ہونا چاہیے اور اپنی قوتوں کو متحد کر کے مجاہدوں کی طرح فتنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

؎ سامنے تقدیر کے رُسوائیِ تدبیر دیکھ
(بانگِ درا: خضرِ راہ)

شعر 9

تقاضا زندگی کا کیا یہی ہے
کہ تُورانی ہو تُورانی سے مہجور؟

معانیالفاظ
منشا، مقصدتقاضا
مراد جُدا جُدا / دُور کِیا گیا / الگ الگمہجُور

تشریح:

تاتاریوں کی حالت کیا ہے؟ وہ ایک دوسرے سے جدا جدا اور باہم دگر ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ میں (روحِ تیمور) پوچھتی ہوں کہ کیا عزت کی زندگی کا تقاضا یہی ہے؟ کیا قومیں پھوٹ ہی کے ذریعہ سربلند ہوتی ہیں اور اپنے آپ کو فِتنوں اور مصیبتوں کے طوفان سے بچاتی ہیں؟ گویا تیمور کے نزدیک تاتاری اپنی مصیبتوں کے آپ ذمہ دار ہیں۔ وہ متحد ہو جائیں تو اُنہیں کسی فتنہ کا ڈر نہیں ہو سکتا

شعر 10

خودی را سوز و تابے دیگرے دہ
جہاں را انقلابے دیگرے دہ“

معانیالفاظ
آگ، تپشسوز
حرارت، شِدتتاب
دوسرا، نیادیگرے
دنیاجہاں
تبدیلی، اُلٹ پلٹانقلاب

تشریح:

تیمور کی روح اپنا پیغام مکمل کرتے ہوئے تاتاریوں کو حتمی حکم دیتی ہے کہ اپنی خودی کو ایک نیا سوز و تاب، ایک نیا جوش اور ولولہ عطا کرو۔ اپنے اندر کی قوت کو بیدار کرو، اپنے وجود میں نئی آگ اور حرارت پیدا کرو اور اس کے بعد دُنیا میں انقلاب برپا کر دو۔

یعنی صرف اپنے آپ کو بدلنا کافی نہیں، بلکہ پوری دنیا میں تبدیلی لانی ہے، نظام کو بدلنا ہے، حالات کو تبدیل کرنا ہے۔ یہ محض اصلاح کا نہیں بلکہ مکمل انقلاب کا مطالبہ ہے۔

اقبالؔ کا پیغام واضح ہے کہ پہلے اندرونی تبدیلی ضروری ہے، خودی کو مضبوط کرنا لازم ہے، اور پھر اس مضبوط خودی کے ذریعے دنیا میں انقلاب برپا کرنا ہے۔ یہ محض مایوسی اور شکایت کا وقت نہیں بلکہ عمل اور تعمیر کا وقت ہے۔

تبصرہ

یہ نظم محکوم اور زوال آمادہ مسلم علاقوں کے لیے اُمید اور حریت کا ولولہ انگیز ترانہ ہے۔ اقبالؔ نے امیر تیمور کی تاریخی شخصیت کے ذریعے یہ حقیقت اُجاگر کی ہے کہ استبدادی اور لادین طاقتیں حق کو مِٹا نہیں سکتیں۔ قوم اگر اپنی خودی کے شعلے کو دوبارہ بھڑکا لے تو وہ غلامی کی تمام بندشیں توڑ کر ایک نیا عہد تخلیق کر سکتی ہے۔

حوالہ جات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *